نکاتِ قرآنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا ؟

محمد قمر الزماں ندوی 
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

حیات و ممات کا نظام
حیات و ممات کا نظام

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے سورہ ملک کی ابتدائی پانچ آیات میں موت و حیات کے نظام، انسان کی تخلیق کے مقصد و منشا اور آسمان کو سات طبق میں پیدا کرنے، اس کو روشن و تابناک بنانے نیز اس میں ادنیٰ تفاوت کے نہ ہونے کے فلسفہ کو اور انسان کی زندگی میں جاری اور نافذ حیات و ممات کے سلسلہ کو بیان کیا ہے ۔
ارشاد خداوندی ہے:
﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا الخ﴾
"جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون سب سے اچھا ہے” (سورۃ الملک: 2)
آیت کریمہ کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ زندگی اور موت دینا کسی دیوی دیوتا یا کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہے، بلکہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیا جانا اور پھر دنیا سے اٹھا لینا بے مقصد نہیں ہے، بلکہ اس لئے ہے کہ انسان کا امتحان ہو کہ وہ زندگی بہتر اعمال میں گزارتا ہے یا برے کاموں میں؟ نیز اچھے اور برے انسان میں نیک و بد اعمال کے اعتبار سے فرق و امتیاز ہو ۔
یہ حقیقت ہے کہ ہم جب اس موجودہ دنیا کو دیکھتے ہیں اور اس کا مطالعہ اور مشاہدہ کرتے ہیں تو بظاہر ایک تضاد نظر آتا ہے، حضرت انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہیں ،وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے ، اس میں کہیں کوئی نقص اور تفاوت نظر نہیں آتا ، اس کے برعکس انسانی زندگی میں کرپشن، ظلم و فساد اور سفاکیت و بے رحمی اور فتنہ و کرپشن نظر آتا ہے ۔ اس کی وجہ انسان کا علیحدہ نوعیت کا ہونا ہے ۔ انسان اس دنیا میں حالتِ امتحان میں ہے ۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے، اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرے ۔ انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے ، اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا، جنہوں نے ظلم و سفاکیت کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا، جنہوں نے سرکشی کی طاقت کے باوجود اپنے کو سرکشی سے بچا لیا ۔
غرض یہ کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اس لئے شروع کیا ہے کہ اس کا امتحان لے اور یہ دیکھے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے ۔
اس مختصر فقرے میں بہت سی حقیقتوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے ۔ پہلی چیز یہ کہ موت اور حیات اسی کی طرف سے ہے ، کوئی دوسرا زندگی بخشنے والا ہے اور نہ موت دینے والا ہے ۔ اور یہ کہ انسان جیسی ایک مخلوق ، جسے نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا کی گئی ہے، اس کی زندگی بے مقصد ہے نہ موت ۔خالق نے اسے یہاں امتحان کے لئے پیدا کیا ہے ۔ زندگی اس کے لئے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہو گیا ۔ اسی امتحان کی غرض سے خالق نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں کام کرکے اپنی اچھائی یا برائی کا اظہار کرسکے اور عملا یہ دکھا دے کہ وہ کیسا انسان ہے ۔ اور ان آیات سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی در اصل اس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا عمل اچھا ہے اور کس کا برا ۔ اعمال کی اچھائی اور برائی کا معیار تجویز کرنا امتحان دینے والوں کا کام نہیں ہے، بلکہ امتحان لینے والے کا کام ہے ۔ لہذا جو بھی امتحان میں کامیاب ہونا چاہتا ہے اسے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ممتحن کے نزدیک حسن عمل کیا ہے ۔ آخری نکتہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے اور یہ نکتہ خود امتحان کے مفہوم میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جس شخص کا جیسا عمل ہوگا ،اس کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی ، کیونکہ اگر جزا نہ ہو تو سرے سے امتحان لینے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے ۔۔۔
علماء کرام نے اس آیت کی تفسیر اور اس کی عصری معنویت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
اس زمین پر انسان کی تخلیق کے بنیادی مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ تاکہ اللہ تعالٰی ہمیں آزمائے کہ ہم میں سے کون عمل کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے ۔
لہٰذا آزمائش اور امتحان کا اصل محور عمل میں "احسان” (بہترین اور خوبصورت انداز) ہے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ آیت میں لفظ "عمل” نکرہ (عام) استعمال ہوا ہے تاکہ شرعی ضوابط کے تحت ہر اس کام کو شامل کر سکے جسے عمل کہا جاتا ہے۔
اس میں زراعت، تجارت اور صنعت سے متعلق تمام امور، اور عبادتی شعائر سے متعلق تمام اعمال شامل ہیں۔
اسی طرح تعلیم، فکر، سیاست اور تمام عقلی و تخلیقی کام بھی اسی کے دائرے میں آتے ہیں۔
پس یہ تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے پیشِ نظر اور اس کی نگرانِ نظر میں ہیں۔ انسان سے یہ تقاضا ہے کہ وہ ان کاموں کو بہترین طریقے سے سرانجام دے (تکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں سب سے اچھا ہے)۔
قرآنِ کریم میں وارد ہونے والا لفظ "أحسن” (سب سے اچھا سب سے عمدہ و بہتر) ہمارے موجودہ دور کے لفظ "اتقان” (پختگی و مہارت) یا جسے "آئی ایس او / جودۃ” (ISO / Quality – کوالٹی) کہا جاتا ہے، کے ہم معنی ہے۔
اسلام میں عمل کی قدر و قیمت اس کے معیار اور پختگی (کوالٹی) سے ناپی جاتی ہے۔
ہم اپنے کام کو جس قدر مہارت اور عمدگی سے سرانجام دیں گے، اللہ کے اتنے ہی قریب ہوں گے۔
ایک صفائی کرنے والا شخص جس قدر سڑک کی صفائی کا کام عمدگی سے کرے گا، وہ اللہ کے اتنا ہی قریب ہوگا۔
اسی طرح ایک مکینک اپنی ورکشاپ میں، کسان اپنی زمین میں، ڈاکٹر اپنے کلینک میں، استاد اپنے مدرسے میں، تاجر اپنی تجارت میں، سیاست دان اپنے شعبے میں اور انجینئر اپنی کارکردگی میں، یہ تمام لوگ عبادت میں ہیں اور اپنے کام کو پختگی و عمدگی سے انجام دے کر اللہ کا قرب حاصل کر رہے ہیں۔
کیونکہ یہ تمام اعمال زمین پر اس خلافت کو قائم کرنے کا بنیادی ستون ہیں جس کا ارادہ اللہ نے فرمایا، اور جو انسان کی تخلیق کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾
"اور (وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک نائب (خلیفہ) بنانے والا ہوں…” (سورۃ البقرۃ: 30)
لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ خطباء، اساتذہ اور مقررین جب اس آیت کریمہ کو بیان کرتے ہیں، تو عموماً اسے صرف ایک محدود زاویے یعنی عبادتی شعائر تک محدود کر دیتے ہیں۔
وہ ان اعمال کو جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے، صرف نماز، زکٰوۃ، روزہ اور حج جیسے بعض شعائر تک محدود کر دیتے ہیں، اور زیادہ سے زیادہ ان میں نیک اعمال، خیرات اور صدقات کا اضافہ کر دیتے ہیں۔
یہ طرزِ فکر آیت کے حقیقی مفہوم و دلالت سے میل نہیں کھاتا۔
اللہ تعالیٰ کی نظر میں شامل اعمال کو صرف عبادتی امور تک محدود کرنے سے ایک مسخ شدہ مذہبی ثقافت نے جنم لیا۔
جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور یہاں تک کہ علومِ شریعت کے ماہرین نے بھی علوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا: شرعی علوم اور غیر شرعی علوم۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دین کو عملی زندگی سے الگ کر دیا گیا، اور یہی سے یہ سوچ پیدا ہوئی کہ "دنیا ایک مردار ہے اور اس کے طلبگار کتے ہیں” (الدنيا جيفة وطلابها كلاب)۔ بدقسمتی سے یہ ان مہلک ترین بیماریوں میں سے ہے جن میں ہمارا معاشرہ مبتلا ہوا ہے۔
اسی لئے اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اگر آپ کسی مسلمان کو دیکھیں جو اپنی نماز، روزے، زکٰوۃ، حج، لمبی داڑھی، اونچی شلوار اور بیت الخلاء میں داخل ہونے کے طریقوں میں تو اپنے اسلاف کی پیروی کر رہا ہو، لیکن اپنے وقت کی پابندی، نظم و ضبط، کام میں مہارت و پختگی اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ معاملات میں اس کا رویہ دین کے تقاضوں سے بالکل آری ہو۔
لہٰذا، آج ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم وحی الہٰی کی روشنی میں دینی اور دنیاوی دونوں کاموں میں اتقان و مہارت اور خلوص پیدا کریں ۔
غرض سورہ ملک کی ابتدائی آیات میں انسان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ وہ جس کائنات میں رہتا ہے،وہ ایک انتہائی منظم اور مستحکم سلطنت ہے ،جس میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی عیب یا نقص یا خلل تلاش نہیں کیا جاسکتا ۔ اس سلطنت کو عدم سے وجود میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہی لایا ہے اور اس کی تدبیر و انتظام اور فرمانروائی کے تمام اختیارات بھی بالکلیہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور اس کی قدرت لامحدود ہے ۔ اس کے ساتھ انسان کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس انتہائی حکیمانہ نظام میں وہ بے مقصد پیدا نہیں کر دیا گیا ہے بلکہ اسے امتحان کے لئے بھیجا گیا ہے، اور اس امتحان میں وہ اپنے حسن عمل ہی سے کامیاب ہوسکتا ہے ۔
(متعدد تفاسیر سے ملخص اور مستفاد و ماخوذ)


قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم