استغفار — اللہ کی رحمت کا دروازہ
آدم علی ندوی
انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس سے گناہ اور لغزشیں ہوتی رہتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے توبہ و استغفار کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے۔ قرآن کریم میں بار بار استغفار کی ترغیب دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا(سورۃ النساء: 110)
اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔
ایک اور مقام پر فرمایا:وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ(سورۃ الأنفال: 33)اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔
قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ کے نیک بندے اپنی نیکیوں پر ناز نہیں کرتے، بلکہ رات کے آخری حصے میں بھی اپنے رب سے مغفرت طلب کرتے ہیں:وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ(سورۃ آل عمران: 17)اور جو سحر کے اوقات میں استغفار کرتے ہیں۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً(صحیح البخاری، حدیث: 6307)
اللہ کی قسم! میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں آپ کو سو مرتبہ یہ دعا پڑھتے شمار کرتے تھے:رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(سنن أبي داود، حدیث: 1516)اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
استغفار انسان کے لیے اللہ کی رحمت اور اس کی طرف رجوع کا عظیم ذریعہ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ(سنن أبي داود، حدیث: 1518)جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے، اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ، ہر غم سے نجات اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی وسیع ہے، اس کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا أُبَالِي…(جامع الترمذی، حدیث: 3540)اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا اور مجھ سے امید رکھتا رہے گا، میں تیرے گناہوں کو بخش دوں گا، خواہ وہ جیسے بھی ہوں، اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں اور تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا، اور اگر تو زمین بھر گناہوں کے ساتھ میرے پاس آئے، لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو، تو میں زمین بھر مغفرت کے ساتھ تیرے پاس آؤں گا۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سید الاستغفار بھی سکھایا۔ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ استغفار کی سب سے بہترین دعا یہ ہے:اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ…(صحیح البخاری، حدیث: 6306)
اس دعا میں بندہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتا ہے، اپنی بندگی کا اقرار کرتا ہے، اللہ کی نعمتوں کو تسلیم کرتا ہے، اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے اور پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اسے یقین کے ساتھ دن میں پڑھے اور شام سے پہلے وفات پا جائے وہ اہلِ جنت میں سے ہوگا، اور جو رات میں پڑھے اور صبح سے پہلے وفات پا جائے وہ بھی اہلِ جنت میں سے ہوگا۔
استغفار صرف زبان سے أَسْتَغْفِرُ اللّٰه کہنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ گناہ پر ندامت، اللہ کی طرف رجوع اور گناہ چھوڑنے کا عزم بھی ہونا چاہیے۔ قرآنِ کریم اللہ کے نیک بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ(سورۃ آل عمران: 135)
اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہوں کو کون بخش سکتا ہے؟ اور وہ جان بوجھ کر اپنے کیے پر اڑے نہیں رہتے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے دن کو استغفار سے آباد رکھیں۔ نماز کے بعد، صبح و شام، تنہائی میں اور خصوصاً رات کے آخری حصے میں اپنے رب سے مغفرت مانگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہونے کے بعد تین مرتبہ ’’أَسْتَغْفِرُ اللّٰه‘‘ پڑھتے تھے۔(صحیح مسلم، حدیث: 591)
لہٰذا گناہ ہو جائے تو مایوس ہونے کے بجائے فوراً اللہ کی طرف پلٹنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا(سورۃ الزمر: 53)بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔
آئیے! اپنی زبان کو استغفار سے تر رکھیں، دل کو توبہ سے زندہ رکھیں، گناہوں پر اصرار کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کریں اور ہر حال میں اس کی وسیع رحمت سے امید وابستہ رکھیں۔ استغفار بندے کی کمزوری کا اعتراف بھی ہے اور اللہ کی رحمت پر یقین کا اظہار بھی۔
ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار

