HIRA ONLINE / حرا آن لائن

استاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میں

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

Related Posts

مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات

مفتی سعید احمد پالن پوریؒ: سوانح حیات، علمی مقام اور تصنیفی خدمات برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں دارالعلوم دیوبند کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ اس عظیم دینی ادارے نے مختلف ادوار میں ایسے جلیل القدر علما اور محدثین پیدا کیے جنہوں نے درس و تدریس، فقہ و افتا، تفسیر و حدیث اور تصنیف و تالیف کے میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہی اہلِ علم میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کا ہے، جو اپنے علمی تبحر، تدریسی مہارت، فقہی بصیرت اور تصنیفی خدمات کے سبب علمی حلقوں میں خصوصی مقام رکھتے تھے۔ آپ نے طویل عرصے تک دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دیں اور 2008ء میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ کی علمی زندگی کا بڑا حصہ قرآن و حدیث کی تعلیم، فقہ و اصولِ فقہ کی تدریس اور دینی علوم کی تشریح و توضیح میں گزرا۔ آپ کی متعدد کتابیں دینی مدارس کے نصاب میں شامل رہیں اور آج بھی علما و طلبہ ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ [1][2] ولادت اور ابتدائی زندگی حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی ولادت 1940ء میں کالیڑہ، ضلع بناس کانٹھا، شمالی گجرات، ہندوستان میں ہوئی۔ کالیڑہ پالن پور کے علاقے کی ایک معروف مسلم بستی ہے۔ آپ کا تعلق ایک ایسے ماحول سے تھا جہاں دینی تعلیم اور علمی تربیت کی روایت موجود تھی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے مکتب سے شروع ہوئی۔ بچپن ہی سے حصولِ علم کی طرف توجہ رہی اور اسی شوق نے آپ کو مختلف دینی مدارس تک پہنچایا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے عربی اور فارسی زبانوں کی تعلیم حاصل کی اور رفتہ رفتہ درسِ نظامی کی اعلیٰ کتابوں کی طرف پیش قدمی کی۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ علمی ترقی کے لیے مسلسل محنت، اساتذہ سے استفادہ اور حصولِ علم کے ساتھ وابستگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ [1][2] تعلیم و تربیت حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ نے ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ اسلامیہ عربیہ، پالن پور…

Read more

مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات

مولانا محمد سلمان بجنوری: سوانح، تعلیم و تدریسی خدمات برصغیر کی دینی و علمی تاریخ میں دار العلوم دیوبند کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس عظیم علمی ادارے نے مختلف ادوار میں ایسے اہلِ علم پیدا کیے ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق، تصنیف، تالیف اور دینی رہنمائی کے میدانوں میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اسی علمی روایت سے وابستہ ممتاز شخصیات میں مولانا محمد سلمان بجنوری کا نام بھی شامل ہے، جو دار العلوم دیوبند کے استاذِ حدیث اور اس کے علمی ترجمان ماہنامہ دار العلوم کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ مولانا سلمان بجنوری کی شخصیت میں درس و تدریس سے وابستگی، عربی زبان و ادب سے شغف، حدیث نبوی کی تعلیم اور دینی صحافت کی خدمت جیسے متعدد پہلو جمع ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی میں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیا اور پھر درس و تدریس کے ذریعے طلبۂ علومِ دینیہ کی علمی و فکری تربیت میں حصہ لیا۔ ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر مولانا محمد سلمان بجنوری 14 اپریل 1969ء کو سہسپور، ضلع بجنور، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے ہے، جس میں دینی تعلیم و تربیت کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ان کے والد مولانا سعید احمد قاسمی سہسپوری دار العلوم دیوبند کے فاضل تھے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس علمی و دینی ماحول نے مولانا سلمان بجنوری کی ابتدائی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بچپن ہی سے انہیں قرآن کریم کی تعلیم اور دینی علوم کے حصول کی طرف متوجہ کیا گیا۔ انہوں نے تقریباً سات سال کی عمر میں اپنے والد کی نگرانی میں قرآن کریم حفظ کیا۔ اس کے بعد عربی زبان اور اسلامی علوم کی ابتدائی تعلیم بھی گھر ہی پر حاصل کی۔ یہ ابتدائی تربیت ان کی آئندہ علمی زندگی کی بنیاد ثابت ہوئی اور اسی کے نتیجے میں انہوں نے باقاعدہ دینی تعلیم کے مراحل طے کیے۔ دینی تعلیم اور علمی سفر مولانا محمد سلمان بجنوری نے اپنی باقاعدہ دینی تعلیم…

Read more

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے