Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
05.05.2026
Trending News: نالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئے
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
05.05.2026
Trending News: نالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئے
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

علامہ شبلی ؒنعمانی (1857۔ 1914)مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں

  1. Home
  2. علامہ شبلی ؒنعمانی (1857۔ 1914)مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں

علامہ شبلی ؒنعمانی (1857۔ 1914)مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • نومبر 19, 2024
  • 0 Comments

از: احمد نور عینی استاذ

استاذ : المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

زائد از ڈیڑھ صدی پہلے کی بات ہے، یعنی اس زمانے کی بات ہے جب ہندوستان جنت نشان کی سونا اگلتی دھرتی پر استعمار اپنے اقتدار کے پنجے بے رحمی کے ساتھ گاڑنے میں کامیاب ہورہا تھا، ہندوستان کا دل شہرِ دلی مغلیہ عظمت وشوکت کی آخری دھڑکنیں گن رہا تھا ، دلی کا مرکزِ اقتدار لال قلعہ انتقالِ اقتدار کا ماتم کر رہا تھا ، گویا مغلیہ سلطنت کا وہ آفتاب جو اورنگ زیب کے بعد لب بام آگیا تھا ہمیشہ کے لیے غروب ہوا چاہتا تھا۔ ٹھیک اسی زمانے میں اتر پردیش کے ایک مردم خیز خطہ اعظم گڈھ میں ایک ایسا آفتاب طلوع ہوتا ہے جو آگے چل کر علم کدوں میں تحقیق کی کرنیں بکھیرتا ہے، مخالفت کی ہوائیں ہر چند اس کی ضیا گستری کو بدلیوں کی اوٹ میں چھپانا چاہتی ہیں مگر اس کی کرنیں بدلیوں کا سینہ چیر کر نیچے اترتی جاتی ہیں۔ جس زمانے کی یہ بات ہے وہ ۱۸۵۷ ء کا سال ہے اوراعظم گڈھ کے جس آفتاب کا تذکرہ ہے اسے دنیا شبلی نعمانی کے نام سے جانتی ہے۔

علامہ شبلیؒ قافلۂ سخت جاں کے وہ سالار تھے جن کی صحرا نوردی کو ریگستانی ہواؤں کے جھکڑ بھی نہ روک سکے،اور جن کی آبلہ پائی کے نقوش آج بھی کاروانِ علم وتحقیق کو منزل کا پتہ دیتے ہیں۔ علامہ شبلیؒ کی شخصیت بیسویں صدی میں تعلیمی انقلاب کا عنوان ہے، مردم سازی و مصنف گری کا نام ہے، تخلیق وتحقیق سے عبارت ہے۔ علامہ شبلیؒ گوناگوں خصوصیات کے حامل اور مختلف صلاحیتوں کے مالک تھے، میدانِ ادب کے شہسوار بھی تھے اور اقلیمِ علومِ اسلامیہ کے تاجدار بھی ، تاریخ کے بحر متلاطم کے غوطہ خوار بھی تھے اور سیرت نگاری کے انوکھے اسلوب میں یکتائے روزگار بھی ، انگریزی کی ترویج کے لیے طبقۂ قدیم سے برسر ِپیکار بھی تھے اور قدیم صالح وجدید نافع کو جمع کرنےکے علم بردار بھی۔ دامنِ اسلام سے شبہات کے داغ دور کرناان کی فکر تھی، آریہ سماجیوں کے بڑھتے قدم کو روکنا ان کا دردِ دل تھا، تاریخ کو مستشرقین و معاندین کی زہر آلود تحریفات سے پاک کرنا ان کا مشن تھا، علم کلام کی تدوینِ نو ان کا عزم تھا، تعلیمی انقلاب اور اصلاحِ نصاب ان کی فکری وعملی مساعی کا محور تھا۔ جس زمانے میں انگریزی کے نام سے ہی لوگوں کی روح نکل جاتی تھی اور اختیاری مضمون کی حیثیت سے بھی اس کی تعلیم الحاد کی تخم ریزی تصور کی جاتی تھی، اس زمانے میں شبلی نے نہ صرف یہ کہ انگریزی زبان کو بہ حیثیت لازمی مضمون کے داخلِ درس کیا ؛ بل کہ انگریزی میں مہارت پیدا کرنے کے لیے مستقل دو سال کا کورس شروع کرنے کی تجویز پیش کی (حیات شبلی: ۳۳۶)۔ انگریزی کے لیے دو سال کے خصوصی کورس کا جو خواب شبلی نے دیکھا تھا اسے شرمندۂ تعبیر ہونے میں ایک صدی کا وقت لگا، گویا بیسویں صدی کے شروع میں شبلی جس بلند مقام پر کھڑے تھے وہاں تک پہنچنے میں اہلِ علم کے کارواں کو ایک صدی لگی۔

علامہ شبلیؒ نے جہاں اپنے قلم سے تاریخ کا مقابلہ کیا وہیں ندوہ میں ’صیغۂ تصحیح اغلاط تاریخی‘ کے نام سے ۱۹۱۰ء میں ایک شعبہ بھی قائم کیا، جس کا سکریٹری مولانا سید سلیمان ندویؒ کو بنایا، سید صاحب نے بہت محنت اور لگن سے کام کیا اور بہت سی تاریخی اغلاط کو جمع کرکے ایک رپورٹ تیار کی جو انھوں نے ندوہ کے سالانہ جلسہ میں پڑھ کر سنائی؛ لیکن افسوس کے تاریخ کا یہ شعبہ بہت جلد تاریخ کا حصہ بن گیا، اور شبلی کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوتے ہوتے پھر خواب کی شکل اختیار کرگیا؛ البتہ شبلیؒ کے دارالمصنفین نے تاریخ کے میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں تاریخ انھیں ضرور یاد رکھے گی۔

ہندی و سنسکرت کی تعلیم کے تعلق سے علامہ شبلیؒ کے دل کو بے چین رکھنے والی فکر اگر شبلیؒ کے بعد بھی مسلم قائدین کو بے کل رکھتی تو آج ہمارے ملک میں دعوت دین کا کام بھی آسان ہوتا، آر۔ ایس۔ ایس کے نفرت انگیز و زہر آمیز لٹریچر کا جواب بھی بہ حسن وخوبی دیا جاسکتا اور بھارتی سماج میں پھیلائی جانے والی نفرت کی آگ ہمارے لٹریچر کے سامنے سرد ہوتی نظر آتی۔ شبلیؒ کو گذرے ایک صدی ہوگئی ، مگر افسوس کہ دفاع اسلام کا یہ محاذ ابھی بھی مسلح سپاہیوں کی راہ دیکھ رہا ہے اور زبانِ حال سے یہ صدا لگا رہا ہے:کون سی وادی میں ہے ؟ کون سے منزل میں ہے؟عشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاں ؟! علامہ شبلی نے فضلا کی تربیتِ تحقیق وتالیف کے لیے دارالمصنفین کا خاکہ ندوہ کے زمانہ میں ہی بنالیا تھا لیکن ندوہ کے نامساعد حالات نے علامہ شبلی کو اس خاکہ میں رنگ بھرنے نہیں دیا ؛ مگر جب شبلی اس کوئے یار سے نکل کر اپنے دیار آئے تو اپنے خون جگر سے اس خاکہ میں رنگ بھرا اور دار المصنفین کے لیے فضلاکو مدعو کیا،عشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاں تیار تھا، قافلہ سالار پر عزم تھا کہمیں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کوشرر فشاں ہوگی آہ میری ، نفس میرا شعلہ بار ہوگا

فضائے دشت میں بانگِ رحیل گونجا ہی چاہتی تھی کہ میرِ کارواں راہیِ ملکِ عدم ہوگیا،اہل کارواں کو اس کا صدمہ ضرور ہوا ؛ لیکن یہ صدمہ ان کی راہ میں حائل نہ ہوسکا، شبلیؒ کے لائق و فائق شاگردوں نے شبلیؒ سے حاصل ہونے والی مذاقِ تحقیق و سلیقہ تصنیف کی میراث کو توشہ راہ بناکر اس کارواں کو ایسی کمالِ مہارت اور تیز رفتاری سے جادہ پیما کیاکہ سنگِ راہ دونیم ہوئے، غبار کارواں سے کارواں کی عظمت وعزیمت کا پتہ چلا اور ایسے نقوش ثبت ہوئے کہ آج بھی ان کے نشانِ قدم منزل کا سراغ دیتے ہیں۔ اختصاص کے شعبے ہوں یا انگریزی زبان کے گھنٹے، جدید علوم وفنون کی تدریس ہو یا جدید علمِ کلام مدون کرنے کی تجویز،تحقیق وتالیف کی تربیت ہو یا بہ طور مطالعہ تاریخ کا موضوع،آریوں اور سناتن دھرم یوں سے نمٹنے کے لیے خصوصی درسگاہوں کا قیام ہو یامغربی حملوں کا جواب دینے کے لیے طلبہ وفضلا کی تربیت،سب کا سرِ رشتہ علامہ شبلیؒ کی فکر سے جڑتا نظر آتا ہے۔جو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہے زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

امی ! صبر و عزیمت کا استعارہ

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • شیخ الاسلام مصطفی صبری
  • اپریل 30, 2026
  • 0 Comments
خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954

خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954 شیخ مصطفیٰ صبری 1286ھ/1869ء میں توقاد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم قیصریہ میں شیخ خوجہ امین افندی سے حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے استنبول چلے آئے۔ استنبول میں ان کی ذہانت، مضبوط حافظہ اور گہرا علمی ذوق دیکھ کر اساتذہ نے فوراً ان کی قابلیت کو پہچان لیا۔صرف بائیس برس کی عمر میں انہیں جامع سلطان محمد الفاتح—جو اُس وقت استنبول کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی تھی—میں مدرس مقرر کیا گیا۔ یہ منصب نہایت بڑا تھا، جس تک پہنچنے کے لیے شدید محنت اور گہرا علم ضروری تھا۔ بعد ازاں انہیں سلطان عبدالحمید ثانی کی شاہی لائبریری کا امین بنایا گیا۔ سلطان نے نوجوان مصطفیٰ صبری کی غیرمعمولی وسعتِ مطالعہ اور امتیاز کو خاص طور پر سراہا۔ 1908ء میں دستورِ ثانی کے اعلان کے بعد شیخ نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ اس سال وہ اپنے شہر "توقاد” سے مجلسِ مبعوثان (عثمانی پارلیمنٹ) کے رکن منتخب ہوئے۔ اسی عرصے میں وہ "بیان الحق” نامی اسلامی مجلہ کے مدیر بھی رہے، جو "جمعیۃ العلماء” کی طرف سے جاری ہوتا تھا۔ انہیں دارالحکمہ الاسلامیہ کا رکن بھی بنایا گیا۔ اس دور میں وہ اپنی خطابت، قوتِ استدلال اور اسلام کے دفاع میں جرات مندانہ کردار کی وجہ سے نہایت نمایاں ہو گئے۔ کچھ ہی عرصے میں انہیں "اتحادیوں” (کمیٹی آف یونین اینڈ پراگریس) کی خطرناک نیت کا اندازہ ہو گیا، تو وہ حزبِ ائتلاف میں شامل ہو گئے—یہ جماعت ترکوں، عربوں اور اَروم کی مشترکہ حزب تھی جو ترک قوم پرستانہ (طورانی) رجحانات کی مخالف تھی۔ شیخ اس جماعت کے نائب صدر بھی بنے۔ 1913ء میں جب الاتحادیوں کی قوت بڑھی اور ان کے مظالم میں شدت آئی تو شیخ کو ملک چھوڑ کر مصر آنا پڑا۔ کچھ مدت وہاں رہنے کے بعد وہ یورپ گئے اور رومانیہ کے شہر "بوخارست” میں مقیم ہوئے۔ جنگِ عظیم اول کے دوران جب ترک فوج بوخارست میں داخل ہوئی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا اور جنگ کے اختتام تک قید میں رکھا گیا۔…

Read more

Continue reading
مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)
  • hira-online.comhira-online.com
  • ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی
  • مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم (خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)
  • اپریل 26, 2026
  • 0 Comments
مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)

از ابوالحسن نظام الدین محمدفرنگی محلی سہ شنبہ ۱۴؍ ربیع الآخر ۱۴۴۷ھ؁ مطابق ۷؍اکتوبر ۲۰۲۵ء؁ تقریباً گیارہ (۱۱) بجے یا اس کے کچھ بعد کا وقت رہا ہوگا۔ اچانک فون کی گھنٹی کی بجی۔ دیکھا تو استاذی مولانا ڈاکٹر ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ندوی کا فون ہے۔ فوراً اٹھایا۔ انہوں نے اپنی طبیعت خرابی کے ذکر کےساتھ کہا۔’’سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے‘‘ تواحقر نے کہاکسی ڈاکٹر کو دکھا دلیجئے مگر اُن کو نہیں جن کے یہاں آپ ایڈمٹ تھے بلکہ کسی دوسرے کو۔ کہنے لگے ہاں غالباً بلغم ہے۔ میں نے کہا میں حاضر ہوں گا۔ لیکن کہتے وقت ذہن میں ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ فوراً ابھی جاؤں گا بلکہ کل ورنہ پرسوںجانے کا خیال ذہن میں تھا۔ چند مختصر جملوں کا مزید تبادلہ ہوا۔ اور خاکسار ہی نے اجازت لے کر فون منقطع کردیا۔ہمارے محلہ کی مسجد میں پونے ایک بجے ظہر کی جماعت ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک بجے کے بعد سنتوں سے فارغ ہو کر اندرون خانہ پہنچنے کے بعد فون اٹھایا تو دیکھا کہا بارہ پچپن( ۵۵:۱۲) کی ندوہ سے حافظ مصباح الدین صاحب کی کال لگی ہوئی ہے نیز دفتر الرائد سے مولوی عبدالکریم صاحب ندوی کی بھی کال لگی ہے۔ ابھی کال کرنے ہی جارہا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب نے دوبارہ فون کیا اور حادثہ کی اطلاع دی پھر دفتر الرائد ہی سے مولانا عثمان خاں صاحب ندوی نے بھی اسی روح فرساخبرکو دہرایا ۔جس کے بعدحافظ مصباح الدین کو فون کیا۔خبر کی تصدیق کے ساتھ انہوں نےبتایا کہ فہمینہ ہاسپٹل سے جنازہ لے کر اب میں ندوہ جارہا ہوں۔ خاکسار بھی فوراً ندوہ پہنچا جہاں حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد۔ کا منظر سامنے تھا۔طلبہ کے ہجوم کے درمیان مولانا کے جنازہ کی زیارت کی۔ نماز جنازہ کا وقت معلوم کرکے مکان واپس آکر قبل عصرد وبارہ ندوہ پہونچا۔ جہاں بعد نماز عصر فیلڈ میں ہزاروں طلبہ، اساتذہ ودیگر سوگواروں کے مجمع کے درمیان ناظم ندوۃ العلماءجناب مولانا سید بلال عبدالحئی صاحب حسنی ندوی کی ا قتداء میں نماز جنازہ ادا ء کی اور لاش گاڑی…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • نالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاء 05.05.2026
  • بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت 01.05.2026
  • خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954 30.04.2026
  • (بلاعنوان) 30.04.2026
  • قربانی کس پر واجب ہے ؟ 30.04.2026
  • ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ 27.04.2026
  • ذبح کرنے کا صحیح طریقہ 27.04.2026
  • حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر 26.04.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

نالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاء

  • hira-online.com
  • مئی 5, 2026
نالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاء
مضامین و مقالات

بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت

  • hira-online.com
  • مئی 1, 2026
بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت
سیرت و شخصیات

خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954

  • hira-online.com
  • اپریل 30, 2026
فقہ و اصول فقہ

  • hira-online.com
  • اپریل 30, 2026
فقہ و اصول فقہ

قربانی کس پر واجب ہے ؟

  • hira-online.com
  • اپریل 30, 2026
قربانی کس پر واجب ہے ؟
فقہ و اصول فقہ

ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ

  • hira-online.com
  • اپریل 27, 2026
ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ
فقہ و اصول فقہ

ذبح کرنے کا صحیح طریقہ

  • hira-online.com
  • اپریل 27, 2026
ذبح کرنے کا صحیح طریقہ
حدیث و علوم حدیث

حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر

  • hira-online.com
  • اپریل 26, 2026
حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top