اسلام، تصور آزادی کا معیار
اسلام ، تصورِ آزادی كا معمار 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی آج کل شہروں میں چڑیا خانے (Zoo Park) بنے ہوتے ہیں ، ان چڑیا خانوں کی تزئین و آرائش اور حفاظت و صیانت پر بہت بڑی رقم خرچ ہوتی ہے ، پورا چڑیا خانہ رنگ برنگ کے خوب صورت اور مہکتے ہوئے پھولوں ، لمبے ہرے بھرے درختوں اور پانی کی چھوٹی چھوٹی جھیلوں کی وجہ سے خوش منظر بنا رہتا ہے ، پھر انواع و اقسام کے حیوانات اور پرندوں کے لئے الگ الگ احاطے بنے ہوتے ہیں ، جانوروں کی دیکھ بھال اور آسائش کا جو انتظام ان چڑیا خانوں میں ہوتا ہے ، یقیناً وہ ان کو جنگلات میں بھی میسر نہیں ، اپنی غذا کے لئے نہ ان کو شکار تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور نہ چارہ ڈھونڈھ نے کی حاجت ؛ بلکہ خود چڑیا خانہ کا عملہ ان کی غذائی ضروریات وقت پر اور فراوانی کے ساتھ فراہم کرتا ہے ، حفظانِ صحت کی جو رعایت یہاں کی جاتی ہے ، جنگلات میں ان کا میسر آنا ممکن نہیں ، باضابطہ ڈاکٹر اور معالج متعین ہیں ؛ بلکہ ان کے علاج کی اتنی فکر کی جاتی ہے کہ انسانوں کے لئے بھی اتنی فکر نہیں کی جاتی ، جانوروں کی حفاظت و صیانت کا بھی اعلیٰ درجہ کا نظام موجود ہے ، نہ کسی جانور کو اس کا خطرہ ہے کہ اس سے زیادہ طاقت ور جانور اسے اپنی خوراک بنا لے گا ، نہ شکاریوں سے کوئی خوف ہے ، غرض حیوانات کی ضروریات کی تکمیل اور ان کے تحفظ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو چڑیا خانے ان کے لئے ایسی راحت گاہ ہیں کہ انسانوں کو بھی ایسی سہولت و آسائش میسر نہیں ۔ لیکن اگر کسی شخص کو جانور کی زبان آتی ، وہ ان سے ہم کلام ہو سکتا اور ان جانوروں سے ان کی دلی آرزو اور سب سے پیاری خواہش کے بارے میں سوال کرتا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوتا کہ خدارا مجھے اس خوب صورت آراستہ و…
Read more

