*دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ*

از:- *حسن عمار*
(یکے از شاگرد مولانا سعید الرحمن اعظمی رحمۃاللہ علیہ)

* *مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ کی شخصیت کا ایک عظیم پہلو*

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — دور اختلافات میں اتحاد کے محافظ
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — دور اختلافات میں اتحاد کے محافظ

استاذ الاساتذہ، مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء، حضرت مولانا سعید الرحمن العظمی الندوی رحمہ اللہ ہم سب کو داغِ مفارقت دے کر اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔

دنیا کے مختلف ممالک اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے اہلِ علم، اہلِ تعلق، شاگردان، محبین اور متعلقین اپنے اپنے انداز میں حضرت مولانا کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ کہیں تعزیتی نشستیں منعقد ہو رہی ہیں، کہیں مضامین اور تاثرات قلم بند کیے جا رہے ہیں، اور کہیں حضرت مولانا کی علمی، تعلیمی، دعوتی اور انتظامی خدمات کو یاد کیا جا رہا ہے۔ ان تمام تحریروں اور مجالس میں مولانا کی قرآنِ کریم سے غیر معمولی وابستگی، وقت کی پابندی، انتظامی امور میں مولانا کی غیر معمولی چستی، اپنے مشن کے ساتھ اخلاص اور بالخصوص دارالعلوم ندوۃ العلماء کے لیے ان کی بے لوث خدمات کا تذکرہ نمایاں طور پر موجود ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن کا اعتراف تقریباً ہر اُس شخص نے کیا ہے جس نے ندوۃ العلماء میں کچھ وقت گزارا یا جسے حضرت مولانا کے ساتھ قربت و تعلق کا شرف حاصل رہا۔

تاہم حضرت مولانا کی شخصیت کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر نسبتاً کم گفتگو ہوئی ہے، حالانکہ وہ مولانا کی عظمتِ کردار کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ کے وصال کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء جیسی عظیم علمی، فکری اور تربیتی درسگاہ کی ذمہ داری حضرت مولانا سعید الرحمن العظمی الندوی رحمہ اللہ کے کندھوں پر آئی۔ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں تھی، کیونکہ ندوہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک فکری روایت اور ایک تاریخی تحریک کا امین ہے۔ ایسے ادارے کی قیادت کرنا اور اسے اپنے اسلاف کے مزاج اور مقاصد کے مطابق آگے بڑھانا یقیناً غیر معمولی بصیرت، تحمل اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔

حضرت مولانا نے کم و بیش ربع صدی تک منصب اہتمام کی اس عظیم ذمہ داری کو نہایت حسنِ تدبیر اور کامیابی کے ساتھ نبھایا۔ اس طویل عرصے میں یقیناً ایسے بے شمار مواقع آئے ہوں گے جب انتظامی معاملات میں مختلف آراء سامنے آئی ہوں گی، بعض فیصلے طبیعت کے خلاف محسوس ہوئے ہوں گے، اور بعض امور میں اختلافِ رائے بھی پیدا ہوا ہوگا۔ اداروں کی تاریخ ، اور روز مرہ کا مشاہدہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ چھوٹے بڑے تمام ہی اداروں میں مختلف رجحانات، مختلف مزاج اور مختلف نقطۂ ہائے نظر رکھنے والے افراد موجود ہوتے ہیں، اور ان کے درمیان اختلافات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔

لیکن حضرت مولانا کی عظمت کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ اس طویل مدت کے دوران عوامی سطح پر ان کی طرف سے کبھی شکوہ، شکایت، تلخی یا کسی سطحی قسم کے ردِّ عمل کا اظہار سننے میں یا دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ انہیں کبھی کسی معاملے میں اختلاف یا ناگواری پیش نہیں آئی ہوگی، بلکہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ مولانا جیسے ایک حساس، صاحبِ ذوق اور بلند معیار رکھنے والی شخصیت کو بعض مواقع پر یقیناً ایسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہوگا جو ان کی طبیعت کے مطابق نہ ہو۔ لیکن انہوں نے ہر ایسے موقع پر جس صبر، تحمل، برداشت اور حکمت کا مظاہرہ کیا، وہ حقیقتاً ان کے اعلی اخلاق اور شخصیت کی عظمت کی دلیل ہے۔

درحقیقت ایک کامیاب منتظم صرف وہ نہیں ہوتا جو ادارے کے رسمی امور کو خوش اسلوبی سے انجام دے، بلکہ کامیاب منتظم کہلانے کا وہ مستحق ہوتا ہے جو مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کو ساتھ لے کر چلے، ان کی خوبیوں کو پہچانے، ان سے صحیح فائدہ اٹھائے، اختلافات کو ادارے کے استحکام پر اثر انداز نہ ہونے دے، اور اگر کبھی ناگوار یا ناخوشگوار صورتِ حال پیش آ جائے تو صبر و حکمت کے ساتھ اسے سنبھال لے۔ حضرت مولانا کی پوری حیات اہتمام اس وصف کی ایک روشن مثال تھی۔

خاص طور پر سنہ 2019 کا وہ نازک دور، جب دارالعلوم ندوۃ العلماء مختلف آزمائشوں اور غیر معمولی حالات سے گزر رہا تھا، اور پورے ملک کی نگاہیں ندوہ کی طرف لگی ہوئی تھیں، حضرت مولانا کی انتظامی بصیرت اور تحمل کا ایک نمایاں مظہر بن کر سامنے آیا۔ ایسے مواقع پر عموماً جذبات غالب آ جاتے ہیں، زبان و قلم میں سختی پیدا ہو جاتی ہے، اور ناشائستہ باتوں کا صدور ہوجاتا ہے،
لیکن حضرت مولانا نے نہ صرف اپنی زبان کو محفوظ رکھا بلکہ اپنی شخصیت کے وقار، سنجیدگی اور توازن کو بھی برقرار رکھا۔ انہوں نے حالات کا مقابلہ جذباتیت کے بجائے حکمت، صبر اور استقامت کے ساتھ کیا، اور یہی وجہ ہے کہ اس پورے دور میں ان کی شخصیت کا رعب، وقار اور علمی وزن پہلے کی طرح قائم رہا۔

حضرت مولانا رحمہ اللہ کی زندگی جہاں دوسرے بہت سے معاملات میں ہمارے لیے نمونہ بن سکتی ہے، وہیں اس معاملہ میں بھی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ *اداروں کو تعمیر و ترقی دینے میں افراد کی صرف علمی صلاحیت کافی نہیں بلکہ صبر، تحمل، حکمت، وسعتِ ظرف اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت بھی ناگزیر ہے۔ اختلافات کو ہوا دینا آسان ہے، لیکن اختلافات کے باوجود دلوں کو جوڑے رکھنا، ادارے کی وحدت کو برقرار رکھنا اور اپنے ذاتی جذبات کو اجتماعی مفاد پر قربان کر دینا ہی دراصل بڑے لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے*۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی تمام تر گراں قدر خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اور ان کے علمی کارناموں اور خدمات کو تا قیامت مولانا کے لیے صدقہ جاریہ بناے۔
آمین یا رب العالمین۔


مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف