آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی
آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ شان محمد ندوی مدرستہ العلوم الاسلامیہ -علی گڑھ عالمی امور کا تجزیہ: دنیا کے نقشے پر چند مقامات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے حجم سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ آبنائے ہرمز انہی میں سے ایک ہے—محض 33 کلومیٹر چوڑی ایک سمندری گزرگاہ، مگر عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ خلیج فارس کو بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملانے والا یہ راستہ توانائی سے مالا مال مشرقِ وسطیٰ کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے، اور اسی وجہ سے اس کی اہمیت محض جغرافیائی نہیں بلکہ اسٹریٹجک ہے۔ دنیا بھر میں سمندری راستوں کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد سے زیادہ حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں معمولی خلل بھی عالمی معیشت میں بڑی ہلچل پیدا کر سکتا ہے۔ ایشیا، خصوصاً ہندوستان کے لئے یہ راستہ انتہائی اہم ہے کیونکہ ہندوستان کی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 40 فیصد تیل اور قطر سے آنے والی نصف سے زائد مائع قدرتی گیس (LNG) اسی آبنائے سے ہوکر آتی ہے اور ہندوستان جیسے ممالک، اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے پر غیر معمولی حد تک انحصار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست مہنگائی، صنعتی پیداوار اور عوامی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ تاریخی پس منظر : تاریخی شہر اور ریاست: قرونِ وسطیٰ میں اس علاقے میں "ریاستِ ہرمز” (Kingdom of Hormuz) قائم تھی، جو تجارت کا ایک بہت بڑا مرکز تھی۔ مشہور سیاح مارکو پولو نے اس شہر کی دولت اور اہمیت کی وجہ سے اسے "دنیا کی انگوٹھی کا نگینہ” قرار دیا تھا۔ اسی تجارتی شہر اور جزیرے کی نسبت سے اس آبی راستے کا نام "آبنائے ہرمز” پڑ گیا. گیارہویں صدی میں، محمد درمکو نامی ایک عرب سردار نے عمان چھوڑا اور خلیج عبور کر کے ایرانی ساحل پر ‘مملکتِ ہرمز’ کی بنیاد رکھی۔ وہ کوئی جنگجو نہیں بلکہ ایک تاجر شہزادہ تھا، اور وہ جانتا تھا کہ اس جغرافیہ میں…
Read more

