عورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائل
عورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائل از قلم: اسجد حسن ندوی عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟
Read more
عورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائل از قلم: اسجد حسن ندوی عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟
Read more*مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری ندوی* ( 1920 —- 1999 ) *از قلم : طارق شفیق ندوی* احادیث نبویہ میں اچھے نام رکھنے کی ترغیب و تلقین آئی ہے، کیونکہ اس سے شخصیت میں وقار پیدا ہوتا ہے، دل میں اس کی عظمت قائم ہوتی ہے. دوسری بات یہ کہ نام کی حیثیت ایک قالب کی سی ہے، جس میں انسان ڈھلتا ہے اور اس کی فطرت پر نفسیاتی اثر رہتا ہے. راقم کے نزدیک اس قبیل کی مثالوں میں ایک مثال مولانا معین اللہ ندوی نائب ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی ہے، جو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی تعمیر و استحکام میں معین و مساعد تھے، جنھیں ناچیز *معمار ندوہ* کے لقب سے ملقب کرنا زیادہ موزوں سمجھتا ہے. مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی معتمد تعلیم ندوۃ العلماء لکھنؤ اپنے مضمون "احساسات و تاثرات” میں رقم طراز ہیں کہ: *”مولانا معین اللہ ندوی کا دارالعلوم کے مادی وسائل کے حصول، طلبہ کی رہائش کے لئے دارالاقامہ کی ضرورت، مسجد کی توسیع اور اس کو آباد کرنے کا اہتمام ، اس کے لئے درجہ حفظ کی توسیع و ترقی کی فکر میں نمایاں حصہ ہے. اسی طرح رواق سلیمانی، معہد تحفیظ القرآن الکریم، رواق اطہر، رواق عبد الحئی حسنی اور کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی کی تعمیر میں ان کا بنیادی کردار ہے.”* کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی کے قیام کی تجویز ندوۃ العلماء کے اجلاس (1915) میں منظور ہوچکی تھی اور موجودہ پانچ منزلہ خوبصورت عمارت کی بنیاد (1975) رکھی گئی تھی، جس کا افتتاح (1984) میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ہوا تھا، جس میں راقم بھی شریک تھا اور اس کی دیرینہ خواہش تھی کہ مولانا معین اللہ ندوی جیسے عہد آفریں منتظم، مفکر اسلام مولانا علی میاں کے عاشق زار ، سفر و حضر کے مشیر و مددگار کی ناقابل یقین خدمات اور حسن کارکردگی کے پیش نظر *معین الندوہ* کے ایوارڈ سے سرفراز کیا جاتا اور یک مشت پانچ لاکھ روپے بطور…
Read moreکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ جواب: جی ہاں، متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے مسجد آیا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نماز میں حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ آپ ﷺ نے بچوں کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر فرما دی تاکہ ان کی ماؤں کو تکلیف نہ ہو۔ آپ ﷺ نے والدین کو سات سال کی عمر سے بچوں کو نماز کی تعلیم دینے کا حکم دیا۔ یہ تمام روایات اس بات کی دلیل ہیں کہ بچوں کا مسجد سے تعلق قائم کرنا مطلوب ہے ۔ کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟
Read moreاگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا انہیں مسجد لانا منع ہے؟ جواب: اگر بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ وہ مسلسل شور مچاتا ہو، نمازیوں کو پریشان کرتا ہو یا مسجد کی بے حرمتی کا سبب بنتا ہو تو ایسے بچے کو بلا ضرورت مسجد لانا مناسب نہیں۔ لیکن اگر والدین بچے پر نظر رکھ سکتے ہوں اور اسے ادب سکھا سکتے ہوں تو اسے مسجد لانا درست ہے۔
Read moreکیا بچوں کو مسجد لانا جائز ہے؟ : جواب جی ہاں، بچوں کو مسجد لانا جائز ہے، بلکہ اگر انہیں دینی ماحول، نماز اور مسجد سے مانوس کرنے کی نیت ہو تو یہ ایک اچھی تربیت ہے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بھی بچے مسجد میں آتے تھے۔ آپ ﷺ نے بچوں سے محبت کا اظہار فرمایا اور ان کی موجودگی کو بالکل منع نہیں فرمایا، بلکہ بعض مواقع پر ان کی رعایت بھی فرمائی۔
Read moreمولانا سید سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے از ڈاکٹر محسن عتیق خان مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند 29 جون 2026 کو جب میں نے صبح صبح فون ہاتھوں میں لیا تو سب سے پہلے جس خبر پر نظر پڑی وہ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ناگہانی موت کی خبر تھی۔ آپ 72 سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ كل ابن أنثى وإن طالت سلامته يوماً على آلة حدباء محمول یعنی ہر ماں کا بیٹا، چاہے کتنی ہی لمبی عمر اور صحت پا لے، ایک دن خم دار سواری (یعنی جنازے کی چارپائی) پر اٹھا کر لے جایا جائے گا۔” اور یہی ابدی حقیقت ہے، ہم کسی کو کتنا چاہتے ہوں، کتنا مانتے ہوں، یا کوئی کسی فرد، خاندان، قوم یا ملک کے لیے کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو۔ ہر ایک کو اس مرحلے سے گزرنا ہے، اور ہر ایک کے گزرنے کے بعد دنیا یونہی حسب معمول اپنے ڈھرے پر چلتی رہتی ہے۔ مولانا مرحوم کی موت کی خبر نے مجھے بے چین کر دیا خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی آپ کے جنازے میں شریک ہو سکتا مگر گاؤں میں ہونے اور آپ کے یہاں سے محض سو یا دو سو کیلو میٹر دور ہونے کے باوجو اس خواہش کی تکمیل ممکن نہ تھی کیونکہ میں خود تقریباً ایک مہینے سے بستر علالت پر پڑا ہوا تھا۔ مولانا کی موت کی خبر نے یادوں کے دریچے کھول دیے اور مجھے 30/35 سال پیچھے دار العلوم ندوۃ العلماء میں طالب علمی کے زمانے میں پہنچا دیا۔ میں نے مولانا مرحوم کو سب سے پہلے لکھنؤ کی سفید بارہ دری میں تقریر کرتے ہوئے سنا تھا۔ یہ 1993 کی ابتدا کی بات ہے، بابری مسجد شہید کی جا چکی تھی, ہندوستان کی تاریخ میں ظلم و بربریت کا ایک نیا اور تاریک باب جوڑا جا چکا تھا، مسلماں ظلم سے نڈھال، امید و بیم کی حالت میں تھا۔ حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ…
Read more