Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
02.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
02.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

  1. Home
  2. موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • نومبر 29, 2024
  • 3 Comments

از : قاضی محمد حسن ندوی

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا نہ صرف مسلمانوں بلکہ دشمنان اسلام نے بھی اعتراف وتسلیم کیا ہے ، بقا وابدیت صرف ایک ذات وحدہ لاشریک کے لیے مناسب ہے ، اس کے علاوہ سبھوں کے لیے موت اور فناء مقدر ہے، دنیا میں جو بھی آیا ہے، اسے ایک دن دنیا سے رخصت اور دنیا کو الوداع کہنا ہے ،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحیح کہا کہ ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ( کل نفس ذائقہ الموت) کسی نے بجا فرمایا ہے

موت سے کس کس کو رستگاری ہے

آج اس کی کل ہماری باری ہے

اکتوبر کے دوسرے عشرے سے ہماری خوش دامن کی طبیعت زیادہ ہی ناساز ہوگئ، ابتدا میں انہیں شکری ہاسپیٹل میں پھر پٹنہ اندرا گاندھی ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا گیا جہاں تقریباً پندرہ دن علاج ہوا ، icu میں رکھا گیا ،کچھ افاقہ ہوا تو ڈاکٹروں کے مشورے سے گھر آگئیں، آکسیجن پر تھیں ، مگر ہوش وحواس باقی تھا ، باتیں کرتیں تھیں، دوسری طرف دوا وعلاج اور و سائل کے استعمال میں کوئی کمی نہیں کی گئی ، اس اعتبار سے مامو محترم حضرت مولانا مختار علی المظاہری صاحب قابل رشک ہیں ، خود معذور ہیں لیکن اس حال میں بھی کئی بار شکری اور ایک بار پٹنہ مرحومہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ، اسی طرح دونوں لڑکے علی اختر ندوی اور حسن اختر سیفی بھی والدہ کی صحت یابی کے لئے بہت کوشاں رہے، آج میرے چچیرے بھائی حافظ نثار صاحب نے ہماری تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں چند دنوں قبل افسانہ مامی کی عیادت کے لیے یکہتہ گیا تھا ، ان کی خبر و خیریت لی ، آدھا گھنٹہ وہاں تھا ، لیکن میں نے علی اختر کو بہت ہی بے چین دیکھا ، کبھی گھر میں آتے ، کبھی باہر ،اسی طرح شکری سے قبل دربھنگہ میں بھی اپنی مرحومہ والدہ کی صحت یابی کیلئے مختلف ہاسپٹل میں جانا، ڈاکٹر سے صلاح ومشورہ کرنا ،دن رات ایک کرنا واقعی علی اختر صاحب کا قابل تحسین عمل ہے ، چھوٹی بیٹی (………) نے بھی تو ہر جگہ ماں کی خدمت کو غنیمت جان کر اپنے آرام و راحت کو قربان کر دی، ہر جگہ والدہ کے ساتھ رہیں، خدمت میں کمی نہیں کی ،اسی طرح دونوں بڑی لڑکیوں نے ماں کی خدمت کی کوشش ہی نہیں کیں بلکہ ایک مہینے کے اندر دو مرتبہ مہاراشٹر اور گجرات سے وطن یکہتہ اور پٹنہ کا سفر کیا ، ظاہر ہے ان دونوں بہنوں کو بھی خدمت کا جو زریں موقع ملا ، وہ ان کی خوش نصیبی اور سعادت مندی کا زینہ ہے، اسی طرح نواسوں میں سے سبھوں نے دعائیں کیں ،لیکن میرے لڑکے حافظ اجود کو حیات میں دس دن پٹنہ میں خدمت کا موقع ملا، نیز والدہ کے ساتھ سفر کرکے جنازہ اور مٹی دیکر ڈبل نیکی اور سعادت حاصل کرنے کا موقع ہاتھ آیا، مگر اولاد والدین کا حق ادا نہیں کر سکتی۔

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہیں ہوسکا

اسی طرح گھر میں رہ کر چھوٹی بہو اور بڑی بہو ہاسپیٹل اور گھر دونوں جگہ وہ خدمت کی ہیں جن کا تصور آج معاشرہ میں بیٹا اور بیٹی کے علاؤہ کسی سے بھی ممکن نہیں ہے ،

بہرحال اپنے تئیں قریب دور تمام رشتے داروں نے مرحومہ کی صحت یابی کیلئے قربانیاں دیں ۔ خواہ مولانا کے دونوں بھائی ہو یا بھنیں انہوں نے بھی اپنے اعتبار سے ہر موقع پر بھائی کو تسلی اور بھیجتیجو کی رہنمائی کی ، دعا ہے اللہ تعالیٰ سبھوں کی خدمت کو قبول فرمائے، لیکن ظاہر ہے کہ جب کسی کا وقت اجل یعنی موت آجاتی ہے تو اسے ایک سیکنڈ کے لئے کوئی ٹال نہیں سکتا ( اذ ا جاء اجلھم لایستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون)

بدھ کا دن تھا ، راقم جامعہ اسلامیہ ماٹلی والا بھروچ کی مسجد میں علوم الحدیث کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں حاضر تھا ، دن کے گیارہ بجے یکایک سب سے پہلے حافظ حفظ الرحمان صاحب طوفان پور کا فون آیا کہ انہوں نے کہا کہ یہ خبر صحیح ہے کہ مامی گزر گئیں؟ میں نے کہا نہیں، ابھی تحقیقی خبر نہیں آئی ہے ، ابھی موبائل رکھا ہی تھا کہ برادر عزیز سیفی سلمہ کے فون کی رینگ بجنے لگی، باہر آکر ڈرتے ہوئے فون اٹھایا ،جس کا ڈر تھا اسی کی اطلاع موصوف نے روتے ہوئے دی کہ امی گزر گئیں ، ہماری زبان پر یہ دعا جاری ہوگئ ، انا للہ وانا الیہ راجعون ،ان للّہ مااخذ ولہ ما اعطی وکل شیء الی اجل مسمی ( اللہ کے لئے ہے جو اس نے لیا ہے وہ بھی اسی کا ہے جو اس نے دیا ہے اور ہر کے لیے موت کا وقت مقرر ہے) پڑھتے ہوئے عزیزی سلمہ کو کچھ تسلی دی اور صبر جمیل اختیار کرنے کی گزارش کی ،

نبی کے علاوہ گناہ سے کوئی پاک نہیں ، ہر شخص میں خوبی اور خامی ہوتی ہے ،بڑے ، اساتذہ ،والدین اور مربیوں سے محبت اور عقیدت اور ان سے استفادہ کے لئے تو خوبی ہی پر نظر رہنی چاہیے ، خاص طور پر کسی مسلمان کی موت کے بعد ان کے محاسن ہی کو بیان کرنے کا اہتمام کرے جیسا کہ قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اذکروا محاسن مو تاکم وکفوا عن مسا ویھم ) کے تحت شارح مشکٰوۃ ملا علی قاری رحمۃ اللّٰہ علیہ نے لکھا ہے کہ پہلا جزء استحباب پر اور دوسرا وجوب پر دال ہے ، یعنی میت کے بارے میں حکم ہے کہ بولو تو اس کی خوبی ہی کو بیان کرو اور یہ واجب نہیں بلکہ مستحب ہے ، لکن دوسرے جزء میں امر وجوب کے لیے ہے یعنی میت کی برائی اور عیوب کو بیان کرنے سے ضرور بچو یہ واجب ہے ،اس لئے میں نیچے مرحومہ کی کچھ اچھی اور سچی باتیں رقم کر دینا مناسب سمجتا ہوں، تاکہ وہ ہمارے لئے باعث عبرت ہو ، اور یہی اصل ان کے اور وارثان خاص طور پر مامو مولانا مختار علی صاحب کے حق میں صحیح تعزیت کا حق ادا کرسکوں اور مرحومہ کے محاسن ہمارے سامنے آئے، اور ہم ان کو اپنی زندگی میں جگہ دے سکیں، اس لئے ہم یہاں کچھ ان کی زندگی کے اہم نقوش کو ذکر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

