HIRA ONLINE / حرا آن لائن
اعتکاف ، احکام و آداب

🔰اعتكاف، احكام وآداب 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک ، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد ، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام ، غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو ، مملوک کے لئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے ، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد وجود قرار دیا گیا :’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ‘‘۔ اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی ، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے ، نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے ، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے ، کبھی کمر تک جھکتا ہے ، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے ، زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے ، روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے ؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے ، روزہ دار کو دیکھئے ! بھوکا ہے ، پیاسا ہے ، دُھوپ کی تمازت اور موسم کی شدت ہے ؛ لیکن خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے سب کچھ گوارا ہے ، روزہ گویا اللہ تعالیٰ سے کمالِ محبت اور تمام علائق سے رشتہ ٹوڑ نے سے عبارت ہے ؛ لیکن بھو کے پیاسے رہنے کے باوجود روزہ کی حالت…

Read more

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟

صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ محمد رضی الاسلام ندوی سوال : صدقہ فطر پونے دو کیلو گیہوں بتایا جاتا ہے ، جب کہ احادیث میں گیہوں کا ذکر نہیں ہے، ان میں کھجور، جو اور کشمکش کے ایک صاع وزن کو صدقہ فطر قرار دیا گیا ہے۔براہِ کرم وضاحت فرمائیں، گیہوں کو کب سے اسٹینڈرڈ صدقہ فطر مان لیا گیا اور کس بنیاد پر؟کیا دوسری جنس میں صدقہ فطر ادا کیا جاسکتا ہے؟ اگر کوئی نقدی میں صدقہ فطر ادا کرنا چاہے تو کتنا کرے؟ جواب :احادیث میں صدقہ فطر کے لیے چار اجناس بتائی گئی ہیں۔ حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں:كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَكَانَ طَعَامَنَا الشَّعِيرُ وَالزَّبِيبُ وَالأَقِطُ وَالتَّمْرُ. (بخاری: ۱۵۱۰)” رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم عید الفطر کے موقع پر غلہ (یعنی) جو،شمش، پنیر اور کھجور ایک صاع کی مقدار میں بہ طور صدقہ نکالا کرتے تھے۔“عہد نبوی میں مدینہ اور اس کے اطراف میں گیہوں نہیں پایا جاتا تھا۔ اس کی پیداوار شام میں ہوتی تھی۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کی حکم رانی کے زمانے میں گیہوں کا رواج ہوا، لیکن وہ دیگر اجناس کے مقابلے میں مہنگا تھا، اس لیے صدقہ فطر گیہوں کے ذریعے نکالنے کی صورت میں اس کی مقدار ایک صاع کے بجائے نصف صاع مقرر کی گئی اور تمام صحابہ نے اس سے اتفاق کیا۔ایک صاع کا وزن تقریبًا سوا تین کلو اور نصف صاع کا وزن ایک کلو چھ سو گرام ہے۔ صدقہ فطر احادیث میں مذکور اجناس میں سے کسی میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔ صرف گیہوں کا تذکرہ کرنا اور اسی پر اصرار کرنا درست نہیں معلوم ہوتا۔صدقہ فطر نقدی میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے، بلکہ آج کل کے حالات میں نقدی میں ادا کرنا بہتر معلوم ہوتا ہے۔ عہد نبوی میں مذکورہ اجناس کو نقدی جیسی حیثیت حاصل تھی۔ لوگ ان چیزوں کو فروخت کرکے اپنی ضرورت کی دوسری چیزیں خرید لیا کرتے۔ آج کے دور میں کوئی شخص کسی غریب کو مذکورہ…

Read more

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیں

سوال : زکوة کب فرض ہوتی ہے اس کے شرائط کیا ہیں؟ جواب: از : قاضی محمد حسن ندوی جس مسلمان عاقل بالغ کے پاس ساڑھے سات تولہ یعنی ۴۷۹ ۸۷ گرام سونا یا ساڑھے باون تولہ یعنی ۶۱۲۳۵ گرام چاندی ہو یا کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو جس کی مجموعی قیمت ۶۱۳۳۵ گرام چاندی کے برابر پہنچ جائے یا صرف سامان تجارت ہو جس کی قیمت ۲۱۳۳۵ گرام چاندی کے برابر ہو جائے یا نقد روپئے ہوں جن سے ۶۱۲ گرام چاندی خریدی جاسکے اور یہ سب اس کی حاجات اصلیہ (کھانا، پینا، لباس اور رہائش وغیرہ) سے اور قرض سے فاضل ہوں، خواہ اپنے پاس رکھا ہوں یا بینک میں رکھا ہو، یا کسی کے پاس امانہ رکھا ہو اور اس پر سال گزر گیا ہو تو اس مال پر زکوۃ فرض ہو جائے گی۔ وشرط افتراضها عقل و بلوغ و اسلام و حرية و سببه ملك نصاب حولى … فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد …… و فارغ عن حاجته الاصلية (1)

Read more

ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

سوال: کوئی آدمی ہر سال اپنے مال سے ایک متعین رقم حکومت کو ٹیکس کے طور پر ادا کرتا ہے تو زکوٰۃ اس سے ادا ہو جائے گی ؟ جواب : از : قاضی محمد حسن ندوی زکوٰۃ اور ٹیکس کے درمیان بہت فرق ہے، زکوٰۃ ایک عبادت ہے اس کی ادائیگی کے لیے نیت ضروری ہے ، اخلاص و للہیت اور خدا ترسی مطلوب ہے ، اس کے لیے متعین مصارف ہیں، ان ہی پر صرف کرنے سے زکوٰۃ ادا ہو سکتی ہے ، غیر مسلموں اور عام رفاہی کاموں میں اس کا استعمال نہیں ہے ۔ و ما امروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين ( البينه: 5 ) إنما الصدقات للفقراء و المسلمين ( توبه : 60 ) اس کے بر خلاف ٹیکس عبادت نہیں ہے بلکہ حکومت کی اعانت یا اس سے پہنچنے والے فائدہ کا معاوضہ ہے ، نہ اس کے لیے کوئی متعین تناسب اور مقدار ہے ، نہ اس کے وہ مصارف ہیں جو زکوۃ کے ہیں، اس لیے ٹیکس سے زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں ہوسکتی

Read more

جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃ

از : قاضی محمد حسن ندوی جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃ سوال: کسی شخص نے تجارتی سامان خریدا لیکن ابھی اس پر اس کا قبضہ نہیں ہوا کہ سال پورا ہو گیا تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی ؟ جواب: تجارتی مال پر جب تک قبضہ حاصل نہ ہو جائے زکوۃ واجب نہیں ہوگی ۔ علامہ ابن نجیم مصری کا بیان ہے: لا تجب الزكوة على المشترى فيما اشتراه للتجارة قبل القبض لعدم اليد (۲) البحر الرائق ج 2 218

Read more

بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ

بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ سوال: وہ رقم جو کرنسی اکاؤنٹ یا فکسڈ ڈپازٹ کی شکل میں ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہو گی ؟ جواب: وجوب زکوۃ کے لئے ملکیت ضروری ہے اور مذکورہ مال پر ملکیت ہوتی ہے اس لئےشرعا ز کوۃ واجب ہے (۳) از : قاضی محمد حسن ندوی

Read more