Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

🔰سیاسی فائدہ کے لئے جھوٹ اور پروپیگنڈانا

  1. Home
  2. 🔰سیاسی فائدہ کے لئے جھوٹ اور پروپیگنڈانا

🔰سیاسی فائدہ کے لئے جھوٹ اور پروپیگنڈانا

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • فروری 21, 2025
  • 0 Comments

از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

موجودہ حکومت ہمیشہ ایسے موض کی تلاش میں رہتی ہے، جو مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کرنے میں معاون ومددگار ہو، اور زیادہ تر اس میں جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے، ایک ایسا ہی جھوٹ ہے، جس کو ’’ لَو جہاد‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے، یعنی مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں سے محبت وپیار کے نام سے تعلق استوار کرتے ہیں، اور بالآخر اس لڑکی کو مسلمان بنا لیتے ہیں، اس جھوٹ کو اتنی شدت اور تکرار کے ساتھ بار بار پیش کیا جاتا ہے کہ ایک بڑا طبقہ اس سے متاثر ہو رہا ہے؛ کیوں کہ اکثر لوگ سنی سنائی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، تحقیق کی زحمت نہیںاُٹھاتے؛ چنانچہ اس وقت مہاراشٹرا کی بھاجپا حکومت نے لَو جہاد کے خلاف قانون سازی کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کا صاف مقصد سیاسی فائدہ اُٹھانا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کچھ ایسی رکھی ہے کہ وہ محبت کا بھوکا ہے؛ اسی لئے اسے خوشی کے ماحول میں ایسے لوگوں کی جستجو ہوتی ہے جو اس کی مسرت میں شریک ہوسکیں ، یہ شرکت اس کی خوشی کو دو بالا کردیتی ہے ، اسی طرح کسی انیس و غمخوار کی موجودگی اس کے غم کو ہلکا کرنے کا باعث بنتی ہے ، یہ محبت اسے اکثر ایسے رشتوں سے حاصل ہوتی ہے جو فطری ہیں اورجس میں اس کے اختیار کو کوئی دخل نہیں؛ مگر ایک رشتہ ایسا بھی ہے جس کو انسان اپنی پسند اوراختیار سے وجود میں لاتا ہے ، یہ ہے رشتۂ نکاح، نکاح کے بندھن میں بندھنے والے مرد وعورت کا ایک خاندان ایک علاقہ اور ایک زبان سے وابستہ ہونا ضروری نہیں ، بہت سی دفعہ بالکل اجنبی لوگوں کے درمیان رشتہ طے پاتا ہے ؛ لیکن یہ رشتہ ایسی محبت و اُلفت کو جنم دیتا ہے جس کی گہرائی اکثر اوقات دوسرے تمام رشتوں سے بڑھ جاتی ہے ، پرانے رشتے اس نئے رشتہ کے مقابلہ میں ہیچ ہوجاتے ہیں ، یہ رشتہ یوں بھی اہم ہوتا ہے کہ دونوں فریق کا مستقبل موت تک ایک دوسرے سے جڑا ہوتا ہے ، یہ ایک دوسرے کے ذریعہ ماں باپ بنتے ہیں اور باہمی تعاون کے ساتھ اپنے جگر پاروں کی پرورش کرتے ہیں ، ایک زمانہ تک وہ خود ایک دوسرے کے لئے سنہرے خواب کی حیثیت رکھتے تھے اور اب دونوں مل کر اپنی آئندہ نسل کے لئے خواب دیکھتے ہیں ۔

