تہجد از: آدم علی ندوی
اقبال نے سچ کہا ہے۔
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی
تاریخ کے اوراق اٹھائیے، اہلِ علم و تقویٰ کی زندگیاں دیکھیے، ان بزرگوں کے معمولات پر نظر ڈالیے جنہوں نے علم و عمل کے میدان میں گہرے نقوش چھوڑے، ان کی راتیں تہجد، قیام اور دعا سے آباد تھیں۔ تہجد کے اہتمام و پابندی نے ان کی شخصیتوں کو بلندی عطا کی۔

*تہجد کیا ہے؟*
رات کی خاموشی میں اپنے رب سے ملنے کا ایک موقع ہے۔ جب دنیا سو رہی ہو، موبائل کی اسکرینیں بجھ چکی ہوں تو انسان اپنے نرم بستر کو چھوڑ کر وضو کرے، اور اللہ کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ کبھی سجدے میں پیشانی رکھے، کبھی ہاتھ اٹھا کر مانگے، کبھی اپنے گناہوں پر روئے اور کبھی اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بن کر استغفار کرے۔
تہجد سے مراد رات کی وہ نفل نماز ہے جو انسان رات میں، خصوصاً کچھ دیر سو کر اٹھنے کے بعد ادا کرتا ہے۔ رات کی نماز کے لیے قیام اللیل کی تعبیر بھی آتی ہے۔ تہجد اسی رات کی عبادت کا ایک اہم حصہ ہے۔
قرآن نے ایسے ہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا(السجدۃ: 16)
"ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں۔”
کہیں قرآن انہیں سحر کے وقت استغفار کرنے والے کہتا ہے:وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ(الذاریات: 18)
"اور سحر کے اوقات میں وہ استغفار کرتے ہیں۔”
اور کہیں رات کی گھڑیوں میں سجدہ و قیام کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ(الزمر: 9)
"بھلا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کرتے ہوئے عبادت کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے…”
گویا قرآن ہمیں بار بار متوجہ کرتا ہے کہ جو شخص رات کی تنہائی میں اپنے رب کو یاد کرتا ہے، وہ محض نیند سے نہیں جاگتا، اپنے دل کو بھی جگاتا ہے۔
*تہجد کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟*
تہجد بندے اور رب کے درمیان ایک ایسی خلوت پیدا کرتی ہے جس میں دکھاوا نہیں ہوتا، شور نہیں ہوتا، دنیا کی نگاہ نہیں ہوتی، صرف بندہ ہوتا ہے اور اس کا رب۔
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے آخری حصے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو متوجہ فرماتا ہے:
"کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے کہ میں اسے بخش دوں؟
"(صحیح بخاری، کتاب التہجد، حدیث: 1145)
ذرا سوچیے! جب رب کی طرف سے پکار ہو رہی ہو اور ہم گہری نیند میں پڑے رہیں تو ہمارا کیا نقصان ہے؟ اور جب دنیا اپنے کاموں میں مصروف ہو اور ایک بندہ اس وقت اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو جائے تو اس کے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے؟
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تہجد اور قیام اللیل سے عبارت تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ عرض کیا جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلی لغزشوں کی مغفرت فرما دی ہے، پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
"کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟”(صحیح بخاری، کتاب التہجد، حدیث: 1130)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اسی تربیت سے گزرے تھے۔ وہ دن کے شہسوار اور رات کے عبادت گزار تھے۔ دن میں علم و عمل، دعوت و جہاد اور خدمت کے میدان کے ہیرو ہوتے اور رات میں قیام، قرآن، دعا اور استغفار میں مشغول رہتے۔بعد کے زمانوں میں بھی تابعین، اہلِ علم، صالحین اور عبادت گزاروں کی زندگیوں میں یہی معمول نظر آتا ہے۔
*تہجد اہلِ ایمان کے لیے قرب الٰہی کا ذریعہ اور دل کی روحانی غذا ہے*
اس کا اثر صرف رات تک محدود نہیں رہتا۔ سحرگاہی سے انسان کو ایسی روحانی قوت ملتی ہے کہ دن کے جھمیلوں کا سامنا آسان محسوس ہونے لگتا ہے۔ دل میں ایک عجیب اطمینان پیدا ہوتا ہے، جیسے اندر کہیں روشنی جل گئی ہو۔ تہجد دل کو وہ قوت دیتی ہے جس سے انسان دن کے ہنگاموں میں بھی اپنے رب کو نہیں بھولتا۔
اور پھر تہجد کی اپنی ایک لذت ہے۔ ابتدا میں سحر کے وقت بستر چھوڑنا واقعی مشکل لگتا ہے۔ آنکھیں نیند سے بوجھل ہوتی ہیں، جسم آرام مانگتا ہے اور شیطان طرح طرح کے بہانے بناتا ہے۔ لیکن جو شخص کچھ دن اپنے آپ کو پابند کر لے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو وہ پہلے بوجھ سمجھتا تھا، وہی اس کی سب سے بڑی راحت بن گئی ہے۔
کیا کبھی آپ نے رات کے آخری حصے میں خاموشی کے اندر قرآن پڑھا ہے؟کبھی تنہائی میں سجدے کو لمبا کیا ہے؟کبھی سب سے چھپ کر اپنے رب کے سامنے دل کھول کر روئے ہیں؟
اگر یہ کریں تو معلوم ہوگا کہ تہجد صرف نماز نہیں، یہ دل کی غذا ہے۔اس وقت قرآن پڑھنے کا لطف کچھ اور ہوتا ہے۔ ذہن پرسکون ہوتا ہے، دل دنیا کے شور سے کچھ دیر کے لیے آزاد ہوتا ہے اور قرآن کی آیات دل پر زیادہ گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ قرآن خود کہتا ہے:إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا(المزمل: 6) "بے شک رات کا قیام دل اور زبان کی یکسوئی کے لیے زیادہ مؤثر اور بات کو زیادہ درست کرنے والا ہے۔”
رات کی خاموشی میں انسان کا ذہن بھی نسبتاً یکسو ہوتا ہے اور دل بھی دنیا کے ہنگاموں سے دور۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے رات کے قیام کو خاص تاثیر والا وقت قرار دیا۔
اس وقت استغفار کا بھی خاص لطف ہے۔ قرآن نیک بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ(الذاریات: 17-18)
"وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے، اور سحر کے اوقات میں استغفار کرتے تھے۔”
گویا سحر صرف جاگنے کا وقت نہیں، اللہ سے لو لگانے کا وقت ہے، صرف عبادت کا وقت نہیں، توبہ کا وقت بھی ہے۔
اور جو شخص تہجد کا عادی ہو جائے، اگر کبھی اس کی تہجد رہ جائے تو اسے وہ کمی محسوس ہوتی ہے۔ جیسے معمول میں کوئی ضروری چیز چھوٹ گئی ہو۔ دل بے چین رہتا ہے، طبیعت میں ایک خلا سا محسوس ہوتا ہے۔ وہ کیفیت ہوتی ہے جیسے بے آب مچھلی کی۔
لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے ابتدا میں اپنے آپ کو پابند کرنا پڑتا ہے۔ عادت خود نہیں بنتی، بنانی پڑتی ہے۔ دن کو تھوڑا قیلولہ۔رات کو جلد سونا، عشاء کے بعد غیر ضروری گفتگو، بے مقصد بیٹھک اور لایعنی مشغولیات سے بچنا تہجد کے لیے بیدار ہونے میں مددگار ہے۔ آخر جو وقت ہم رات کے معمولی مشاغل میں صرف کر دیتے ہیں، وہی تو تہجد کے لیے درکار ہوتا ہے۔
*آج کا مسئلہ کچھ اور بھی اہم ہے*
ہم ایک ایسے ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں جہاں موبائل کی ایک چھوٹی سی اسکرین رات کے کئی گھنٹے نگل جاتی ہے۔ ایک ویڈیو کے بعد دوسری ویڈیو، ایک پیغام کے بعد دوسرا پیغام، ایک اسکرول کے بعد دوسرا اسکرول—اور دیکھتے ہی دیکھتے آدھی رات گزر جاتی ہے۔
پھر جب فجر کا وقت آتا ہے تو آنکھ کھولنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کبھی نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ فجر کی نماز بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
یہ کیسا خسارہ ہے کہ جس موبائل کے لیے ہم رات کی نیند قربان کر دیتے ہیں، اسی کے باعث اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے محروم ہو جائیں!
اصل کامیابی یہ ہے کہ عشاء کے بعد وقت پر سوئے، فجر کی حفاظت کرے اور پھر آہستہ آہستہ تہجد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔
رات کے قیام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی بتاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں آرام فرماتے اور رات کے آخری حصے میں اٹھ کر نماز ادا کرتے تھے۔(صحیح بخاری، کتاب التہجد، حدیث: 1146)
ضرورت صرف اتنی ہے کہ آج رات ایک فیصلہ کر لیا جائے۔
موبائل کچھ دیر پہلے بند ہوگا۔
بستر کچھ دیر پہلے چھوڑا جائے گا۔
وضو کیا جائے گا۔
دو رکعت ہی سہی، اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
شاید ابتدا میں آنکھوں میں نیند ہو، زبان پر بوجھ ہو اور دل میں وہ کیفیت نہ ہو جس کی تمنا ہے۔ لیکن قدم تو اٹھانا ہوگا۔ یہی چند قدم آگے چل کر عادت بنیں گے، عادت عبادت کی لذت میں بدلے گی اور عبادت دل کی ضرورت بن جائے گی۔
اللہ کا دروازہ کھلا ہے۔رحمت الہی متوجہ ہے،منادی پکار رہا ہے۔۔۔پھر ہم کیوں سوئے رہیں؟
نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)
نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)

