HIRA ONLINE / حرا آن لائن
قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

 قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت از : مولانا محمد علاء الدین صاحب ندوی استاد: دار العلوم ندوہ العلماء لکھنؤ عربیِ مبین میں اترنے والے قرآنِ کریم کے مراد و منشا اور اس کے دقیق معانی کو سمجھنے کے لیے اسی دور کی ٹکسالی، خالص اور معیار آفریں زبان کے علمبرداروں کو مشعلِ راہ بنانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں امرؤ القیس، نابغہ ذبیانی، زہیر، طرفہ، لبید اور عنترہ جیسے نامور شعراء، اور قیس بن ساعدۃ الایادی، اکثم بن صیفی اور ذوالاصبع العدوانی جیسے صاحبِ طلاقت خطباء و حکماء کی زبان مطلوب و درکار ہے، جن کا کلام اور لغت عجمی اثرات اور بیرونی آمیزشوں سے بالکل پاک رہی ہے۔ حد یہ کہ عدی بن زید العبادی، ابو دؤاد الایادی اور امیہ بن ابی الصلت جیسے زمانہ جاہلیت کے اعلیٰ طبقے کے شعراء کو بھی تنقیدی چھان بین کے بعد مستثنیٰ یا الگ کر دیا جائے گا؛ کیونکہ ان کی زبانیں عجمیت کے ہلکے اثرات سے متاثر ہو جانے کے باعث اہل علم اور اصحابِ نقد و نظر کی نگاہ میں اس قابل نہیں رہیں کہ قرآنی تعبیرات اور لغوی مباحث میں ان کے کلام کو حتمی سند یا حجت بنایا جا سکے۔ اب تو المعلقات، المفضلیات، الاصمعیات، اصحاب المجمہرات، المنتقیات، اصحاب المذہبات، اصحاب المشوبات، اصحاب الملحمات، اصحاب المراثی، الگ الگ شعراء کے دواوین، دیوان الحماسہ، شعر النقائض، طبقات الشعراء، الشعر والشعراء، البيان والتبيين، العقد الفريد، الكامل اور الأمالي جیسے معتبر مجموعہ ہائے اشعار، دواوین اور امہات الکتب ہی اس میدان میں لغوی و ادبی مرجع تسلیم کیے جائیں گے۔ پھر اس کے بعد مفرداتِ قرآنی پر تصنیف کردہ فنّی کتب کی طرف رجوع کیا جائے گا؛ کیونکہ تفسیرِ قرآن کا اولین اور بنیادی مرحلہ مفردات اور الفاظ کے جوہر پر غور و خوض کرنا ہے۔ تاہم، اس معاملے میں محض عام لغت کی قوامیس اور ڈکشنریوں پر تکیہ کر لینا کافی نہ ہوگا، بلکہ تدریجی اور تاریخی اعتبار سے الفاظ کے معانی میں جو تغیرات و ارتقاء ہوئے ہیں ان پر گہری نظر رکھنی ہوگی۔ نیز جو معنی نزولِ قرآن…

