Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

*ملنے کے نہیں ، نایاب ہیں ہم* *(مرحوم تابش مہدی کے بارے میں کچھ یادیں)*

  1. Home
  2. *ملنے کے نہیں ، نایاب ہیں ہم* *(مرحوم تابش مہدی کے بارے میں کچھ یادیں)*

*ملنے کے نہیں ، نایاب ہیں ہم* *(مرحوم تابش مہدی کے بارے میں کچھ یادیں)*

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • جنوری 24, 2025
  • 0 Comments

از: محمد رضی الاسلام ندوی

جناب تابش مہدی کی وفات 22 جنوری 2025 کی صبح ہوئی اور شام کو ان کی تدفین عمل میں آئی – اُس وقت سے ان کا سراپا برابر نگاہوں کے سامنے گھوم رہا ہے اور ان سے متعلق یادیں اُمڈ اُمڈ کر آرہی ہیں۔

وہ اسلام پسند ادیب و شاعر ، تنقید نگار ، محقّق و مصنّف کی حیثیت سے معروف ہوئے اور خاص طور پر نعتیہ شاعری کے میدان میں انھوں نے عالمی شہرت پائی – اس حوالے سے انہیں پوری دنیا میں مدعو کیا جاتا تھا – ان کا نعتیہ کلام ان کے دواوین میں محفوظ ہونے کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر بھی موجود ہے – نعتیں پڑھنے کا ان کا مخصوص انداز تھا ، جو دلوں کو گرماتا اور ذاتِ نبوی سے محبت پیدا کرتا تھا ، وہ اپنے کلام میں تعلیماتِ نبوی ، سیرت نبوی کا پیغام اور خلفائے راشدین کا ذکرِ خیر بہت خوب صورتی سے سمو دیتے تھے – اردو تنقید میں بھی ان کی متعدد کتابیں ہیں ، جو اس فن میں ان کی مہارت کا ثبوت پیش کرتی ہیں – لیکن میرے نزدیک ان کی شرافت ان سب خصوصیات پر فائق تھی – میرے لیے وہ ایک سرپرست ، مربّی ، بہی خواہ اور مشیر تھے۔

یاد آتا ہے کہ ان سے اوّلین تعارف غائبانہ گزشتہ صدی کی نویں دہائی کی ابتدا میں ہوا ، جب میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کا طالب علم تھا اور انھوں نے دیوبند سے ماہ نامہ الایمان کا اجرا کیا تھا – مجھے مضمون نگاری کا شوق تھا ، چنانچہ میں نے مختلف رسائل میں مضامین بھیجنے شروع کیے – انھوں نے بھی الایمان میں میرے کئی مضامین شائع کیے – اُس زمانے کا ایک دل چسپ واقعہ اب تک یاد ہے – تعارف و تبصرہ کے کالم میں انھوں نے کسی دیوان پر تبصرہ کیا تو اس کی بخیہ ادھیڑ دی ، لکھا کہ شاعر کو عروض و قوافی کی بالکل خبر نہیں ہے – میرے روم پارٹنر برادر گرامی عطاء الرحمٰن صدیقی ندوی کو ، جو ادب و شاعری کا عمدہ ذوق رکھتے تھے ، یہ تبصرہ پسند نہیں آیا – ہم لوگوں نے طے کیا کہ تابش صاحب کو متوجہ کیا جائے کہ انھوں نے تبصرہ کرنے میں زیادتی کی ہے – اپنی شناخت چھپانے کے لیے خط میں اور پتہ میں بھی ندوہ کا ذکر نہیں کیا گیا اور صرف Post Box No. : 93 لکھا گیا – لیکن وہ تاڑ گئے – انھوں نے اپنے جواب میں ذرا بھی خفگی کا اظہار کیے بغیر لکھا کہ میرا تبصرہ ندوہ کے کسی ادب شناس استاد کو دکھا لیجیے ، پھر فیصلہ کیجیے۔

ان کا وطن ریاست اتر پردیش کا ضلع پرتاپ گڑھ تھا ، لیکن ان کا نکاح دیوبند کے عثمانی خاندان میں ہوا تھا ، اس لیے کچھ عرصہ وہ دیوبند میں مقیم رہے – اُس زمانے کی ایک یاد اب تک ذہن میں تازہ ہے – اسلامی طلبہ تحریک نے دینی مدارس میں نفوذ کے لیے ‘نھضۃ العلماء’ کے نام سے ایک تنظیم بنائی تھی – اس کی طرف سے بڑے دینی مدارس کا دورہ طے کیا گیا – برادر محترم مولانا عبد البر اثری فلاحی کے سربراہی میں دیوبند ، سہارن پور اور مراد آباد کے مدارس میں جانا ہوا ، جہاں تنظیم کا اچھا تعارف ہوا اور روابط استوار ہوئے – اُن دنوں تابش صاحب دیوبند میں موجود تھے – انھوں نے ہم لوگوں کو اپنے گھر مدعو کیا اور ضیافت کی – اس موقع پر انھوں نے اپنا مجموعۂ کلام ، جو ‘تعبیر’کے نام سے طبع ہوا تھا ، ہمیں تحفۃً پیش کیا۔

تابش صاحب متعدد رسائل کی ادارت سے وابستہ رہے ہیں – ان میں سے ایک ماہ نامہ زندگی نو بھی ہے – وہ مدیر مجلہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی کی معاونت کرتے تھے – اس کے لیے کئی برس ان کا قیام علی گڑھ میں رہا – اُن دنوں ان سے قربتیں بڑھیں۔

ان کی زندگی کا خاصا عرصہ دہلی میں گزرا اور وہ یہیں کے ہو رہے – مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی کے شعبۂ ادارت سے وہ وابستہ ہوئے – اشاعت کے لیے آنے والی کتابوں کی ریڈنگ کرکے زبان و بیان اور املا درست کرنا ان کا کام تھا – یہ کام انہوں نے پوری ذمے داری سے خود انجام دیا اور اپنے شاگردوں کی ایک ٹیم تیار کردی – مکتبہ سے وظیفہ یاب ہونے کے بعد مرکز جماعت میں شعبۂ تعلیم اور تصنیفی اکیڈمی میں ان کی خدمات حاصل کی گئیں اور وہ کافی دنوں تک اپنی بیش بہا صلاحیتوں سے فیض پہنچاتے رہے۔

میں اکتوبر 2011 میں دہلی پہنچا تو ان سے اور نزدیکیاں بڑھیں اور استفادہ کے مواقع حاصل ہوئے – مرکز میں روزانہ ہی ملاقات ہوجاتی تھی – مرکز سے تعلق ختم ہوجانے کے بعد بھی ان سے رابطے میں کمی نہیں آئی – جلد ہی ان کی خدمات مرکز جماعت کے کیمپس میں قائم اسلامی اکیڈمی کو حاصل ہوگئیں ، جہاں وہ طلبہ کو تجوید پڑھاتے تھے – فنِ تجوید و قراءت میں انہیں مہارت حاصل تھی – انھوں نے مختلف مدارس میں اس کی تعلیم دی ہے ، جن میں سے ایک جامعۃ الفلاح بلریا گنج اعظم گڑھ بھی ہے – تابش صاحب کی ابتدائی زندگی کے ایک مرحلے میں ان کا کچھ وقت میرے وطن بہرائچ میں گزرا تھا – ان کے اساتذہ میں سے ایک مولانا بلالی علی آبادی تھے – علی آباد ، جسے نواب گنج بھی کہا جاتا ہے ، میرے گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے – اس بنا پر وہ اس علاقے کے قصبات اور وہاں کی معروف شخصیات سے اچھی طرح واقف تھے – کبھی دورانِ گفتگو علی آباد کا ذکر چھڑ جاتا تو دیر تک وہاں گزرے ہوئے ایام کو یاد کرتے – مجھ سے کہتے کہ جب آپ کبھی وطن جائیں تو مجھے بھی لے چلیں – اپنی آپ بیتی ‘ تیز دھوپ کا مسافر’ میں بھی انھوں نے وہاں گزارے ہوئے ایام پر تفصیل سے لکھا ہے۔

