Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

  1. Home
  2. بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • نومبر 28, 2025
  • 0 Comments

بدلتے مغربی نظام کی دروں بینی
ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

"یہ صرف مغربی تہذیب ہی ہے جس نے اپنی حالیہ صدیوں میں مشرقی تہذیبوں سے ایسی دوری اختیار کی کہ محسوس ہوتا ہے دونوں کے درمیان نہ کوئی مشترک قدر باقی رہی، نہ تقابل کی کوئی بنیاد، اور نہ ہی مفاہمت ومصالحت کی کوئی زمین جس پر دوبارہ کھڑا ہوا جا سکے”۔
یہ رائے فرانسیسی نو مسلم فلسفی عبد الواحد یحییٰ (رینے گینوں، م: 1951ء) نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد اپنی مشہور کتاب (East and West, 1924) کی تصنیف کے دوران لکھی تھی، یہ فرانسیسی سے انگریزی ترجمہ کا عنوان ہے، عربی کتاب "الشرق والغرب” (مشرق ومغرب) کے نام سے چھپی تھی، یہ اس وقت کی بات ہے جب مغربی دنیا ایک ایسے داخلی تصادم کی تیاری کر رہی تھی جس کے تاریک مظاہر بعد ازاں دوسری جنگ عظیم میں پوری شدت کے ساتھ سامنے آئے۔
عبد الواحد یحییٰ نے اپنی زندگی کا رُخ پوری طرح مشرق کی جانب موڑ لیا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنا بقیہ زمانہ قاہرہ میں تصوف اور خلوت گزینی میں گزاریں گے، وہ اپنے وطن سے ہجرت کرکے چلے آئے، اور پیچھے وہ یورپ رہ گیا جو باہم برسر پیکار قومیتوں کے بھنور میں ڈوب رہا تھا، وہ قومیتیں جو نسل برتر کے تمغہ بردار ہونے کی دعوے دار تھیں، اور اس کشمکش میں مبتلا تھیں کہ طاقت ور کون ہے، اور کون کمزور اقوام کو اپنی نو آبادیات میں نوچ کھانے کی زیادہ سکت رکھتا ہے۔

جنگ عظیم اپنے اختتام کو پہنچی، اور اس ہولناک تصادم نے یورپ کی قومیت پرست اور عوامی حمایت کی خواہش مند Populist سیاست—یا یوں کہیے "قدیم مغرب”—کو شکست فاش سے دوچار کر دیا، اس بربادی نے مغرب کو مجبور کیا کہ وہ کسی ایسے متبادل کی جستجو کرے جو اسے قومیت کے خون آشام بندھن سے رہائی دلائے، یہی وہ مرحلہ تھا جس نے ایک نئے مغربی نمونے کے لیے فضا ہموار کی، ایک ایسا نمونہ جسے "نیا مغرب” کہا گیا، جو دوسری جنگ عظیم کی کوکھ سے جنم لینے والی نئی حقیقت بن کر ابھرا۔

اس مشکل کا حل سب سے آخری مغربی کنارے سے ہی سامنے آیا، وہ خطہ جو نہ صرف جغرافیائی طور پر بلکہ ذہنی اور نظریاتی طور پر بھی اپنی انتہا پر تھا، جیسا کہ گینوں نے بیان کیا، اور وہ تھا امریکہ، امریکہ نے یہ دیکھا کہ مسئلے کا حل قومیت پرستی کی شدت کو کم کرنے اور ایک "مغرب جدید” کے قیام میں مضمر ہے، یہی نیا مغرب اس اتحاد کی شکل میں نمودار ہوا جسے "آزاد دنیا” یا "مغربی بلاک” کہا گیا، اور جس کی بنیاد نیٹو نے رکھی، تاکہ اس بڑے عالمی اتحاد کا مقابلہ کیا جا سکے جو سوویت یونین کی قیادت میں وجود میں آیا اور "مشرقی بلاک” کے نام سے مشہور ہوا، یہ نیا مغرب اپنی کئی پرانی پرتیں اتار چکا تھا، اور بہت سی قومیت پرست قدروں کو ترک کر چکا تھا، اس نے ثقافتی پاکیزگی کے بوجھ کو تھوڑا ہلکا کیا، اور ایک ایسے وجود میں بدلنے کو قبول کیا جو پہلے صرف نسلی حلقے تک محدود تھا، لیکن اب زیادہ کھلا اور اپنے دروازے سب کے لیے کھول دیئے۔

