مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی کی آپ بیتی
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ ہندوستان میں جن بزرگوں کی طرف میرا د کھینچ ہے اور ان کی محبت بھی مجھے حاصل ہے ان میں ایک بڑا نام علم وفضل، تقویٰ طہارت، صلاحیت و صالحیت اور خدمات کے اعتبار سے حضرت مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی حفظہ اللہ (ولادت جولائی 1942ء) بن سید شاہ عنایت اللہ فردوسی (م 1/ دسمبر 1991ء) بن سید شاہ فضل حسین منیری (م 1924ء) بن سید شاہ امجد حسین (م 1921ء) کا ہے، وہ پیرانہ سالی کے باوجود پٹنہ میں نظام الاوقات کی پابندی کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں اور عمر کی اس منزل میں بھی لکھنے، پڑھنے کا کام کرتے ہیں، عزیزوں کی خاطر داری کے لیے اس کام کو بھی قبول کر لیتے ہیں، جو بڑی محنت کا ہوتا ہے، وقت طلب ہوتا ہے، مثال کے طور پر میری کتاب ”نئے مسائل کے شرعی احکام“ کا عربی ایڈیشن ”المسائل المستجدۃ فی ضوء الاحکام الشرعیہ“ لانا تھا، تو ڈرتے ڈرتے میں نے حضرت سے اس کتاب کے مواد اور زبان وبیان دونوں پر نظر نہائی کی درخواست کی، میں جانتا تھا کہ یہ کام کس قدر مشکل ہے، آج کے دور میں جب معاصرین بھی کتابیں پڑھنا پسند نہیں کرتے، حضرت نے بڑی خوش دلی سے اس کام کو اپنے ذمہ لے لیا اور انتہائی ژرف نگاہی کے ساتھ زبان وبیان کے اعتبار سے اس پر نظر نہائی کا کام انجام دیا، روزانہ اس کتاب کے لیے دو گھنٹے مختص کئے اور چند دنوں میں اس لائق بنا دیا کہ وہ چھپ کر منظر عام پر آجائے، چھپ کر آئی تو بھی بڑے اونچے حوصلہ افزائی کے کلمات کہے، چونکہ حضرت کا اپنا مقالہ بھی عربی زبان میں ”القضایا المعاصرۃ فی فتاویٰ علماء مسلمی الشرق الاوسط“ کے عنوان سے سات سو صفحات پر مشتمل تھا، جس پر انہیں ڈاکٹریٹ (Ph.D)کی ڈگری تفویض کی گئی ہے۔ اس لیے مواد کے اعتبار سے بھی انہوں نے اس کتاب کو جانچا، پرکھا اور اطمینان کا اظہار کیا، اتنا ہی نہیں اس کتاب پر ایک…
Read more