تابش صاحب سے خصوصی تعلق کی ایک وجہ سابق امیر جماعت اسلامی ہند و صدر ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ مولانا سید جلال الدین عمری سے ان کا قریبی ربط تھا – مولانا ان پر بڑا اعتماد کرتے تھے اور وہ ان سے بہت محبت اور احترام کا معاملہ کرتے تھے – مولانا کی زندگی ہی میں ایک بار تابش صاحب نے ان پر سمینار کرنے کا پروگرام بنایا تھا ، لیکن بعض اسباب سے اس پر عمل نہیں ہوسکا – وطنی نسبت تھی یا تحریکی یا مولانا عمری سے تعلق میں اشتراک کہ وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت اور تعلّقِ خاطر کا اظہار کرتے تھے ، چنانچہ اپنے کئی بچوں کا نکاح انھوں نے مجھ سے پڑھوایا – تابش صاحب میرے لیے شفیق ، مُحب ، سرپرست اور مربّی تھے – میرے مضامین اور کتابیں ان کی نظر سے گزرتیں تو انہیں ملاحظہ کرتے ، ان پر تبصرہ کرتے ، ان کی تحسین کرتے اور کچھ کم زور پہلو ہوتے تو ان کی نشان دہی کرتے – وہ ان لوگوں کے سخت ناقد تھے جو اگرچہ رجوع الی القرآن کے داعی ہیں ، لیکن ان کی تحریروں سے استخفافِ حدیث کا اظہار ہوتا ہے – اس جانب وہ مجھے برابر متنبّہ کرتے رہتے تھے – تابش صاحب کی متعدد کتابوں پر میں نے تبصرہ لکھا ، جو سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ اور ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی میں شائع ہوئے – انھوں نے بھی میری بعض کتابوں پر تبصرے کیے – تابش صاحب ہر طبقے میں عزیز اور محترم تھے – ان کے شاگردوں اور فیض یافتگان کی تعداد ہزاروں میں ہے – ان کی مقبولیت کا اندازہ ان کے جنازے میں امڈ آنے والی بھیڑ سے ہوا – اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کی مغفرت فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے – ان جیسی شخصیات آج کے دور میں کم یاب بلکہ نایاب ہیں – شاد عظیم آبادی کا یہ مصرعہ ان پر پورے طور پر صادق آتا ہے۔

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

محسوس ہورہا ہے جوارِ خدا میں ہوں۔۔۔ڈاکٹر تابش مہدی جوار خدا میں!
بابا رتن ہندی کا جھوٹا افسانہ

Related Posts

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
  • 0 Comments
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

ہر دل عزیز استاذ و مربی حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش از : مولانا محمد عارف صاحب ندوی بعض شخصیات صرف اپنے زمانے میں نہیں جیتیں، بلکہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی زندہ رہتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ، ان کا طرزِ گفتگو، اندازِ تدریس، پابندیِ وقت، علمی انہماک، عبادت و تلاوت، حتیٰ کہ ان کی خاموشی بھی شاگردوں کے لیے درس بن جاتی ہے۔ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ صرف دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم نہیں تھے؛ وہ ایک عہد کی علمی شناخت، عربی زبان و ادب کے ممتاز استاد، صاحبِ طرز ادیب، بے باک صحافی، باکمال خطیب، داعی،کئی نسلوں کے مربی اور اپنے بے شمار تلامذہ کے لیے ایک شفیق اور قابلِ احترام استاذ تھے۔ حضرت کی وفات سے ندوۃ العلماء ہی نہیں، ہندوستان کے علمی و ادبی تمام حلقوں نے بھی ایک ایسے بزرگ کو کھو دیا ہے جس نے اپنی پوری زندگی علم و عمل ، تعلیم و تربیت، دعوت دین اور ندوہ کی خدمت میں صرف کردی۔ 1935ء میں پیدا ہوئے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور بعد میں عربی زبان و ادب، تصنیف و تالیف صحافت حتی کہ نظم و نسق میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ 2000ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم مقرر ہوئے اور آخری وقت تک اس منصب پر فائز رہے ۔ غالباً 2003ء کے اواخر اور 2004 کے اوائل کا زمانہ تھا۔ ندوۃ العلماء میں نو وارد تھا عالیہ اولیٰ میں داخلہ ہوا۔ بقر عید تک کا زمانہ اللہ اللہ کرکے انگلیوں پر گنتے گزرا۔ کسی طور دل لگتا ہی نہیں تھا۔ گھر سے اتنی دور پہلی مرتبہ نکلا تھا سفر کا بھی کوئی خاص تجربہ نہیں تھا؛ اس لیے واپس بھاگنے کا تصور بھی محال تھا ۔ عالیہ اولیٰ کی درس گاہ کلیۃ اللغۃ میں لگا کرتی تھی۔زیادہ تر درس گاہیں دار العلوم کی مرکزی پر شکوہ عمارت میں لگا کرتی تھیں کبھی کبھار…

Read more

Continue reading
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
  • 1 Comments
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 🖊️ شعیب حسینی ندوی استاد محترم حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی گوناگوں خصوصیات، کمالات اور امتیازات اہل قلم پیش کرتے رہیں گے اور ان کی نجی زندگی، انتظامی زندگی، تدریسی و ادبی خدمات، تعلق مع القرآن، ندوے کی آبیاری و ندوی روایت کی پاسداری، عصری دانشگاہ انٹیگرل یونیورسٹی کا قیام، زبان و ادب اور علم و فن میں ان کے کارہائے نمایاں جیسے گوشوں پر روشنی ڈالی جاتی رہے گی، ان کی زندگی ایک ورق نہیں ہے جسے پلٹ کر گزر جایا جائے بلکہ وہ کتاب ہے جس کا ہر صفحہ تابندہ نقوش رکھتا ہے، ان سب پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جائے گا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر متعدد کتابیں بھی تیار کی جائیں تو بھی حضرت استاد کا حق ادا نہیں ہو سکتا ہے، میں سر دست جس پہلو کو اپنے اس مختصر مضمون میں اجاگر کرنا چاہتا ہوں وہ ان سے زبان و ادب کی چاشنی کو حاصل کرنے سے متعلق ہے، میں نے حضرت سے بہت کچھ سیکھا، ایک عرصے تک ان کی صحبت پائی ہے، اور آپ کی خاص شفقتوں اور عنایتوں کے سایہ میں ایک عرصہ گزرا ہے۔ میں نے سب سے زیادہ حضرت استاد کی زبان کی سلامت روی کو پایا ہے، لفظوں کا انتخاب، تعبیرات کو ڈھالنے کا انداز، اسلوب بیان، طرز تدریس، اس میں تو استاد سب سے نمایاں تھے کبھی کسی لفظ پر رک کر دو تین دفعہ اس کو دہرانا پڑتا تھا لیکن مجال ہے کہ کوئی جملہ غلط تلفظ کے ساتھ پورا ہو جائے، عربی زبان کی چاشنی حضرت سے ہم کو ملی ہے، زبان بولنے میں جو ادائیگی کی لطافت تھی وہ آپ کا خاصہ تھی ہم کلاس میں بیٹھتے تھے اور حضرت جب الشعر العربی کے دروس دیا کرتے تھے تو اس میں جہاں الفاظ کی نوک پلک سمجھاتے تھے، تعبیرات کی ادائیگی کا سلیقہ بھی دیتے تھے، وہیں اپنی زبان سے موتیوں کی طرح جھڑتے ہوئے الفاظ سے ہمارے کام و دہن میں رس گھول…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف 07.10.2026
  • مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم 06.10.2026
  • مریضوں پر بڑھتا بوجھ 06.10.2026

حالیہ تبصرے

  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از سعیدی اسلوب: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زبان و ادب کی خصوصیات 1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ: حیات، خدمات اور وفات پر تاثرات1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی عظیم صفت: اختلافات میں اتحاد اور حکمت 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم
مضامین و مقالات

مریضوں پر بڑھتا بوجھ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top