ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار
ذکر الٰہی آدم علی ندوی انسان کی زندگی کا اصل سرمایہ اس کا دل ہے۔ دل درست ہو تو زندگی کی سمت درست رہتی ہے اور دل غفلت میں پڑ جائے تو بظاہر زندگی کے سارے اسباب موجود ہونے کے باوجود انسان اندر سے ویران ہوجاتا ہے۔ جس طرح جسم کو زندہ رکھنے کے لیے غذا، پانی اور ہوا ضروری ہیں، اسی طرح دل کی زندگی بھی غذا چاہتی ہے، اور اس کی غذا ذکر الٰہی ہے۔ دل کے لیے مال و دولت غذا نہیں، آسائش و راحت غذا نہیں، عزت و جاہ غذا نہیں، حکومت و اقتدار غذا نہیں۔ یہ چیزیں جسم اور زندگی کے ظاہری اسباب تو ہوسکتی ہیں، مگر دل کا اطمینان ان کے ہاتھ میں نہیں۔ دل کی آبادی اپنے رب کی یاد سے ہے۔ جس دل کا تعلق اپنے رب حقیقی سے قائم ہے، وہ زندہ بھی ہے اور آباد بھی، اور جس دل سے اللہ کی یاد رخصت ہوگئی، اس میں غفلت اور ویرانی نے جگہ بنالی۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا کہ اللہ کو یاد کرنے والے اور اللہ کو یاد نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6407)قرآن مجید بھی دل کے اسی اطمینان کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(الرعد: 28)جو لوگ ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ذکر کیا ہے؟ ذکر کیا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف چند تسبیحات اور وظائف گن دینے سے مکمل نہیں ہوتا۔ بلاشبہ ذکر کی اعلیٰ اور افضل صورت یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول مسنون اذکار پڑھے جائیں، زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھا جائے اور صبح و شام کے اذکار کا اہتمام کیا جائے، لیکن ذکر کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کو یاد کرنا…
Read more

