ہر دل عزیز استاذ و مربی
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
از : مولانا محمد عارف صاحب ندوی

بعض شخصیات صرف اپنے زمانے میں نہیں جیتیں، بلکہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی زندہ رہتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ، ان کا طرزِ گفتگو، اندازِ تدریس، پابندیِ وقت، علمی انہماک، عبادت و تلاوت، حتیٰ کہ ان کی خاموشی بھی شاگردوں کے لیے درس بن جاتی ہے۔ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ صرف دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم نہیں تھے؛ وہ ایک عہد کی علمی شناخت، عربی زبان و ادب کے ممتاز استاد، صاحبِ طرز ادیب، بے باک صحافی، باکمال خطیب، داعی،کئی نسلوں کے مربی اور اپنے بے شمار تلامذہ کے لیے ایک شفیق اور قابلِ احترام استاذ تھے۔
حضرت کی وفات سے ندوۃ العلماء ہی نہیں، ہندوستان کے علمی و ادبی تمام حلقوں نے بھی ایک ایسے بزرگ کو کھو دیا ہے جس نے اپنی پوری زندگی علم و عمل ، تعلیم و تربیت، دعوت دین اور ندوہ کی خدمت میں صرف کردی۔ 1935ء میں پیدا ہوئے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور بعد میں عربی زبان و ادب، تصنیف و تالیف صحافت حتی کہ نظم و نسق میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ 2000ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم مقرر ہوئے اور آخری وقت تک اس منصب پر فائز رہے ۔
غالباً 2003ء کے اواخر اور 2004 کے اوائل کا زمانہ تھا۔ ندوۃ العلماء میں نو وارد تھا عالیہ اولیٰ میں داخلہ ہوا۔ بقر عید تک کا زمانہ اللہ اللہ کرکے انگلیوں پر گنتے گزرا۔ کسی طور دل لگتا ہی نہیں تھا۔ گھر سے اتنی دور پہلی مرتبہ نکلا تھا سفر کا بھی کوئی خاص تجربہ نہیں تھا؛ اس لیے واپس بھاگنے کا تصور بھی محال تھا ۔
عالیہ اولیٰ کی درس گاہ کلیۃ اللغۃ میں لگا کرتی تھی۔زیادہ تر درس گاہیں دار العلوم کی مرکزی پر شکوہ عمارت میں لگا کرتی تھیں کبھی کبھار اس طرف یا دفتر اور عباسیہ ہال کی طرف آنا ہوتا تو حضرت مہتمم صاحب کا دیدار ہوجاتا، لیکن حضرت کا رعب ایسا تھا کہ سامنے سے دیکھنے کی بھی ہمت نہ ہو پاتی تھی۔
حضرت کے رعب و جلال، عربی دانی، انشا پردازی، علمی مقام اور وقت کی پابندی کے قصے ندوے آنے سے پہلے ہی اپنے اساتذہ سے اتنی کثرت سے سن رکھے تھے کہ طبیعت خود بخود دیدار کے لیے مچلتی تھی۔ دل میں ایک سوال ہمیشہ رہتا تھا کہ آخر وہ وقت کب آئے گا جب حضرت مہتمم صاحب سے پڑھنے کا موقع ملے گا؟ ہم تو ابھی عالیہ اولیٰ میں ہیں!
شاید اسی شوق اور عقیدت کا نتیجہ تھا کہ ندوے میں قیام کے پورے سات سالوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جمعہ کی نماز کے لیے باہر گیا ہوں یا تاخیر سے پہنچا ہوں۔ ہمیشہ ایک بجے سے پہلے مسجد کے اندرونی حصے میں پہنچ جاتا تلاوت کرتا اور جب حضرت کا خطبہ شروع ہوتا تو پوری دلچسپی اور توجہ کے ساتھ حضرت کا خطبہ سنتا۔
یہی وہ زمانہ تھا جب حضرت سے براہِ راست تعلق تو نہیں تھا، لیکن دور سے دیکھنے اور سننے کی عقیدت دل میں جگہ بنا چکی تھی۔
عالیہ اولیٰ ہی سے ایک اور معمول بن گیا تھا کہ پابندی کے ساتھ ’’الرائد‘‘ خرید کر لاتا۔ سب سے پہلے رکن الاطفال حل کرنے کی کوشش کرتا۔ حضرت مہتمم صاحب کا مضمون ’’کلمۃ الرائد‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتا تھا۔ اسے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش تو بہت کرتا، لیکن اس وقت حضرت کے اسلوب کو سمجھنا ہم جیسوں کے بس کی بات کہاں !!
البتہ یہ رسالہ رفتہ رفتہ حضرت کی تحریر سے تعارف کا ذریعہ بنتا گیا۔ ان کی عبارت میں جو سلاست، شگفتگی، قوتِ بیان، وسعتِ مطالعہ اور عربی زبان پر قدرت تھی، وہ طالب علمی ہی میں دل پر اثر انداز ہونے لگی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے عالیہ اولیٰ ہی میں ایک ایسا سبب پیدا کردیا جس نے حضرت کے اسلوب کو سمجھنے کا راستہ آسان کردیا۔ بقر عید کے بعد مولانا محمد فرمان ندوی صاحب کا انشا کا گھنٹہ لگ گیا۔ مولانا سے بے حد فائدہ ہوا۔ طلبہ کے حق میں مولانا نہایت مفید، ہمدرد اور مشفق استاد ثابت ہوئے۔ ہم نے بھی ان سے درجہ اور درجہ کے علاوہ خارجی اوقات میں خوب استفادہ کیا۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ مولانا محمد فرمان ندوی صاحب ہی نے حضرت مہتمم صاحب کے اسلوب کو بعد میں سمجھنے اور ان کے مضامین کو حل کرنے کا طریقہ سکھایا۔ یہ ان کا ایسا احسان ہے جسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے
پھر وہ وقت بھی آیا جب فضیلت کے دونوں سال حضرت مہتمم صاحب سے پڑھنے کا موقع ملا۔ جس شخصیت کو برسوں دور سے دیکھنے میں بھی رعب محسوس ہوتا تھا، اب قریب بیٹھ کر پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
عجیب تجربہ تھا! قربت بڑھتی گئی تو دل سے ڈر نکلتا گیا اور محبت، عقیدت اور انسیت بڑھتی چلی گئی۔ یہی حضرت کی شخصیت کا ایک بڑا کمال تھا کہ ان کا رعب اپنی جگہ، لیکن جو شخص ان کے قریب آتا، وہ ان کے اندر چھپی ہوئی شفقت، محبت اور طلبہ کے ساتھ خیرخواہی کو محسوس کیے بغیر نہ رہتا۔
حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کو حضرت سے ایک عجیب سی عقیدت اور قلبی لگاؤ ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے باوقار اور بارعب ہونے کے باوجود نہ میں نے اپنے ساتھیوں میں، نہ بعد کے فارغین میں اور نہ قدیم فضلاء میں کسی کو حضرت مہتمم صاحب سے بددل پایا۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ ہوسکتا ہے، مگر حضرت کی علمی عظمت، خلوص، پابندی اور طلبہ کے ساتھ خیرخواہی کا اعتراف تقریباً ہر شخص کرتا تھا۔
حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ حقیقتاً مجموعۂ اوصاف و کمالات تھے۔ ان کی شخصیت میں عالم، مدرس، ادیب، صحافی، خطیب، داعی، مربی اور منتظم سب جمع تھے۔
عربی زبان و ادب پر انہیں غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ ندوۃ العلماء کی کلیۃ اللغۃ العربیۃ وآدابہا کی ترقی میں انہوں نے طویل عرصے تک اہم کردار ادا کیا۔ عربی تحریر و تقریر میں ان کا ایک خاص مقام تھا اور ان کی علمی و دعوتی شناخت ہندوستان اور ہندوستان سے باہر عالمِ عرب تک پہنچی۔
ان کی صحافتی خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ ’’البعث الاسلامی‘‘ کے آغاز کے وقت سے وہ اس کی ادارت میں شریک تھے اور میں مولانا سید محمد الحسنیؒ کے انتقال کے بعد اس کے مدیر اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس رسالے کے ذریعے انہوں نے اسلامی فکر، دعوت اور عربی صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ’’البعث الاسلامی‘‘ بعد میں ہندوستان اور عالمِ عرب کے علمی حلقوں میں ایک معروف رسالہ بن گیا۔
حضرت کی شخصیت کا ایک اور پہلو جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا، وہ قرآن کریم سے ان کا گہرا تعلق اور تلاوت کا غیر معمولی شوق تھا۔
وہ قرآن پڑھتے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ صرف تلاوت نہیں، بلکہ دل کی غذا ہے۔ ان کے معمولات میں تلاوتِ قرآن کو جو مقام حاصل تھا، وہ ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
حضرت کی اس صفت کا اثر ان کے بعض شاگردوں میں بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ایک استاد کا اصل کمال یہی ہے کہ اس کی اچھی عادتیں اور اس کے دل کی کیفیات اس کے شاگردوں میں منتقل ہوں۔ حضرت کی تربیت کا یہ اثر ان کے بہت سے تلامذہ کی زندگی میں دیکھا جاسکتا ہے۔بالخصوص مولانا محمد فرمان ندوی صاحب میں اس کی کچھ جھلکیاں نظر آتی ہیں
حضرت کی وقت کی پابندی ضرب المثل تھی۔ ان کے درس اور مسجد میں آمد و رفت اور دیگر معمولات میں ایسی پابندی تھی کہ لوگ ان کے اوقات کو دیکھ کر اپنی گھڑیاں درست کرلیا کرتے تھے۔ معاصر تعزیتی تحریروں میں بھی ان کی اس غیر معمولی پابندیِ وقت کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
لیکن حضرت کے لیے وقت کی پابندی محض ایک انتظامی خوبی نہیں تھی۔ یہ دراصل ان کی پوری زندگی کے نظم و ضبط کا حصہ تھی۔ ان کی شخصیت میں ترتیب، سنجیدگی، ذمہ داری اور اپنے وقت کی قدر نمایاں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد صرف ان کی کتابوں اور اسباق سے نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے معمولات سے بھی سبق حاصل کرتے تھے۔
حضرت کی اصل قوت ان کا تدریسی کردار تھا۔ انہوں نے کئی نسلوں کو عربی زبان و ادب، دینی علوم اور علمی ذوق سے آراستہ کیا۔ وہ محض کتاب پڑھانے والے استاد نہیں تھے بلکہ طالب علم کے اندر علمی ذوق پیدا کرنے والے مربی تھے۔
ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد آج ہندوستان اور بیرونِ ملک مختلف علمی، دینی، دعوتی اور تعلیمی میدانوں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ یہی کسی استاد کی سب سے بڑی یادگار ہے کہ اس کے شاگرد اس کے علمی مشن کو آگے بڑھاتے رہیں۔
حضرت مولانا محمد فرمان ندوی صاحب جیسے ممتاز تلامذہ میں بھی حضرت کی تربیت اور ان کے علمی و ادبی ذوق کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ میرے لیے ذاتی طور پر یہ بات زیادہ معنی رکھتی ہے کہ جس استاد سے ہمیں استفادہ کا موقع ملا یا یوں کہیے کہ دوران طالب علمی جس نے قدم قدم پر رہنمائی فرمائی وہ خود بھی حضرت کے فیض یافتہ تھے۔ یوں ایک استاد سے دوسرے استاد تک علم و ذوق کی ایک خوب صورت زنجیر قائم ہوگئی۔
ان کی زندگی میں ندوہ صرف ملازمت یا منصب کی جگہ نہیں تھا؛ ندوہ ان کی زندگی کا مشن تھا۔ انہوں نے اپنی جوانی یہاں گزاری، یہاں سے علم حاصل کیا، یہیں تدریس کی، صحافت کو سنوارا ،طلبہ کی تربیت کی اور پھر اسی ادارے کی انتظامی ذمہ داری سنبھال کر اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس کی خدمت میں صرف کردیا۔
حضرت کی قلمی خدمات بھی وسیع تھیں۔ ان کی متعدد کتابیں اور مضامین علمی و ادبی حلقوں میں معروف ہیں۔ ’’اسوۂ حسنہ کے آئینے میں‘‘ اور ’’قافلۂ علم و ادب‘‘ جیسی تصانیف ان کے علمی و ادبی ذوق کی آئینہ دار ہیں۔ ندوہ کی لائبریری کے ریکارڈ میں ان کی متعدد مطبوعات محفوظ ہیں۔
ان کی کتاب ’’48 سال شفقتوں کے سائے میں‘‘ خصوصی اہمیت رکھتی ہے، جس میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی شخصیت اور ان سے وابستہ طویل علمی و تربیتی تعلق کی جھلکیاں ملتی ہیں۔
یہ بھی ایک عجیب حسنِ اتفاق ہے کہ جس بزرگ نے حضرت سعید الرحمن اعظمیؒ کی علمی زندگی پر گہرا اثر ڈالا، حضرت نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی علمی روایت کو آگے منتقل کرنے میں صرف کردیا۔
حضرت کی خدمات کا شمار کیا جائے تو فہرست طویل ہوجائے گی، لیکن ان کی شخصیت کا اصل سرمایہ شاید ان کے شاگرد، ان کا تربیتی اثر اور ان کی قائم کردہ علمی روایت ہے۔
ایک استاد کی زندگی کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس نے کتنی کتابیں لکھیں یا کتنے بڑے عہدے حاصل کیے، بلکہ اس سے ناپی جاتی ہے کہ اس نے کتنے دلوں میں علم کی محبت پیدا کی، کتنے طلبہ کو مقصدِ زندگی دیا، کتنے لوگوں کو قرآن سے جوڑا اور کتنے افراد کو اپنے کردار سے متاثر کیا۔
اس اعتبار سے حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زندگی یقیناً کامیاب اور بابرکت زندگی تھی۔
آج جب حضرت کی وفات کی خبر سامنے ہے تو ماضی کے وہ سارے مناظر ایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔
کلیۃ اللغۃ کی وہ درس گاہ،
عباسیہ ہال کی طرف آتے جاتے حضرت کی ایک جھلک،
جمعہ کے دن مسجد میں ایک بجے سے پہلے پہنچنے کا معمول،
حضرت کا پُررعب خطبہ،
الرائد کا انتظار،
’’کلمۃ الرائد‘‘ کو سمجھنے کی ناکام کوششیں،
اور پھر فضیلت کے زمانے میں اسی شخصیت کے سامنے بیٹھ کر پڑھنے کی سعادت۔
کبھی جس شخصیت کا رعب دل کو خاموش کردیتا تھا، آج اسی شخصیت کی جدائی دل کو بے چین کیے ہوئے ہے۔
وقت کا یہ کیسا سفر ہے!
طالب علم نے استاد کو پہلے دور سے دیکھا، پھر قریب سے دیکھا، پھر اس سے پڑھا، اس سے سیکھا، اس کی محبت پائی؛ اور اب وہی شاگرد استاد کی یادوں کو سینے میں لیے بیٹھا ہے۔
حضرت چلے گئے، مگر ان کا درس باقی ہے، ان کی تحریریں باقی ہیں، ان کی تلاوت کی یاد باقی ہے، ان کی پابندیِ وقت کی مثال باقی ہے، ان کے خطبات کی گونج باقی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے شاگردوں کی ایک پوری نسل باقی ہے۔
یہی اہلِ علم کی زندگی کی اصل بقا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی، دینی، دعوتی، تربیتی، صحافتی اور انتظامی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان کے لیے ندوۃ العلماء کو صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے شاگردوں کو ان کے علمی و تربیتی مشن کا سچا وارث بنائے، ان کے متعلقین و لواحقین، اہلِ ندوہ اور تمام تلامذہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اور اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ان اساتذہ کی قدر کرنے، ان کے علم سے صحیح استفادہ کرنے اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی و اخلاقی نقوش کو اپنی زندگی میں باقی رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

