Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
23.09.2026
Trending News: شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
23.09.2026
Trending News: شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ

  1. Home
  2. میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ

میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • مئی 21, 2024
  • 0 Comments

*میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃاللہ علیہ*
*طارق شفیق ندوی*
*نائب ناظم دارالعلوم فیض محمدی ، مہراج گنج ، یوپی*


*اک عکس جیسے نور کا بکھرا ہو چار سو*
*چہرے پہ یوں چمکتی تھی ان کی محبتیں*


مرشد و مربی مولانا شہباز سیوانی رحمۃ اللہ علیہ ( وفات 09/ نومبر/ 2002 ) ایک متوازن الفکر انسان اور ایک متبحر اور متنوع صلاحیتوں کے عالم دین تھے . وہ بلند پایہ محدث و مفسر تھے . بہترین ادیب و شاعر تھے . انصاف پسند مہتمم اور دوراندیش منتظم تھے . جرات مند مدیر اور بے لاگ مبصر تھے . جفاکشی ، اصول پسندی اور للہیت میں ممتاز تھے . ان کی صلاحیت و صالحیت اور فضائل و کمالات کے سبھی معترف تھے . ان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں ان کے استاذ اول (١) حاجی مولوی محمد بشیر صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 04 / اکتوبر/ 1972 ) جو میرے خسر ڈاکٹر محمد زین الدین صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 13/اگست / 2020 ) کے اکلوتے حقیقی پھوپھا تھے ، رانی پور کے رہنے والے تھے . ان کی بڑی بیٹی غفری خاتون میرے بڑے ماموں جناب احسان احمد صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 19/مئی/ 1995 ) سے اور چھوٹی بیٹی صابرہ خاتون مولانا شہباز صاحب کے بڑے بھائی ماسٹر محمد عالم رحمہ اللہ ( وفات 23/ دسمبر 2019 ) سے منسوب تھیں . (٢) مولانا اختر احسن اصلاحی ، (٣) علامہ مودودی اور (٤) مفکر اسلام علی میاں رحمہم اللہ اجمعین کی علمی ، فکری ، تعمیری اور تحقیقی رجحانات کا نمایاں دخل تھا اور ان کے وعظ وخطبات ، پندونصائح ، بے نفسی و فروتنی ، معاملہ فہمی و خوش تدبیری اور غیر معمولی انتظامی قابلیت و خدمات کو فکر اسلامی کی تشریح و تنفیذ کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا تھا.
*ان سے ملے ہوئے تو زمانہ گزر گیا*
*لیکن وہ جلوہ آج بھی میری نظر میں ہے*
مولانا جیسی یکتائے روزگار اور جامع صفات شخصیت کو پہلی بار 1977 میں دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا ، موصوف جب مولانا علی میاں ندوی نوراللہ مرقدہ کی خواہش پر جامعہ اسلامیہ بھٹکل ( قیام 1962 ) کے منصب اہتمام سے مستعفی ہو کر دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے شعبہ تدریس سے وابستہ ہوئے تھے اور ان کی رہائش کے لئے رواق سلیمانی بالائی منزل کمرہ نمبر تین الاٹ ہوا تھا ، جس میں پہلے ہی سے راقم الحروف اپنے والد ماجد مولانا شفیق الرحمن ندوی نور اللہ مرقدہ کے ساتھ مقیم تھا اور مولانا حبیب اللہ رانچوی ندوی حفظہ اللہ بھی اس کمرے کے مکین تھے .
مولانا شہباز صاحب لمبے ، تڑنگے ، چوڑے ، چکلے مانند دیو ہیکل پہلوان تھے . چہرے پر رعب اور آنکھوں میں جلال تھا ، دماغ شاداب ضرور تھا مگر آواز میں کرختگی اور خشکی تھی ، بڑے سخت گیر معلوم ہوتے تھے . میں چھ سات سال کا طفل مکتب تھا اور ان سے شب و روز کا واسطہ تھا ، انہوں نے میری تربیت کے لئے جو انداز اختیار کر رکھا تھا وہ انتہائی تکلیف دہ تھا اور مجھے قطعی پسند نہیں تھا . معمولی معمولی بات پر ان کا ٹوکنا مجھ پر بہت زیادہ گراں تھا اور میں دکھی رہتا تھا . موصوف والد صاحب کو بھی اکساتے رہتے تھے کہ آپ کا لاڈ پیار طارق میاں کے لئے مضر ثابت ہوگا . جس پر والد صاحب کا پارا چڑھ جاتا اور میں ان کے سخت رویہ کا شکار ہوتا ، دل برداشتہ رہتا . اسی زمانے میں انھوں نے ایک طالب علم کو زوردار تھپڑ رسید کر دیا تھا . بقول مضروب دن میں تارے نظر آنے لگے تھے . میں نے بھی رخسار پر ابھرے ہوئے انگلیوں کے نشانات دیکھےتھے اور مجھ پر یہ حادثہ بہت شاق گزرا تھا . اسی زمانہ میں عید کی خریداری کے لئے والد صاحب کی مرضی کے خلاف ان کے پیچھے پیچھے دوکان تک چلا گیا اور باصرار اپنی پسند کا تھوڑا مہنگا کپڑا خریدوانے میں کامیاب ہو گیا تو مولانا شہباز صاحب چراغ پا ہوگئے ، خود بھی ڈانٹا اور والد صاحب سے بھی کھری کھری سنوایا ، ظاہر ہے ایسے ماحول میں کیا خاک لگے دل یارو! مولانا در اصل مجھے سادہ مزاج اور قناعت پسند دیکھنا چاہتے تھے وہ ہمیشہ کفایت شعاری کے فوائد سے آگاہ فرماتے رہتے تھے کہ معلوم نہیں کب کس کو کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ جائے ، لھذا سادگی اختیار کرو ، اسی میں عافیت و سکون ہے ، تکلفات زندگی میں بڑی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے . وہ کپڑا پریس کرنے اور کروانے پر سختی سے منع کرتے ، فرماتے اس میں وقت اور پیسے کا ضیاع ہے اور ترکیب بتاتے کہ کپڑا جب ہلکا گیلا رہے اسی وقت تہ جما کر سدھانے رکھ لیا کرو ، صبح تک شکن مٹ جائے گا ، ظاہر ہے ان باتوں سے اس وقت تکدر ہی ہوتا تھا.
نانی جان ( صابر النساء ) کی آہ سحر گاہی اور رب سے ہزار منت و سماجت کے بعد اس دنیا میں آیا تھا ، سب کی آنکھوں کا تارا ، سب کا پیارا اور امی جان کا تو انتہائی دلارا اور لاڈلا تھا ، میری جدائی سے ہر شخص دل فگار تھا ، وہ تو بوجہ تعلیم والدہ ماجدہ نے دل پر پتھر رکھ کر ندوہ بھیج دیا تھا ، جہاں کی تعلیم و تربیت ، خوبصورت عمارتوں اور حسین نظاروں کا میں بھی عاشق و دلدادہ تھا اور آج بھی یہ ساری چیزیں باعث فخر و اطمینان اور وجہ سکون ہے لیکن مجھے مطبخ کی رنگ برنگی دال ، ہڈی دار گوشت اور پانی دار شوربہ پسند نہیں تھا . البتہ مطبخ کی روٹی بہت مرغوب تھی . آج بھی اسے شوق سے کھاتا ہوں اور ایک خاص قسم کی لذت پاتا ہوں . اس وقت اس روٹی کو کبھی ملیدہ بنا کر ، کبھی حلوہ بنا کر ، کبھی گھی میں تل کر اور اکثر چائے میں ڈبو کر کھاتا تھا . والد صاحب کنٹین سے چائے منگوا دیا کرتے تھے ، جس پر مولانا شہباز صاحب بہت پیچ وتاب کھاتے اور اپنی ناراضگی کا بھر پور اظہار کرتے تھے ، جو میرے لئے نا قابل برداشت ہوتا تھا . میں نے والدہ ماجدہ کو خط لکھا اور احوالِ واقعی سے واقف کرایا کہ والد صاحب درس و تدریس ، مطالعہ ، طلباء کی نگرانی اور مولانا رابع صاحب کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور مجھے وقت نہیں دے پاتے ہیں . کھانا یہاں کا پسند نہیں ہے ، اصرار پر کینٹین سے چائے منگوا دیتے ہیں ، اکثر چائے ، روٹی پر گزر بسر ہوتا ہے . چائے منگوانے پر مولانا شہباز صاحب اعتراض کرتے ہیں . مجھے ان دونوں حضرات سے کوئی راحت نہیں ہے . میری زندگی اور خوشی کے خاطر اپنے پاس بلا لیج .


*ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر*
*تو وہ خوف و ذلت کے حلوے سے بہتر*


والدہ کی جانب سے لفافہ بند جواب آیا ، جس میں میرے علاوہ والد صاحب اور مولانا شہباز صاحب کے نام بھی خط تھا . طارق بابو! اللہ تعالیٰ آپ کو فرحت و مسرت اور کامیابی عطا فرمائے اور آپ جس مقصد کے لئے گئے ہیں اس میں کامران و سرخرو ہوں اور ایک قابلِ رشک انسان بن کر واپس ہوں . آپ والد صاحب کی مجبوریوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے اور ان کی مصروفیات پر سوال مت اٹھائیے . مولانا شہباز صاحب ہم سب کے محترم ہیں . لھذہ آپ ان کی عزت کریں اور دل کو میلا نہ کریں نیز کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ دیں . صبر سے کام لیجئے ، صبر میں کامیابی ہے . انشاءاللہ بہت جلد مولانا کا پیار آپ کو حاصل ہوگا .
والد صاحب کو لکھا کہ اخراجات کے لئے روپیہ کم بھیجئے یہ گوارہ ہے لیکن طارق سلمہ کی صحت و تندرستی متاثر ھو یہ کسی صورت مناسب نہیں ہے ، وہ آپ کے پیار اور دلجوئی کا زیادہ مستحق ہے . اس کے لئے بھی ‌وقت فارغ کیا کریں .
مولانا شہباز صاحب کو لکھا کہ آپ احسان بھائی جان اور زین الدین بھیا کے رشتے سے میرے بڑے بھائی ہوتے ہیں اور طارق آپ کے بھانجے . عزیزم طارق مجھ سے ، اپنے بھائی بہنوں اور شفیق رشتہ داروں سے دور ہیں ، ایسے میں انھیں آپ کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ انھیں نہ کسی کی یاد ستائے اور نہ ہی پڑھنے سے ان کا دل اچاٹ ہو . اس کے بعد تو مولانا کے رویہ میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں اور ان کی محبتیں ، شفقتیں اور عنایتں حاصل ہونے لگیں . اب یہ میرے لئے پیکر وفا تھے ، خالو جان تھے ، محسن استاد اور مشفق مربی تھے . آج زندگی کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد اس حقیقت سے آگاہ ہوا کہ مولانا کی تربیت میں کیسی دانشمندی ، پیار اور خلوص تھا ، آج بھی ان کی باتیں کانوں میں گونجتی ہیں ، مشعل راہ ثابت ہوتی ہیں اور ہر موقع پر مکمل رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہیں اور بلا خوف تردید لکھتا ہوں کہ میری آنکھوں نے ان جیسا حکیم و دانا اتالیق نہیں دیکھا .


