کینسر سے زیادہ خطرناک ارتداد: ایمان کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟

از: قاضی محمد حسن ندوی

ایک زمانہ وہ تھا جب لوگ کینسر جیسے مرض سے بہت زیادہ ڈرتے تھے، کیونکہ اسے ایک لاعلاج بیماری سمجھا جاتا تھا۔ آج الحمدللہ طبی ترقی کی وجہ سے کینسر کے بہت سے اقسام کا علاج ممکن ہے اور بہت سے مریض صحت یاب بھی ہوجاتے ہیں۔

لیکن ایک اور مرض ایسا ہے جو انسان کی دنیا و آخرت دونوں کو تباہ کرسکتا ہے۔ وہ ہے ایمان سے محرومی اور ارتداد۔ خاص طور پر جب غلط صحبت، دینی تعلیم سے دوری، اسلامی ماحول کی کمی اور بے لگام تعلقات کی وجہ سے بچے اور بچیاں فکری اور اخلاقی گمراہی کا شکار ہوجائیں تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔

یہ مرض جسم کو نہیں بلکہ انسان کے عقیدے اور ایمان کو متاثر کرتا ہے۔ انسان اگر اپنی صحت کھودے تو علاج کے ذریعے دوبارہ صحت حاصل کرسکتا ہے، لیکن ایمان جیسی عظیم نعمت سے محرومی بہت بڑا نقصان ہے۔

ارتداد کا مسئلہ صرف ماضی کی کہانی نہیں

یہ محض ماضی کا کوئی قصہ یا فرضی داستان نہیں، بلکہ مختلف معاشروں میں ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں نوجوان لڑکے یا لڑکیاں جذباتی تعلقات، غلط صحبت یا فکری کمزوری کی وجہ سے اپنے خاندان اور دینی ماحول سے دور ہوجاتے ہیں۔

بعض صورتوں میں معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کو تبدیل کرکے اپنی زندگی کا راستہ بدل لیتے ہیں۔

ایسے واقعات میں دینی اعتبار سے سب سے بڑا نقصان ایمان جیسی قیمتی دولت سے محرومی ہے۔ اس کے علاوہ جذباتی فیصلوں کے نتیجے میں خاندانی تعلقات، سماجی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے بھی مختلف مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

اس لیے والدین اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھنے اور اس کے اسباب پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ارتداد سے پہلے اسباب کو سمجھنا ضروری ہے

کسی بھی بیماری کا علاج کرنے سے پہلے اس کے اسباب اور علامات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ ماہر ڈاکٹر پہلے مرض کی تشخیص کرتا ہے، پھر علاج تجویز کرتا ہے اور ساتھ ہی مریض کو ان چیزوں سے بچنے کی ہدایت کرتا ہے جو مرض کو بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔

اسی طرح الحاد، ارتداد اور دینی بے راہ روی کے مسئلے میں بھی ہمیں صرف واقعہ پیش آنے کے بعد افسوس نہیں کرنا چاہیے، بلکہ پہلے ہی ان اسباب پر توجہ دینی چاہیے جو بچوں کو دین سے دور کرسکتے ہیں۔

اگر والدین اپنی اولاد کے ماحول، دوستوں، تعلیم، موبائل اور دینی تربیت پر مناسب توجہ دیں تو بہت سے فتنوں سے پہلے ہی بچاؤ کی تدبیر کی جاسکتی ہے۔

ارتداد سے بچاؤ اور بچوں کے ایمان کی حفاظت
ارتداد سے بچاؤ اور بچوں کے ایمان کی حفاظت

ارتداد اور دینی کمزوری کے اہم اسباب

اس مسئلے کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ ہر فرد کے حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کسی ایک سبب کو ہر واقعے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم چند اہم امور قابلِ توجہ ہیں:

1. قرآنی تعلیمات سے دوری

قرآن مجید مسلمان کی ایمانی اور اخلاقی زندگی کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ جب بچوں کو قرآن کی تعلیم، اس کے مفاہیم اور اسلامی عقائد سے مناسب واقفیت حاصل نہ ہو تو ان کے اندر دینی بنیاد کمزور ہوسکتی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو صرف قرآن پڑھنے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کی عمر اور فہم کے مطابق قرآن کی بنیادی تعلیمات اور اسلامی عقائد بھی سمجھائے جائیں۔

2. گھر میں دینی ماحول کا نہ ہونا

بچے اپنے گھر کے ماحول سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں نماز، قرآن، دینی گفتگو، اسلامی آداب اور باہمی احترام کا ماحول ہو تو اس کا مثبت اثر بچوں کی شخصیت پر پڑتا ہے۔

اس کے برعکس اگر گھر میں دین کے لیے وقت نہ ہو اور بچوں کی تربیت صرف دنیاوی کامیابی تک محدود ہوجائے تو ان کے اندر دینی وابستگی کمزور ہوسکتی ہے۔

اس لیے اولاد کی اسلامی تربیت کے لیے گھر کا ماحول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

3. اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت سے غفلت

والدین اپنے بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کے بارے میں بہت فکر کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات ان کی دینی اور اخلاقی تربیت کو وہ اہمیت نہیں ملتی جس کی ضرورت ہے۔

صرف یہ کافی نہیں کہ بچہ اچھی تعلیم حاصل کرے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حلال و حرام، اچھے اور برے، جائز و ناجائز اور صحیح و غلط کے بنیادی اسلامی تصورات سے واقف ہو۔

4. غلط صحبت اور غیر مناسب تعلقات

انسان اپنے ماحول اور صحبت سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ نوجوانی میں دوستی اور تعلقات شخصیت پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کے دوستوں، ان کے معمولات اور ان کے ماحول سے مناسب واقفیت رکھیں۔ نگرانی کا مطلب ہر وقت سختی یا بداعتمادی نہیں، بلکہ محبت، اعتماد اور حکمت کے ساتھ رہنمائی کرنا ہے۔

5. موبائل اور سوشل میڈیا کا بے احتیاط استعمال

آج موبائل فون اور انٹرنیٹ بچوں کی زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے علم، تعلیم اور مفید دینی مواد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن غیر ضروری اور بے نگرانی استعمال مختلف فکری، اخلاقی اور معاشرتی مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اس لیے بچوں کو موبائل دینے سے پہلے والدین کو اس کے استعمال کے اصول طے کرنے چاہئیں۔

خاص طور پر کم عمر بچوں کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر کیا دیکھتے ہیں، کن لوگوں سے رابطہ رکھتے ہیں اور اپنا وقت کس طرح گزارتے ہیں۔

6. تعلیم کے ساتھ تربیت کو نظر انداز کرنا

تعلیم انسان کو علم دیتی ہے، لیکن تربیت اس علم کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کا بھی انتظام کریں۔ اسکول اور کالج کی تعلیم اپنی جگہ اہم ہے، لیکن دینی شناخت، ایمان اور اخلاق کی تربیت بھی ضروری ہے۔

7. شادی کے معاملے میں غیر ضروری تاخیر

نوجوانوں کی عمر، حالات اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے والدین کو شادی کے معاملے میں بھی حکمت سے کام لینا چاہیے۔

جہاں مناسب ہو اور شرعی و معاشرتی تقاضے پورے ہوتے ہوں وہاں بلا ضرورت تاخیر سے بچنا چاہیے۔ اس کے ساتھ بچوں کو نکاح، عفت، حیا اور اسلامی خاندانی نظام کی اہمیت بھی سمجھانی چاہیے۔

گھر میں دینی ماحول کیسے بنایا جائے؟

ارتداد اور فکری گمراہی سے بچاؤ کے لیے سب سے مؤثر اقدامات میں سے ایک گھر کو دینی ماحول کا مرکز بنانا ہے۔

اس کے لیے ضروری نہیں کہ گھر میں ہر وقت مشکل دینی کتابوں کا مطالعہ ہو۔ چند آسان اور مستقل معمولات بھی بہت مؤثر ہوسکتے ہیں:

  • گھر میں نماز کی پابندی کا ماحول بنایا جائے۔
  • روزانہ کچھ وقت قرآن کریم کی تلاوت کے لیے مقرر کیا جائے۔
  • بچوں کو قرآن کا آسان ترجمہ سمجھایا جائے۔
  • مسنون دعائیں اور بنیادی اسلامی عقائد سکھائے جائیں۔
  • انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات سنائے جائیں۔
  • بچوں کے سوالات کو محبت سے سنا اور سمجھا جائے۔
  • موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے مناسب اصول بنائے جائیں۔
  • والدین خود دینی زندگی کا عملی نمونہ بنیں۔

بچوں کے ایمان کی حفاظت والدین کی ذمہ داری ہے

اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا بھی ہے اور ایک امانت بھی۔ والدین جس طرح بچوں کے کھانے، لباس، تعلیم اور صحت کا خیال رکھتے ہیں، اسی طرح ان کے ایمان اور اخلاق کی حفاظت کی بھی فکر کریں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔

(سورۃ التحریم: 6)

یہ آیت ہمیں اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی دینی حفاظت کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

حادثے کے بعد افسوس سے بہتر ہے پہلے سے احتیاط

گھر کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے لوگ کھانے، لباس، تعلیم، روزگار، مکان اور مستقبل سمیت بہت سے امور کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ یہ سب ضروری بھی ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہونا چاہیے کہ:

ہمارے گھر میں دینی ماحول کیسا ہے؟
ہماری اولاد دین سے کتنی واقف ہے؟
وہ اپنے ایمان اور اسلامی شناخت کے بارے میں کتنا شعور رکھتی ہے؟
ان کے دوست کون ہیں؟
وہ موبائل اور سوشل میڈیا پر کیا دیکھ رہے ہیں؟
اور اگر انہیں دین کے بارے میں کوئی سوال یا شبہ پیدا ہو تو وہ کس سے پوچھیں گے؟

اگر ان سوالات پر وقت رہتے غور کرلیا جائے تو بہت سے مسائل سے بچنے کی تدبیر ممکن ہوسکتی ہے۔

حادثہ پیش آنے کے بعد افسوس کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ حادثے سے پہلے احتیاط کی جائے۔

خلاصہ

ارتداد اور الحاد کے مسئلے کا مقابلہ صرف جذباتی ردِّعمل سے نہیں بلکہ دینی تعلیم، صحیح تربیت، مضبوط خاندانی نظام، اچھے ماحول، مناسب نگرانی اور حکمت کے ساتھ رہنمائی سے کیا جاسکتا ہے۔

اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم ضرور دیں، لیکن ان کے ایمان کی قیمت پر نہیں۔ انہیں جدید دنیا کے تقاضوں سے بھی واقف کریں اور قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات سے بھی جوڑیں۔

اپنی اولاد کے ایمان کی حفاظت کی فکر کیجیے، انہیں محبت، حکمت اور دینی شعور کے ساتھ پروان چڑھائیے اور اپنے گھر کو ایسا ماحول دیجیے جہاں بچے اپنے دینی سوالات کے جواب اعتماد کے ساتھ حاصل کرسکیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور پوری امتِ مسلمہ کو اپنی اور اپنی اولاد کے ایمان کی حفاظت کرنے اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


ارتداد کا سدِّ باب: اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کیوں ضروری ہے؟


شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