Read more

مریضوں پر بڑھتا بوجھ

*مریضوں پر بڑھتا بوجھ* مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ ان دنوں مریض ہو کر اگر آپ پرائیوٹ ہوسپٹل کا رخ کرتے ہیں تو مریض کے شفایاب ہونے کی یقین دہانی تو کوئی نہیں کر سکتا لیکن مال و دولت زمین جائیداد اور کبھی کبھی گھر تک بک جانے کی بات یقین کے درجے کی چیز ہے، پرائیوٹ اسپتال اگر مشہور برانڈ کا ہے تو روپے کا بورا کھول کر رکھ دیجیے اور وہ اس سے حسب مرضی نکالتا رہے گا اور جب بورا خالی ہو جائے گا اور ہوسپٹل والا محسوس کرلے گا کہ اب ہمارے اسپتال سے علاج کی قوت خرید مریض یا اس کے وارثوں کے پاس نہیں ہے تو وہ ہاتھ کھینچ لے گا، کبھی مریض کا تیمار دار بھی اس مرحلہ سے قبل ہوش میں آجاتا ہے اور وہ خود ہی مریض کو دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو اب وینٹی لیٹر پر تیمار دار کے جانے کی باری ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ضروری اور غیر ضروری جانچ کے اخراجات ، دواؤں کی خریداری ، سرنج ، آئی وی سیٹ، آکسیجن، دستانے ، ماسک، پیشاب کے لیے بیگ اور دیگر ضروری آلات دواد و کان والے خرید ریٹ سے کئی گنا زیادہ قیمت پر فراہم کرتے ہیں، انہیں ڈاکٹروں کو کمیشن بھی دینا ہوتا ہے، اس صورت حال کو سامنے رکھ کر دواؤں پر درج (MRP) مارکیٹ ریٹ پرائز بہت بڑھا کر درج کیا جاتا ہے، بعض دکاندار پندرہ یا بیس فی صد خریدار کو رعایت بھی دیتے ہیں لیکن اس سے کوئی بڑا فرق قیمت پر نہیں پڑتا اور گرانی پھر بھی باقی رہتی ہے، بعض دواؤں اور علاج میں استعمال ہونے والے سامانوں میں خرید قیمت سے پندرہ سے انتیس گنا زیادہ ایم آر پی درج ہوتا ہے، ایسے میں اس کا سیدھا اثر مریضوں پر پڑتا ہے، آپ اسے چند مثالوں سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں، کینولا کی خرید قیمت صرف 7.60 روپے ہے، لیکن اس…

Read more

حیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟

نکاتِ قرآنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا ؟ محمد قمر الزماں ندوی  مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے سورہ ملک کی ابتدائی پانچ آیات میں موت و حیات کے نظام، انسان کی تخلیق کے مقصد و منشا اور آسمان کو سات طبق میں پیدا کرنے، اس کو روشن و تابناک بنانے نیز اس میں ادنیٰ تفاوت کے نہ ہونے کے فلسفہ کو اور انسان کی زندگی میں جاری اور نافذ حیات و ممات کے سلسلہ کو بیان کیا ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے: ﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا الخ﴾ "جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون سب سے اچھا ہے” (سورۃ الملک: 2) آیت کریمہ کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ زندگی اور موت دینا کسی دیوی دیوتا یا کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہے، بلکہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیا جانا اور پھر دنیا سے اٹھا لینا بے مقصد نہیں ہے، بلکہ اس لئے ہے کہ انسان کا امتحان ہو کہ وہ زندگی بہتر اعمال میں گزارتا ہے یا برے کاموں میں؟ نیز اچھے اور برے انسان میں نیک و بد اعمال کے اعتبار سے فرق و امتیاز ہو ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم جب اس موجودہ دنیا کو دیکھتے ہیں اور اس کا مطالعہ اور مشاہدہ کرتے ہیں تو بظاہر ایک تضاد نظر آتا ہے، حضرت انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہیں ،وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے ، اس میں کہیں کوئی نقص اور تفاوت نظر نہیں آتا ، اس کے برعکس انسانی زندگی میں کرپشن، ظلم و فساد اور سفاکیت و بے رحمی اور فتنہ و کرپشن نظر آتا ہے ۔ اس کی وجہ انسان کا علیحدہ نوعیت کا ہونا ہے ۔ انسان اس دنیا میں حالتِ امتحان میں ہے ۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے، اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ…

Read more

شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک

شمالی قفقاز میں طریقہٴ نقشبندیہ خالدیہ: روحانی اصلاح سے حریت پسندانہ مقاومت تک از : مولانا ابو الجیش صاحب ندوی ​19ویں صدی کا شمالی قفقاز (بالخصوص داغستان اور چیچینیا) تاریخ کے ان سنگ میل ادوار کا شاہد ہے جہاں تصوف کی روحانی لہر نے محض خانقاہی حدود تک محدود رہنے کے بجائے ایک عظیم الشان سیاسی، اجتماعی اور حریت پسندانہ انقلاب کو جنم دیا۔ اس انقلابِ فکر و عمل کے پشت پناہ سلسلہٴ نقشبندیہ کی خالدیہ شاخ کے مشائخ تھے، جنہوں نے روسی سامراجی تسلط کے خلاف ایک ربطِ باہمی اور لازوال تاریخ رقم کی۔ ​1. ہند سے استنبول اور داغستان: سلاسل کا تاریخی سفر ​سلسلہٴ نقشبندیہ خالدیہ کی فکر کا سرچشمہ ہندوستان میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کی فکر پر مبنی "سلسلہٴ مجددیہ” تھا۔ 19ویں صدی کے آغاز میں عراق کے جلیل القدر عالم اور صوفی مولانا ضیاء الدین خالد بغدادی کردی نے دہلی میں شاہ غلام علی دہلوی سے خلافت حاصل کی۔ عثمانی قلمرو (دمشق، استنبول، اور کردستان) میں واپسی کے بعد مولانا خالد بغدادی نے اس سلسلے کی اصلاحی آبیاری کی، جس سے یہ طریقہ "نقشبندیہ خالدیہ” کے نام سے موسوم ہوا۔ ​عثمانی قلمرو سے یہ طریقہ آذربائیجان کے خطے شروان میں شیخ اسماعیل کوردمیری اور شیخ خاص محمد شروانی کے ذریعے پہنچا۔ 1820ء کی دہائی میں جب شیخ خاص محمد شروانی داغستان کے جنوبی علاقے میں داخل ہوئے، تو وہاں کے ممتاز فقیہ اور جید عالم ملا محمد یاراغی نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ملا محمد یاراغی کے بیعت ہوتے ہی داغستان میں دینی بیداری اور اصلاحی تحریک کا نیا دور شروع ہوا۔ 2. دعوتِ اصلاح: شریعت اور طریقت کا انضمام ​ملا محمد یاراغی اور ان کے متبعین نے داغستان کے روایتی معاشرے میں دو بنیادی اصلاحات کیں: ​قبائلی عصبیت کا خاتمہ: قفقاز درجنوں زبانوں اور باہم نبرد آزما قبائل کا مسکن تھا۔ نقشبندی مشائخ نے مقامی قبائلی عصبیتوں اور عرفی قوانین ("عادت”) کی جگہ اخوتِ اسلامی اور شریعتِ مطہرہ کا تصور عام کیا۔ ​عزتِ نفس اور حریت کا پیغام: ملا محمد یاراغی نے یہ فلسفہ…