اسی لئے رشتۂ نکاح میں دونوں فریق کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی ہونی چاہئے ، یہ ہم آہنگی رشتوں کو پائیدار بناتی ہے ، جو لوگ وقتی طورپر کسی پر دل پھینک دیتے ہیں اور اس بنیاد پر ازدواجی رشتہ سے بندھتے ہیں، عموماً ان کے درمیان تعلق میں استحکام باقی نہیں رہتا ، ہم آہنگی کے لئے ایک ضروری شرط فکر و عقیدہ کی موافقت بھی ہے ، سوچئے کہ اگر ایک شخص اللہ کو ایک مانتا ہو اور اللہ کے سوا کسی کے سامنے اپنی پیشانی رکھنے کو سب سے بڑا جرم تصور کرتا ہو ، اس کی اس شخص کے ساتھ چوبیس گھنٹے کی زندگی میں کیسے موافقت ہوسکتی ہے جو سینکڑوں مخلوقات کا پجاری ہو ، جب دونوں کے مذہبی تہوار آئیں گے تو اگر وہ اپنے نظریہ میں سنجیدہ اورسچا ہوتو کیا ان کے درمیان نزاع پیدا نہیں ہوگی ؟ جب اولاد کی تعلیم و تربیت اور ان کی مذہبی وابستگی کا مسئلہ آئے گا تو کیا آپس میں کھینچ تان کی نوبت نہیں آئے گی ؟ یقیناً آئے گی؛ اسی لئے اسلام میں جو چیزیں نکاح میں رکاوٹ مانی گئی ہیں، جن کو فقہ کی اصطلاح میں’’ موانع نکاح ‘‘کہا جاتا ہے، ان میں ایک اختلاف ِدین بھی ہے۔ اس کی تفصیلات کو تین نکات میں سمیٹا جاسکتا ہے ، اول یہ کہ مسلمان لڑکی کا نکاح کسی بھی غیر مسلم لڑکے سے نہیں ہوسکتا ، خواہ وہ یہودی و عیسائی ہو یا کافر و مشرک ، جیسے ہندو بدھسٹ وغیرہ ، اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ایک عور ت کے لئے مخالف ماحول میں اپنے ایمان کی حفاظت دشوار ہوجائے گی ، دوسرے: کسی مسلمان مرد کا نکاح یہودی اور عیسائی عورت کے علاوہ کسی بھی غیر مسلم عورت سے نہیں ہوسکتا ، ظاہر ہے اس میں ہندو خواتین بھی شامل ہیں ، تیسرے: مسلمان مرد کا نکاح یہودی اور عیسائی عورت سے ہوسکتا ہے ؛ لیکن اس سلسلہ میں دو باتیں پیش نظر رہنی چاہئیں ، ایک یہ کہ یہودی اور عیسائی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے حکومت کی مردم شماری کے خانہ میں اپنے ساتھ یہودی یا عیسائی لکھا ہو ، جیساکہ آج کل اہل مغرب کا حال ہے ؛ بلکہ ضروری ہے کہ وہ حقیقتاً یہودی اور عیسائی ہو ، یعنی خدا پر ، نبوت پر ، الہامی کتاب پر اورآخرت کے نظام پر ایمان رکھتی ہو ، دوسرے اگرچہ یہودی اور عیسائی خواتین سے نکاح کی گنجائش ہے ؛ لیکن یہ بھی کراہت سے خالی نہیں ، سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے جب یہ بات سنی کہ شام کے علاقہ میں مسلمان مرد یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح کررہے ہیں تو اس کو سختی سے منع کیا ، اس کی دو مصلحتیں بالکل واضح ہیں ، پہلی مصلحت یہ ہے کہ اس سے مسلم خاندانوں میں غیر اسلامی افکار اور اجنبی ثقافت کے گھس آنے کا اندیشہ ہے ، دوسری مصلحت یہ ہے کہ سیاسی اوردفاعی اعتبار سے مسلمانوں کے حرم میں ایسی خواتین کا آنا نہایت نقصاندہ ہے ، جنرل اکبر خان نے سیرت نبوی (ﷺ) پر اپنی کتاب ’’حدیث ِدفاع‘‘ میں اس پر بڑی چشم کشا گفتگو کی ہے ، ۱۹۶۷ء کی جنگ میں اسرائیل کی کامیابی اور مصر و شام کی پسپائی کا بنیادی سبب یہی ہوا کہ بڑے بڑے کمانڈروں کی بیویاں عیسائی اور یہودی تھیں اور سارے جنگی راز لمحہ بہ لمحہ اسرائیل تک پہنچ رہے تھے ، افسوس کہ عربوں کی آنکھ اب تک نہیں کھلی ، مصر کے موجودہ ڈکٹیٹرسیسی کی ماں یہودی تھی ، یہاں تک کہ اس کا ماموں طویل عرصہ تک اسرائیل کا وزیر تعلیم رہا ، اسی طرح شاہ اُردن کی بیوی عیسائی ہے، یاسر عرفات مرحوم کی بیوی کا بھی یہی حال تھا ، یہی بے راہ روی ہے جس نے مسلم ملکوں کو ایسا کمزور کردیا ہے کہ وہ یہودی اور عیسائی طاقتوں سے آنکھ ملانے اور ان کے سامنے زبانِ احتجاج کھولنے کی بھی ہمت نہیں پاتے ؛ اس لئے کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کو جو تنبیہ فرمائی تھی ، وہ ان کی فراست ایمانی اور گہری بصیرت پر مبنی تھی۔بہرحال اس میں تو کوئی دو رائے ہے ہی نہیں کہ مشرک مرد سے مسلمان عورت کا یامشرک عورت سے مسلم مرد کا نکاح نہیں ہوسکتا ، افسوس کہ اس روشن حقیقت کے باوجود اس وقت فرقہ پرست طاقتوں نے ’’لَوْ جہاد‘‘ کا افسانہ چھیڑ رکھا ہے ، اگر اسلام اس کا قائل ہوتا اورمسلمان نکاح کو اشاعت ِاسلام کا ذریعہ بنانا چاہتے تو غیر مسلم اقوام سے نکاح کی ممانعت نہیں کی گئی ہوتی ؛ بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ، جیساکہ آج کل عیسائی دنیا میں کی جاتی ہے ؛ بلکہ اسلام میں تو یہ بات بھی پسندیدہ نہیں ہے کہ کوئی مرد یا عورت اس لئے اسلام قبول کرے کہ اس کی فلاں شخص سے شادی ہوجائے ، اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہدایت کو حاصل کرنا اس کا مقصد نہ ہو ، عہد نبوی میں مکہ فتح ہونے سے پہلے تک یہ بات واجب قرار دی گئی تھی کہ وہ مدینہ منورہ ہجرت کر جائیں ، ایک صاحب اسلام قبول کرچکے تھے ؛ لیکن وطن سے جو فطری محبت ہوتی ہے ، اس کی وجہ سے ان کا دل ہجرت کرنے پر آمادہ نہیں تھا ؛ لیکن وہ جن خاتون سے نکاح کرنا چاہتے تھے ، ان خاتون نے شرط لگا دی کہ اس کے لئے ہجرت کرنی ہوگی ، بالآخر انھوںنے ہجرت کی، رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پسند نہیں آئی ؛ چنانچہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ عمل کی قبولیت اور اس پر اجر و ثواب کا مدار نیت پر ہے ’’إنما الأعمال بالنیات‘‘ جس کی نیت اللہ اور رسول کی خوشنودی حاصل کرنا ہوگا ، اس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف سمجھی جائے گی ، یعنی اللہ تعالیٰ اس کو اجر عطا فرمائیں گے، اور جس کی ہجرت نکاح یا کسی دنیاوی غرض کے لئے ہو، اس کی ہجرت قابل اجر و ثواب نہیں ہے، تو اگر کوئی شخص دل کی آمادگی کے ساتھ اسلام قبول نہ کرے ، صرف اس لئے مسلمان ہوجائے کہ فلاں لڑکے یا لڑکی سے میری شادی ہوجائے تو اندیشہ ہے کہ اس کو کما حقہ اجر و ثواب نہ ملے اور اگر وہ اسی کیفیت پر قائم رہے تو یہ ایک طرح کا نفاق ہوگا اور عجب نہیں کہ آخرت میں اس کا ظاہری ایمان اس کے منھ پر مار دیا جائے ۔ہندوستان میں مسلمانوں نے ہمیشہ حلال و حرام کی سرحدوں کو باقی رکھا ہے اور معتبر اوردین دار مسلمانوں نے کبھی غیر مسلم لڑکیوں کو بحیثیت منکوحہ اپنانے کی کوشش نہیں کی ، بعض لوگ اکبر کی جودھا بائی سے شادی کا ذکر کرتے ہیں ؛ لیکن یہ شادی راجپوتوں کی رضامندی ؛ بلکہ رغبت کی بنیاد پر ہوئی تھی، اور اکبر کوئی عالم یا دین دار مسلمان نہیں تھا کہ اس کے عمل کو مسلمانوں کے سر تھوپا جائے ، حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی اپنے ضمیر کی آواز پر کسی مذہب کو قبول کرلے اور اپنے ہم مذہب سے نکاح کرنا چاہے تو ہمارے ملک کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے اور اس کو تبدیلی ٔمذہب کے لئے شادی نہیں کہا جاسکتا، اگر موجودہ ماحول میں جب کہ مخلوط تعلیم کی اجازت ہے، کوئی اپنی پسند کی بناء پر دوسرے مذہب کی لڑکی یا لڑکے سے رشتہ کرتا ہے تو اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اور کم سے کم ہندوستان میں ایسے واقعات بہت پہلے سے ہوتے آئے ہیں اور اب بھی ہورہے ہیں، حد تو یہ ہے کہ سنگھ کے اہم لیڈروں کے گھروں میں اس کی مثالیں موجود ہیں؛ مگر ایسی شادیاں مذہب کی اشاعت کے جذبہ سے نہیں ہوتیں ؛ بلکہ نفسانی جذبات کے تحت ہوتی ہیں، اس میں ہندو مسلم کا کوئی امتیاز نہیں، ایسے واقعات کو ’’لو جہاد‘‘ کا نام دینا جھوٹ اور دھوکہ کی بنیاد پر اپنے سیاسی قد کو اونچا کرنا ہے ۔

علماء اور خطباء کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی نسل کو نکاح کے سلسلہ میں اسلامی تصورات سے واقف کرائیں اور ایسے واقعات کو روکنے کی کوشش کریں ، جن میں ایک مسلمان لڑکا ایک غیر مسلم لڑکی کو بیاہ کر لے آتا ہے ، یا مسلمان لڑکی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ جاتی ہے کہ اس سے مسلم معاشرہ کو نقصان پہنچ رہا ہے ، یہ گناہ کی زندگی ہے ، شریعت کی نگاہ میں یہ نکاح ہے ہی نہیں اور اس سے معاشرہ کا امن بھی درہم برہم ہوتا ہے ، ہاں اگر کوئی ہندو لڑکا یا لڑکی واقعی صدقِ دل سے اسلام قبول کرلے تو یقیناً شرعی طریقہ پر مسلمان لڑکے اور لڑکی کو اس سے نکاح کرنا چاہیے اور اسے اپنے خاندان کا حصہ بنالینا چاہئے ، یہ شریعت کا حکم بھی ہے اور ہمارے ملک کا قانون بھی واضح طور پر اس کی اجازت دیتا ہے ۔= = =

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

  فكر اسلامى كا مطالعه كس طرح كريں؟
روزہ جسم اور روح دونوں کا مجموعہ ہونا چاہیے !

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
  • 1 Comments
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از : مجيب الرحمن عتيق ندوي حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی رحمہ اللہ بھی راہی ملک بقاء ہوگئے، ” كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام ” موت سے کس کو رستگاری ہے ہر روز بندگان خدا کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا زندگی کی بے ثباتی، انسان کی بے بسی اور اس دنیا کے ” مستقر ومتاع الی حین ” کا اعلان ہے، ” قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجاکر نقارہ "، حضرت مولانا رحمہ اللہ کا انتقال دار العلوم ندوہ العلماء کی تاریخ میں ایک عظیم معمار نسل، مربی و استاد اور غیر معمولی صفات وخصوصیات کے عہد کا خاتمہ ہے، مولانا مرحوم اپنی صلاحیت، ادب و ذوق، اعلی اخلاق، ذوق پروری، سادگی وتقوی، وضع واطوار، روش بندہ پروری، معمولات و پابندی اوقات، اور ایک طویل عہد پر پھیلی ہوئی متنوع خدمات میں ” فرد ممتاز ” کی حیثیت رکھتے ہیں، جن لوگوں کو مولانا کو دیکھنے اور ان سے استفادہ کا موقع ملا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اپنی وضع و خو میں ایک "نرالے بے مثال انسان ” تھے، مولانا رحمہ اللہ ایک علمی و خدا ترس گھرانے میں پیدا ہوئے، اور پرورش و پرداخت پائی، آپ کے والد ماجد حضرت مولانا ایوب صاحب اعظمی رحمہ اللہ مشہور محدث اور جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں شیخ الحدیث تھے، اور اپنے زمانے کے مشاہیر علماء اور کبار اساتذہ حدیث میں شامل تھے، حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے نصف صدی سے زائد دار العلوم ندوہ العلماء میں تدریسی و تربیتی خدمات انجام دیں، کئی نسلوں کے معمار و مربی رہے، دار العلوم کی مسجد میں امامت سے لیکر انتظام و ادارت کی کرسی کو سنبھالا، منبر ومحراب کی خطابت سے لیکر دار العلوم کے عربی ترجمان البعث الاسلامی اور ” الرائد ” کی سرپرستی فرمائی، ہزاروں خطبات اور سیکڑوں مقالات واداریے مولانا کی فیاضی طبع، ادبی ذوق، زبان وقلم کی جولانی کے گواہ ہیں، مولانا…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • حسد
  • حسد کیا ہے؟
  • ستمبر 12, 2026
  • 0 Comments
حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی ، گڈا جھارکھنڈ 9506600725 حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یعنی تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کها جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کها جاتی ہے- (ابو داود، کتاب الاداب، باب الحسد، ابن ماجہ، کتاب الذهد) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں هو سکتے- (نسائی، کتاب الجہاد) حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے حسد کا نقصان یہ ہے کہ وه آدمی سے اعلی ایمانی کیفیات کو چهین لیتا ہے- حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وه دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا- موجوده دنیا میں ایسا هوتا ہے کہ کبهی ایک شخص بظاہر بڑا هو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر چهوٹا- یہ امتحان کے لئے هوتا ہے- وه اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجهہ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چهوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف هو جائے تو گویا کہ وه خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے- ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا- حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ هو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے- اس کا نقصان اس کو بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وه اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے : یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے-  (البخاری، کتاب التوحید) قرآن میں تقوی کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی هو تب بهی آدمی اس کے بارے میں عدل و…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف 07.10.2026
  • مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم 06.10.2026
  • مریضوں پر بڑھتا بوجھ 06.10.2026

حالیہ تبصرے

  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از سعیدی اسلوب: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زبان و ادب کی خصوصیات 1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ: حیات، خدمات اور وفات پر تاثرات1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی عظیم صفت: اختلافات میں اتحاد اور حکمت 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم
مضامین و مقالات

مریضوں پر بڑھتا بوجھ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top