جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی
لمحۂ فکریہ جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی کلیم الدین ندوی مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ امریکہ میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی تاریخی کامیابی نے نہ صرف امریکی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو نئے سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ زہران ممدانی ایک مسلمان، سوشلسٹ اور عوام دوست سیاست دان ہیں جنہوں نے اس تاثر کو توڑ دیا کہ اقتدار ہمیشہ دولت، نسل یا اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ان کی جیت اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب روایتی سیاست، نمائشی جمہوریت اور چند خاندانوں کی اجارہ داری سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کے متلاشی ہیں جہاں وہ صرف ووٹر نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں شریکِ اقتدار ہوں۔ یہ بیداری صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ آج ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک اسی بحران سے گزر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نمائندہ جمہوریت واقعی عوام کی آواز بن سکی ہے؟ کیا منتخب نمائندے واقعی عوامی مفاد کے ترجمان ہیں؟ یا جمہوریت ایک رسمی رسمِ انتخاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟ امریکہ بھر میں تقریباً ستر لاکھ افراد نے "No to Kings – بادشاہوں کو نہیں” کے نعرے کے ساتھ 2600 سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے،یہ نعرہ دراصل اس عوامی احساس کی ترجمانی ہے جو طاقت کے ارتکاز کے خلاف ابھر رہا ہے۔ امریکی پالیسی سازی ہمیشہ سے چند مخصوص گروہوں کے ہاتھ میں رہی ہے — خواہ وہ منتخب نمائندے ہوں یا غیر منتخب ماہرین۔ یہ طبقہ اکثر اجتماعی فہم کے نام پر ایسے فیصلے کرتا ہے جو عوامی مفاد کے برعکس ہوتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت نے اس تضاد کو مزید نمایاں کر دیا۔ وہ خود کو عوام کا نمائندہ کہتے تھے، مگر ان کی طرزِ حکمرانی میں فردِ واحد کی آمریت جھلکتی تھی۔ انہوں نے کئی مواقع پر مطلق العنان حکمرانوں کی تعریف کی اور کھلے عام کہا…
Read more

