HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سونے سے پہلے کی دعا

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ ہر شب جب بستر پر جاتے تو دونوں ہتھیلیوں کو جمع کرکے سورہ اخلاص ، سورہ فلق ، اور سورہ ناس پڑھ کر ہتھیلیوں پر پھونکتے ، پھر سر اور چہرہ مبارک سے شروع کرکے جسم کے اگلے اور پچھلے حصوں میں جہاں تک ہاتھ پہونچتا ہاتھ پھیرتے ، آپ تین بار یہ عمل فرماتے ،

Read more

کیا دیٹ بوڈی کو میڈیکل کے لیے وقف کرنا کی وصیت کرنا یا  جسم کے کسی حصے کو وقف کرنا کی وصیت کرنا کیسا ہے ؟

کیا دیٹ بوڈی کو میڈیکل کے لیے وقف کرنا کی وصیت کرنا یا  جسم کے کسی حصے کو وقف کرنا کی وصیت کرنا کیسا ہے ؟ جواب انسانی جسم ایک عظیم نعمت ہے ، جس کی تکریم و تعظیم ہر ایک انسان کے لیے ضروری ہے  ، اور  اسلام میں بھی انسانوں کی تعظیم و توقیر کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی تحقیر و تذلیل سے منع کیا گیا ہے ،  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّیبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا (الإسراء: 70) ‘‘ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور انھیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انھیں فوقیت دی ۔’’      اور  یہ حکم عام ہے ، زندہ  اور مردہ دونوں کے لیے ہے ، جس طرح زندہ انسانوں کی تعظیم ضروری ہے ، اسی طرح مرنے کے بعد بھی انسانی لاش کا احترام کرنا ضروری ہے ، اس لئے احادیث نبویہ میں بھی بے حرمتی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے ،  ام المومنین حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : كَسْرُ عَظْمِ المَیتِ كَكَسْرِهِ حَیا (ابوداود: 3207 ، ابن ماجہ: 1616) ‘‘ میت کی ہڈی توڑنا، اس کی زندہ ہونے کی حالت میں ہڈی توڑنے کے مثل ہے ۔’’    اس لیے عام حکم تو یہی ہے انسانی لاش کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور  چیڑ پھاڑ جائز نہیں ہے ، اور اکثر ہندوستان کے علماء کی رائے بھی یہی ہے ، گرچہ  لاش لاوارث ہی کیوں نہ ہو،       لیکن  آج کل میڈیکل میں طلباء کو انسانی جسم کے اعضاء ، ہڈیوں کی بناوٹ ، طبیعی ہیئت سے آگاہ کرانے کے لیے انسانی لاش کا استعمال کیا جاتا ہے ، جس کا مقصد طلبہ کو انسانی جسم کے اعضاء ، ہڈیوں اور احشا (Viscera)کی بناوٹ ، طبیعی ہیئت اور مرضی صورتوں سے واقف کرانا ہوتا ہے ، اور  طلبۂ طب کو آئندہ مریضوں کے علاج معالجے کی…

Read more

کتاب: سفر ہند

کتاب : سفرِ ہندمصنف : ڈاکٹر محمد اکرم ندویاشاعت : پی ڈی ایفصفحات : 270تعارف نگار : معاویہ محب اللّٰہ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کے نام سے حدیث کا ہر طالب علم واقف ہے، آپ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے قابلِ فخر سپوت اور عظیم چشم وچراغ ہے، حال ہی میں محدثات کے نام سے 40 جلدوں پر مشتمل کتاب تصنیف فرمائی ہے، اس کے علاوہ بہت ساری اردو، عربی اور انگریزی کتابوں کے مصنف بھی ہے، آپ کو تینوں زبانوں پر یکساں قدرت وملکہ حاصل ہے۔ زیرِ تعارف کتاب ڈاکٹر صاحب کے 2017 میں کئے گئے دورۂ ہندوستان کی روداد ہے، جو انہوں نے قسط وار مضامین کی صورت میں مخلتف گروپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپلوڈ کئے تھے، دہلی، دیوبند ، مظفر آباد، سہارنپور، لکھنؤ ، اعظم گڈھ، ممبئی اور حیدرآباد کی یادوں پر مشتمل علمی، ادبی اور ثقافتی سفرنامہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو اللّٰہ تعالیٰ نے لکھنے کا غیر معمولی ملکہ عطا فرمایا ہے، جب لکھتے ہیں تو الفاظ کا تلاطم قابلِ دید ہوتا ہے، تحریر میں قوت اور جان ہے، الفاظ کو اس طرح پِرو دیتے ہیں کہ ایک ہی ہار کے نگینے معلوم ہوتے ہیں، اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والا طالب علم اس کتاب سے جھولی بھر الفاظ سمیٹ لیتا ہے، ڈاکٹر صاحب کا اسلوبِ تحریر انتہائی اجلا اور دلچسپ ہے، سطر سطر سے صاحبِ تحریر کی ادبی قوت کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ کے اسلوبِ نگارش کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں جہاں ندوۃ العلماء لکھنؤ کی یادوں میں مگن ہیں تو ہوں رقم طراز ہوتے ہیں ؛” جس کی وسعتِ آغوش تشنگانِ علم وفضل کے لئے نئی زمین اور نیا آسمان تھی، جہاں وہ ہمہ تن گوش بن جاتے، آنکھیں وقف دید رہتیں، دل ودماغ ذوقِ استفسار سے مست ہوتے، واردانِ چمن سراپا سوز وسازِ آرزو، اور ادراکِ انسانی خرام آموز، جہاں ابر نیسان گہرباری اور در افشانی کرتا، جہاں وہ شمشادِ خراماں وآہنگ کناں گلستاں بستے، جن کے قد سے سر ودلجوئی سیکھتے، جہاں کا حسن وجمال آبِ رکنا باد وگلگشت مصلا کو فراموش کردیتا” (صفحہ 112)ایک…

Read more

وضو کے فرائض وضو کے چار فرائض (1) ایک بار پورے چہرے کو دھونا ، پیشانی کے بالوں کی جڑ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کی لو تک ، ایک بار دونوں ہاتھوں کی کہنیوں سمیت دھونا ایک بار چوتھائی سر کا مسح کرنا ایک بار دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا

Read more

ایک خوف ناک "حسینہ "کا عبرت ناک انجام

ایک خوف ناک "حسینہ” کا عبرت ناک انجام از :  ڈاکٹر محمد اعظم ندوی  "یہ طلباء نہیں دہشت گرد ہیں،ہم انہیں کچل کر رکھ دیں گے”، 76 سالہ شیخ حسینہ واجد کا یہ رعونت بھرا جملہ خود ان کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے گیا، اور بالآخر ان کو اپنی کرسی چھوڑنی پڑی، وہ غم و غصہ سے بھرے ہوئے عوام کے فلک شگاف نعروں کے درمیان اپنے سارے  خوابوں کو دفنا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں، بنگلہ دیشی عوام نے ان کی تقریباً دو دہائیوں کو محیط حکمرانی کو لوہے اور آگ کا راج قرار دیا، بنگلہ دیش کی اس ڈکٹیٹر خاتون کا دور اقتدار اپنے آخری لمحات میں ایک عجیب وغریب موڑ پر پہنچ گیا، جہاں ہر طرف شعلے بھڑک رہے تھے، اور قریب تھا کہ یہ ضدی عورت اس کا ایندھن بن جائے، طلباء اور نوجوانوں کے مظاہرے ایسے مرحلہ میں پہنچ چکے تھے جہاں سے اب وہ خود بھی چاہتے تو واپس نہیں آسکتے تھے، حسینہ کا مقابلہ مظاہرین اپنے برہنہ سینوں سے کررہے تھے، ان کے عزم بلند کے سامنے تمام تر حفاظتی دستے ناکام تھے، آگ بگولہ عوام کے بھڑکتے ہوئے غصہ کے سامنے پولس اور فوج کا قہر دم توڑ گیا، اوراپنی عمر عزیز بلکہ حیات رائیگاں کی76 بہاروں سے لطف اندوز ہوچکی شیخ حسینہ کے اقتدارکی فولادی دیواریں پاش پاش ہوگئیں، سچ ہے: اولو العزمان دانش مند جب کرنے پہ آتے ہیں سمندر پاٹتے ہیں، کوہ سے دریا بہاتے ہیں   حسینہ کا اقتدار 1996 سے اب تک پانچ مرتبہ کی حکمرانی پرمشتمل تھا، آج حسینہ کے ظالمانہ اور سفاکانہ دورِ حکومت کاخاتمہ ہوگیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا انداز آمرانہauthoritarian ہوچکا تھا، پھر یوں ہوا کہ اسلام پسندوں کوناحق تختہ دار پر لٹکانے والی ڈکٹیٹر کا بخت بگڑا اور تخت کھسک گیا، جب کہ ابھی سات ماہ بھی نہیں ہوئے جب انہوں نے اپنی چوتھی مسلسل اور مجموعی طور پر پانچویں میعاد کا جشن منایا تھا، یہ جشن جنوری میں ہونے والے انتخابات کے بعد منایا گیا تھا، جس میں حسینہ نے بغیر…

Read more

عدل و انصاف کیا ہے ؟؟

    اسلام ایک ہمہ گیر، فطرت سے ہم آہنگ، احترام و حقوق انسانیت کا علم بردار آفاقی مذہب ہے، جس کو روئے زمین پر بسنے والی سبھی مخلوق کے ساتھ عادلانہ و منصفانہ برتاؤ  پیش کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے ،      اسلامی شریعت میں عدل کا تصور دو اجزاء سے عبارت ہے: ایک یہ کہ بنی نوع انسان کے درمیان مختلف حقوق و رعایات میں توازن و تناسب قائم کیا جائے، دوسرے یہ کہ ہر کسی کو اس کا استحقاق دیا جائے اور اس کے حق کو ادا کرنے کی یقینی صورت پیدا کی جائے، اس تصورِ عدل کے بغیر فرد ہو یا معاشرہ یا ریاست، ہلاکت خیز اور سنگین نتائج کا سامنا کرتے ہیں،     عَدَل عربی گرائمر کی رو سے مصدر ہے،  قرآن مجید میں عدل کو  برابری، نیک نیت، قیمت، مردِ صالح اور حق و انصاف کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، اُردو زبان میں عدل کے لیے عموما انصاف کا لفظ مترادف کے بطور استعمال ہوتا ہے جو علمی اور لغوی اعتبار سے چنداں درست نہیں ہے، انصاف کے معنی "تصنیف یا نصف نصف کرنے” کے ہیں، یوں اس سے مراد حقوق کو محض برابر تقسیم کر دینا ہے، لیکن عدل کی قرآنی اصطلاح محض مساویانہ تقسیم کا نام نہیں ہے، کیونکہ مساوات مجرد انداز میں، خلافِ فطرت امر ہے، حقیقت میں عدل کا تقاضا یہ ہے کہ مساوات کی بجائے توازن و تناسب قائم کیا جائے، گرچہ عدل مساوات کے مفہوم کو بھی  شامل ہے ،  شریعت کی رو سے عدل کا تقاضا ہے کہ ہر فرد کے قانونی، آئینی، تمدنی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی حقوق کو پوری ذمہ داری اور آخرت کی جواب دہی کے احساس کے ساتھ ادا کیا جائے،   اللہ رب العزت نے اس کائنات کے تکوینی امور میں اس صفت کا کمال درجہ خیال رکھا ہے، اس کائنات کے تمام اجزائے آفرینش عدل کے باعث برقرار ہیں اور ان کے منافع اور ثمرات بھی تکوینی امور میں عدل کی موجودگی کے باعث میسر ہیں، اس حقیقت کی طرف قرآن مجید نے مختلف مقامات پر توجہ دلائی…

Read more