HIRA ONLINE / حرا آن لائن

استاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میں

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

Related Posts

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدمات

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدمات برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں ایسے اکابر علماء کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، تدریس، افتاء اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کردی۔ ان بزرگوں نے درس گاہوں میں تشنگانِ علم کو سیراب کیا، اپنے فتاویٰ کے ذریعے امت کی رہنمائی کی اور اپنے اخلاق و کردار سے لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت پیدا کی۔ عصرِ حاضر کی ان ممتاز علمی شخصیات میں حضرت مولانا مفتی احمد خانپوری صاحب دامت برکاتہم کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آپ ایک ممتاز فقیہ، محدث، مدرس اور صاحبِ نسبت بزرگ ہیں، جن کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ ہندوستان سے نکل کر بیرونِ ملک تک پھیلا ہوا ہے۔ ولادت اور ابتدائی تعلیم حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب کی ولادت 24 ستمبر 1946ء، مطابق 27 شوال 1365ھ، بروز منگل رات دس بجے خانپور، ضلع بھروچ، گجرات میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کو دینی تعلیم سے خصوصی شغف تھا اور انہوں نے ابتدا ہی سے آپ کی دینی تربیت اور علمی مستقبل پر توجہ دی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن خانپور ہی میں حاصل کی۔ قرآن کریم کے ابتدائی حروف اور قاعدہ حافظ ابراہیم قاضی صاحب سے پڑھا، جب کہ قرآن کریم کے بعض اجزاء اور ناظرہ کی تعلیم حافظ شاہ خانپوری صاحب سے حاصل کی۔ بعد ازاں مولانا محمد امین اسماعیل قاضی ٹنکاروی صاحب سے قرآن کریم کی تکمیل اور اردو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ آپ کے والد صاحب کی دلی خواہش تھی کہ آپ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرکے دین کی خدمت کریں۔ جب آپ نے اسکول کی ساتویں جماعت مکمل کی تو آپ کے بڑے بھائی نے عصری تعلیم کے لیے احمد آباد لے جانے کا ارادہ ظاہر کیا، لیکن والد صاحب نے آپ کو دینی تعلیم کے لیے محفوظ رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کی اس دور اندیشی نے آپ کے مستقبل کی علمی راہ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دار العلوم اشرفیہ راندیر میں تعلیم سن…

Read more

مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات

مفتی سعید احمد پالن پوریؒ: سوانح حیات، علمی مقام اور تصنیفی خدمات برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں دارالعلوم دیوبند کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ اس عظیم دینی ادارے نے مختلف ادوار میں ایسے جلیل القدر علما اور محدثین پیدا کیے جنہوں نے درس و تدریس، فقہ و افتا، تفسیر و حدیث اور تصنیف و تالیف کے میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہی اہلِ علم میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کا ہے، جو اپنے علمی تبحر، تدریسی مہارت، فقہی بصیرت اور تصنیفی خدمات کے سبب علمی حلقوں میں خصوصی مقام رکھتے تھے۔ آپ نے طویل عرصے تک دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دیں اور 2008ء میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ کی علمی زندگی کا بڑا حصہ قرآن و حدیث کی تعلیم، فقہ و اصولِ فقہ کی تدریس اور دینی علوم کی تشریح و توضیح میں گزرا۔ آپ کی متعدد کتابیں دینی مدارس کے نصاب میں شامل رہیں اور آج بھی علما و طلبہ ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ [1][2] ولادت اور ابتدائی زندگی حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی ولادت 1940ء میں کالیڑہ، ضلع بناس کانٹھا، شمالی گجرات، ہندوستان میں ہوئی۔ کالیڑہ پالن پور کے علاقے کی ایک معروف مسلم بستی ہے۔ آپ کا تعلق ایک ایسے ماحول سے تھا جہاں دینی تعلیم اور علمی تربیت کی روایت موجود تھی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے مکتب سے شروع ہوئی۔ بچپن ہی سے حصولِ علم کی طرف توجہ رہی اور اسی شوق نے آپ کو مختلف دینی مدارس تک پہنچایا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے عربی اور فارسی زبانوں کی تعلیم حاصل کی اور رفتہ رفتہ درسِ نظامی کی اعلیٰ کتابوں کی طرف پیش قدمی کی۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ علمی ترقی کے لیے مسلسل محنت، اساتذہ سے استفادہ اور حصولِ علم کے ساتھ وابستگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ [1][2] تعلیم و تربیت حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ نے ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ اسلامیہ عربیہ، پالن پور…

Read more

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے