HIRA ONLINE / حرا آن لائن
🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!

انسان كا قتلناقابل عفو گناه! 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے ، اس کی سزا ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے ، جو شخص کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے ، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کے لئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی ، کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی ، کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی :وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ،خَالِدًا فِیْھَا وَغَضَبَ اﷲُ عَلَیْہِ وَلَعْنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۔ (النساء : ۹۳)جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ کتنی لرزہ براندام کردینے والی ہے یہ آیت ! — لیکن اس شخص کے لئے جس کے دل میں خوفِ خداوندی کا کوئی گوشہ موجود ہو ، جس کی آنکھ کبھی کبھی سہی ، اللہ کے خوف سے نم ہونا جانتی ہو ، جس کا دل آخرت کے تصور سے لمحہ دو لمحہ سہی ، لرزنے سے آشنا ہو ، جو آخرت کی وسعتوں پر یقین رکھتا ہو ، جسے جنت کی نعمتوں اور دوزخ کی ہولناکیوں پر ایمان ہو اور جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہو ، جن سینوں میں دل کے بجائے پتھر کی سل رکھی ہوئی ہو اور جن قلوب میں محبت کی شبنم کے بجائے نفرت اور ظلم و جور کی بھٹیاں سلگتی ہوں ، ان کے بارے میںکیوں کر سوچا جاسکتا ہے، کہ خالقِ کائنات کا یہ ارشاد بھی ان کو تڑپا سکے گا ؟ خدا و ررسول کی بات بھی ان کے دلوں پر دستک دے سکے…

Read more

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات Jawed Akhtar-Shamail debate-Alamullah-25-12-25 جاوید اختر۔شمائل مباحثے کے تناظر میں ایک فکری جائزہ (ایشیاء ٹائمز میں شائع ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی رائے کی بنیاد پر)   محمد علم اللہ ، لندن ۲۰ دسمبر ۲۰۲۵ کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں جاوید اختر اور مفتی شمائل احمد ندوی کے درمیان "کیا خدا موجود ہے؟” کے موضوع پر مباحثہ ہوا ۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک جشن کا سا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ ویڈیوز بنا رہے ہیں، آرٹیکلز لکھ رہے ہیں، فیس بک پر کمنٹس کر رہے ہیں اور مختلف انداز میں اسے دیکھ رہے ہیں۔ ایک طبقہ اسے سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔ یہ ماحول بالکل اسی قسم کا ہے جو ۱۹ انیسویں صدی میں مناظروں کے وقت ہوتا تھا، جہاں بڑے بڑے لوگ آتے تھے اور عیسائی، مسلمان یا ہندو کے نمائندے سے بحث کر کے فتح کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ سب ڈائیورژن (توجہ ہٹانا) ہے، اصل مسئلہ نہیں۔ ہندوستان میں اب یہ مناظرے دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔ جاوید اختر صاحب سے اگرچہ ہم متفق نہیں، لیکن وہ کبھی ہندوتوا کے خلاف بولتے ہیں، حکومت کی اقلیتوں کے بارے میں پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ، ماب لنچنگ پر لب کشائی کرتے ہیں۔ انہیں بلاکر ذلیل کرنا کوئی اچھا طریقہ نہیں، نہ یہ مسلمانوں کا طریقہ ہے۔ اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے: "ادع إلى سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ” یعنی حکمت اور عمدہ طریقے سے اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔ یہ ہمارا طریقہ ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسے مناظرے نہیں ہوتے تھے، سوائے بہت خاص حالات کے جیسے نجران کا واقعہ۔ یہ سلسلہ ہندوستان میں انیسویں صدی میں شروع ہوا، جب انگریز اور عیسائی ہندوستان کو عیسائی بنانا چاہتے تھے۔ اب ایسا ماحول پیدا کرنا مناسب نہیں۔ اسے پبلک میں دکھانا، یوٹیوب پر ڈالنا، دنیا بھر میں ہنگامہ کرنا، جشن منانا اور خوشیاں بانٹنا ۔ یہ سب غلط ہے۔ یہ لوگوں کو اصل مسائل سے ہٹانے کا طریقہ ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ اس وقت…

Read more

مصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلو

مصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلو از : مولانا محمد اجمل ندوی نائب مہتمم مدرسہ العلوم الاسلامیہ علی گڑھ دور جدید میں ٹیکنالوجی کی ترقی کافی عروج پر ہے ، اس نے خاطرخواہ ترقی کی ہے اور مزید ترقی کی راہ پر گامزن بھی ہےستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیںاس دور کو ڈیجیٹل دور بھی کہا جا سکتا ہے،اے ائی اس کا ایک نمایاں حصہ ہے جو علم و فکر کے تمام شعبہ جات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے اس کی نافعیت و افادیت کسی بھی ذی شعور پر مخفی نہیں ، اس میں بہت سے انسانی مسائل کا حل ہےمصنوعی ذہانت انسانی ذہن کی عکاسی کرنے والی وہ ٹیکنالوجی ہے جو اس دور کی اہم اختراع ہے جس میں تمام انسانی ضرورت کا ڈیٹا اور جمع کردہ معلومات فراہم ہے اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ سائنس و ٹیکنالوجی کی راہ ترقی کی ایک منزل ہے جس سے نوع ادم تعلیم و صنعت ، امور خانہ داری ، معیشت و سیاست الغرض زندگی کے تمام امور میں مستفید ہو رہا ہےمجھ کو تسلیم تیری ساری ذہانت لیکن تاہم اس میں بہت سے منفی وسلبی پہلو بھی ہیں اخلاقیات و انسانی سلامتی کے بے شمار خدشات ہیں لہذا اس کے استعمال کے وقت احتیاط لازم ہے اور اس کی خامیوں سے اگاہ ہونا ضروری ہے ادمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شےاتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعوی علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت مصنوعی ذہانت کا ایک اثر لیبر مارکیٹ اور بے روزگاری پر ہے اس پر انحصار کی وجہ سے انسان کی تخلیقی صلاحیتیں کمزور ہو رہی ہیں مزید یہ کہ اس میں رازداری کا فقدان ، تصویر کی ہیرا پھیری ، سائبر حملے کے خطرات اور ڈیٹا چوری کے امکانات ہیں ۔اے ائی نے انسانی تعلقات کو بھی کافی متاثر کیا ہے جبکہ مومن مومن کے لیے جسد واحد کی طرح ہے اور اسلامی…

Read more

کرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہ

کرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہ !میرے پیارے عیسائی بھائیو اور بہنوآج جب آپ کے گھروں میں خوشی کے چراغ روشن ہیں،دلوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت تازہ ہے،تو ہم مسلمان آپ کے دروازے پر کسی بحث کے ساتھ نہیں آئے—بلکہ محبت، احترام اور خیر خواہی کے ساتھ آئے ہیں۔ہم آپ کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ کے لیے صرف ایک مذہبی شخصیت نہیں،بلکہ امید، رحمت اور قربانی کی علامت ہیں۔اور شاید یہ جان کر آپ کو سکون ملے کہہم بھی عیسیٰ علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں—سچی، گہری اور دل سے۔ہم حضرت مریم علیہا السلام کو پاکیزگی کی بلند ترین مثال مانتے ہیں۔ہم عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش پر ایمان رکھتے ہیں۔ہم ان کے اخلاق، ان کی شفقت، ان کی دعا،اور ان کے درد مند دل کو سلام پیش کرتے ہیں۔ہم آپ سے کچھ چھیننے نہیں آئے۔نہ آپ کی خوشی،نہ آپ کی شناخت،نہ آپ کی محبت۔ہم صرف ایک بات آپ کے دل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہحضرت عیسیٰ علیہ السلام خود کس کی طرف بلاتے تھے؟وہ اپنے رب کے سامنے جھکتے تھے۔وہ دعا کرتے تھے۔وہ کہتے تھے:“میں اور تم سب ایک ہی خدا کے بندے ہیں۔”یہ بات ان کی عظمت کو کم نہیں کرتی—بلکہ بڑھا دیتی ہے۔کیونکہ بندگی میں جھکناکمزوری نہیں،بلکہ سب سے بڑی بلندی ہے۔اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہعیسیٰ علیہ السلام خدا نہیں—مگر خدا کے بہت قریب تھے۔وہ معبود نہیں—مگر ہدایت کا چراغ تھے۔ہم جانتے ہیں کہ یہ بات سننا آسان نہیں۔عقیدہ صرف سوچ کا نام نہیں،یہ دل کا رشتہ ہوتا ہے۔اسی لیے ہم آپ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالتے۔ہم صرف دعوت دیتے ہیں—وہی دعوت جو عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی:ایک خدا کی عبادت۔اسی خدا کی، جس نے عیسیٰ کو بھیجا۔اور محبت کے ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہعیسیٰ علیہ السلام نے خود کہا تھاکہ میرے بعد ایک رسول آئے گاجو سچ کو مکمل وضاحت کے ساتھ پیش کرے گا۔ہم اس رسول کو محمد ﷺ مانتے ہیں—عیسیٰ کے مخالف کے طور پر نہیں،بلکہ ان کے…

Read more

اک بزم وفا پروانوں کی

اک بزم وفا پروانوں کی ڈاکٹر محمد اعظم ندویاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد دار العلوم وقف دیوبند کی ہر دلعزیزی کا آفتاب نصف النہار تک پہنچ چکا ہے، اس نے اپنی عمر کے چالیس بیالیس برس پورے کرکے قربانی اور ریاضت کی چلہ کشی بھی کرلی ہے، اس کے شان وشِکوہ کا کیا کہنا! قسام ازل کی فیاضی جسے چاہے دل نواز کرے، اس کی عظمت کے امتیازی نقش ونگار اور دلکش خط وخال کی تصویر کشی یہاں ممکن نہیں، خدا اسے سدرہ آشنا بنائے، ہندوستان کی وہ باکمال شخصیات کہ جن کے چراغوں کے سامنے دوسرے چراغ نہیں جلتے، علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ بھی ہیں، ان کا علم ایک قلزم نا پیدا کنار ہے، اقبال نے اورنگ زیب رحمہ اللہ کے بارے میں کہا تھا: درمیان کار زار کفر ودیںترکش ما را خدنگ آخریں ہم دلائل کی دنیا میں اسے علامہ پر بے تکلف منطبق کرسکتے ہیں۔ دار العلوم وقف دیوبند میں تقریباً دس برس سے "حجۃ الاسلام اکیڈمی” قائم ہے، اس نے ایک عشرہ میں اپنی عالمی سطح کی رنگا رنگ طباعتوں، تحقیقات اور سیمیناروں کے ذریعہ اہل علم میں وہ مقام بنایا ہے جس کا عشر عشیر بھی کئی کئی دہائیوں سے قائم بعض تحقیقی ادارے نہیں پیش کرسکے ہیں، ابھی 20-21 جمادی الثانی 1447ھ مطابق 13-14 دسمبر 2025ء اس نے اپنے روشن کارناموں میں ایک اور گراں قدر اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے علامہ انور شاہ کشمیری کی حیات وخدمات اور افکار وآثار پر ایک دو روزہ اور دو لسانی عالمی سیمینار کا کامیاب انعقاد، جس کے خیر کثیر کا ذکر خیر چہار جانب ہے۔ مجھ نابکار کو بھی اس سیمینار میں مقالہ نویسی اور باریابی کا شرف بخشا گیا تھا، موضوع تھا "علامہ کشمیری پر عربی زبان میں اہم تصنیفات وتحقیقات- تحلیل وتجزیہ”، میں 13 کی صبح انڈیا کی ٹرینوں اور جہازوں کی طرح معمول کے مطابق لیٹ پہنچا، انڈیگو کے حالیہ غیر مجاز تصرفات کی زد میں آگیا تھا، واپسی میں بھی یہی حشر ہوا، دو راتیں آنکھوں کی نذر ہوئیں، "غیر مستطیع” انڈیگو نے ایک عدد…

Read more

کیا خدا کا وجود ہے؟

کیا خدا کا وجود ہے؟ ✍🏻 محمد ظفر ندوی مشہور نغمہ نگار جاوید اختر اور عالم دین مفتی شمائل ندوی کے مابین ایک اعلی سطحی اور ہائی پروفائل علمی مباحثہ اس موضوع پر ہوا کہ "کیا خدا کا وجود ہے؟” چوں کہ جاوید اختر صاحب”ایتھسٹ” یعنی ملحد ہیں، خدا کے وجود کے قائل نہیں ہیں، اس لیے وہ خدا کے نا ہونے پر دلائل دینے کی کوشش کر رہے تھے اور مفتی صاحب خدا کے وجود پر دلائل دے رہے تھے۔ میں اپنے اس مضمون میں مفتی شمائل ندوی کی طرف سے دیے گئے دلائل پر بحث کروں گا اور اگلے مضمون میں جاوید اختر صاحب کے الزامات اور جوابات پر گفتگو کروں گا۔ Argument of Contingencyپہلے دس منٹ میں جو سب سے اہم موضوع تھا وہ آرگیومنٹ آف کونٹیجینسی تھا۔ آئیے ہم سب سے پہلے اسی پر بحث کرتے ہیں اور اس کو آسان لفظوں میں سمجھتے ہیں۔ مفتی صاحب نے "آرگیومنٹ آف کونٹیجینسی” کے آغاز سے پہلے ہی ایک بنیادی اور بڑے مسئلے کو واضح کردیا، وہ یہ کہ سائنس کے ذریعے خدا کی شناخت ممکن نہیں، سائنس کا یہ میدان نہیں ہے، سائنس خدا کے وجود کو ثابت کرنے یا اس کے وجود کو رد کرنے کا معیار نہیں ہے۔ مفتی صاحب نے "نیشنل اکیڈمی آف سائنس” کا حوالہ دیتے ہوئے کہاتھا کہScience doesn’t have the processes to prove or disprove the existence of God. یعنی "سائنس کے پاس خدا کے وجود کو ثابت یا رد کرنے کے طریقے (processes) نہیں ہیں۔” یہ بات اکثر سائنسدان، فلاسفہ، اور الہیات دان بھی تسلیم کرتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس کا تعلق empirical evidence سے ہے "امپیریکل ایویڈینس” کا مطلب "تجرباتی ثبوت” ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ "حواسِ خمسہ یا سائنسی آلات سے جن اشیاء کی تصدیق اور تثبیت ہو۔ مثلاً ہوا نظر نہیں آتی مگر ہم محسوس کرسکتے ہیں، یہ حواس کی مثال ہے۔ اسی طرح "تجربہ” مثلاً پانی ایک سو سینٹی گریڈ پر ابلنے لگتا ہے تو یہ تجربہ ہے، ان کو امپریکل ایوڈینس کہتے ہیں۔ اس کے…

Read more