درود اور ہم

آدم علی ندوی

 

درود شریف کی فضیلت

حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں، اپنی دعا میں سے کتنا حصہ آپ کے لیے مخصوص کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جتنا چاہو۔” میں نے عرض کیا: ایک چوتھائی؟ فرمایا: "جتنا چاہو، اور اگر اس سے زیادہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔” میں نے عرض کیا: نصف؟ فرمایا: "جتنا چاہو، اور اگر زیادہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔” میں نے عرض کیا: دو تہائی؟ فرمایا: "جتنا چاہو، اور اگر زیادہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔” میں نے عرض کیا: کیا میں اپنی پوری دعا ہی آپ پر درود کے لیے مخصوص کردوں؟ فرمایا: "تب تمہاری پریشانیوں کے لیے اللہ کافی ہوگا اور تمہارے گناہ بخش دیے جائیں گے۔”(جامع الترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، حدیث: 2457

 

یہ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے دل کی کیفیت تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم محبت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم میں اسی طرح سرشار تھے۔ ان کی جان و مال، اہل و عیال اور ہر عزیز و متاع رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر نثار تھا۔ وہ آپ کو اپنے ماں باپ، اولاد اور دنیا کی ہر محبوب چیز سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ ان کا قول و عمل، ظاہر و باطن اور زندگی کا ہر گوشہ محبت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دیتا تھا۔
آخر ایسا کیوں نہ ہوتا؟ انہیں جو کچھ ملا، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ہی کے واسطہ سے ملا۔ قرآن جیسا عظیم تحفہ، اسلام کی نعمت، ہدایت کی روشنی، جاہلیت کی تاریکیوں سے نجات، امن و اخوت، شریعت و اخلاق، عبادات و معاملات اور زندگی گزارنے کا پاکیزہ طریقہ۔۔یہ سب اسی ذات گرامی کے ذریعہ انہیں نصیب ہوا۔

آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نے عرب کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ جاہلیت کی تاریکیاں چھٹیں، ایمان کی روشنی پھیلی اور وہ لوگ جو قبائلی عصبیتوں میں بٹے ہوئے تھے، ایک امت اور ایک ملت بن گئے۔ انہیں عزت و سیادت نصیب ہوئی اور دنیا کی رہنمائی کا منصب عطا ہوا۔

آپ امام الانبیاء، سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں۔ آپ کی صحبت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے سب سے بڑا شرف تھی۔ انہی کی نسبت سے انہیں "رضی اللہ عنہم” کا اعزاز ملا، جنت کی بشارتیں نصیب ہوئیں اور وہ ایثار و قربانی کی ایسی مثالیں قائم کر گئے جن کی نظیر تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔

اسی محبت کا ایک منظر صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا۔ انہوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا بے مثال ادب و تعظیم کرتے دیکھا کہ واپس جا کر قریش کے سامنے ان کے اس والہانہ تعلق کا ذکر کیا۔کہ آپ وضو فرماتے تو صحابہ آپ کے وضو کا پانی زمین پر گرنے نہ دیتے، بلکہ اسے حاصل کرکے اپنے چہروں اور جسموں پر مل لیتے تھے۔(صحیح البخاری، کتاب الشروط، حدیث: 2731، 2732

 

ان کی زبانوں پر محبت کے الفاظ رہتے اور موقع آنے پر یہی محبت عمل اور قربانی بن جاتی۔ "فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ” محض ایک جذباتی جملہ نہ تھا؛ ان کی پوری زندگی اس کی عملی تفسیر تھی۔

محبت و تعظیمِ رسول صرف صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے مخصوص نہ تھی، بلکہ قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کے لیے مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا(سورۃ الأحزاب: 56)
"بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔”

یہ آیت درود و سلام کی عظمت کو کس شان سے بیان کرتی ہے! پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت ذکر فرمائی، پھر فرشتوں کی اور اس کے بعد اہلِ ایمان کو حکم دیا کہ وہ بھی اپنے نبی پر درود و سلام بھیجیں۔
پس درود شریف محض محبت کے اظہار کا نام نہیں؛ یہ قرآن کا صریح حکم بھی ہے اور محبت رسول کا ایک روشن تقاضا بھی۔
اور دوسری طرف ہم ہیں! ہم بھی محمد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ ہمیں وہی قرآن ملا جو آپ لے کر آئے، وہی اسلام ملا جس کی دعوت آپ نے دی اور آپ کی احادیث، شمائل، اخلاق اور مبارک سیرت ہمارے لیے محفوظ ہیں۔ ہماری زندگی کے لیے آپ بہترین نمونہ ہیں: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ(سورۃ الأحزاب: 21)”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔”

ہم آپ کی امت ہونے کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں، محبت رسول کے دعوے بھی کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زندگی میں اس محبت کا وہ اثر بھی نظر آتا ہے جو نظر آنا چاہیے؟

ہماری مجالس میں گفتگو کے لیے گھنٹوں صرف ہوتے ہیں، مختلف موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں، لیکن کتنی ہی مجلسیں ایسی ہوتی ہیں جہاں رسول اللہ کا ذکر تو ہو، مگر درود و سلام کی کثرت نہ ہو۔ ہم محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن درود شریف کے لیے چند لمحے نکالنے میں بھی تساہل برتتے ہیں۔
درود شریف رسول اللہ کی محبت اور احسان شناسی کا اظہار تو ہے ہی، لیکن یہ ہمارے اپنے لیے بھی عظیم خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔رسول اللہ نے فرمایا: مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا(صحیح مسلم، کتاب الصلاة، حدیث: 408)”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔”
ایک درود کے بدلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دس رحمتیں! اس سے بڑھ کر خوش نصیبی اور کیا ہوگی؟اسی طرح رسول اللہ نے فرمایا:أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً(جامع الترمذی، کتاب الوتر، حدیث: 484)”قیامت کے دن لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہوگا۔”

اور آپ نے تنبیہ فرمائی: الْبَخِيلُ الَّذِي مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ۔(جامع الترمذی، حدیث: 3546)"بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔”

لہٰذا جب رسول اللہ کا ذکر ہمارے سامنے آئے تو ہماری زبان پر بے اختیار درود جاری ہونا چاہیے۔ یہ صرف زبان کا عمل نہیں، بلکہ دل میں محبت رسول کو تازہ رکھنے اور تعلقِ نبوی کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

رسول اللہ نے فرمایا: إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ(سنن النسائی، کتاب السهو، حدیث: 1282)”اللہ تعالیٰ کے ایسے فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔”

جب ہماری طرف سے بھیجا ہوا سلام رسول اللہ تک پہنچتا ہے تو اس سے بڑھ کر سعادت کیا ہوسکتی ہے؟ پھر یہ کیسے گوارا ہو کہ ہماری زندگی، ہماری مجالس اور ہماری زبانیں درود و سلام سے محروم رہیں؟

اس لیے درود شریف کو صرف کسی خاص موقع یا مخصوص مجلس تک محدود نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے زندگی کا مستقل معمول بنانا چاہیے۔ صبح و شام، گھر میں، سفر میں، فراغت کے اوقات میں اور خصوصاً جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنا چاہیے۔رسول اللہ نے فرمایا: أَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ۔(سنن ابی داود، کتاب الصلاة، حدیث: 1047)”جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔”

ضروری نہیں کہ ہم ابتدا ہی میں کوئی بہت بڑا معمول مقرر کرلیں۔ چند مرتبہ سے آغاز کریں، پھر اپنی توفیق کے مطابق اسے بڑھاتے جائیں۔ جب زبان درود کی عادی ہوجائے گی تو دل بھی اس ذکر سے مانوس ہوگا، اور ان شاء اللہ محبتِ رسول میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ درود کی مقدار جتنی بڑھائی جائے، ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔ اور اس کے ساتھ وہ عظیم بشارت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی پریشانیوں کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے محبتِ رسول ﷺ کو صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ اپنی زندگی، اپنے مال، اپنی جان اور اپنے کردار سے ثابت کیا تھا۔ ہمیں بھی اپنے دعوائے محبت کو درود، سنت اور اتباع کے ذریعہ سچا ثابت کرنا ہے۔

محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری زبان درود سے مانوس ہو، ہمارے دل میں رسول اللہ کی محبت ہمیشہ تازہ رہے اور ہماری زندگی رفتہ رفتہ آپ کی سنت کے سانچے میں ڈھلتی چلی جائے۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