HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سرمایہ دار صحابہ کرام

سرمایہ دار صحابۂ کرامؓ مولانا مفتی محمد اعظم ندوی   اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے کہ جن پاکیزہ نفَس لوگوں نے زہد وعبادت اور ایثار وتقویٰ کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں، وہی تجارت، معیشت اور کسب حلال کے میدان میں بھی اپنے عہد کے ممتاز ترین افراد تھے، آج جب صحابۂ کرامؓ کا تذکرہ ہوتا ہے تو عموماً ان کی سادگی اور دنیا سے بے رغبتی کا ذکر نمایاں کیا جاتا ہے، لیکن ان کی زندگی کا ایک روشن باب، یعنی تجارت، معاشی خود کفالت، خود انحصاری اور عظیم اقتصادی کامیابیاں، بہت کم زیر بحث آتی ہیں۔   حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے نہ کبھی مطلق دولت کی مذمت کی اور نہ خوش حالی کو روحانیت کے منافی قرار دیا، اسلام نے ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت کی مذمت کی ہے، جبکہ محنت، تجارت، دیانت اور حلال کمائی کو عزت وشرف کا ذریعہ بنایا ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہؓ نے مسجد میں عبادت بھی کی، میدانِ جہاد میں قربانیاں بھی دیں اور بازار میں دیانت دار تاجر بن کر معاشی تاریخ بھی رقم کی۔   حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ وہ خوش نصیب صحابہ ہیں جو ایک طرف عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں اور دوسری طرف اپنے زمانے کے بڑے اہلِ ثروت بھی تھے، اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ، حضرت عبداللہ بن عامر بن کریزؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت یعلیٰ بن امیہؓ اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہؓ بھی ان صحابہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے حلال ذرائع سے غیر معمولی خوش حالی حاصل کی۔ ان سب میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی داستان سب سے زیادہ حیران کن ہے، مدینہ پہنچے تو ان کے پاس کچھ نہ تھا، حضرت سعد بن ربیعؓ نے آدھی جائیداد پیش کی، مگر انہوں نے فرمایا: "مجھے صرف بازار کا راستہ بتا دیجیے”، چند برسوں میں وہ…

Read more

بینک کے سود کے مصارف

بینک کے سود کے مصارف بینک کے سود کے سلسلہ میں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ نہ اس کو اپنی ذات پر خرچ کیا جاسکتا ہے اور نہ صدقہ میں دیا جا سکتا ہے ۔ اپنی ذات پر خرچ کرنے کی صورت یہ بھی ہے کہ وہ کوئی چیز خرید کر اپنی ضروریات پوری کرے اور یہ بھی کہ کوئی ذمہ داری جو اس پر بجا طور پر عائد ہوتی ہے اس میں صرف کر دے ۔ جیسے بجلی ، فون . پانی وغیرہ کی اجرت ۔ صدقہ سے مراد صدقات واجبہ ، زکوة و فطرہ قربانی و کفارہ وغیرہ بھی ہے اور صدقات نافلہ و عطایا بھی ، کہ کوئی شخص اپنی طرف سے بطور صدقہ کسی کار خیر میں استعمال کرے ۔ اس کے علاوہ جو صورتیں ہوں ان میں صرف کیا جاسکتا ہے ۔ مثلاً کسی ضرورت مند کی انفرادی ضرورت کی تکمیل کسی اجتماعی فائدہ کا کام کر دینا جیسے کنواں کھودنا وغیرہ ۔ حکومت کے ناروا ٹیکسوں میں بھی یہ رقم دی جاسکتی ہے اور اگر سودی قرضے لئے ہوں تو اس کو سود کی ادائیگی میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ مساجد اور اس کی ضروریات میں اس رقم کا صرف کرنا جائز نہیں ۔ بینک کے سود کے مصارف بحوالہ: جدید فقہی مسائل : ج : 1 ص 🙁 420 ) بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام  

Read more

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

ٹیکس میں سود کی رقم دینا ٹیکس جو حکومت عوام سے وصول کرتی ہے وہ دو طرح کے ہیں ۔ بعض منصفانہ ہیں اور خود اسلام میں ان کی گنجائش ہے مثلا پانی ، روشنی ، سڑک ، ہسپتال ، لائبریری اور پارک وغیرہ سہولتوں کے بدلے بلدیہ جو ٹیکس لیا کرتی ہے وہ اس کا فائدہ محسوس طور پر ہماری طرف لوٹا دیتی ہے ۔ دوسرے قسم کے ٹیکس ایسے ہیں جن کو غیر منصفانہ اور ناواجبی کہا جاسکتا ہے ۔ مثلا انکم ٹیکس جو بسا اوقات اسی فی صد تک پہنچ جاتا ہے شرعی اعتبار سے غیر منصفانہ ہونے کے علاوہ واقعہ ہے کہ اس قسم کے ٹیکس غیر معقول بھی ہیں کہ ایک شخص اپنے گاڑھے پسینہ سے جو کچھ حاصل کرے آپ اس کا اسی فی صد اجتماعی مفاد کے لئے وصول کر لیں۔ پہلی قسم کے ٹیکس میں بینک کی سودی رقم دینا درست نہ ہو گا اس لئے کہ وہاں سود دینا گویا اپنی ذات میں سود کا استعمال ہوگیا اس لئے کہ وہ بھی ان قومی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور فقہاء نے ایسے ٹیکس کی اجازت دی ہے جیسا کہ ابوالحسن مرغینانی کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے : فان اريد بها ما يكون بحق ككرى النهر المشترك واجر الحارس والموظف لتجهيز الجيش وفداء الاسارى وغيرها جازت الكفالة بها على الاتفاق – اگر اس سے وہ ٹیکس مراد ہیں جو جائز اور صحیح ہیں جیسے مشترک نہر کا کھودنا پولیس کی اجرت ، فوج کا انتظام کرنے والوں کی تنخواہ جو سب پر ڈال دی جائے یا قیدیوں کو کافروں کی قید سے چھڑانے کے لئے عطیات تو بالاتفاق ان کی کفالت کی جا سکتی ہے ۔ دوسری قسم کے ٹیکس میں یہ رقم دی جاسکتی ہے کہ اس طرح یہ مال حرام اس حکومت یا ادارہ کو پہونچتا ہے جس نے یہ مال امانت داروں کو سود کے نام سے دیا ہے ۔ جدید فقہی مسائل  : ج : 1 ص: (421 )

Read more

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا بینک ایک سودی کاروبار ہے ، اس لئے اگر پہلے سے مقصد معلوم ہو تو خالص اس مقصد کے لئے مکان کرایہ پر دینا جائز نہ ہو گا کہ یہ معصیت میں ایک طرح کا تعاون ہے ۔ ہاں اگر یوں ہی کسی نے کرایہ پر مکان لے لیا اور بعد کو اس میں بینک قائم ار دیا ۔ تو اب اس پر کوئی بار گناہ نہیں ، امام سرخسی، لکھتے ہیں : لاباس بان يواجر المسلم دارا من الزمي ليسكنها فان شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أوادخل فيها الخنازير لم يلحق للمسلم اثم فى شيئى من ذالك لانه لم يواجرها لذالك والمعصية فى فعل المستاجر دون قصد رب الدار فلا اثم على رب الدار في ذالك –  مسلمان ، ذمی کو کوئی گھر رہائش کے لئے دے ۔ اس میں مضائقہ نہیں ۔ پھر اگر وہ اس میں شراب پیتے ، صلیب کی پرستش کرے یا سور داخل کرے ، تو مسلمان کو ان کا کوئی گناہ نہ ہوگا، اس لئے کہ اس نے اس مقصد کے لئے نہیں دیا ہے ۔ گناہ کرایہ دار کا عمل ہے اور اس کے اس عمل میں صاحب مکان کے ارادہ کو کوئی دخل نہیں ہے ۔ اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ " بعض فقہاء کے اقوال سے جواز بھی معلوم ہوتا ہے ۔ مگر شریعت کا مزاج اسے قبول کرتا نظر نہیں آتا ۔ واللہ اعلم جدید فقہی مسائل : ج : 1 ص ( 410 ) اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی بینک کے سود کے مصارف

Read more

قسطوں پر سامان کی فروخت

قسطوں پر سامان کی فروخت آج کل قسطوں پر سامان کو فروخت کرنے کا رواج عام ہو گیا ہے خرید نے والے کو بھی اس میں سہولت ہوتی ہے اور بیچنے والا بھی ادائیگی میں تاخیر کو ملحوظ رکھ کر قیمت کسی قدر بڑھا کر لیتا ہے ، اس طرح کی خرید و فروخت میں نقد کی قیمت کم اور ادھار کی زیادہ ہوتی ہے ۔ یہ صورت جائز ہے  البتہ معاملہ طے کرتے ہوئے ان امور کا خیال رکھنا چاہئے : (1) معاملہ نقد یا ادھار میں سے کسی ایک نوعیت پر قطعیت کے ساتھ طے کر لیا جائے (۲) ادھار جو قیمت مقرر کی جائے وہ بھی ایک اور مقرر و طے شدہ ہو۔ (۳) اگر خریدار مقررہ وقت پر پیسہ ادا نہ کر پائے تو تاخیر کی وجہ سے قیمت میں مزید اضافہ نہ کیا جائے ، اگر تاخیر مزید کی وجہ سے پھر قیمت بڑھادی جائے تو یہ حرام ہوگا اور سود متصور ہوگا۔ قسطوں پر سامان فروخت کرنا جدید فقہی مسائل : ج : 1 ص :(390 ) خورشید پرویز صدیقی۔بے باک صحافت کا مرد درویش۔ اعضاء کی پیوندکاری : شرعی نقطہ نظر  

Read more