Read more

اسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغام

اسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغام 🖋 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی SEO Editor / ترتیب و پیشکش: اسجد حسن ندوی   آج کل شہروں میں چڑیا گھر (Zoo Park) بنے ہوتے ہیں۔ ان کی تزئین و آرائش، حفاظت اور جانوروں کی دیکھ بھال پر بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ رنگ برنگے پھول، ہرے بھرے درخت، پانی کی جھیلیں اور جانوروں کے لیے الگ الگ محفوظ احاطے اس ماحول کو خوب صورت بناتے ہیں۔ جانوروں کو وقت پر غذا ملتی ہے، علاج کے لیے ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں اور شکاریوں سے بھی انہیں تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ظاہری سہولتوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو چڑیا گھر کے جانوروں کو بہت سی ایسی آسائشیں حاصل ہوتی ہیں جو شاید جنگل میں بھی میسر نہ ہوں۔ لیکن اگر وہ جانور اپنی دلی خواہش کا اظہار کر سکتے تو ممکن ہے ان کی سب سے بڑی آرزو یہ ہوتی کہ انہیں اس خوب صورت مگر محدود ماحول سے نکال کر آزاد فضا میں چھوڑ دیا جائے۔ جنگل میں انہیں اپنی غذا کے لیے جد و جہد کرنا ہوگی، خطرات کا سامنا کرنا ہوگا اور ہر وقت تحفظ بھی حاصل نہیں ہوگا، لیکن وہاں وہ آزاد ہوں گے۔ وہ اپنی مرضی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں گے اور کسی مصنوعی حصار میں قید نہیں ہوں گے۔ یہ مثال انسان کی فطرت کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ جب ایک حیوان بھی قید کے مقابلے میں آزادی کو ترجیح دیتا ہے تو انسان، جسے اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور عطا فرمایا ہے، آزادی کی قدر کو کیوں نہ سمجھے؟ اسی پس منظر میں اسلام اور تصورِ آزادی کا مطالعہ نہایت اہم ہوجاتا ہے۔ اسلام نے انسان کی عزت، مساوات، انسانی وحدت اور آزادی کے ایسے اصول پیش کیے جنہوں نے انسانی معاشرے میں غلامی، طبقاتی تفاخر اور نسلی برتری کے تصورات کو چیلنج کیا۔ آزادی انسانی فطرت کا تقاضا ہے انسان بنیادی طور پر آزادی پسند مخلوق ہے۔ قید و بند کی زندگی کتنی ہی سہولتوں سے آراستہ…

Read more

ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی

*آپ آئے تو سب کو ملی روشنی* محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔ مدرسہ, نور الاسلام, کنڈہ, پرتاپگڑھ, یوپی 9506600725   یہ ماہ ربیع الاول ہے،اس مہینہ کی بارہ تاریخ کی ایک خاص اہمیت اور مقام ہے ، اس مہینے کی نسبت بہت اونچی ہے،اس نسبت ہی سے اس مہینے کی عظمت و رفعت اور فضیلت و اہمیت بڑھ جاتی ہے، اگر چہ یہ مہینہ اشہر حرم یعنی حرمت کے جو چار مہینے ہیں ،اس میں سے نہیں ہے ۔ وہ نسبت یہ ہے کہ مشہور روایت کے مطابق اسی مہینے کی بارہ تاریخ کو لیکن صحیح روایت کے مطابق نو ربیع الاول کو آقائے مدنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیاسی زمین کی سیرابی کے لئے، سسکتی، بلکتی،دم توڑتی اور مرجھائی انسانیت کو تازہ دم کرنے اور حیات آفریں بخشنے کے لیے،اس دنیا میں تشریف لائے ۔ یہ مہینہ، پوری دنیائے انسانیت کے لئے موسم ربیع اور فصل بہار ہے، کیوں کہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے پہلے انسانیت پر خزاں، پژمردگی اور بے حسی چھائی ہوئی تھی ہر طرف ظلم و ستم جور و جفااور زیادتیاں عام تھیں ، کون سی برائی تھی، جس کا انسان رسیا اور عادی نہ تھا ۔ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے قبل انسانیت کا خون خود انسان پی رہا تھا *حضرت عیسی علیہ السلام* کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد نبوت سے خالی عرصئہ دراز کی وجہ سے شیطان کو موقع ملا مختلف برائیوں اور بے حیائیوں کی راہیں ہموار کیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا برائی میں ڈوب گئ اور خاص طور پر جزیرہ عرب برائیوں اور بے حیائیوں کا اڈہ اور مرکز بن گیا ۔ حرص و حسد ہوس و نفس پرستی جھوٹ غیبت دھوکہ دہی ظلم و ستم لوٹ مار قتل و غارت گری شراب نوشی بے حیائی، دختر کشی لڑائی جھگڑے جوا قمار اور کوئی بھی ایسی برائی نہ تھی، جو عرب میں نہ پائی جاتی ہو،گویا وہ درندوں سے بدتر ہو چکے تھے۔ شرک و بت پرستی کی آخری حد پر یہ لوگ…

Read more