*مریضوں پر بڑھتا بوجھ*
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

ان دنوں مریض ہو کر اگر آپ پرائیوٹ ہوسپٹل کا رخ کرتے ہیں تو مریض کے شفایاب ہونے کی یقین دہانی تو کوئی نہیں کر سکتا لیکن مال و دولت زمین جائیداد اور کبھی کبھی گھر تک بک جانے کی بات یقین کے درجے کی چیز ہے، پرائیوٹ اسپتال اگر مشہور برانڈ کا ہے تو روپے کا بورا کھول کر رکھ دیجیے اور وہ اس سے حسب مرضی نکالتا رہے گا اور جب بورا خالی ہو جائے گا اور ہوسپٹل والا محسوس کرلے گا کہ اب ہمارے اسپتال سے علاج کی قوت خرید مریض یا اس کے وارثوں کے پاس نہیں ہے تو وہ ہاتھ کھینچ لے گا، کبھی مریض کا تیمار دار بھی اس مرحلہ سے قبل ہوش میں آجاتا ہے اور وہ خود ہی مریض کو دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو اب وینٹی لیٹر پر تیمار دار کے جانے کی باری ہے۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ضروری اور غیر ضروری جانچ کے اخراجات ، دواؤں کی خریداری ، سرنج ، آئی وی سیٹ، آکسیجن، دستانے ، ماسک، پیشاب کے لیے بیگ اور دیگر ضروری آلات دواد و کان والے خرید ریٹ سے کئی گنا زیادہ قیمت پر فراہم کرتے ہیں، انہیں ڈاکٹروں کو کمیشن بھی دینا ہوتا ہے، اس صورت حال کو سامنے رکھ کر دواؤں پر درج (MRP) مارکیٹ ریٹ پرائز بہت بڑھا کر درج کیا جاتا ہے، بعض دکاندار پندرہ یا بیس فی صد خریدار کو رعایت بھی دیتے ہیں لیکن اس سے کوئی بڑا فرق قیمت پر نہیں پڑتا اور گرانی پھر بھی باقی رہتی ہے، بعض دواؤں اور علاج میں استعمال ہونے والے سامانوں میں خرید قیمت سے پندرہ سے انتیس گنا زیادہ ایم آر پی درج ہوتا ہے، ایسے میں اس کا سیدھا اثر مریضوں پر پڑتا ہے، آپ اسے چند مثالوں سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں،
کینولا کی خرید قیمت صرف 7.60 روپے ہے، لیکن اس کا مارکیٹ فروخت ریٹ دوسو بائیں روپے ہے، آئی وی سیٹ کی خرید بھی 7.80 میں کی جاتی ہے اور فروختگی 187 روپے، نیولائزیشن ماسک تینتیس (33) روپے میں خرید کر 642 میں بیچا جا رہا ہے، 20 ایم ایل سرنج کی خرید صرف 8.60 میں ہوتی ہے اور فروختگی قیمت 30.69 روپے ہے، پانچ ایم ایل والی سرنج کی خرید قیمت تین روپے اور فروختگی قیمت 10.23 روپے ہے، بی ٹی سیٹ دوکاندار صرف 12.30 میں خریدتا ہے اور اس کا ایم آر پی 187 روپے ہے، پیشاب جمع کرنے کے لیے بیگ 31.50 فروختگی 391 روپے، ویکیوم سکشن سیٹ خرید 88 روپے، فروختگی 780 روپے، آکسیجن ماسک خرید گی 38 روپے، فروختگی 648 روپے، نیولائزیشن ماسک خرید گی 33 روپے فروختگی 642 روپے، ایم ای ایس ایچ خرید گی 4150 روپے فروختگی 17 ہزار روپے، اسی طرح عارضہ قلب (ہارٹ ) کے لیے استعمال ہونے والی دوا ٹر یونی بان کی خریداری 800 روپے، فروختگی 11468، ٹراپیکٹ خریداری 365، فروختگی ، 841، پولی مائیسین خریداری 300 فروختگی 549 ، یہی حال کینسر کی دوا جیما سپٹا بین خریدگی 1210 اور فروختگی 5585، آکسالی پلائین 650 کی خریداری 468 ایم آر پی 3115 روپے ہے، یہ قیمتیں برانڈیڈ دواؤں کی ہیں، بقیہ جو نقلی دوائیں ہیں ، ان میں نفع کا تناسب اس سے کہیں زیادہ ہے۔
حکومت کو اس سلسلے میں سخت قدم اٹھانا چاہیے اور من مانے طور پر ایم آر پی کے اندراج پر پابندی لگانی چاہیے، تا کہ مریضوں پر بڑھنے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور غریب لوگ بھی علاج کا خرچ اٹھا سکیں۔