اور اس نئے عالمی منظرنامے میں عالمگیریت اور عالمی تہذیب کے تصورات ابھرے، اور سرحدوں سے ماورا اقدار زور پکڑنے لگیں، یہ بیانیہ عام ہوا کہ دنیا ایک ہی گاؤں کی مانند ہے، اور یہ کہ خود مختاریاں اور سرحدیں انسانی ترقی کے اس بہاؤ کے سامنے ٹوٹ پھوٹ رہی ہیں، اس نئے نظام میں غیر مغربی ممالک بھی اس دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی زندگی مغربی طرز زندگی کے مطابق گزاریں، یہی ماحول جاپان اور جنوبی کوریا کے مغربی محاذ میں شامل ہونے، معاشی اور دفاعی نظام میں مکمل انضمام، اور ترکی کو نیٹو میں شمولیت کی جانب مائل کرنے کا سبب بنا۔
یہ ریاستہائے متحدہ امریکہ یا "مغرب اقصی” ہی تھا جو اس کا ضامن بن سکا، اور جس نے باقی ماندہ مغربی دنیا کو بچانے کی ذمہ داری اٹھائی، تاکہ وہ اس زبردست لہر کا مقابلہ کر سکے جو سوویت یونین کی قیادت میں ابھری تھی، یہ سب کچھ ممکن نہ ہوتا اگر اس کے مقابل ایک متضاد وجود نہ سامنے آتا، جسے "مشرقی دنیا” یا سوویت یونین کے گرد مرکوز بلاک کہا گیا، جس کے کئی حصے خود یورپ میں بھی شامل تھے، مغربی ممالک کی خود شناسی یا خود بینی کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت صرف دوسروں سے علیحدگی کے ذریعے ہی حاصل کرتے ہیں، اور اپنی روشنی اسی "سیاہ چہرے” کے ذریعے نمایاں کرتے ہیں جو انہوں نے دوسروں کے لیے تخلیق کیا ہوتا ہے، یہی سوچ انہیں جمع ہونے اور اپنے حلقے کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

اگرچہ عالمگیریت کا دور زور پکڑ رہا ہے، مگر خود پسندی میں مبتلا سفید فام مغربی اقوام غیر یورپی قوموں کو مکمل شمولیت کی اجازت نہیں دیتی ہیں، مغرب کا جوہر "یگانہ ومنفرد اور غیر عالمی” ہے، جیسا کہ سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنے ایک مقالے میں کہا ہے، چاہے وہ آزادی اور مساوات کے اصولوں کا اعلان کرے اور دعویٰ کرے کہ یہ ہر زمانے اور ہر جگہ نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ "آزاد دنیا” بظاہر اپنی رخصت کی تیاری کر رہی ہے، اور اس تبدیلی کا محور امریکی صدر ٹرمپ کی دوسری مدت ہے، ٹرمپ کے نزدیک پرانے عالمی اتحاد برقرار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ ایک کھلا قوم پرست ہے اور "آزاد دنیا‘” کے تصور پر یقین نہیں رکھتا، اس کے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ "نیا مغرب” (امریکہ) یورپ یا پرانے مغرب کے بوجھ سے آزاد ہو جائے اور اسے اپنی راہ پر خاموشی سے جانے دیا جائے، اس رویے نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لائن کو اپریل میں یہ افسوسناک بیان دینے پر مجبور کیا:
"وہ مغرب، جسے ہم جانتے تھے، اب موجود نہیں”، اسی طرح فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا:
"یورپ آج فنا پذیر ہے، اور اس کا زوال ممکن ہے”۔
یہ مغربی دنیا کا متزلزل وجود، جس کا ذکر یورپی کمیشن کی صدر نے کیا اور جس سے فرانسیسی صدر بھی فکرمند ہیں، اگر مکمل طور پر اپنی تمام جہتوں میں ظاہر ہو جائے، تو یہ ایک پیچیدہ نظام کے زوال اور تحلیل کا سبب بنے گا، درحقیقت، یہ عالمی سطح پر قائم عالمگیریت پر مبنی اقدار، عالمی ماحولیاتی معاہدے، انسانی حقوق، اور نیوکلیئر پھیلاؤ کی روک تھام کے بین الاقوامی معاہدات کے پورے نظام کا خاتمہ ہوگا۔
تو کیا جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ واقعی اس مغرب جدید کا خاتمہ ہے جسے ہم گزشتہ دہائیوں میں جانتے آئے ہیں، یا یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، جو شاید پرانے دور کی طرف بھی لوٹ سکتا ہے؟ کیا ہم "تیسرا مغرب” دیکھ رہے ہیں، جو پرانے اور نئے، قوم پرست اور لبرل عناصر کے ملاپ سے تشکیل پا رہا ہے؟ کیا "آزاد دنیا” کا زمانہ ختم ہو چکا ہے؟ اور کیا ہم مغرب کے اندر شدید داخلی تقسیم دیکھیں گے، جیسے 1945 کے بعد یورپ دو حصوں میں تقسیم ہوا، اور آج امریکہ بھی دو متضاد نظریاتی دھڑوں—قدیم قوم پرست اور جدید عالمگیریت پسند—میں بٹا ہوا ہے؟
مغرب کی روح کو سمجھنے کے لیے کوئی ایک ہی تصور کافی نہیں ہے، مختلف خیالات، تحریکوں اور تاریخی اقدامات نے مل کر آج کا مغرب تشکیل دیا، جیسے مذہبی اصلاحات، فرانسیسی انقلاب، فلسفۂ روشن خیالی، اور صنعتی انقلاب وغیرہ؛ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جدید مغرب اپنے حقیقی مفہوم میں قومیت کے تصور کے ساتھ ہی وجود میں آیا، جو ایک ایسے نظام سے عبارت ہے جس میں نئے دوست بنائے جارہے ہیں تو پرانے دور بھی کئے جاسکتے ہیں، یہی اصل مغرب ہے، نہ کہ وہ مغرب جو فلسفے میں غرق اور اس کے سحر میں گرفتار بنا کر دکھایا جاتا ہے، اور ہمیں اسی خیالی اور پیچیدہ مغرب کو ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ٹرمپ کی انتظامیہ یورپی شدت پسند دائیں بازو کو ایک "وقتی اتحادی” کے طور پر دیکھتی ہے، جو اس عالمی فکر کے خلاف جنگ میں شریک ہے جس کی نمائندگی یورپی یونین کرتی ہے، اس کے برعکس، یورپی دائیں بازو کے کئی رہنما ٹرمپ کو اپنی تحریک کا حمایتی اور اپنی نظریاتی فتح کی علامت سمجھتے ہیں، ٹرمپ کی داخلی پالیسیوں جیسے جبری ہجرت، میڈیا اور اقلیتی حقوق کے معاملات نے یورپ میں غیر لبرل رہنماؤں کے لیے تحریک اور جواز فراہم کیا ہے۔

اس طرح، ہم ایک نئی "قوم پرست بین الاقوامیت” کے ابھرنے کا مشاہدہ کرتے ہیں، یا جیسا کہ کچھ اسے کہتے ہیں، "آزاد خیالی کے بعد کا انقلاب”، جو کانفرنسوں، میڈیا پلیٹ فارمز اور سرحد پار مالی معاونت کے ذریعے تشکیل پا رہی ہے اور اس رجحان کی حمایت کر رہی ہے،
تو کیا ہم واقعی اُس جدید مغرب کے زوال کا مشاہدہ کر رہے ہیں جسے ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں تک پہچانا؟ یا یہ مغربی تہذیب کے ایک نئے مرحلے—اور شاید کسی پرانے مرحلے کی طرف واپسی—کی شروعات ہے؟

دوسری جنگِ عظیم کے بعد قوم پرست اور سامراجی مغرب نے خود کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک "عالمی لبرل” روپ اختیار کرلیا تھا؛ لیکن آج، جب اس کے اندرونی ڈھانچے میں دراڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں، وہ آہستہ آہستہ اس لبرل لباس کو اتار کر اپنے پرانے قوم پرستانہ قالب کی طرف لوٹ رہا ہے، عبد الواحد یحییٰ نے تقریباً ایک صدی پہلے کہا تھا کہ مغرب کا بحران بنیادی اور دائمی ہے، صرف وقتی نہیں، آج وہی بحران سیاسی وتہذیبی انتشار کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

ممکن ہے کہ ہم جلد ہی ایک "تیسرے مغرب” کی تشکیل دیکھیں، ایسا مغرب جو پرانے قوم پرست مزاج اور نئے لبرل تصور کا امتزاج ہو، مغرب کے اندر ہمیشہ کچھ حلقے مثلا نسل پرست، قوم پرست، یا قدامت پسند عالمی لبرل نظام کی مزاحمت کرتے رہے ہیں، اسی بنیاد پر ممکن ہے کہ آنے والا مغرب "آزاد دنیا” کے عالمی عنوان سے دستبردار ہو کر خود کو ایک محدود تہذیبی شناخت تک محدود کر دے۔

مغرب کا مستقبل اس کے اپنے رہنماؤں اور عوام کے فیصلوں پر منحصر ہوگا، جیسا کہ ماکرون نے خبردار کیا: "یورپ کی تقدیر ہمارے ہاتھ میں ہے؛ اگر ہم درست انتخاب نہ کریں تو یہ مر سکتا ہے”.

اگر مغرب نے سخت قوم پرستی اور مکمل بند ذہنیت کا راستہ اپنایا، تو ممکن ہے کہ "امریکی امن” کا دور ختم ہو جائے اور دنیا ایک نئے دور کے انتشار میں داخل ہو جائے، بالکل ویسے ہی جیسے 1930 کی دہائی میں لیگ آف نیشنز کے زوال کے بعد ہوا تھا۔

اور اگر بین الاقوامی تعاون کے حامی اس بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے میں کامیاب ہو گئے، تو مغرب شاید ایک نئے، کثیر الجہتی نہ کہ یک رخی سانچے میں دوبارہ ابھر سکے، ایسا سانچہ جو بدلتے ہوئے حالات کو اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے بغیر اپنے اندر جذب کر لے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

سادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکر

Related Posts

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
  • 0 Comments
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

ہر دل عزیز استاذ و مربی حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش از : مولانا محمد عارف صاحب ندوی بعض شخصیات صرف اپنے زمانے میں نہیں جیتیں، بلکہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی زندہ رہتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ، ان کا طرزِ گفتگو، اندازِ تدریس، پابندیِ وقت، علمی انہماک، عبادت و تلاوت، حتیٰ کہ ان کی خاموشی بھی شاگردوں کے لیے درس بن جاتی ہے۔ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ صرف دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم نہیں تھے؛ وہ ایک عہد کی علمی شناخت، عربی زبان و ادب کے ممتاز استاد، صاحبِ طرز ادیب، بے باک صحافی، باکمال خطیب، داعی،کئی نسلوں کے مربی اور اپنے بے شمار تلامذہ کے لیے ایک شفیق اور قابلِ احترام استاذ تھے۔ حضرت کی وفات سے ندوۃ العلماء ہی نہیں، ہندوستان کے علمی و ادبی تمام حلقوں نے بھی ایک ایسے بزرگ کو کھو دیا ہے جس نے اپنی پوری زندگی علم و عمل ، تعلیم و تربیت، دعوت دین اور ندوہ کی خدمت میں صرف کردی۔ 1935ء میں پیدا ہوئے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور بعد میں عربی زبان و ادب، تصنیف و تالیف صحافت حتی کہ نظم و نسق میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ 2000ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم مقرر ہوئے اور آخری وقت تک اس منصب پر فائز رہے ۔ غالباً 2003ء کے اواخر اور 2004 کے اوائل کا زمانہ تھا۔ ندوۃ العلماء میں نو وارد تھا عالیہ اولیٰ میں داخلہ ہوا۔ بقر عید تک کا زمانہ اللہ اللہ کرکے انگلیوں پر گنتے گزرا۔ کسی طور دل لگتا ہی نہیں تھا۔ گھر سے اتنی دور پہلی مرتبہ نکلا تھا سفر کا بھی کوئی خاص تجربہ نہیں تھا؛ اس لیے واپس بھاگنے کا تصور بھی محال تھا ۔ عالیہ اولیٰ کی درس گاہ کلیۃ اللغۃ میں لگا کرتی تھی۔زیادہ تر درس گاہیں دار العلوم کی مرکزی پر شکوہ عمارت میں لگا کرتی تھیں کبھی کبھار…

Read more

Continue reading
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
  • 1 Comments
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 🖊️ شعیب حسینی ندوی استاد محترم حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی گوناگوں خصوصیات، کمالات اور امتیازات اہل قلم پیش کرتے رہیں گے اور ان کی نجی زندگی، انتظامی زندگی، تدریسی و ادبی خدمات، تعلق مع القرآن، ندوے کی آبیاری و ندوی روایت کی پاسداری، عصری دانشگاہ انٹیگرل یونیورسٹی کا قیام، زبان و ادب اور علم و فن میں ان کے کارہائے نمایاں جیسے گوشوں پر روشنی ڈالی جاتی رہے گی، ان کی زندگی ایک ورق نہیں ہے جسے پلٹ کر گزر جایا جائے بلکہ وہ کتاب ہے جس کا ہر صفحہ تابندہ نقوش رکھتا ہے، ان سب پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جائے گا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر متعدد کتابیں بھی تیار کی جائیں تو بھی حضرت استاد کا حق ادا نہیں ہو سکتا ہے، میں سر دست جس پہلو کو اپنے اس مختصر مضمون میں اجاگر کرنا چاہتا ہوں وہ ان سے زبان و ادب کی چاشنی کو حاصل کرنے سے متعلق ہے، میں نے حضرت سے بہت کچھ سیکھا، ایک عرصے تک ان کی صحبت پائی ہے، اور آپ کی خاص شفقتوں اور عنایتوں کے سایہ میں ایک عرصہ گزرا ہے۔ میں نے سب سے زیادہ حضرت استاد کی زبان کی سلامت روی کو پایا ہے، لفظوں کا انتخاب، تعبیرات کو ڈھالنے کا انداز، اسلوب بیان، طرز تدریس، اس میں تو استاد سب سے نمایاں تھے کبھی کسی لفظ پر رک کر دو تین دفعہ اس کو دہرانا پڑتا تھا لیکن مجال ہے کہ کوئی جملہ غلط تلفظ کے ساتھ پورا ہو جائے، عربی زبان کی چاشنی حضرت سے ہم کو ملی ہے، زبان بولنے میں جو ادائیگی کی لطافت تھی وہ آپ کا خاصہ تھی ہم کلاس میں بیٹھتے تھے اور حضرت جب الشعر العربی کے دروس دیا کرتے تھے تو اس میں جہاں الفاظ کی نوک پلک سمجھاتے تھے، تعبیرات کی ادائیگی کا سلیقہ بھی دیتے تھے، وہیں اپنی زبان سے موتیوں کی طرح جھڑتے ہوئے الفاظ سے ہمارے کام و دہن میں رس گھول…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف 07.10.2026
  • مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم 06.10.2026
  • مریضوں پر بڑھتا بوجھ 06.10.2026

حالیہ تبصرے

  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از سعیدی اسلوب: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زبان و ادب کی خصوصیات 1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ: حیات، خدمات اور وفات پر تاثرات1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی عظیم صفت: اختلافات میں اتحاد اور حکمت 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم
مضامین و مقالات

مریضوں پر بڑھتا بوجھ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top