HIRA ONLINE / حرا آن لائن
جنگ آزادی اور مسلمان

*_جنگ آزادی اور مسلمان_* (٢)   *”جنگ آزادی کے عظیم ہیروٹیپو سلطان شہید پر شہرۂ آفاق ناول لکھنے والے بھگوان گڈوانی کا بیان ہے کہ انہیں یہ ناول لکھنے کی ترغیب اس اجنبی فرانسیسی نوجوان نے دلائی تھی‘ جو لندن میں برٹش میوزیم سے نکلتے ہوئے چند لمحوں کے لئے ان کا ہم سفر ہوا تھا ۔اس نوجوان کو بارش سے بچنے کے لئے گڈوانی نے اپنی چھتری میں پناہ دی اور وہ اس کے ساتھ کافی ہاوس چلے گئے ۔باتوں باتوں میں اس نے بتایاکہ’’ وہ ان بادشاہوں پر ریسرچ کررہا ہے جنہوں نے میدان جنگ میں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا ‘لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ پوری دنیا میں ٹیپو سلطان کے علاوہ ابھی تک کوئی ایسا بادشاہ نہیں ملا جس نے جنگ کے میدان میں لڑتے ہوئے شہادت پائی ہو۔بیشتر بادشاہ یا تو بھاگ گئے یا پکڑے گئے یا ہتھیار ڈالے اور مارے گئے ۔‘‘ اس بات سے بھگوان گڈوانی اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے ٹیپو سلطان پر ریسرچ کرنے کا فیصلہ کیا اور دنیا کی کئی بڑی لائبریریوں اور آرکائیوز کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک انتہائی لا جواب ناول ’’دی سورڈ آف ٹیپو سلطان ‘‘تخلیق کیا ۔ بھگوان گڈوانی نے یہ باتیں مجھے ایک انٹرویو کے دوران جنوری ١٩٩٠ء میں اس وقت بتائی تھیں جب ان کے ناول پر سنجے خان نے ایک انتہائی متاثر کن ٹی وی سیریل بنایا تھا ۔کچھ فرقہ پرست عناصر اس سیریل کو دوردرشن پر ٹیلی کاسٹ کئے جانے کے خلاف تھے اور انہوں نے اس سیریل کے خلاف طوفان برپا کررکھا تھا ۔حالانکہ بھگوان گڈوانی کے ناول کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی تھی اور اس کی ڈھائی لاکھ کاپیاں فروخت ہوچکی تھیں ۔ٹیپو سلطان کی مخالفت آج بھی جاری ہے ۔ شیر میسور ٹیپو سلطان نے ٤/مئی ١٧٩٩ء کو سرنگا پٹنم کے مقام پر انگریزوں سے لوہا لیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا ۔انہوں نے انگریز سپا ہ کا مقابلہ اتنی بہادری اور جرأت کے ساتھ کیا کہ ان سے لوہا لینے والی فوج کے انگریز کمانڈر نے کہا تھا…

Read more

جنگ آزادی اور مسلمان

*_جنگ آزادی اور مسلمان_*(١) *١٥/ اگست آتے ہی آزادی اور تحریک آزادی کی باتیں ہونے لگتی ہیں، اس دوران زعفرانی پرچم کی بلندی، آر ایس ایس کی چالبازیاں اور پورے ہندوستان پر سیاسی و معاشی تسلط کے باوجود مسلمانوں کا تذکرہ کئے بنا کوئی تقریر و تحریر پوری نہیں ہوتی؛ حالانکہ بار بار یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں نے آزادی ہند میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا؛ لیکن ان کے پاس سوائے پروپیگنڈہ کے اور کچھ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے منصف مزاج قلم اٹھاتے ہیں اور یک قلم سرخی پھیر دیتے ہیں، خود انہیں کی صف کے ماہرین و مفکرین تار عنکبوت کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں، خواہ کتنی ہی سازشیں ہوں، ہندوازم اور زعفرانی پرچم کی بلندی ہو، حکومت و سلطنت پر قبضہ ہو یا پھر سماجی و معاشرتی زندگی میں زہر گھولنا ہو، ہر صورت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے – اس وقت ہندوستان کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، آزادی کے پرچم تلے، قانون کی بالادستی کی باتیں کرتے ہوئے جو کچھ کیا جارہا ہے وہ بھلا کس سے پوشیدہ ہے؟ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ علی الإعلان مسلمانوں کا سر قلم کرنے کی بات کہی گئی، میڈیا نے برائے نام خبر چلائی، کچھ کو گرفتار کیا گیا؛ لیکن جلد ہی انہیں ضمانت پر چھوڑ دیا گیا، اس کے بعد ایک جبہ، ٹوپی اور داڑھی والے نوجوان کو پولس کے سامنے چند بدمعاش، اوباش اور زعفرانی رومال اوڑھے لوگوں کے ذریعے پیٹے، مارتے اور بڑی بے دردی کے ساتھ بعض غلط فہمیوں کی بنا پر کچلتے دیکھا گیا، بعضوں کی کاوشوں اور چرچا کی وجہ سے کیس درج کیا گیا، مگر جلد از جلد انہیں بھی ضمانت دے دی گئی، اس کے برعکس صرف اکا دکا تقریر اور حق کی آواز بلند کرنے پر اب بھی نہ جانے کتنے مسلم نوجوانوں کو دیش دروہ کے الزام میں گرفتار کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا گیا،…

Read more

آزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخ

آزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخ محمد قمر الزماں ندوی ۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725   *ماضی* قریب کے مشہور اور جید عالم دین ،متعدد علمی و تحقیقی کتابوں کے مصنف و مترجم اور بے مثال خطیب حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رح کے صاحبزادے مولانا انظر شاہ کشمیری رح نے ۲۶/ جنوری ۱۹۷۵ء میں *جنگ آزادی میں علماء اور مسلمانوں کا مثالی کردار* اس موضوع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام کے نظریئہ آزادی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ : *دوستو! میرا دعویٰ ہے کہ اسلام حریت پسندی اور آزادی کا سب سے بڑا داعی اور آزادی کا سب سے بڑا علمبردار ہے ۔ لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ اس آزادی اور حریت سے اباحت پسندی کی وہ غلاظت مراد نہیں ہے جس کے تعفن سے انسانیت کے دل و دماغ پھٹے جاتے ہیں، وہ اباحت پسندی نہیں، جو انسان کو حیوان ،متمدن کو جانور بنانے کی ٹھیکہ دار ہو،جس میں حلال و حرام کی تمیز نہ ہو ،جائز اور ناجائز کے فروق کو ختم کر دئے جائیں، نہیں نہیں ۔۔ اسلام جیسا صحیح، سچا ،واقعاتی خدا کا پسندیدہ مذہب اس طوفان بدتمیزی کا خیمہ بردار کیوں بننے لگا، بلکہ آزادی سے مراد وہ آزادی ہے جس میں تمام بندے صرف ایک خدا کے عباد ہوں، اور بس ! رسول کی رسالت، بادشاہوں کی فرمانروائی، امیروں کی امارت ،ائمہ کی امامت ،اس حیثیت سے تسلیم نہ ہون کہ وہ ہمارے خدا ہیں اور ہم ان کے بندے ،بلکہ خدا ایک ،ہم سب بندے ،سب کے مناسب حقوق، اور سب کو اپنے واقعی چوکھٹوں میں تسلیم کرنے کا جائز و متوازن سلیقہ ۔ یہ ہے وہ حریت پسندی جس کی دعوت اسلام دیتا ہے ۔ جس کا وہ علمبردار ہے ۔ جس کی جانب وہ بلاتا ہے ۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ اسلام سے مراد وہ حقیقت ثابتہ و سچا دین ہے جس کے داعی آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک خدا کا ہر پیغمبر ،ہر نبی اور ہر…

Read more

تبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہ

  برصغیر کی دینی و سماجی تاریخ میں تبلیغی جماعت ایک منفرد اور ہمہ گیر عوامی تحریک کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خالص اصلاحِ باطن اور عملی دین کی طرف واپسی کی ایک غیرسیاسی، غیرمناظرانہ اور تدریجی تحریک ہے۔ اس مضمون میں اس تحریک کے پس منظر، نظریاتی بنیاد، عملی طریقۂ کار، تاریخی ارتقا اور اس پر ہونے والی علمی تنقید کا تحقیقی تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔     یہ چھ نکات دراصل تربیتی مقاصد کا خلاصہ ہیں، نہ کہ دین کی مکمل شکل۔ ان کا مقصد عملی دین، بنیادی شعور اور دینی ماحول پیدا کرنا ہے۔   تاریخی ارتقا اور عالمی پھیلاؤ 1940 کے بعد تحریک نے برصغیر سے نکل کر دنیا بھر میں قدم رکھ دیا۔پاکستان و بنگلہ دیش میں بڑے مراکز قائم ہوئے۔خلیجی ممالک، افریقہ، یورپ، امریکہ اور جنوبی ایشیا کے ہر حصے میں جماعت کے حلقے فعال ہوئے۔رائے ونڈ، نظام الدین، ڈھاکہ—دنیا کے سب سے بڑے دعوتی مراکز بن گئے۔اس وقت تبلیغی جماعت دنیا کی سب سے وسیع عوامی اسلامی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔   اثرات اور خدمات (الف) مثبت اثرات عام مسلمانوں میں نماز اور عملی دین کی بیداریاخلاقی دعوت اور نرم طبیعت کے ساتھ دین کی بات کرنا بین الاقوامی سطح پر مسلم بھائی چارہ اور اتحاد کا ماحول دین سے دور نسلوں کی عملی تربیت سیاسی و فرقہ وارانہ کشیدگی سے دور ایک محفوظ دعوتی ماحول(ب) سماجی خدماتاگرچہ جماعت براہ راست سماجی خدمت کی تنظیم نہیں، مگر دنیا بھر میںمساجد کی آباد کاری،نئی مساجد کا قیام،دینی مدارس کا فروغ،بے عمل طبقے کو دین سے جوڑنےجیسے بڑے اثرات اس کے ذریعے سامنے آئے۔ علمی تنقیدات اور معروضی جائزہاہلِ علم نے اس تحریک پر مختلف نوعیت کی تنقیدات بھی پیش کی ہیں:(1) علمی گہرائی سے زیادہ عملی پہلو پر توجہبعض ناقدین کا خیال ہے کہ جماعت عقائد و فقہ کی تفصیلی تعلیم و اصلاح پر کم توجہ دیتی ہے، جس سے گہرائی نہیں بنتی۔(2) سماجی و سیاسی شعور سے لاتعلقیتحریک کی مکمل غیرسیاسی پالیسی بعض اہلِ فکر کے نزدیک مسلمانوں کی…

Read more

تحریک پیام انسانیت

 تحریک پیام انسانیت اس تحریک کا اصل مقصد ملک کے انصاف پسند شہریوں کو ساتھ لے کر انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور بیدار کرنا تھا۔ انسانی اقدار کی حفاظت کرنا انھیں فروغ دینا اور ان کی بنیاد پر لوگوں کو قریب کرنا تھا۔ اسکا مقصد مسلمانوں کے تئیں پیدا شدہ غلط فہمیوں کو دور کرنا اور مختلف طبقات کے انٹلیکچول طبقے کے ذہن کو صاف کرنا اور معاشرے سے ظلم کو ختم کر کے امن و انصاف کو قائم کرنا تھا اور یہ کام مختلف طبقات کے لوگوں کو ساتھ لیے بغیر ممکن نہ تھا۔ تحریک پیام انسانیت کے مقاصد اور ضرورت کے سلسلے میں حضرت مولانا لکھتے ہیں۔۔ "بقائے باہم ،انسانی اور شہری بنیادوں پر اتحاد و تعاون اور انسانی جان و آبرو کے تحفظ انسان کے احترام اور اس سے محبت کی تبلیغ و تلقین ضروری ہے، اس ملک کی فضا کو مستقل طور پر معتدل اور پر سکون بلکہ راحت اور باعزت رکھنے کی ضامن ہے اور جس کے بغیر اس ملک (جس کے لیے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا مرکز اور دیس ہونا مقدر ہو چکا ہے )کی ترقی اور نیک نامی الگ رہی ، امن و امان اور اطمینان کے ساتھ باقی رہنا بھی مشکل ہے” ( موجودہ حالات میں مسلمان کیا کریں ؟ ص: 21) اس مقصد کے حصول کے لیے تحریک پیام انسانیت کے نام سے مولانا علی میاں ندوی 1974 میں اس تحریک کا آغاز کیا تھا ،ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی ملک میں تحریک پیام انسانیت جیسی کوششوں کی اہمیتِ اظہر من الشمس ہے،ان تحریکوں کے ذریعے ایک ساتھ کئی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن دو مقصد سب سے اہم ہے اول اس طرح کی کوششیں قائدانہ حیثیت میں متعارف کراتی ہیں،کسی دوسرے جہنڈے تلے جمع ہو کر نعرہ بازی کرنے والی بھیڑ کے بجائے ایک با مقصد جماعت کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں جس کے پاس اپنے حقوق کی بازیابی کسی مخصوص زبان کی تحفظ ملازمتوں اور دیگر تعلیمی ومعاشی مواقع میں اپنے مفاد کے بجائے ملک و ملت اور انسانیت…

Read more

سرمایہ دار صحابہ کرام

سرمایہ دار صحابۂ کرامؓ مولانا مفتی محمد اعظم ندوی   اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے کہ جن پاکیزہ نفَس لوگوں نے زہد وعبادت اور ایثار وتقویٰ کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں، وہی تجارت، معیشت اور کسب حلال کے میدان میں بھی اپنے عہد کے ممتاز ترین افراد تھے، آج جب صحابۂ کرامؓ کا تذکرہ ہوتا ہے تو عموماً ان کی سادگی اور دنیا سے بے رغبتی کا ذکر نمایاں کیا جاتا ہے، لیکن ان کی زندگی کا ایک روشن باب، یعنی تجارت، معاشی خود کفالت، خود انحصاری اور عظیم اقتصادی کامیابیاں، بہت کم زیر بحث آتی ہیں۔   حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے نہ کبھی مطلق دولت کی مذمت کی اور نہ خوش حالی کو روحانیت کے منافی قرار دیا، اسلام نے ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت کی مذمت کی ہے، جبکہ محنت، تجارت، دیانت اور حلال کمائی کو عزت وشرف کا ذریعہ بنایا ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہؓ نے مسجد میں عبادت بھی کی، میدانِ جہاد میں قربانیاں بھی دیں اور بازار میں دیانت دار تاجر بن کر معاشی تاریخ بھی رقم کی۔   حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ وہ خوش نصیب صحابہ ہیں جو ایک طرف عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں اور دوسری طرف اپنے زمانے کے بڑے اہلِ ثروت بھی تھے، اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ، حضرت عبداللہ بن عامر بن کریزؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت یعلیٰ بن امیہؓ اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہؓ بھی ان صحابہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے حلال ذرائع سے غیر معمولی خوش حالی حاصل کی۔ ان سب میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی داستان سب سے زیادہ حیران کن ہے، مدینہ پہنچے تو ان کے پاس کچھ نہ تھا، حضرت سعد بن ربیعؓ نے آدھی جائیداد پیش کی، مگر انہوں نے فرمایا: "مجھے صرف بازار کا راستہ بتا دیجیے”، چند برسوں میں وہ…

Read more