(1) _یوں تو مرحومہ میں بے شمار خوبیاں اور کمالات تھیں ، ان میں سے ایک خوبی یہ تھی کہ وہ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھیں ،جبکہ مرحومہ کو ہارڈ اور منھ میں زخم ہونے کی وجہ سے سالوں سے تکلیف تھی ، لیکن دوا دعا کے ساتھ شب و روز کے معمولات کی ادائیگی میں ،صوم و صلوۃ کی پابندی میں کسل وسستی کو آڑے آنے نہیں دیتیں ،صبح سب سے پہلے اٹھنا، نماز کے بعد تلاوت قرآن پاک کا اہتمام برسوں سے تھا، اطلاع کے مطابق رمضان المبارک میں بھی اور رمضان المبارک کے بعد بھی کئی قرآن کریم کو ختم کی ہیں ، میرے لڑکے اجود نے بتایا کہ اماں نے مجھے سے بتائیں کہ رمضان المبارک بعد پانچ مرتبہ قرآن کا ختم کیا ہے ، جب پٹنہ میں زیر علاج تھیں ، آکسیجن پر تھیں ، مگر اس حال میں بھی نماز کی فکر تھی ، میری اہلیہ ایک دن پٹنہ سے پوچھتی ہے کہ امی اس حال میں نماز پڑھ سکتی ہیں ؟ میں نے کہا ہاں ، وضو کرادو ،اشارہ سے پڑھیں کوئی بات نہیں ، واقعی انہیں نماز اور تلاوت قرآن کی حلاوت حاصل تھی ، جس کی تڑپ وجستجو حالت بیماری میں بھی تھی۔ خدا دوعالم سے بیگانہ کرتی ہے دل کو

عجب چیز لذت آشنائی

یہ لذت کیوں نہیں حاصل ہوتی؟ اس لئے کہ وہ حضرت مولانا ممتاز علی المظاہری رحمۃ اللہ علیہ کی پہلی اور بڑی بہو تھیں ، ان کی روحانی اور ایمانی فیض حاصل تھا ، اور بہت کچھ ان سے سیکھی تھی ۔

(2 )

مہمان نوازی بھی ان کی صفت تھی ،حضرت مولانا کی زندگی میں اور ان کے وصال کے بعد بھی معھد البنات یعقوبیہ میں جب بھی جس وقت بھی کوئی مہمان آتا، جو پکا ہوتا خندہ پیشانی کے ساتھ مہمان کا اکرام کرتیں، ابھی چند ماہ قبل مدرسہ ھذا میں تعلیمی ثقافتی پروگرام تھا ،اس موقع پر یکہتہ اور مضافات سے کافی تعداد میں مہمان خواتین آئیں ، مرحومہ بیمار تھیں، عزیزی سیفی نے بتایا کہ اس حال میں بھی اکرام و استقبال کے لیے کئی بار تیسری منزل پر گئیں ، یہ ان کا حسن اخلاق تھا

3 : دوسری ایک خوبی یہ تھی خود تکلیف برداشت کرلیتی لیکن گھر کے دوسرے افراد کو راحت و آرام پہنچانے کی کوشش کرتیں میں نے بارہا دیکھا کہ بیٹیاں ، بہو گھر میں ہیں ان کے ذریعہ کھانا ناشتہ تیار کروا سکتیں ، مگر حکم اور آڈر کے بجائے خود کام کرنے لگ جاتیں ، یہ ان کی بہت بڑی خوبی تھی ، عام طور پر جب گھر میں بہو بیٹیاں ہوتی ہیں تو ساس ماں کا حکم چلتا ہے ، ساس بیٹھی رہتی ہیں ، حکم کرتی رہتی ہیں ، بہو سہمی رہتی ہیں کہ معلوم نہیں کس کام پر گرفت ہوگی ؟ اور کس کام پر طعن و تشنیع کے کلمات سننے پڑیں گے ، مگر ہم نے ان کے گھر میں برعکس معاملہ دیکھا ، یہ کوئی خواب نہیں ،حقیقت ہے ،آنکھوں دیکھا حال ہے ،،یہی وجہ ہے کہ مرحومہ کے گھر میں ایک نہیں دو بہو تھیں ، لیکن نہ کبھی ساس بہو میں اور نہ کبھی دونوں بہو کے مابین لڑائی اور نہ نوک جھونک دیکھا ،یہ دراصل مرحومہ کا نمایاں کردار تھا کہ انہوں نے بہو کے ساتھ بیٹی جیسا سلوک کیا

4 ۔ مرحومہ کم گو تھیں ، سبھوں کو ان سے یہ شکا یت رہتی کچھ بتاتی نہیں ، حتیٰ کہ میری اہلیہ اکثر عرض کرتی کہ امی سے جو پوچھتی ہوں وہی بولتی ہیں ، خود سے سب باتیں نہیں بولتی بہت سی باتیں غیروں سے معلوم ہو جاتی ہیں لیکن امی سے نہیں، یہ بہت بڑی ان کی خوبی تھی ،کیوں کہ فون پر زیادہ دیر گفتگو غیبت ہی ہوسکتی ہے ،حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے لکھا ہے کہ کوئی شخص زیادہ بات کرے، اور ان کے کلام میں جھوٹ اور غیبت نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا ،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے "بولو تو اچھی بات ورنہ خاموش رہو”

5: عام طور پر انسان کو کھانے پینے کی جو چیز طبعی طور پسند نہیں ہوتی تو وہ اس سے بعد اور دوری اختیار کرتا ہے ،اس کو پکانا اور دسترخوان پر پیش کرنا اس پر بڑا گراں گزرتا ہے ، لیکن مرحومہ کا حال کچھ اور ہی تھا ،وہ کوئی گوشت نہیں کھاتی تھیں ، لیکن نہ صرف بنانا جانتیں تھیں ، بلکہ اکثر خود ہی بناتیں ، بہت اچھا اور لزیز بناتی، اپنے پسند پر گھر کے دیگر لوگوں کے پسند کو ترجیح دیتیں۔

اخیر میں مرحومہ کی تمام اولاد اور متعلقین کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے یہی درخواست کرتا ہوں کہ اب ان کے لئے دعا مغفرت ،صدقہ، ایصال ثواب کریں ، یہ ان کا اولاد صالحہ پر یہی حق ہے، اور یہی تعزیت کا تقاضا بھی ، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق دے ، اور مرحومہ کی محاسن جمیلہ کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں انبیاء کرام کی فکر مندی
تربیت اسے کہتے ہیں ۔

