صدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟

 مولانا آدم علی ندوی

صدقہ
صدقہ کی فضیلت

انسان چاہتا ہے کہ اس کی کمائی محفوظ رہے، ضرورت کے وقت اس کے کام آئے اور مشکل گھڑی میں اسے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اسی لیے وہ اپنی پونجی کو محفوظ جگہ رکھتا ہے، بینک میں جمع کرتا ہے، کاروبار میں لگاتا ہے یا کسی اور ذریعہ سے اس کی حفاظت اور اضافہ کی کوشش کرتا ہے۔
بلاشبہ انسان کو اپنی محنت کی کمائی کی حفاظت کرنی چاہیے اور مستقبل کی ضروریات کے لیے منصوبہ بندی بھی کرنی چاہیے۔ لیکن کبھی ہم نے اس سے آگے بڑھ کر سوچا ہے؟
جو مال ہم نے محفوظ کر رکھا ہے، کیا وہ قبر میں بھی ہمارے کام آئے گا؟
کیا وہ میدانِ محشر میں بھی ہمارے ساتھ ہوگا؟
کیا وہ پل صراط کے موقع پر بھی ہماری مدد کرے گا؟
کیا جب اعمال تولے جائیں گے تو ہمارا بینک بیلنس بھی ہمارے پلڑے میں رکھا جائے گا؟
نہیں،بالکل نہیں۔
دنیا کا مال دنیا ہی تک ساتھ دیتا ہے۔ انسان کی آنکھ بند ہوتے ہی اس کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے۔ جس مال کو وہ ساری زندگی اپنا سمجھتا رہا، وہ اس کے ہاتھ سے نکل کر وارثوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ انسان خالی ہاتھ قبر میں داخل ہوتا ہے۔
پھر وہ مال کہاں ہے جو واقعی ہمارے ساتھ جائے گا؟
وہ مال جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا۔
مال کو آخرت کے لیے محفوظ کرنے کا راستہ
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں صدقہ کرنے کو نقصان نہیں، بلکہ ایک ایسی تجارت قرار دیا ہے جس کا اصل نفع آخرت میں ملے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ(البقرۃ: 261)

"جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں، ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے مزید بڑھا دیتا ہے۔”

دنیا میں ایک روپیہ خرچ کیا جائے تو ایک روپیہ کم ہوجاتا ہے، لیکن اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا ایک روپیہ اللہ کے یہاں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہ وہ سرمایہ کاری ہے جس کا حساب دنیا کے کیلکولیٹر سے نہیں ہو سکتا ہے۔
اسی حقیقت کو ایک اور مقام پر یوں بیان فرمایا:وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ(سبأ: 39)

"اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو، اللہ اس کا بدل عطا فرماتا ہے۔”

تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم اپنے مال کا کتنا حصہ ایسی جگہ بھیج رہے ہیں جہاں وہ ہمارے مرنے کے بعد بھی ہمارے کام آئے؟
دنیا کا بینک بیلنس یا آخرت کا بینک بیلنس؟
دنیا میں ہم اپنے مال کا حساب رکھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بینک میں کتنی رقم ہے، کاروبار میں کتنا سرمایہ لگا ہوا ہے اور ہمارے پاس کتنی نقدی موجود ہے۔
لیکن ایک مسلمان کو اپنے آخرت کے حساب کی بھی فکر ہونی چاہیے۔
کتنا مال ہم نے اللہ کے لیے خرچ کیا؟
کتنے بھوکے پیٹ کو کھانا کھلایا؟
کتنے پیاسوں کو پانی پلایا؟
کتنے یتیموں اور محتاجوں کا سہارا بنے؟
کتنے ایسے کام کیے جن کا اجر ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا؟
یہی وہ سرمایہ ہے جو قبر میں ہمارے ساتھ جائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ(صحیح مسلم: 1631)

"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔”
کتنی بڑی خوش نصیبی ہے کہ انسان دنیا سے چلا جائے، لیکن اس کے نامۂ اعمال میں نیکی کا سلسلہ جاری رہے۔

صدقہ مال کو کم نہیں کرتا

بعض اوقات انسان سوچتا ہے: اگر میں نے آج اتنا مال صدقہ کردیا تو میرے پاس کیا بچے گا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوچ کی اصلاح فرماتے ہوئے فرمایا:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ(صحیح مسلم: 2588)

"صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔”

دنیا کی نظر میں مال دینے سے کم ہوتا ہے، مگر ایمان کی نظر میں اللہ کی راہ میں دیا ہوا مال ضائع نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ(البقرۃ: 276)

"اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔”

انسان کو بظاہر سود میں اضافہ نظر آتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سود کو مٹا دیتا ہے، جبکہ صدقہ بظاہر مال کو کم کرتا دکھائی دیتا ہے، لیکن اللہ اسے بڑھاتا ہے۔

صدقہ کے لیے بہت زیادہ مال ضروری نہیں
صدقہ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے پاس بہت بڑی دولت ہو، تب ہی وہ صدقہ کرسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ(صحیح بخاری: 1417، صحیح مسلم: 1016)

"جہنم کی آگ سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی۔”

اللہ کے یہاں اصل قدر مال کی مقدار سے زیادہ اخلاص کی ہے۔ایک شخص لاکھوں خرچ کرے اور دل میں دکھاوا ہو، تو اس کا معاملہ خطرناک ہے، اور دوسرا شخص اپنی معمولی آمدنی میں سے تھوڑا سا نکالے، مگر خالص اللہ کی رضا کے لیے، تو وہ تھوڑا سا اللہ کے یہاں بہت بڑا بن سکتا ہے۔

اسی لیے صدقہ کرتے وقت مقدار کے ساتھ نیت کی بھی فکر ہونی چاہیے۔
مال نہ ہو تو کیا صدقہ نہیں کرسکتے؟
یہ بھی ایک غلط فہمی ہے کہ صدقہ صرف مال سے ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ(صحیح بخاری، صحیح مسلم)”ہر نیکی صدقہ ہے۔”
ایک دوسری روایت میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے خوش روئی کے ساتھ ملنا بھی صدقہ ہے۔
صحیح مسلم کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے جسم کے ہر جوڑ پر روزانہ صدقہ لازم ہے، دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، کسی کو سواری پر سوار ہونے میں مدد دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کی طرف اٹھایا ہوا ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔
گویا صدقہ کا دروازہ ہر شخص کے لیے کھلا ہے۔نیکی کی کوئی بھی صورت اللہ کے یہاں معمولی نہیں۔

صدقہ کی حفاظت

صدقہ دینے کے بعد سب سے بڑی ضرورت اس کی حفاظت ہے۔جس طرح دنیا میں ہم اپنے مال کو چوروں سے بچاتے ہیں، اسی طرح آخرت کے مال کو بھی چور سے بچانا ضروری ہے، اور وہ ہے ریا اور دکھاوا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ(البقرۃ: 271)

"اور اگر تم صدقات کو چھپا کر فقیروں کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خوش نصیب لوگوں میں ایک ایسے شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس قدر چھپا کر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہوا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔(صحیح بخاری: 1423، صحیح مسلم: 1031)

یعنی صدقہ دو اور بھول جاؤ۔نیکی کرو اور اس کا چرچا نہ کرو۔اللہ کے لیے دو اور لوگوں سے بدلہ نہ چاہو۔
صدقے کی حفاظت صرف ریا سے بچنے میں نہیں، بلکہ احسان جتانے اور تکلیف دینے سے بھی بچنے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى(البقرۃ: 264)

"اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضائع نہ کرو۔”

کسی ضرورت مند کو کچھ دے کر پھر ہر موقع پر اسے یاد دلانا کہ "میں نے تمہاری مدد کی تھی”، صدقے کی روح کے خلاف ہے۔
صدقہ قیامت کے دن سایہ بنے گا
دنیا میں دھوپ سے بچنے کے لیے انسان سایہ تلاش کرتا ہے، لیکن قیامت کے دن کی گرمی اور پریشانی کے وقت کیا ہوگا؟
ایک روایت میں آیا ہے:إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ (مسند احمد؛ مشکاۃ المصابیح: 1925)

"قیامت کے دن مؤمن کا سایہ اس کا صدقہ ہوگا۔”

صدقہ اللہ کی رضا کا ذریعہ

صدقہ صرف غریب کی ضرورت پوری کرنے کا نام نہیں، یہ دینے والے کے دل کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ مال کی محبت انسان کو باندھ لیتی ہے، لیکن صدقہ اس بندھن کو توڑتا ہے۔ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل مالک میں نہیں، اللہ ہے؛ میں صرف امین ہوں۔
اسی لیے صدقہ انسان کے دل میں سخاوت، رحم اور ہمدردی پیدا کرتا ہے۔

اور ایک روایت میں صدقہ کو اللہ تعالیٰ کے غضب کو بجھانے کا ذریعہ بتایا گیا ہے:إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ (جامع ترمذی: 664) "بے شک صدقہ رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔”
تو پھر ہمارا اصل سرمایہ کیا ہے؟
بینک میں رکھی ہوئی رقم؟
کاروبار میں لگا ہوا سرمایہ؟
زمین، مکان اور جائیداد؟
سونا، چاندی اور نقدی؟
یہ سب اپنی جگہ ضروری ہوسکتے ہیں، لیکن یہ سب دنیا کی ضرورت کے سرمایہ ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے آخرت کے لیے کیا جمع کیا؟
جو مال ہم نے اپنے لیے رکھا، وہ دنیا میں رہ گیا۔
جو مال اللہ کے لیے دے دیا، وہ ہمارے لیے آگے چلا گیا۔
جو مال ہم نے وارثوں کے لیے چھوڑا، وہ ان کا ہوگیا۔
جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا، وہ ہمارا بن گیا۔
جو مال ہماری موت کے ساتھ ختم ہوگیا، وہ دنیا کا سرمایہ تھا۔
جو مال ہماری موت کے بعد بھی اجر دیتا رہا، وہ آخرت کا سرمایہ ہے۔
اس لیے صدقہ کو صرف "کسی غریب کو کچھ دے دینا” نہ سمجھیں۔ صدقہ اپنے مال کو آخرت کے لیے محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
لہذا اپنے مال میں سے اللہ کے لیے کچھ نکالیے۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلائیے۔
کسی پیاسے کو پانی پلائیے۔
کسی یتیم کا سہارا بنیے۔
کسی طالب علم کی مدد کیجیے۔
کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر اس کی ضرورت پوری کردیجیے۔
اور اگر مال کم ہے تو اپنی مسکراہٹ، اپنی زبان، اپنا وقت اور اپنی خدمت کو صدقہ بنا دیجیے۔
لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے:
صدقہ صرف دینا نہیں، صدقے کو بچانا بھی ہے۔
اسے ریا سے بچائیے،
احسان جتانے سے بچائیے،
تکلیف دینے سے بچائیے،
اور اسے لوگوں کی تعریف کے بجائے اللہ کی رضا کے لیے کیجیے۔
دنیا کا بینک بیلنس ایک دن ختم ہوجائے گا، لیکن اللہ کے یہاں جمع کیا ہوا سرمایہ باقی رہے گا۔
لہٰذا اپنے مال کا کچھ حصہ دنیا کے لیے محفوظ رکھیے، مگر اپنا ایک حصہ لازماً آخرت کے لیے بھی محفوظ کر دیجیے۔ کیونکہ دنیا میں جمع کیا ہوا مال شاید زندگی کی کسی مشکل گھڑی میں کام آجائے، لیکن اللہ کی راہ میں دیا ہوا مال وہ سرمایہ ہے جو موت کے بعد بھی آپ کے کام آتا رہے گا۔


صدقہ فطر کی ادائی کیسے؟