*ہم بھول گئے رے ہر بات ، مگر تیرا پیار نہیں بھولے*


محض دو سال بعد سنہ 1979 میں ابا حضور اور خالو جان ( مولانا شہباز صاحب ) کو ایک ہی جگہ فیملی کواٹر مل گیا تھا ، یہاں بھی دن رات کی ملاقاتیں تھیں ، لیکن اب وہ دل کو بھانےاور آنکھوں کوجچنے لگے تھے ، ایک خوشگوار تعلقات کا سلسلہ چل پڑا تھا ، راقم الحروف نفع ، نقصان اور اچھے ، برے کی تمیز کرنے لگا تھا ، والد صاحب گھر سے باہر والوں کے لئے تو اسم با مسمی نہایت شفیق و مہرباں تھے لیکن اہل خانہ کے لئے ذرا مختلف تھے . گھر میں ان کا مخصوص نظام چلتا تھا اور سب کو اس کا پابند رہنا پڑتا تھا ، معمولی بے اعتدالی ، کوتاہی اور تساہلی بھی گوارہ نہیں کرتے تھے . ایسے میں مجھ آزاد فکر ، آزاد خیال ، تیز رو طفل ناداں کو ایک عبقری صلاحیت کے شفیق وخلیق مربی کی ضرورت تھی . راقم نے از خود مولانا شہباز صاحب کو اپنا اتالیق و سرپرست بنالیا اور اپنے حسن انتخاب میں صد فیصد کامیاب رہا کیونکہ مردم گری اور مردم سازی میں انھیں ید طولی حاصل تھا . اب ہر بات ان سے کہتا اور ہر معاملہ ان کے سامنے رکھتا ، ان کی بڑی خوبی یہ تھی کہ تمام معاملات ، واقعات اور حادثات کو بڑے آرام و سکون سے بغور سنتے ، یہاں تک کہ میں مطمئن ہو جاتا . موصوف کسی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے کوئی نظریہ قائم نہیں کرتے ، چھان بین کرتے ، اپنی مخلصانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیق سے دودھ اور پانی الگ کر دیتے تھے اس کے بعد جس کو غلط پاتے ، اس کو سمجھاتے ، روز محشر کے حساب و کتاب سے ڈراتے . مجھے عمومی طور پر زمانہ کے نشیب و فراز سے روشناس کراتے ، اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں جینے کا ہنر سکھاتے ، اکثر فرماتے اپنے اندر اخلاص و توازن پیدا کرو ، ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور احترام کرنے کی عادت ڈالو ، وقت کی قدر کرو اور درجہ کی پابندی کے ساتھ صف اول میں نماز پڑھنے کا اہتمام کرو ، ان شاء اللہ اس کے بعد ہر طرح کے شرور و فتن سے محفوظ رہو گے .


جب سن شعور کو پہنچا تو اپنی تیزی ، معاملہ فہمی اور حاضر جوابی اور والد صاحب کی اصول پسندی کی وجہ سے ہر چہار جانب سے مسائل میں گھر جاتا تھا ، اس مشکل دور میں مولانا شہباز صاحب بہت کام آتے تھے ، ایک طرف مجھے سنبھالا دیتے تو دوسری طرف زمانہ کی ستم ظریفی ، مکاری ، عیاری اور اقتدار کی بد مستی اور نشہ سے واقف کراتے اور صبر سے حالات کو سمجھنے اور اس سے مقابلہ کرنے کے گر سکھاتے اور ہر طرح کے معاملات کے لئے سوجھ بوجھ کے ساتھ نرم رویہ اپنانے کا مشورہ دیتے اور بحسن و خوبی انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے . ایک دفعہ ان کے مشورے سے جماعت میں چلہ کے لئے دہلی مرکز گیا تو انہوں نے معروف داعی مولانا محمد غزالی خطیبی بھٹکلی ندوی رحمہ اللہ ( وفات 08/جون/2018 ) کو خط لکھا کہ *طارق میاں میرے عزیز ہیں ، ذرا نازک اور حساس مزاج ہیں . امید ہے کہ آپ کی نگرانی میں انھیں کسی قسم کی کوئی دشواری نہیں ہوگی .*


ایک مرتبہ ایک انتہائی ناگفتہ بہ واقعہ سے مایوسی اور پژمردگی کا شکار ہو گیا تھا ، زندگی سے بیزار ہوگیا تھا اور علماء پر سے اعتبار اٹھ گیا تھا ( اللہ تیرے انصاف و جلال کی قسم تو بھی انہیں دنیا و آخرت میں رسوا و ذلیل کرنا ) ایسی نازک گھڑی میں مولانا نے بڑی شفقت و ہمدردی کا معاملہ کیا تھا اور کچھ اس طرح عزم و حوصلہ میں اضافہ کیا تھا کہ مخالفین کے وجود ہی سے آدمی کی عظمت اور بڑائی کا پتہ چلتا ہے . الحمدللہ آپ بے قصور ہیں . سنجیدہ اور انصاف پسندوں کا ایک بڑا طبقہ آپ کے ساتھ ہے ، خندہ پیشانی سے حالات کا مقابلہ کیجئے . ان شاء اللہ گردوغبار چھٹ جائیں گے اور آپ سرخرو ہوں گے ، اللہ کی ذات پر یقین رکھیے وہ آپ کو ضائع نہیں کرے گا . آپ کے والدین کی نیکیاں کام آئیں گیں اور اللہ تعالیٰ ان فتنہ پروروں اور سازشی ٹولہ و گروہ کو ضرور ناکام کرے گا .


میرے ممدوح مولانا شہباز اصلاحی رحمہ اللہ ایک خیر خواہ اتالیق و سرپرست کی طرح میری نشست و برخاست اور طرز معاشرت پر کڑی نظر رکھتے تھے ، ان کی کوشش رہتی کہ علمی ارتقاء کے ساتھ میرے اندر وہ خوبیاں پروان چڑھیں جن کی موجودہ دور میں ضرورت ہے اور جن سے ایک اچھے انسان ، ایک اچھے عالم ، ایک اچھے خطیب کو مزین و متصف ہونا ہی چاہیے ، کیونکہ دنیا اعلیٰ اخلاق و کردار کے میدان کار اور رجال کار کی متلاشی ہے . آج جس قدر بھی خوبیاں اور اچھایاں راقم الحروف میں پائی جاتی ہیں ، والدین کریمین کے بعد اس کا ایک بڑا حصہ اور سرمایہ مولانا شہباز علیہ الرحمہ کے رہین منت ہیں . انہوں نے میرے اندر نہ صرف یہ کہ سخن سنجی اور شعر فہمی کا ذوق پیدا کیا بلکہ زبان و ادب کی لطافتوں سے بھی آشنا کیا ، خطابت کی اثر انگیزی ، مضمون نویسی کا فن سکھایا ، تدبر و تفکر ، تحقیق و تدقیق کا ایک خاص ذہن بنایا جس کا آج تک فائدہ پہنچ رہا ہے .
راقم اپنے آبائی وطن مغربی چمپارن کے کلچر کے مطابق بچپن ہی سے لنگی پہننے کا شوقین ہے .( بھٹکلی لنگی جو مجھے بہت زیادہ پسند ہے . ثانویہ رابعہ سے آج تک صرف وہیں کی لنگی پہنتا ہوں ، بقول مولانا شہباز صاحب طارق کی لنگی معیاری اور نفیس ہوتی ہے ، ہمیشہ ان کی لنگی شکن سے پاک پریس زدہ رہتی ہے . بہتروں کے پائجامہ سے زیادہ صاف ستھری ہوتی ہے ) اس سے قبل چاند مارکہ کی خوبصورت لنگیاں پہنا کرتا تھا . ایک مرتبہ سرداروں سے متاثر ہو کر ساٹن کی رنگین لنگی پہن کر گھر سے نکل پڑا ، مولانا کی نظر پڑ گی ، قریب بلایا اور فرمایا کہ آپ کا تعلیمی و تربیتی تعلق ایسے خاندان ، ایسے ادارے سے قائم اور استوار ہے جن کی تہذیب و ثقافت کا غلغلہ ہر چہار سو بلند ہے اور ہر ایک تسلیم کرنے پر مجبور ہے ، ایسے میں آپ کی یہ لنگی نہ تو آپ کے خاندانی معیار کے مطابق ہے اور نہ ہی ندوہ کے امتیازی شان کو برقرار رکھتی ہے ، آپ کے ذوق و شوق میں گراوٹ محسوس کر رہا ہوں .


راقم والد صاحب کی نگراں آنکھوں سے بچنے کے لئے امتحانات کے زمانے میں اکثر مسجد آجایا کرتا تھا ، جہاں مذاکرہ کے ساتھ خوش گپیوں کا موقع بھی مل جاتا تھا ، جس پر مولانا شہباز صاحب مسلسل نگاہ رکھتے . ایک دن اپنے دربار عام میں طلب کیا ، جو مسجد ندوۃ العلماء کے مشرقی دروازے کے سامنے کنوئیں کی جگت پر لگتا تھا ، جہاں ضرورت مندان علم و فکر اپنی ضروریات کی بارآوری کے لئے ہجوم کرتے تھے۔۔ اور دریافت کیا کہ آپ کس چیز کا مذاکرہ کراتے ہیں ؟ ثانوی درجات سے لے کر عالیہ تک کے طلبہ آپ کے مجلس مذاکرہ میں شریک ہوتے ہیں . میں نے ذرا شوخی سے کہا آپ ہی کے نقش قدم پر ہوں ، جس طرح سارے طلبہ آپ کو گھیرے رہتے ہیں ، کوئی قرآن کی کسی آیت کی تفسیر ، احادیث کے معانی و مفاہیم کو سمجھنا چاہتا ہے تو کوئی منطق و فلسفہ کی موشگافیوں کی وضاحت چاہتا ہے ، کوئی ہندی ، انگریزی اور فارسی کتابیں لے کر کھڑا دکھائی دیتا ہے اور آپ بلا تکلف سب کی الجھنیں اور اشکالات دور کرتے ہیں . مولانا ہنس پڑے اور فرمایا ، بذلہ سنجی ، ذہانت اور حاضر جوابی اپنی جگہ ، تم اس طرح وقت ضائع مت کرو کیونکہ ناکامی کی صورت میں یہ احباب کبھی کام نہیں آئیں گے اور پھر گیا وقت ہاتھ آتا نہیں . دیکھو! درسیات کے علاوہ غیر درسی کتابوں کے مطالعے پر خصوصی توجہ دو تاکہ تمہارے اندر اضافی معلومات کے ساتھ خود شناسی اور خود اعتمادی پیدا ہو .
راقم ہشتم معہد کا طالب علم تھا ، بزم ادب کا سالانہ اجلاس تھا ، بزم خطابت میں حصہ لینا چاہتا تھا ، والد صاحب سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے سختی سے منع کردیا اور فرمایا کہ فی الحال تقریر اور تحریر سے دور رہئے ، درسی کتابوں پر توجہ دیجئےاور اپنی صلاحیت کو مستحکم کیجئے . تقریر و تحریر سے خود نمائی پیدا ہوتی ہے ، اس عمر میں خود پسندی زہر ہلاہل ہے جو انسان کو تباہ و برباد کر دیتی ہے . اس کے بعد مولانا شہباز صاحب کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے پر تپاک انداز میں میری درخواست کو قبول فرمایا اور ایک ہی دن میں تقریر لکھ کر دے دی ، جسے بہت پسند کیا گیا اور اول پوزیشن حاصل ہوئی ، ہر طرف چرچا بھی رہا ، اسی اجلاس کے لئے اساتذہ نے اپنی خواہش کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ طارق تمہارا انداز خطابت بہت اچھا ، نرالا ، منفرد اور موثر ہوتا ہے اس لئے ہم لوگ چاہتے ہیں کہ تم ہندی تقریر میں بھی حصہ لو . یہ بات میں نے مولانا کے سامنے رکھی تو مولانا نے ہندی تقریر لکھنے کا بھی وعدہ کر لیا . عنوان تھا "مانتا کا سندیش” . نماز فجر کے بعد یہ کہنے کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا کہ مولانا ہندی تقریر کو اردو رسم الخط میں قلمبند کیجئے گا تاکہ آسانی سے جلد یاد کر سکوں . مولانا مسکرائے اور میری طرف تیار شدہ تقریر بڑھادی جو اردو رسم الخط ہی میں لکھی ہوئی تھی ، میری حیرت کی انتہا نہیں رہی . میں اسے معجزہ نہ کہوں تو کیا کہوں ، اس معجز نگاری کی مثال نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے .
ثانویہ رابعہ ( سوم عربی ) میں تقریر لکھوانے گیا تو مولانا نے تقریر کے مندرجات و مشمولات بتا دیئے اور لکھ کر لانے کی تاکید کی ، اس کے بعد اصلاح فرما کر اول پوزیشن کے لائق بنا دیا ، ثانویہ خامسہ ( چہارم عربی ) میں تقریر لکھوانے کی غرض سے ان کے پاس گیا تو ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ تم دوسروں کے مقالات اور تقریریں لکھ رہے ہو اور وہ سب انعام کے مستحق قرار پا رہے ہیں لیکن تم اپنے لئے تقریر لکھنے میں اب تک ہچکچا رہے ہو ، اس کا مطلب آج تک تمہارے اندر خود اعتمادی پیدا نہیں ہوئی ، جاؤ لکھ کر لاؤ ، چوٹ دل پہ لگی تھی ، محنت سے تقریر تیار کی جو سب کو پسند آئی اور انعام کی مستحق قرار پائی .
عالیہ اولی شریعہ ( پنچم عربی ) میں بعنوان "مولانا شبلی اور انکی علمی و ادبی خدمات” پر مقالہ رات بھر لکھ ڈالا جو گیارہ منٹ کا تھا اور اسے صرف سات منٹ میں پڑھنا تھا ، صبح اصلاح و تخفیف کے لئے والد صاحب کے پاس گیا تو آگ بگولہ ہوگئے ، ایک مقالہ کے لئے رات بھر جاگنا ، سب کی نیند خراب کرنا اور صبح کی نماز جماعت سے نہ پڑھنا میرے لئے نا قابل برداشت ہے ، عارضی چیزوں کے لئے آخرت کو نقصان پہنچانا کہاں کی دانشمندی ہے ؟


ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ مولانا شہباز کے پاس گیا مولانا نے بار بار مضمون کو پڑھا اور توقع سے زیادہ تعریف کی اور اول انعام حاصل کرنے کی پیشین گوئی بھی کی ، فرمایا تخفیف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، تم نے ایک ایک سطر کو موتی کی طرح پرو رکھا ہے ، کہیں سے بھی کچھ حذف کروں گا تو موتیوں کا یہ قیمتی ہار ٹوٹ جائے گا اور مضمون کے حسن ، سلاست اور وروانی کو نقصان پہنچے گا ، جہاں تک پڑھنے کا موقع ملے پڑھئے گا ، برادرم ڈاکٹر مجیب اختر ندوی ( پروفیسر دہلی یونیورسٹی ، دہلی ) جو اس وقت بزم سلیمانی کے معتمد تھے اور نظامت کا فرائض انجام دے رہے تھے جیسے ہی آخری گھنٹی بجائی ، سامعین پر سکتہ طاری ہو گیا ، سبھی تشنہ نظر آئے ، خوش قسمتی سے مولانا عبد النور عظیم ندوی رحمہ اللہ صدر اجلاس تھے ، انھوں نے اپنے صدارتی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے حکم حضرات کو نمبر چڑھا دینے اور مجھے مضمون مکمل کرنے کا حکم دیا ، میں نے جیسے ہی مقالہ پورا کیا مولانا محمد رضوان صدیقی ندوی رحمہ اللہ نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ طارق سلمہ نمبرات کے لحاظ سے ہر ایک حکم کے نزدیک اول پوزیشن پر ہیں . مولانا نور عظیم ندوی رحمہ اللہ نے جم کر تعریف کی اور سبھوں نے مبارک باد دے کر حوصلہ افزائی کی ، استاذ مکرم مولانا شمس الحق صاحب ندوی حفظہ اللہ نے بطور انعام میرے اس مضمون کو تعمیر حیات میں شائع کیا . آج تک رفقاء و شرکاء اس مقالہ کی تعریف و توصیف کرتے رہتے ہیں .
راقم السطور عالیہ ثانیہ شریعہ ( ششم عربی ) کا ایک چنچل ، شوخ اور ظریف طالب علم تھا . رواق سلیمانی میں بیت بازی کا سالانہ مقابلہ تھا اور مولانا شہباز ہندی صدر نشیں تھے ، میں اپنی ٹیم کا کیپٹن تھا ، لہک لہک کر چہک چہک کر اشعار پڑھ رہا تھا ، جس میں شوخی کے ساتھ ساتھ برجستگی بھی تھی ، میری ٹیم فاتح بھی قرار پائی تھی . لیکن مولانا مرحوم نے نماز فجر کے بعد طلب کیا اور ہمیشہ کے لئے بیت بازی میں حصہ لینے سے منع کر دیا . فرمایا کل رات اندازہ ہوا کہ آپ کو اشعار بہت یاد ہیں ، جس کی وجہ سے برجستہ اور برمحل جواب دیتے ہیں ، بلکہ اشعار کا جواب اشعار میں دینے کا خاص ملکہ حاصل ہے ، انداز بھی بڑا بےباکانہ اور جارحانہ ہوتا ہے ، جس سے محفل پر رنگ بھی چڑھتا ہے اور آپ رونق بزم بھی قرار پاجاتے ہیں . اس کے باوجود میں چاہتا ہوں کہ آپ بیت بازی کے مقابلوں میں شریک نہ ہوا کریں . سر تسلیم خم! خاموشی سے الٹے پیروں گھر لوٹ آیا .


*کھلتا کسی پر کیوں میرے دل کا معاملہ*
*شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے !*


چند دنوں کے بعد پھر بلایا اور فرمایا ، آپ ایک عظیم والد کے ہونہار اور صالح فرزند ہیں ، آپ کا مستقبل تابناک و روشن ہے اور آپ سے اچھی امیدیں وابستہ ہیں . اس لئے آپ کے اشعار معیاری ہونے چاہیے ، اشعار کا انتخاب استاذ شعراء کے کلام سے کیا کیجئے ، ادائیگی میں شائستگی اور شریفانہ انداز اختیار کرنا چاہیے نیز


*گلہاے رنگا رنگ میں الجھا نہ کیجئے*
*ذوق جمال دید کو ہلکا نہ کیجئے*


مرد قلندر مولانا شہباز مرحوم شعر و سخن کے شائق و دلدادہ اور نباض تھے ، میری خواہش و اصرار پر انھوں نے اس روز چند متفرق اشعار سنائے ، جسے میں نے نوٹ کرلیا . اب اسے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں :


*پھر اس کی شان کریمی کے حوصلے دیکھے*
*گناہ گار یہ کہہ دے ، گناہ گار ہوں ‌میں*
*بے اس کے اشارے باغ جہاں میں کب برگ شجر ہلتا ہے*
*جب اس کی مشیت ہنس پڑتی ہے غنچہ بستہ کھلتا ہے*

*ذوق عروج چاہیے مٹی ہی کیوں نہ ہو*
*چڑھتا ہے آسماں پر بگولہ غبار کا*
*اے برق تجلی ٹھر ذرا کیا مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے*
*میں طور نہیں جو جل جاؤں جو چاہے مقابل آجائے*
*طیبہ کے ببولوں کے کانٹے پھولوں سے بھی نازک ہوتے ہیں*
*تلوؤں کو بھی لذت ملتی ہے آسودہ طبیعت ہوتی ہے*


مولانا کو اردو اور فارسی کے سیکڑوں شعر زبانی یاد تھے ، یوں تو تمام استاد شعراء کا کلام سناتے تھے لیکن بطور خاص میر تقی میر ، غالب ، اقبال ، جگر مرادآبادی ، اصغر گونڈوی ، شیرازی ، سعدی اور مولانا روم کے اشعار زیادہ پڑھا کرتے تھے .


عالیہ اولی شریعہ ( پنجم عربی ) کی کتاب شرح وقایہ لے کر مولانا شہباز علیہ الرحمہ کی خدمت میں پہونچا اور دریافت کیا کہ ان دونوں صفحات میں سے امتحان کے لئے سوالات قائم ہو سکتے ہیں ؟ مولانا نے دونوں صفحات کو سرسری طور پر دیکھا اور فرمایا کہ داہنے صفحہ سے تو کوئی معقول اور اہم سوال نہیں بن رہا ہے ، البتہ بائیں صفحہ سے ایک بہت اہم سوال بن سکتا ہے جو امتحان میں آ بھی سکتا ہے اور سوال و جواب دونوں ہی قلمبند کروا دیئے ، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ سوال امتحان میں آ بھی گیا ، جس پر مولانا نے میرا محاسبہ بھی کیا . میں نے بتایا کہ ایک استاذ پرچہ بنا رہے تھے تو ان صفحات پر اچانک میری نگاہ پڑ گئی تھی . مولانا دیر تک گھورتے رہے اور ایک ٹک میرے چہرے کو پڑھتے رہے پھر فرمایا تم واقعی فطری طور پر ذہین و فطین ہو . کاش دوستی کم کرتے ، سنجیدگی و متانت اختیار کرتے اور صرف تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں تک اپنے کو محدود رکھتے تو نمایاں کامیابی حاصل کرتے اور ایک کامیاب انسان بنتے . اللہ غریق رحمت کرے کس طرح کمزوریوں کو صرف نظر کرتے تھے اور ہر آن حوصلہ بخشتے رہتے تھے . واقعی تربیت حکمت ، دلسوزی اور جگر کاوی کا کام ہے اور مولانا کو تو اصلاح و تربیت کے میدان میں بڑی مہارت اور شہرت حاصل تھی .


عالیہ رابعہ شریعہ ( ہشتم عربی ) کا کلاس تھا ، معہد القرآن کی پہلی منزل میں امتحان ہو رہا تھا ، مولانا اس کے صدر نگراں تھے ، جغرافیہ جزیرۃ العرب کا پرچہ تھا ، سوالات خلاف توقع ، روایتی انداز سے ہٹ کر ، بالکل ایک الگ طریقہ سے بنائے گئے تھے ، ساتھیوں نے اعتراض کیا کہ دو سوال ہماری کتاب کے باہر سے آگئے ہیں . مولانا نے مجھ سے پوچھا کیا طلبہ کی بات صحیح ہے ؟ میں نے کہا نہیں دونوں سوال کتاب ہی سے آئے ہیں اور لگے ہاتھوں دونوں کے جوابات بھی بتا دیئے ، رفقاء درس بہت خوش ہوئے کیونکہ ان کا مسئلہ حل ہوگیا تھا . ہنسی تو مولانا کو بھی آئی لیکن ضبط سے کام لیا اور خوب ڈانٹا پھٹکارا ، قریب تھا کہ عصاء شہباز کا شکار ہوجاتا . امتحان کے بعد اپنے پاس بلایا اور نرمی و شفقت سے بہت کچھ سمجھایا ، پھر چلتے وقت فرمایا کہ آپ کی ذہانت و فطانت ، حافظہ اور یاد داشت کی داد تو دی جا سکتی ہے لیکن ایسی نا زیبا حرکت اور توہین آمیز شرارت پر آپ کو بخشا نہیں جا سکتا ہے . کاش آپ اپنے کو فضولیات اور لغویات سے محفوظ رکھتے ، اپنی ساری سرگرمیاں تعلیم‌ پر مرکوز رکھتے اور آپ کے نادان دوست آپ کو پڑھنے دیتے تو آپ ندوہ کے ایک قابل رشک فرزند وترجمان ہوتے.


ایک مرتبہ میرے ہاتھ میں دیوان غالب تھا اور مولانا سے سر راہ ملاقات ہوگئی تھی ، دریافت کرنے پر میں نے غالب کی شعری خدمات کا ذکر کرتے ہوئے غالب کو انیسویں صدی کا سب سے بڑا شاعر قرار دے دیا . مولانا نے فرمایا! غالب بھی کوئی شاعر تھا ، آج تک ایک دنیا اس کی شاعری کو سمجھنے سے قاصر ہے . پڑھنا ہے تو شاعر مشرق علامہ اقبال کو پڑھو ، ان کے اشعار قرآن و حدیث کے تفسیر ہیں اور اقبال فہمی کے لئے مولانا علی میاں ندوی کی کتاب نقوش اقبال پڑھو . چند دنوں کے بعد حاضر خدمت ہوا اور میں نے کہا کہ مولانا مستند ہے آپ کا فرمایا ہوا . غالب کو جس پائہ کا شاعر بتایا جاتا ہے ویسا ہے نہیں! ہنسنے لگے ، فرمایا عزیزم! پہلے پڑھئے پھر منھ کھولئے . گنتی کے چند بڑے شعراء میں غالب کا نام لیا جاتا ہے .


*ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے*
*کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور*


مولانا کے اس طرز عمل کا مقصد کیا تھا اس کو سمجھنے کے لئے جناب امین الدین شجاع الدین مرحوم کی تحریر کا سہارا لے رہا ہوں .
*”مولانا کا یہ اپنا ایک نرالا انداز تربیت تھا وہ طلباء میں اعتدال و توازن پیدا کرنا چاہتے تھے اور افراط وتفریط سے انہیں بچانا چاہتے تھے . اس سے مولانا کا ایک مقصد یہ بھی ہوا کرتا تھا کہ وہ طالب علم کو جانچیں اور پرکھیں کہ جو بات کہہ رہا ہے اس کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اس کے پاس کچھ دلائل ہیں بھی یا نہیں اس طرح وہ طلبہ میں تفکیری صلاحیت ، قوت استدال ، وسعت مطا لعہ اور خود اعتمادی جیسی صفات پیدا کرنا چاہتے تھے . مولانا کی ایسی مجلسوں کے طفیل طلباء کے فکر کی تعمیر ، ان کے شعور کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں کو پہچاننے ، نکھارنے اور طلباء میں خود شناسی پیدا ہونے کاجو کام ہوا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے . وہ ساقی تھے ، جہاں بیٹھ جاتے وہ جگہ میخانہ بن جاتی . "مریدان باصفا” کے جمگھٹ میں "مرشد شہباز” فکر کی غذا تقسیم کر رہے ہوتے ، اس میں علم کی لذت بھی ہوتی اور عشق کی حلاوت بھی ، اس سے دماغ کو تراوٹ بھی ملتی اور دل کو تقویت بھی پہونچتی!”*
( تعمیر حیات 25/ نومبر/2002 )


زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے


مولانا شہباز ابن محمد حبیب رحمہم اللہ کی پیدائش 1927 میں کلکتہ میں ہوئی تھی ، 31/مئی1951 میں مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ سے فراغت حاصل کی تھی ، 1977 میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ( عالیہ اور علیا درجات ) کے سینئر استاذ ہوئے تھے ، کم و بیش تیتس (٣٣) سال ندوہ میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد 09/نومبر/ 2009 کو وفات پائی اور ڈالی گنج قبرستان میں مدفون ہوئے. نور اللہ مرقدہ.

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

عربی زبان و ادب کا مطالعہ کیسے کریں
پارلیمنٹ کی مسجد : ایک تعارف معصوم مرادآبادی

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • حسد
  • حسد کیا ہے؟
  • ستمبر 12, 2026
  • 0 Comments
حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی ، گڈا جھارکھنڈ 9506600725 حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یعنی تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کها جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کها جاتی ہے- (ابو داود، کتاب الاداب، باب الحسد، ابن ماجہ، کتاب الذهد) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں هو سکتے- (نسائی، کتاب الجہاد) حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے حسد کا نقصان یہ ہے کہ وه آدمی سے اعلی ایمانی کیفیات کو چهین لیتا ہے- حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وه دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا- موجوده دنیا میں ایسا هوتا ہے کہ کبهی ایک شخص بظاہر بڑا هو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر چهوٹا- یہ امتحان کے لئے هوتا ہے- وه اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجهہ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چهوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف هو جائے تو گویا کہ وه خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے- ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا- حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ هو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے- اس کا نقصان اس کو بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وه اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے : یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے-  (البخاری، کتاب التوحید) قرآن میں تقوی کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی هو تب بهی آدمی اس کے بارے میں عدل و…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 11, 2026
  • 0 Comments
نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

نسلوں كی تعمیر میں اساتذه كا كردار! 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ ابھی ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء كی تاریخ گزری هے، ۵؍ ستمبر ۱۸۸۸ء هندوستان كے دوسرے صدر جمهوریه ایك ممتاز فلسفی، ماهر تعلیم، قابل استاذ اور مصنف ڈاكٹر رادھا كرشنن كا یوم پیدائش هے، هندوستان میں یه دن ان كی یاد میں هر سال یوم اساتذه كے عنوان سے منایا جاتا هے، اسی مناسبت سے درج ذیل تحریر پیش كی جا رهی هے: حقیقت یہ ہے کہ تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے ، ہر مذہب اور ہر سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے؛ کیوںکہ سماج میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سروسامان موجود ہے ، وہ سب در اصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اوردرسگاہیں ان کا اصل سرچشمہ ، اسلام کی نگاہ میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے ، پیغمبر کی حیثیت اپنے اُمتی کی نسبت سے کیا ہوتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے اور وہ یہی کہ نبی انسانیت کا مربی اور معلم ہوتا ہے ، و ہ تعلیم بھی دیتا ہے اور انسانیت کو اس علم کے سانچہ میں ڈھالنے کی بھی کوشش کرتا ہے : یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ (آل عمران :۱۶۴) اسی لئے اساتذہ کا احترام اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فقہاء ِصحابہ میں ہیں ، حدیث کی نقل و روایت اور فہم و درایت میں بھی بڑے اعلیٰ درجے کے مالک ہیں اور تفسیر و فہم قرآن کا کیا پوچھنا کہ اُمت میں سب سے بڑے مفسر مانے گئے ہیں ؛لیکن اس مقام و مرتبہ کے باوجود صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اورکہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے ، (مستدرک حاکم :۳؍۴۲۳) خلف احمر مشہور امام لغت گزرے ہیں ، امام احمد ؒ ان…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک 22.09.2026
  • تہجد کیا ہے؟ 22.09.2026
  • خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں 21.09.2026
  • مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت 19.09.2026
  • سود کی لعنت اور اس کا علاج 18.09.2026
  • معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون 16.09.2026
  • پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت 16.09.2026
  • یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 12.09.2026

حالیہ تبصرے

  • حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت از شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک 1
  • نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار) از تہجد کیا ہے؟ » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • خواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیت از خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری از دھرم پریورتن، سچائی اور پروپیگنڈہ » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • "فاسق معلن” کی دعوت قبول کرنے کے سلسلے میں شرعی حکم از دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے » HIRA ONLINE / حرا آن لائن

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

مضامین و مقالات

شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک

  • hira-online.com
  • ستمبر 22, 2026
شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک
اسلامیات

تہجد کیا ہے؟

  • hira-online.com
  • ستمبر 22, 2026
تہجد کیا ہے؟
گوشہ خواتین

خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں

  • hira-online.com
  • ستمبر 21, 2026
خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں
اسلامیات

مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 19, 2026
مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت
اسلامیات

سود کی لعنت اور اس کا علاج

  • hira-online.com
  • ستمبر 18, 2026
اسلامیات

معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون
اسلامیات

پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت
اسلامیات

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top