Related Posts

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جنوری 29, 2026
  • 0 Comments
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں مفتی محمد شمیم قاسمی مگہریمدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ ، آنند نگر شبِ برات اسلامی سال کی اُن عظیم الشان اور بابرکت راتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، مغفرتوں اور عنایات کو عام فرمایا ہے۔ یہ رات شعبان المعظم کی پندرھویں تاریخ کو آتی ہے۔ لفظ "برات” کے معنی نجات، خلاصی اور چھٹکارا کے ہیں۔ گویا یہ رات بندوں کو جہنم سے نجات اور گناہوں سے پاکیزگی عطا ہونے کی امید کی رات ہے۔ اہلِ سنت والجماعت دیوبند کا متفقہ اور معتدل مؤقف یہ ہے کہ شبِ برات کی اصل فضیلت احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، اور اس رات میں عبادت، توبہ، استغفار اور دعا کرنا مستحب ہے، مگر ایسے تمام طریقوں اور رسومات سے بچنا ضروری ہے جو شریعت سے ثابت نہیں یا جن میں افراط و تفریط پائی جاتی ہو۔ آیات قرآنیہ کی روشنی میں شبِ برات کا مفہوم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِیۡ لَیۡلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ ۚ اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ . فِیۡهَا یُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِیۡمٍ ۔(سورۃ الدخان)ترجمہ:ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، لیکن بعض اکابر اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ سال بھر کے فیصلوں کا اجمالی اندراج شبِ برات میں اور تفصیلی اندراج لیلۃ القدر میں ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ برات بھی ایک عظیم اور بابرکت رات ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے شب برات کی فضیلتحضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَىٰ خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ (ابن ماجہ)ترجمہ:اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • عقل کا دائرہ کار
  • عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود
  • جنوری 14, 2026
  • 0 Comments
عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود (کچھ لوگ اس وہم مين مبتلا ہیں کہ عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے، حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ عقل کبھی کسی متعین (definite) حقیقت کو ثابت نہیں کرتی، اللہ تعالیٰ اَعرَفُ المعارف ہیں، يعنى سارى متعين حقيقتوں سے زياده متعين ہیں، اور عقل کی ادراکاتی حدوں سے ماوراء، جب ہم عقل کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا مکلف بناتے ہیں تو عقل، خدا کو اس کی خارجی اور حقیقی ذات سے الگ کرکے محض ایک کلی ذہنی تصور (concept) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ تصور قابلِ حلول اور قابلِ اتحاد ہوتا ہے، کوئی نظام مسلسل ہو سکتا ہے، اور اس کا اطلاق متعدد مصادیق پر کیا جا سکتا ہے۔ اس تصور کے لیے توحید لازم نہیں، بلکہ اس کی طينت میں شرک داخل ہے۔ دوسرے لفظوں ميں عقل اس خدا کو ثابت نہیں کرتی جس كى دعوت قرآن مين ہے، اور جس پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔ مزید یہ کہ خدا کو محض عقل کے ذریعے ثابت کرنے کا گمان قرآن سے متناقض ہے، اور یہ طرزِ فکر مسلمانوں کو کتابِ الٰہی میں حقیقی تدبر سے بھی روکتا ہے۔ اسی نکتے کی وضاحت کے لیے میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، اور زیرِ نظر مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔) از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ9/1/2026 عقل انسانی ایک ایسی ادراکی قوّت ہے جو دیگر مداركـ سے اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ جزوی مشاہدات سے کلی اور مجرد معانی اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حسی ادراک اشیاء کو ان کے وقتی و مکانی تعیّن کے ساتھ حاصل کرتا ہے، اور محدود تجربے کی روشنی میں ان کی پہچان کرتا ہے، لیکن عقل ان جزئیات سے ایک عالی مرتبہ کا شعوری نقش اخذ کرتی ہے، اور انہیں عمومی تصورات کی شكل میں مرتب کر کے ایک فکری نظام قائم کرتی ہے۔ یہی وصف عقل کی طاقت بھی ہے اور اس کے حدود کا تعین بھی۔ عقل قادر ہے کہ وہ کلی اصول وضع کرے، ان…

Read more

Continue reading

One thought on “موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس”

  1. Junakiya Mohammadbhai Mahammadsaed نے کہا:
    30.11.2024 وقت 13:36
    اللہ تعالیٰ آپ کی خوشدامن کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے اور سیئات کو درگزر فرماکر اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
    جواب دیں
    1. حراء آن لائن نے کہا:
      01.12.2024 وقت 14:09

      Ameen

      جواب دیں
    2. حراء آن لائن نے کہا:
      24.12.2024 وقت 07:44
      آمین
      جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top