Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

آفاقیت کا نور : انور آفاقی ۔

  1. Home
  2. آفاقیت کا نور : انور آفاقی ۔

آفاقیت کا نور : انور آفاقی ۔

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • نومبر 13, 2024
  • 0 Comments

احمد اشفاق ۔ دوحہ قطر۔

تو جوہری ہے تو زیبا نہیں تجھے یہ گریز

مجھے پرکھ مری شہرت کا انتظار نہ کر

حفیظ میرٹھی کا مندرجہ بالا شعر انور آفاقی کے لیے موزوں معلوم پڑتا ہے جو بہ یک وقت شاعر ، افسانہ نگار ، مبصر ، ناقد و محقق ہیں ۔

یوں تو انور آفاقی نے شعر گوئی کی ابتدا زمانہ طالب علمی میں ہی کی مگر خلیجی ممالک (سعودی عرب قطر اور متحدہ عرب امارات) میں ان کا فن پوری طرح نکھر کر سامنے آیا۔ دورانِ ملازمت انہوں نے اتنی مہلت ہی نہیں پائی کہ کوئی کتاب ترتیب دے سکیں ہاں ملازمت کے آخری ایام میں وطن واپسی سے قبل انہوں نے اپنا پہلا شعری مجموعہ "لمسوں کی خوشبو ” 2011 میں شائع کروایا جس کی تقریب اجرا اپنے وطن دربھنگہ میں ہی کروائی ۔ اتفاق سے راقم الحروف بھی اس میں شریک تھا ۔

کچھ ہی عرصہ بعد یہ مستقل وطن آگئے اور پھر گیسو ادب سنوارنے میں مصروف ہو گئے ۔طبیعت تو موزوں تھی ہی اور عصری ادب پر بھی گہری نگاہ تھی مگر غمِ روزگار نے قلم و قرطاس سے گہرا ربط ہونے نہ دیا۔ ہاں جیسے ہی مہلت ملی ان کا قلم مائل بہ سفر ہوا۔ پھر کیا تھا کہ وطن میں قیام کے دوران غزلیں لکھیں، افسانے لکھے ، سفرنامے لکھے ، تاثراتی مضامین کے ساتھ تنقیدی و تحقیقی مضامین لکھے ۔ سینئر ، ہم عصر اور جونیئرس سے انٹرویو لئے اور ان تمام کو کتابی شکل دی جس کی علمی و ادبی حلقے میں کافی پذیرائی ہوئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

یوں تو انہوں نے اپنی تمام کتابوں کے موضوعات کا بہت ہی دیانتداری سے بھرپور احاطہ کیا ہے لیکن ان کے ادبی انٹرویو بطور خاص قابل ذکر ہیں جس میں انہوں نے جن شخصیات کا انتخاب کیا ہے ان کی ادبی حیثیت مسلم ہے مگر بطور خاص ذاتیات پر گفتگو کر کے ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق کا کام آسان کر دیا ہے ۔ انٹرویو میں نہ صرف صاحب مکالمہ سے ان کے تعلق سے باتیں کی گئی ہیں بلکہ اپنے ہم عصروں اور پیش روؤں کے فن پر بھی سیر حاصل گفتگو کر کے اپنی علمی و ادبی صلاحیت کا ثبوت فراہم کیا ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور جس سےفکر و فن کے نئے دریچے وا ہوتے ہیں ساتھ ہی ادبی منظر نامے کو سمجھنے میں ممد و معاون بھی ۔ کسی ازم اور گروہ بندی سے پرے پر خلوص جذبے سے انہوں نے تاثراتی مضامین بھی لکھے ہیں اور تنقیدی رائے بھی دی ہے ۔ فی زمانہ شجرہ نسب کی ترتیب کے تعلق سے دلچسپی کا فقدان ہے لیکن موصوف نے نہ صرف اپنے خاندان اور رشتہ داروں کا شجرہ نسب بڑی عرق ریزی سے ترتیب دیا ہے بلکہ شعرا و ادباء کے تعلق سے ان کے خاندانی پس منظر اور اشعار کی تحقیق بھی کی ہے جو واقعی کارِ محال ہے ۔

دوحہ قطر، جِسے خلیج میں اردو کی راجدھانی کہا جاتا ہے ، میں انور آفاقی کا قیام پانچ برسوں تک رہا۔ وہ جب تک یہاں رہے خلیج کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم ” بزمِ اردو قطر” جس کا قیام 1959 میں ہوا تھا سے منسلک رہے ۔ اُن دِنوں شعری و ادبی محفلوں میں پیش پیش رہنے والوں میں برخیا بو ترابی ، بشیر صحرائی ، صبا شیخانی ، قاضی فراز احمد ، شمیم حیدر جونپوری ، رشید نیاز اور محمد ممتاز راشد وغیرہ تھے۔ محمد ممتاز راشد کے وطن واپسی کے بعد گذشتہ دس برسوں سے بزم اردو قطر کے معتمد عمومی کی ذمہ داری مجھ ناتواں کے کندھوں پر ہے جسے نبھانےکی کوشش تا حال جاری ہے۔قطر میں پانچ سالہ قیام کے دوران انور آفاقی نے کئی بڑے مشاعروں میں شرکت کی اور ریڈیو قطر کے اردو پروگرام میں بھی حصہ لیا ۔ بزم اردو قطر کے سلور جوبلی مشاعرے میں جس کی صدارت مرحوم محسن

نقوی نے کی تھی، کے انتظام و انصرام میں و پیش پیش رہے۔ متحدہ عرب امارات میں قیام کے دوران انہوں نے متعدد مشاعروں میں شرکت کی اور اردو کے معتبر شعرا سے ان کو ملاقات کا شرف حاصل ہوا مثلا، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی ، دلاور فگار ،خمار بارہ بنکوی ، مجروح سلطان پوری ، کیفی اعظمی ، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر ، راغب مراد آبادی، نور جہاں ثروت ، ممتاز میرزا ، ریحانہ روحی ، حنا تیموری ، ساغر خیامی ، انور شعور ، خواہ مخواہ حیدرآبادی ، جون ایلیا ، پروفیسر جگن ناتھ آزاد ، محشر بدایونی ، احمد فراز ، پیر زادہ قاسم ، کیف عظیم آبادی ، حفیظ بنارسی ، جمیل نظامی ، والی آسی ، رئیس رامپوری ، گنیش بہاری طرز ، بشیر بدر ، معراج فیض آبادی ، وسیم بریلوی ، ملک زادہ منظور احمد ، انور جلال پوری، محسن بھوپالی ، امجد اسلام امجد ، جاوید اختر ، ندا فاضلی، جلیس شیروانی ، حکیم ناصر ، مرتضے برلاس ، حمایت علی شاعر ، بلراج کومل ، عرفان صدیقی ، جازب قریشی ، عالمتاب تشنہ، سرفراز ابد ، شہزاد احمد ، سلیم کوثر ، جوگا سنگھ انور ، اظہر عنایتی ، نواز دیوبندی وغیرہ ۔ ان میں بیشتر شعراء سے ملاقات اور کچھ کو صرف دیکھ اور سن سکے۔

میری دلچسپی چونکہ شعر گوئی میں ہے لہذا آئیے انور آفاقی کے شعری جہان پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں ۔ اردو زبان نے غزل کو اپنی اصل صنعت محبوبیت میں بڑی شان و شوکت اور وقار کے ساتھ محفوظ رکھا ۔ اس کے دامن میں دنیا کے تمام موضوعات کو بڑے دل کش و دل آویز انداز میں سجا کر پیش کرنے کا ہنر بھی عطا کیا جس سے غزل ہم رنگ اور اس کی تاثیر دو آتشہ ہو گئی ۔ اگر قدرتی طور پر ذہن ہم آہنگ ہے تو قافیہ پیمائی اور غزل گوئی زیادہ مشکل نہیں لیکن مطالعہ ، مشاہدہ اور جذبات و احساسات غزل کے سپرد کر دینا نہایت ہی مشکل کام ہے ۔ میں انور آفاقی کی شاعری کے مطالعے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ان کے پاس موضوعات بھی ہیں اور مضامین بھی ۔ ساتھ ہی وہ اپنے مطالعہ اور مشاہدہ کو غزل کا حسین پیرایا عطا کرنے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔ اور اس کا انہیں اندازہ بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ

؂حرف و آواز کو پتھر نہ کہوں گا لیکن

اپنے افکار کو میں گردِ سفر لکھوں گا

میں آگیا ہوں پھر نئے لوگوں کی بھیڑ میں

تنہائیوں کا بوجھ اٹھایا نہ جائے ہے

ذہن کی تاریکیاں مٹ جائیں گی

شمعِ فکر و فن جلاتے جائیے

انور آفاقی کا لہجہ سادہ و سلیس ہے شستہ رواں دواں اور پر کیف و پرکشش ہے ۔ انہوں نے زندگی کے اعلی مقاصد اور بلند نصب العین کو محبوب کے پیکر میں مختلف زاویوں سے شاعری کے رنگ و آہنگ میں اس طرح ڈھالا ہے کہ ہر رنگ میں ایک تازگی ، شستگی اوردل آویزی پیدا ہو گئی ہے ۔ ان کی شاعری صرف خوابوں کی دنیا کی سیر ہی نہیں بلکہ شعر و نغمہ کی کیفیتوں سے سر شاری بھی ہے۔ مگر چونکہ سارے عالم کی زبانوں کا خمیر اس کا رومان ہے لہذا الفت و محبت آرزوئے وصل ، اندیشہءِ فراق ، حسرت دید ، اظہار اقرار اور انکار ، حسن کی جلوہ آرائی اور محبوبیت ، عشق کی بینائی ، حسن کا استغنا جو غزل کے اجزائے ترکیبی ہیں وہ ان کی شاعری میں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کریں

؂میں اپنی زیست کے معیار کو بدل دوں گا تمہاری مانگ میں سرخی شفق کی بھر دوں گا

ہے لہجہ پھول باتیں جس کی کلیاں

وہ خوشبو بن کے ہر سو چھا گیا ہے

جب تمہارا نہیں انور سے تعلق کچھ بھی

بن کے بادل مرے احساس پہ چھاتے کیوں ہو

انور آفاقی کی شاعری میں روایت کی پاسداری بھی ہے اور اردو شاعری پر بدلتے ہوئے رجحانات کی بازگشت بھی ۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات زیادہ نہیں ہیں لیکن بلندیءِ فکر کی دعوت جا بہ جا موجود ہے۔ انہوں نے استعارات اور تشبیہات کے تعلق سے اپنے کلام میں نئی معنویت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔

؂اٹا تھا دھول میں وہ ایسی رہ گزر میں تھا

عجیب شخص تھا جو روز و شب سفر میں تھا

کبھی جو پھول کی مانند نرم و نازک تھا

اب اس کے ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے

درد اور ٹیس سے مر جاتے ہیں کیسے کچھ لوگ میں نے زخموں کے سمندر میں سکوں پایا ہے

انور آفاقی کی شاعری احساس کی جس سطح کی ترجمانی مختلف زاویوں سے کرتی ہے اسے ہم روایتی اور جدید غزل کے درمیان ایک پل کا نام دے سکتے ہیں ان کی شاعری اور لہجے میں بڑا ربط ہے اور یہ لہجہ واقعی جدید غزل کا ہے۔ ایسا لہجہ کہ جس میں دل کی دھڑکنیں شامل ہیں ان کے لہجے کی مانوس اپنائیت غزل کو بہ یک وقت سوز و ساز بھی عطا کرتی ہے اور شاعری کو ” گویا یہ بھی میرے دل میں ہے” کا امین بھی بناتی ہے ۔ ان کی شاعری حیات انسانی اور اس کی بو قلمونیوں کا ہر طرح سے احاطہ کرتی نظر اتی ہے ۔ انہوں نے حسن و عشق کی نفسیات کو ذاتی تجربات کی روشنی میں پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ تجربوں کے بیان میں پاکیزگی معصومیت اور خود سپردگی نظر اتی ہے۔ ان کے طرز و فکر کا مخصوص انداز اور آہنگ انہیں ان کے ہم عصروں میں امتیاز عطا کرتا ہے۔ انہوں نے گھسے پٹے الفاظ و تراکیب سے پرہیز کرتے ہوئے اپنے کلام کی انفرادیت برقرار رکھی ہے ۔ ان کی غزلیں مختلف رنگ کی ہیں ۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں نوع بہ نوع موضوعات کو بڑی خوبصورتی اور فنکاری سے برتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں چند اشعار

؂وہیں شعلوں میں سمٹ آئے گی شبنم کی نمی

میں قلم سے جہاں اک لفظِ شجر لکھوں گا

کسی نے بخش دیا جب کمالِ خوش نظری

رہا نہ فرق گداؤں میں بادشاہوں میں

سنا ہے اس کو اچانک نگل گئیں سڑکیں

جو سب سے آگے ہمیشہ سفر میں رہتا تھا

انور افاقی کی شاعری وسیع کینوس پر پھیلی ہوئی ہے جس میں خارجی اور داخلی زندگی کی کشمکش ، گم شدہ تہذیب کی بازیافت ، حیات کے پیچیدہ مسائل ، زندگی سے محرومی و ناکامی اور جینے کی امنگوں کے برعکس بیگانگی و محرومی کا عکس صاف دکھائی دیتا ہے ۔ انہوں نے غزل کی تہذیب کو اپنی شاعری میں اچھی طرح جذب کیا ہے ۔ جہاں کلاسیکیت کے ساتھ نئے تجربے بھی ہیں اور جدید انداز بیان بھی۔ انہوں نے موضوعات کو الگ ڈھنگ سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے لب و لہجے میں نیا انداز نئی تشبیہات خوبصورت کنایات عمدہ خیالات تصور و تخیل کی گہرائی اور معاملات حسن کی صحیح عکاسی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں بہار کے شعری وادی منظر نامہ پر انور آفاقی نے اپنی بے پناہ شعری و ادبی صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنی شناخت قائم کی ہے اور اس جذبے کا اظہار کیا ہے کہ ؂

کل تو میں دور بہت دور چلا جاؤں گا

آج موجود ہوں آنکھوں پہ بٹھا لو یارو

آخر میں ان کی بہتر صحت کے لیے دعا گو ہوں اور چاہتا ہوں کہ دنیائے ادب میں ان کا نام روز روشن کی طرح منور ہو اور ادب کا جوہری اپنے ہیرے کی تلاش میں کامیاب ہو۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

تینتسواں فقہی سیمینار میں حاضری
فقہی سیمینار میں حاضری اور کچھ سبق آموز کہانی

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
  • 1 Comments
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از : مجيب الرحمن عتيق ندوي حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی رحمہ اللہ بھی راہی ملک بقاء ہوگئے، ” كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام ” موت سے کس کو رستگاری ہے ہر روز بندگان خدا کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا زندگی کی بے ثباتی، انسان کی بے بسی اور اس دنیا کے ” مستقر ومتاع الی حین ” کا اعلان ہے، ” قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجاکر نقارہ "، حضرت مولانا رحمہ اللہ کا انتقال دار العلوم ندوہ العلماء کی تاریخ میں ایک عظیم معمار نسل، مربی و استاد اور غیر معمولی صفات وخصوصیات کے عہد کا خاتمہ ہے، مولانا مرحوم اپنی صلاحیت، ادب و ذوق، اعلی اخلاق، ذوق پروری، سادگی وتقوی، وضع واطوار، روش بندہ پروری، معمولات و پابندی اوقات، اور ایک طویل عہد پر پھیلی ہوئی متنوع خدمات میں ” فرد ممتاز ” کی حیثیت رکھتے ہیں، جن لوگوں کو مولانا کو دیکھنے اور ان سے استفادہ کا موقع ملا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اپنی وضع و خو میں ایک "نرالے بے مثال انسان ” تھے، مولانا رحمہ اللہ ایک علمی و خدا ترس گھرانے میں پیدا ہوئے، اور پرورش و پرداخت پائی، آپ کے والد ماجد حضرت مولانا ایوب صاحب اعظمی رحمہ اللہ مشہور محدث اور جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں شیخ الحدیث تھے، اور اپنے زمانے کے مشاہیر علماء اور کبار اساتذہ حدیث میں شامل تھے، حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے نصف صدی سے زائد دار العلوم ندوہ العلماء میں تدریسی و تربیتی خدمات انجام دیں، کئی نسلوں کے معمار و مربی رہے، دار العلوم کی مسجد میں امامت سے لیکر انتظام و ادارت کی کرسی کو سنبھالا، منبر ومحراب کی خطابت سے لیکر دار العلوم کے عربی ترجمان البعث الاسلامی اور ” الرائد ” کی سرپرستی فرمائی، ہزاروں خطبات اور سیکڑوں مقالات واداریے مولانا کی فیاضی طبع، ادبی ذوق، زبان وقلم کی جولانی کے گواہ ہیں، مولانا…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • حسد
  • حسد کیا ہے؟
  • ستمبر 12, 2026
  • 0 Comments
حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی ، گڈا جھارکھنڈ 9506600725 حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یعنی تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کها جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کها جاتی ہے- (ابو داود، کتاب الاداب، باب الحسد، ابن ماجہ، کتاب الذهد) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں هو سکتے- (نسائی، کتاب الجہاد) حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے حسد کا نقصان یہ ہے کہ وه آدمی سے اعلی ایمانی کیفیات کو چهین لیتا ہے- حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وه دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا- موجوده دنیا میں ایسا هوتا ہے کہ کبهی ایک شخص بظاہر بڑا هو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر چهوٹا- یہ امتحان کے لئے هوتا ہے- وه اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجهہ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چهوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف هو جائے تو گویا کہ وه خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے- ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا- حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ هو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے- اس کا نقصان اس کو بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وه اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے : یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے-  (البخاری، کتاب التوحید) قرآن میں تقوی کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی هو تب بهی آدمی اس کے بارے میں عدل و…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف 07.10.2026
  • مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم 06.10.2026
  • مریضوں پر بڑھتا بوجھ 06.10.2026

حالیہ تبصرے

  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از سعیدی اسلوب: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زبان و ادب کی خصوصیات 1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ: حیات، خدمات اور وفات پر تاثرات1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی عظیم صفت: اختلافات میں اتحاد اور حکمت 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم
مضامین و مقالات

مریضوں پر بڑھتا بوجھ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top