Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!نقی احمد ندوی

  1. Home
  2. ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!نقی احمد ندوی

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!نقی احمد ندوی

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • اکتوبر 8, 2025
  • 0 Comments

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی کتاب تاریخ ندوہ العلماء پر ایک طائرانہ نظر!
نقی احمد ندوی


تاریخ نویسی ایک ایسا فن ہے جس کے ساتھ انصاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ تاریخ نویس کا ذاتی تجربہ، اسکا میلان اور لگاو، اس کی فکر اور آراء اکثروبیشتر تاریخ نویسی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ دنیا میں وہی تاریخ نویس قابل اعتماد مانے گئے ہیں جنھوں نے حتی الامکان ان سے بچتے ہوئے حقائق پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
حال ہی میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی ایک نئی کتاب (تاریخ ندوہ العلماء) شائع ہوئی ہے جو ہندوستان کے مشہور اسلامی درسگاہ دارالعلوم ندوہ العلماء کی تاریخ اور اسکی خدمات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب ایک زود نویس قلمکاراور مصنف ہیں جن کا بنیادی موضوع حدیث رہا ہے۔ ہم ڈاکٹر صاحب کی اس کوشش کی ستائش کرتے ہیں کہ انھوں نے عالم عرب میں ندوہ کا تعارف کرانے کی پہل کی ہے، جس کی ضرورت بہت دنوں سے میں شدت سے محسوس کررہا تھا۔ یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں بارہ سو اڑتالیس صفحات ہیں۔ کتاب پر سرسری نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دارالعلوم ندوہ العلماء کی ایک خوبصورت تصویر عربوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو انکی اپنے ادارہ سے لگاو، اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے والہانہ محبت اور اپنی مادر علمی کے تئیں فکر اور اس کے لئے کچھ کرنے کے نیک عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ کتاب پندرہ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں تحریک ندوہ العلماء کا ذکر ہے۔ دوسرے باب میں دارالعلوم کی تاسیس سے لیکر مولانا محمد علی مونگیری تک کا عہد ہے۔ تیسرے باب میں مسیح الزمان شاہ جہاں پوری اور خلیل الرحمن سہارنپوری کے دور کا ذکرہے۔ چوتھے باب میں علامہ سید عبدالحی حسنی اور امیر سید علی حسن خان کے دور میں ندوہ کی ترقی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پانچویں باب ڈاکٹر عبدالعلی حسنی کے عہد پر مشتمل ہے، چھٹا باب مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے دور میں ندوہ کی ترقی کو پیش کرتا ہے تو ساتواں باب مولانا رابع حسنی ندوی کے دور میں ندوہ کی تعمیروترقی سے بحث کرتا ہے۔ آٹھویں باب میں ندوہ کے ڈپارٹمنٹ کا ذکر ہے تو نویں باب میں ندوہ کے اندر جاری نصاب اور درسی کتابوں کی تفصیل ہے۔ دسویں باب میں ندوہ سے شائع ہونے والے رسائل وجرائد پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب میں مصنف نے دارالمصنفین کے قیام اور اس کے کارناموں کامفصل ذکر کیا ہے، پھر مجلس تحقیقات ونشریات کا ذکر کیا ہے۔ تفصیل سے باور ہوتا ہے کہ دارالمصنفین بھی ندوہ اور اہل ندوہ کے کارناموں میں سے ایک ہے، حالانکہ دارالمصنفین کاقیام اس وقت عمل میں آیا جب علامہ شبلی ندوہ سے نکال دئے گئے، گرچہ وہ اس کو ندوہ میں قائم کرنا چاہتے تھے مگر اہل ندوہ نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا، اس بنیاد پر ندوہ کی تاریخ میں ندوہ کی خدمات اور کارناموں میں دارالمصنفین کا شمار کرنا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ مجموعی طورپر جلد اول نے ندوہ کی تاریخ پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے تجربات، تاثرات اور ذاتی خیالات کا اظہار کیا ہے۔قاری کبھی کبھی کنفیوزہوجاتاہے کہ وہ ندوہ کی تاریخ پڑھ رہا ہے یا کسی شخصیت کی گراں قدرآپ بیتی۔ اگراپنے نجی معاملات سے صرف نظر کیا گیا ہوتا تو مناسب ہوتا۔
جہاں تک دوسری جلد کا تعلق ہے تو اس میں گیارہ سے لیکر پندرہویں باب تک درج ذیل عناوین ہیں:
گیارہواں باب۔ تالیف علماء الندوہ فی مختلف الموضوعات: اس میں ندوہ اوراہل ندوہ کی علمی اور تصنیفی خدمات کی تفصیل ہے۔ مصنف نے علامہ شبلی، حمید الدین فراہی، حسن خان ٹونکی اور ایسے دیگر علماء اور مصنفین کا ذکر کیا ہے اور انکی خدمات کو ندوہ کی خدمات میں شمار کیا ہے جب کہ وہ ندوہ کے فارغین نہیں تھے۔ بعض نے ندوہ میں اپنی بیش بہا خدمات انجام دیں تو بعض نے صرف کچھ لکچر وغیرہ دیے، مگر انکی خدمات کو اس ادارہ کی خدمات میں شمار کرنے سے قارئین کے ذہن میں یہ غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے کہ یہ سب بھی ندوہ کے پروڈکٹ تھے اور ندوہ کے کارناموں میں انکی علمی خدمات بھی شامل ہے جو حقیقت اور تاریخ نویسی کے اصول وضوابط کے خلاف ہے۔ جہاں تک ندوی فضلاء کی علمی خدمات کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام ندوی فضلاء کی تصنیفات کا احاطہ ایک کتاب میں کرنا بہت مشکل ہے۔ شاید اسی لئے مصنف نے بہت اختصار کے ساتھ مختلف موضوعات کے تحت کتابوں کا ایک تعارف پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو قابل تعریف ہے۔ مگر کتابوں کے تعارف میں کہیں بہت ہی اختصار تو کہیں بہت ہی طوالت سے کام لیا گیاہے۔ مثلا علامہ شبلی، علامہ سلیمان ندوی وغیرہ کی کتابوں کا تعارف مختصر ہے تو مولانا علی میاں ؒ اور مولانا رابع حسنی ندوی صاحب اور مولانا واضح رشید ندوی صاحب ؒ کی کتابوں کے تعارف پر تفصیل زیادہ ہے۔ اسی طرح مصنف نے اپنی کتابوں کا بھی بھرپور تعارف کرایا ہے۔ مثلا قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ جہاں جہاں مولانا واضح رشید ندوی صاحب کی تصنیفات کا ذکر ہے تو مصنف کے کئی کئی صفحے رقم کئے ہیں جو شاید انکے تعلق اور محبت کی غماز ہے، مگراس کے مقابلہ میں علامہ شبلی، علامہ سلیمان ندو ی وغیرہ کی کتابوں کے تعارف میں بہت اجمال سے کام لیا گیا ہے۔ حق تو یہ تھا کہ اکابر ندوہ کے علمی خدمات اور انکی کتابوں پر زیادہ روشنی ڈالی جاتی اور مراتب کے لحاظ سے تفصیل واجمال کا فیصلہ کیا جاتا۔ اسی طرح جب مصنف نے صفحہ 883 سے 907 تک سفرناموں کا ذکر کیا ہے تو اپنے تیرہ سفرناموں کی تفصیلی رپورٹ پیش کردی ہے، جب کہ کئی نامور ندوی فضلاء کے سفرنامے اس فہرست میں نہیں آسکے ہیں۔ ایک تاریخ نویس کے لئے یہ زیبا نہیں دیتا کہ وہ اپنی تاریخ میں اس نوعیت کی کوتاہی کرے۔ بہتر یہ ہوتا کہ سارے مصنفین کے تعارف کا ایک ہی خاکہ،ایک ہی طرز اور ایک ہی معیار ہوتا جس کا فقدان اس کتاب میں محسوس ہوتا ہے۔
دوسری طرف اس کتاب میں بہت سے نامور ندوی فضلاء جیسے مولانا سلمان حسینی ندوی، مولانا سجاد نعمانی ندوی، مولانا محسن عثمانی ندوی اور دیگر ندویوں کی علمی خدمات اور تصنیفات وتالیفات کا معمولی سا بھی ذکر نہیں ملتا۔ حالانکہ ایسے ندوی فضلاء کی تصنیفات کا ذکر ہے جو کسی بھی طرح انکے معیار کے نہیں۔مثال کے طور پر مولانا وثیق ندوی، مولانا فرمان ندوی اور دیگر اپنے ہم عصر ندوی فضلاء کاسوانحی خاکہ دیا ہے مگرعالمی شہرت یافتہ چند ندوی فضلاء کا ذکر سرے سے غائب ہے، جو بھی ندوہ اور ندوی فضلاء سے واقف ہے اسکو یہ باور ہوگا کہ شاید تعصب کی وجہ سے ان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، جو فاضل عالمی شہرت یافتہ مصنف کی شخصیت پرزک پہونچانے کا کام کرسکتا ہے۔ افکار وخیالا ت کا اختلاف اپنی جگہ پر مگر جب تاریخ لکھی جاتی ہے تو اس میں اپنے معاصر اور حریف سبھی کی خدمات کا ذکر ضروری ہوجاتا ہے خواہ وہ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو۔یہاں بھی مصنف سے سہو ہوگیا ہے جو مصنف کی نیک نامی، انکی عالمی شخصیت اور انکی عظمت کے شایان شان معلوم نہیں ہوتا۔
اگر مجموعی طور پر ایک غیرجانبدار مورخ کی حیثیت سے ندوہ کے شعبہ حدیث، تفسیراور فقہ کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سو سال میں ندوہ اور ندوی فضلاء کسی بھی شاندار اور قابل ذکر کارنامے انجام دینے سے قاصر رہے ہیں۔ مثلا حدیث میں ایک دو کتابوں کو چھوڑ کر صرف حدیثیوں کو جمع کرکے چند کتابیں لکھی گئی ہیں جو حدیث کے شعبہ میں کسی قابل ذکر خدمات کے زمرہ میں نہیں آتیں۔ اسی طرح صرف تعلیق، تبویب اور حواشی کو عظیم الشان خدمات میں شمار نہیں کیا جاسکتا، حدیث کے شعبہ میں مولانا سلمان حسینی ندوی کی خدمات بھی قابل قدر ہیں جن کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ البتہ تاریخ میں ندوی فضلاء کا بہت قابل ذکر کارنامہ رہا ہے، اس لئے مصنف کو چاہئے تھا کہ وہ ایمانداری کے ساتھ ندوہ کی سو سالہ علمی اور تصنیفی خدمات، اس کے معیاراور اسکے اثرات کا جائزہ لیتے تاکہ اگر ایک طرف ندوہ اور اہل ندوہ اپنی کمیوں کے تدارک کی طرف دھیان دے پاتے تو دوسری طرف انکی کتاب مستند اور زیادہ قابل اعتماد ہوتی۔
بارہواں باب: العرب وندوہ العلماء
یہ باب انتہائی قیمتی معلومات پر مشتمل ہے۔ اس سے عرب قارئین کے ذہن میں ندوہ کی اچھی اور مثبت تصویر پیدا ہوگی۔ ا س باب میں عرب اساتذہ جنھوں نے ندوہ میں تعلیم دی انکا تفصیلی ذکر ہے، ساتھ ہی ان عرب فضلاء کا ذکر بھی ہے جنھوں نے ندوہ میں تعلیم حاصل کی، پھرجن عرب علماء کرام اور مشہور ہستیوں نے ندوہ میں کوئی لکچر دیا یا ندوہ کی زیارت کی اور اپنے تاثرات پیش کئے ان سب کا ذکر ہے، مگر کہیں کہیں بلاوجہ غیر ضروری تفصیلات ہیں جو کتاب کو بلاوجہ مزید ضخیم بنادیتی ہیں۔ جیسے علامہ رشید رضا کے ضمن میں کئی صفحات لکھے گئے ہیں جو ضروری نہیں تھے۔ اس میں شیخ محمد طیب مکی، شیخ محمد حسین انصاری، ڈاکٹر تقی الدین ہلالی، شیخ عبد الفتاح غدہ، ڈاکٹر یوسف القرضاوی، استاذ محمد المجذوب، شیخ خلیل یمانی، علامہ محمد رشید رضا، علامہ عبدالعزیز الثعالبی التونسی، مفتی امین حسینی، شیخ ابراہیم الجبالی، شیخ عبد الوہاب نجار، سعودی شہزادہ امیر مساعد بن عبد الرحمن، استاذ سعید رمضان، شیخ عبدالحلیم محمود، شیخ علی طنطاوی، شیخ احمد عبدالعزیز المبارک، شیخ عبد الرحمن رافت باشاوغیرہ کے نام شامل ہیں۔
تیرہواں باب۔ اسانید ندوہ العلماء: میرے خیال میں علم حدیث سے شغف ہونے کے باعث مصنف نے اسانید کا بھی ذکر کردیا ہے، حالانکہ اسانید کے ذکرکی کوئی خاص ضرور ت تاریخ میں نہیں ہوا کرتی، اس سے کتا ب کی ضخامت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
چودہوں باب۔ الاربعون الندویات المتباینات: مصنف لکھتے ہیں کہ مختلف کتابوں سے لی گئی مختلف ابواب پر مشتمل ندویوں کی چالیس احادیث کے سند کا ذکر ہے۔ یہ باب بھی غیر ضروری طوالت کا باعث ہے۔ اس کا ذکر احادیث اور اسناد کی کتابوں میں ہونا چاہئے۔
پندرہواں باب۔ دور الندوہ فی عالمنا المعاصر: اس میں ندوی فضلاء نے جن دانشگاہوں اور تعلیمی اداروں کو قائم کیا ہے اس کا ذکر ہے۔ جن میں بعض مدارس کا ذکر ہے جیسے دار العلوم تاج المساجد، جامعہ اسلامیہ بھٹکل، کاشف العلوم اورنگ آباد، مدرسہ ضیاء العلوم اور فلاح المسلمین وغیرہ۔ مگر ان مدارس کے تعلیمی معیار پر ایک تاریخ نویس کی حیثیت سے کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی ہے۔ جب کہ جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان مدراس کے تعلیمی معیار کو جانچنے، ان کو ندوہ کے اسٹیندرڈ پر لانے اور ان کے محاسبہ کا کوئی نظم نہیں ہے، جس کے نتیجہ میں ندوہ کے معیار میں گرواٹ اور ندوی فارغین کی علمی صلاحیت میں مسلسل کمی آرہی ہے۔
اس کے بعد ایک ذیلی عنوان المرتبطون بالحرکات الاسلامیہ کے تحت بعض تحریکوں سے وابستہ ندوی فضلاء کا ذکر ہے، جیسے مولانا ابواللیث ندوی، مولانا مسعود عالم ندوی، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی۔ حیرت ہے کہ مصنف نے انجمن شباب اسلام کے بانی مولانا سلمان ندوی اور تبلیغی جماعت سے منسلک مولانا سجاد نعمانی کے ذکر خیر سے کیوں گریز کیا جب کہ یہ دونوں بھی تحریکوں سے وابستہ ہیں۔ پھر مختلف یونیورسٹیوں کے ندوی پروفیسر حضرات کا ذکر کیا ہے اور چند کا تعارف پیش کیا ہے۔ میرے خیال سے دنیا کی بہت ساری یونیورسٹیوں میں ندویوں کی اتنی بڑی تعداد درس وتدریس میں مشغول ہے کہ اس کے لئے ایک الگ تحقیق کی ضرورت ہے، بہتر ہوتا کہ ان کے نام سے گریز کیا جاتا کیونکہ بعض سینئر ندوی پروفیسرحضرات اپنا نام نہ آنے کی وجہ سے مصنف سے بدظن ہوسکتے ہیں اس لئے اس کو نہ شامل کرنا زیادہ بہتر ہوتا۔ اور یوں بھی اس سے ندوہ کی کوئی خاص اہمیت واضح نہیں ہوتی، دوسرے مدارس جیسے اصلاح وغیرہ کے کہیں زیادہ فضلاء یونیورسٹیز میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس میں ایک اضافہ یہ بھی کیا جاسکتا تھا کہ جو ندوی فضلاء گورمنٹ کے اونچے عہدوں پر اپنے دینی تعلیمی بیک گراونڈ کے باوجودفائز ہیں ان کا ذکر بھی مناسب تھا، جیسے آئی اے ایس اور سول سروسز سے میں کام کرنے والے بعض ندوی فضلاء۔ اس کے بعد ذیلی عنوان کے تحت عرب ممالک میں کام کرنے والے بعض ندوی فضلاء کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ محمد اجمل بن محمد ایوب الاصلاحی، مولانا وقار عظیم ندوی، ڈاکٹر علی احمد غلام ندوی، مولانا شکیل احمد اعظمی،مولانا وزیر احمد اعظمی کا تعارف پیش کیا ہے، مگر ان کے علمی کارناموں اور تصنیفی خدمات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس کے بعد دیگر ممالک کے ندوی فضلاء کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ندوی فضلاء کا ذکر کیا ہے، پھر انڈونیشیا اور ملیشیا کے مولانا فہمی زمزم، مولانا عبدالماجد غوری، ترکی کے محمد یوسف صالح قراجہ جاپان کے مولانا سلیم الرحمن خان ندوی، آسٹرئلیا کے ڈاکٹر محمد انس ندوی، جنوبی افریقہ کے مولانا سلمان ندوی اور شیخ علی آدم بنوری، امریکہ کے ڈاکٹر محمد مزمل صدیقی ندوی اور برطانیہ میں مقیم ندوی فضلاء میں اپنے نام کا ذکر کیا ہے۔ ہندسے باہر مقیم ندوی فضلاء کے بارے میں مختصر تعارف سے ندوہ کی تاریخ کا کوئی خاص تعلق نہیں معلوم ہوتا کیونکہ جن شخصیات کا ذکر خیر ہے اللہ ان سے دین وملت کا کام لے، ان سے کہیں زیادہ علمی، دینی اور دعوتی کاموں میں مصروف دیگر ندوی فضلاء بھی موجود ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
ایک مورخ اور تاریخ نویس کے لئے مناسب نہیں کہ اس سے اس نوعیت کی سہو ہو جائےاور خاص طور پر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کے قلم سے جب کوئی بات نکلتی ہے تو علمی حلقہ اسے قبول کرتا ہے، اس لئے ڈاکٹر صاحب کو ان نکات کو پیش نظر رکھنا چاہیے تھا۔
کتاب کی زبان مجموعی طور پر بہت اچھی اور سلیس ہے، مصنف کی اپنی مادر علمی سے لگاؤ اور محبت کی کی غماز ہے۔ بلاشبہ یہ کتا ب ندوہ کا عالم عرب میں تعارف کرانے میں ممدومعاون ثابت ہوگی مگر فنی طور پر اس کتاب کو تاریخ نویسی کے دائرہ میں رکھنا مشکل ہے۔ابھی بھی ایک ایسے مورخ کی ضرورت ہے جو بغیر کسی لگاؤ اور جھکاؤ کے ندوہ کے عظیم الشان کارناموں اور امت اسلامیہ پر اس کے گہرے اثرات کا جائزہ لے اور تاریخٰی حقائق کو اس انداز میں پیش کرے جو ایک مورخ کے شایان شان ہوتا ہے۔
نقی احمد ندوی، ریاض، سعودی عرب

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

مولانا نذیر احمد ندوی
بہنوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کے حربے

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
  • 1 Comments
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از : مجيب الرحمن عتيق ندوي حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی رحمہ اللہ بھی راہی ملک بقاء ہوگئے، ” كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام ” موت سے کس کو رستگاری ہے ہر روز بندگان خدا کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا زندگی کی بے ثباتی، انسان کی بے بسی اور اس دنیا کے ” مستقر ومتاع الی حین ” کا اعلان ہے، ” قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجاکر نقارہ "، حضرت مولانا رحمہ اللہ کا انتقال دار العلوم ندوہ العلماء کی تاریخ میں ایک عظیم معمار نسل، مربی و استاد اور غیر معمولی صفات وخصوصیات کے عہد کا خاتمہ ہے، مولانا مرحوم اپنی صلاحیت، ادب و ذوق، اعلی اخلاق، ذوق پروری، سادگی وتقوی، وضع واطوار، روش بندہ پروری، معمولات و پابندی اوقات، اور ایک طویل عہد پر پھیلی ہوئی متنوع خدمات میں ” فرد ممتاز ” کی حیثیت رکھتے ہیں، جن لوگوں کو مولانا کو دیکھنے اور ان سے استفادہ کا موقع ملا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اپنی وضع و خو میں ایک "نرالے بے مثال انسان ” تھے، مولانا رحمہ اللہ ایک علمی و خدا ترس گھرانے میں پیدا ہوئے، اور پرورش و پرداخت پائی، آپ کے والد ماجد حضرت مولانا ایوب صاحب اعظمی رحمہ اللہ مشہور محدث اور جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں شیخ الحدیث تھے، اور اپنے زمانے کے مشاہیر علماء اور کبار اساتذہ حدیث میں شامل تھے، حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے نصف صدی سے زائد دار العلوم ندوہ العلماء میں تدریسی و تربیتی خدمات انجام دیں، کئی نسلوں کے معمار و مربی رہے، دار العلوم کی مسجد میں امامت سے لیکر انتظام و ادارت کی کرسی کو سنبھالا، منبر ومحراب کی خطابت سے لیکر دار العلوم کے عربی ترجمان البعث الاسلامی اور ” الرائد ” کی سرپرستی فرمائی، ہزاروں خطبات اور سیکڑوں مقالات واداریے مولانا کی فیاضی طبع، ادبی ذوق، زبان وقلم کی جولانی کے گواہ ہیں، مولانا…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • حسد
  • حسد کیا ہے؟
  • ستمبر 12, 2026
  • 0 Comments
حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی ، گڈا جھارکھنڈ 9506600725 حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یعنی تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کها جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کها جاتی ہے- (ابو داود، کتاب الاداب، باب الحسد، ابن ماجہ، کتاب الذهد) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں هو سکتے- (نسائی، کتاب الجہاد) حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے حسد کا نقصان یہ ہے کہ وه آدمی سے اعلی ایمانی کیفیات کو چهین لیتا ہے- حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وه دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا- موجوده دنیا میں ایسا هوتا ہے کہ کبهی ایک شخص بظاہر بڑا هو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر چهوٹا- یہ امتحان کے لئے هوتا ہے- وه اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجهہ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چهوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف هو جائے تو گویا کہ وه خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے- ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا- حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ هو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے- اس کا نقصان اس کو بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وه اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے : یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے-  (البخاری، کتاب التوحید) قرآن میں تقوی کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی هو تب بهی آدمی اس کے بارے میں عدل و…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف 07.10.2026
  • مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم 06.10.2026
  • مریضوں پر بڑھتا بوجھ 06.10.2026

حالیہ تبصرے

  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از سعیدی اسلوب: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زبان و ادب کی خصوصیات 1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ: حیات، خدمات اور وفات پر تاثرات1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی عظیم صفت: اختلافات میں اتحاد اور حکمت 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم
مضامین و مقالات

مریضوں پر بڑھتا بوجھ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top