HIRA ONLINE / حرا آن لائن
قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب اور انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اس مضمون میں قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت، تلاوت، تعلیم، عمل اور آخرت میں اس کی شفاعت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

Read more

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی     از : آدم علی ندوی سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ دینی ضرورت اور عملی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ، آپ کے حالات و واقعات، اخلاق و عادات، معاملات اور معمولات سے واقفیت انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی طرف لے جاتی ہے، اور یہی ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ ہماری زندگی اور ہمارے ذہن و دماغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس طرح رچ بس جانی چاہیے کہ زندگی کے ہر مرحلہ اور ہر موڑ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہمارے سامنے موجود ہو اور ہمیں یہ احساس رہے کہ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اسوہ کیا تھا۔ یہ کیفیت محض ایک مرتبہ سیرت پڑھ لینے سے پیدا نہیں ہوتی، اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بار بار مطالعہ، مختلف زاویوں سے مطالعہ اور بتدریج گہرائی کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔ سیرت کا حقیقی مطالعہ وہ ہے جو معلومات سے آگے بڑھ کر محبت، تعلق، اتباع اور عملی تبدیلی پیدا کرے۔ سیرت کا وسیع ذخیرہ اور انتخاب کا  مسئلہ ( مطالعہ سیرت ترتیب وار رہنمائی) جب کوئی قاری سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ شروع کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے سیرت کی کتابوں کا ایک عظیم اور ضخیم ذخیرہ ہوتا ہے۔ یہ ہمارے اکابر اور اہل علم کی غیر معمولی علمی خدمت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ پر اس قدر وسیع لٹریچر تیار کیا کہ صرف سیرت ہی کے موضوع پر ایک بڑی مستقل لائبریری قائم کی جا سکتی ہے۔ دیگر زبانوں کو چھوڑ دیجیے، صرف اردو زبان میں ہی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سیکڑوں، بلکہ ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ یہ وسعت بھی آیت مبارکہ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کی عملی اور علمی تفسیر ہے۔ لیکن…

Read more

*ماہ ربیع الاول اور بعض مسلمانوں کا طرز عمل* افادات/ حضرت مولانا محمد منظورِ نعمانی رح ۔۔۔۔۔   ترتیب و پیشکش/محمد قمر الزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 950660075   ایک صاحب نظر بزرگ، مفکر اور عالم دین نے لکھا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،،مسلمانوں کی موجودہ قومی سیرت کے بعض کمزور پہلو ایسے ہیں کہ اگر اس کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو یہ امت صرف نام کی امت مسلمہ رہ جائے گی اور رسم و رواج اور خرافات میں گم ہو جائے گی ۔ مسلمانوں پر تنقید کرنا اور ان کے کمزور پہلوؤں کو نمایاں کرنا کسی مسلمان کے لئے قطعاً کوئی خوش گوار کام نہیں ہے اور اس کے لیے کوئی شخص آسانی سے تیار نہیں ہوسکتا ۔لیکن دنیا کے سب ضروری کام خوش گوار نہیں ہوتے ایک ایسی جماعت کی کمزوریوں کو خاموشی سے دیکھتے رہنا، جس نہ صرف اس کی قسمت بلکہ دنیا کی قسمت بھی وابستہ ہے اور جو انجیل کی زبان میں نمک ہے جس کی نمکینی کے ضائع ہو جانے کے بعد زمین کو کوئی چیز نمکین نہیں کرسکتی ۔ ایک ایسا ناخوشگوار کام ہے ،جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر ناگواری ،ہر تلخی،ہر طرح کی روحانی اذیت اور ہر قسم کی ذہنی کوفت ہیچ ہے اور اس کے مقابلے میں اپنی یا دوسروں کی یہ ناخوشگواری کوئی حقیقت نہیں رکھتی” ۔۔ بقول مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح ،،مسلمانوں کی کسی قوم یا ملک کا سلطنت و اقتدار سے محروم ہو جانا یا مسلمانوں کا عالمگیر سیاسی زوال بہت بڑا حادثہ ہے ۔جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے اس کے جو اخلاقی اور ذہنی نتائج ہوتے ہیں وہ بھی اب کچھ پوشیدہ نہیں رہے ۔لیکن اس سے بدرجہا المناک حادثہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کی ذہنیت یا نفسیات کسی ایسے سانچے میں ڈھلنے لگے جو صحیح اسلامی تعلیم و تربیت کا سانچہ نہیں ہے ۔ اور بعض انفرادی عیوب و نقائص اور غیر قوموں کے صفات و خصائص ،مسلمانوں کی سیرت کا…

Read more

درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی

درود اور ہم آدم علی ندوی   درود شریف کی فضیلت حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں، اپنی دعا میں سے کتنا حصہ آپ کے لیے مخصوص کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جتنا چاہو۔” میں نے عرض کیا: ایک چوتھائی؟ فرمایا: "جتنا چاہو، اور اگر اس سے زیادہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔” میں نے عرض کیا: نصف؟ فرمایا: "جتنا چاہو، اور اگر زیادہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔” میں نے عرض کیا: دو تہائی؟ فرمایا: "جتنا چاہو، اور اگر زیادہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔” میں نے عرض کیا: کیا میں اپنی پوری دعا ہی آپ پر درود کے لیے مخصوص کردوں؟ فرمایا: "تب تمہاری پریشانیوں کے لیے اللہ کافی ہوگا اور تمہارے گناہ بخش دیے جائیں گے۔”(جامع الترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، حدیث: 2457   یہ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے دل کی کیفیت تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم محبت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم میں اسی طرح سرشار تھے۔ ان کی جان و مال، اہل و عیال اور ہر عزیز و متاع رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر نثار تھا۔ وہ آپ کو اپنے ماں باپ، اولاد اور دنیا کی ہر محبوب چیز سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ ان کا قول و عمل، ظاہر و باطن اور زندگی کا ہر گوشہ محبت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دیتا تھا۔ آخر ایسا کیوں نہ ہوتا؟ انہیں جو کچھ ملا، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ہی کے واسطہ سے ملا۔ قرآن جیسا عظیم تحفہ، اسلام کی نعمت، ہدایت کی روشنی، جاہلیت کی تاریکیوں سے نجات، امن و اخوت، شریعت و اخلاق، عبادات و معاملات اور زندگی گزارنے کا پاکیزہ طریقہ۔۔یہ سب اسی ذات گرامی کے ذریعہ انہیں نصیب ہوا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نے عرب کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ جاہلیت کی تاریکیاں چھٹیں، ایمان کی روشنی پھیلی اور وہ لوگ جو قبائلی…

Read more

دودھ پینے کی دعا

دودھ پینے کے بعد کی دعا دودھ پینے کے بعد کی دعا نبی کریم ﷺ سے منقول مسنون دعا ہے۔ دودھ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اس لیے اسے پینے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔ دودھ پینے کی دعا اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْهِ وَزِدْنَا مِنْهُ ترجمہ: اے اللہ! تو اس میں ہمارے لیے برکت عطا فرما اور ہمیں اس میں مزید عطا فرما۔ دودھ پینے کے بعد دعا کی فضیلت رسول اللہ ﷺ نے دودھ پینے کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس میں برکت اور مزید عطا کرنے کی دعا سکھائی ہے۔ اس لیے دودھ پینے کے بعد یہ دعا پڑھنا باعثِ خیر و برکت ہے۔ دودھ پینے کی دعا عربی میں اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْهِ وَزِدْنَا مِنْهُ ترجمہ: اے اللہ! تو اس میں ہمارے لیے برکت عطا فرما اور ہمیں اس میں مزید عطا فرما۔ :حوالہ 📚 سنن أبي داود، 5/561، دار الرسالة 📚 مشکاة المصابیح، 2/473، بیروت  :خلاصہ دودھ پینے کے بعد درج ذیل مسنون دعا پڑھیں: اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْهِ وَزِدْنَا مِنْهُ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کی قدر کرنے، شکر ادا کرنے اور ان میں برکت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Read more