HIRA ONLINE / حرا آن لائن

استاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میں

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

Related Posts

مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات

مولانا محمد سلمان بجنوری: سوانح، تعلیم و تدریسی خدمات برصغیر کی دینی و علمی تاریخ میں دار العلوم دیوبند کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس عظیم علمی ادارے نے مختلف ادوار میں ایسے اہلِ علم پیدا کیے ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق، تصنیف، تالیف اور دینی رہنمائی کے میدانوں میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اسی علمی روایت سے وابستہ ممتاز شخصیات میں مولانا محمد سلمان بجنوری کا نام بھی شامل ہے، جو دار العلوم دیوبند کے استاذِ حدیث اور اس کے علمی ترجمان ماہنامہ دار العلوم کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ مولانا سلمان بجنوری کی شخصیت میں درس و تدریس سے وابستگی، عربی زبان و ادب سے شغف، حدیث نبوی کی تعلیم اور دینی صحافت کی خدمت جیسے متعدد پہلو جمع ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی میں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیا اور پھر درس و تدریس کے ذریعے طلبۂ علومِ دینیہ کی علمی و فکری تربیت میں حصہ لیا۔ ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر مولانا محمد سلمان بجنوری 14 اپریل 1969ء کو سہسپور، ضلع بجنور، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے ہے، جس میں دینی تعلیم و تربیت کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ان کے والد مولانا سعید احمد قاسمی سہسپوری دار العلوم دیوبند کے فاضل تھے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس علمی و دینی ماحول نے مولانا سلمان بجنوری کی ابتدائی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بچپن ہی سے انہیں قرآن کریم کی تعلیم اور دینی علوم کے حصول کی طرف متوجہ کیا گیا۔ انہوں نے تقریباً سات سال کی عمر میں اپنے والد کی نگرانی میں قرآن کریم حفظ کیا۔ اس کے بعد عربی زبان اور اسلامی علوم کی ابتدائی تعلیم بھی گھر ہی پر حاصل کی۔ یہ ابتدائی تربیت ان کی آئندہ علمی زندگی کی بنیاد ثابت ہوئی اور اسی کے نتیجے میں انہوں نے باقاعدہ دینی تعلیم کے مراحل طے کیے۔ دینی تعلیم اور علمی سفر مولانا محمد سلمان بجنوری نے اپنی باقاعدہ دینی تعلیم…

Read more

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

ہر دل عزیز استاذ و مربی حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش از : مولانا محمد عارف صاحب ندوی بعض شخصیات صرف اپنے زمانے میں نہیں جیتیں، بلکہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی زندہ رہتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ، ان کا طرزِ گفتگو، اندازِ تدریس، پابندیِ وقت، علمی انہماک، عبادت و تلاوت، حتیٰ کہ ان کی خاموشی بھی شاگردوں کے لیے درس بن جاتی ہے۔ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ صرف دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم نہیں تھے؛ وہ ایک عہد کی علمی شناخت، عربی زبان و ادب کے ممتاز استاد، صاحبِ طرز ادیب، بے باک صحافی، باکمال خطیب، داعی،کئی نسلوں کے مربی اور اپنے بے شمار تلامذہ کے لیے ایک شفیق اور قابلِ احترام استاذ تھے۔ حضرت کی وفات سے ندوۃ العلماء ہی نہیں، ہندوستان کے علمی و ادبی تمام حلقوں نے بھی ایک ایسے بزرگ کو کھو دیا ہے جس نے اپنی پوری زندگی علم و عمل ، تعلیم و تربیت، دعوت دین اور ندوہ کی خدمت میں صرف کردی۔ 1935ء میں پیدا ہوئے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور بعد میں عربی زبان و ادب، تصنیف و تالیف صحافت حتی کہ نظم و نسق میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ 2000ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم مقرر ہوئے اور آخری وقت تک اس منصب پر فائز رہے ۔ غالباً 2003ء کے اواخر اور 2004 کے اوائل کا زمانہ تھا۔ ندوۃ العلماء میں نو وارد تھا عالیہ اولیٰ میں داخلہ ہوا۔ بقر عید تک کا زمانہ اللہ اللہ کرکے انگلیوں پر گنتے گزرا۔ کسی طور دل لگتا ہی نہیں تھا۔ گھر سے اتنی دور پہلی مرتبہ نکلا تھا سفر کا بھی کوئی خاص تجربہ نہیں تھا؛ اس لیے واپس بھاگنے کا تصور بھی محال تھا ۔ عالیہ اولیٰ کی درس گاہ کلیۃ اللغۃ میں لگا کرتی تھی۔زیادہ تر درس گاہیں دار العلوم کی مرکزی پر شکوہ عمارت میں لگا کرتی تھیں کبھی کبھار…

Read more

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے