Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
21.09.2026
Trending News: مقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
21.09.2026
Trending News: مقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

طبقاتی نظام ، ایک تعارف

  1. Home
  2. طبقاتی نظام ، ایک تعارف

طبقاتی نظام ، ایک تعارف

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • جنوری 16, 2026
  • 0 Comments

طبقاتی نظام ، ایک تعارف
مولانا ڈاکٹر احمد نور عینی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد


بھارت کا طبقاتی نظام دنیا کا آٹھواں بل کہ پہلا عجوبہ ہے، یہ طبقاتی تقسیم پر مبنی ہے، طبقات اورذات پات میں انسانوں کی تقسیم بھارتی سماج کی خصوصیت بھی ہے اور یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ بھی، ایک ایسا مسئلہ جو تقریبا چار ہزار سالہ قدیم تاریخ رکھتا ہے، یہ در اصل غلامی کا ایک نظام ہے جس کے سہارےنسل پرست قوم اپنے تسلط کے استحکام وبقا کے مقصد میں تاریخ کے مختلف ادوار میں کامیاب رہی ہے، اس طبقاتی نظام کے ڈھانچے، تاریخی پس منظر، اس کی خصوصیات اور اس سے متعلق اصطلاحات اور بھارتی سماج پر پڑنے والے اس کے برے اثرات سے واقف ہونا ضروری ہے۔


بھارتی سماج بنیادی طور پر دو قسموں پر منقسم ہے: سْوَرْنْ اور اَوَرْنْ۔ سورن یعنی سماج کا وہ حصہ جو طبقاتی نظام میں داخل ہے، اورن یعنی سماج کا وہ حصہ جو طبقاتی نظام سے خارج ہے، سماج کی جو اکائیاں گاؤں کے اندر ہی آباد رہیں وہ طبقاتی نظام میں داخل اور شامل ہیں، اور جو اکا ئیاں آبادی یعنی گاؤں سے باہر چلی گئیں وہ طبقاتی نظام سے خارج قرار پائیں، خارج ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا درجہ بڑھا ہوا ہے، بل کہ اورن کی ذاتیں سورن کی سب سے نچلی ذات سے بھی بدتر وحقیر تر سمجھی جاتی ہیں۔ سورن کے دو حصے ہوجاتے ہیں: دُوِجَہْ اور شُوْدْرْ۔دویجہ کا مطلب ہے دومرتبہ جنم لینے والا، ایک مخصوص عمر کو پہنچنے کے بعد جب جنیو باندھا جاتا ہےتو اس وقت جنیو دھاری کا دوبارہ جنم ہوتا ہے، جنیو باندھنے کی یہ رسم اُپانیان کہلاتی ہے۔


دویجہ تین طبقات پر مشتمل ہے: برہمن، چھتری اور ویش۔ انہی تینوںکے مردوں کو جنیو باندھنے کا حق ہے،اور انہی تینوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور علم دینے کا حق صرف برہمن کو ہے۔ مورخین کے بیان کے مطابق یہ تینوں آریائی نسل کے ہیں،آریہ وہ قوم ہے جس نے زائد از تین ہزار سال قبل یوریشیا سے آکر بھارت پر حملہ کیا تھا، ۲۰۰۱ء میں شائع ہونے والی مائیکل بام شاد کی ڈی این اے رپورٹ نے بھی اس کی تائید کی ہے اونچی ذاتوں یعنی برہمن چھتری ویش کے مردوں کا ڈی این اے ودیشی ہے۔ برہمن کا ودیش سے آنا تو تاریخی وسائنسی حقیقت ہے، لیکن چھتری میں جتنی سماجی اکائیاں آتی ہیں وہ سب کی سب آریہ اور ودیشی ہوں ایسا ضروری نہیں، تاریخ کے مختلف دور میں دیش کے مختلف حصوں میں مولنواسی غیر آریائی نسل کے راجہ بھی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی کو چھتری میں شمار کیا گیا، عہد جدید کی برہمنیت مخالف تحریک کے بانی جیوتی با پھلے نے اناریہ راجاؤں کو چھتری کہا ہے، اسی طرح چھتری طبقہ کے بعض سماجی قائدین کا یہ دعوی ہے کہ وہ آریائی یا ودیشی نہیں بل کہ مولنواسی غیر آریائی ہیں۔ یہاں شیواجی کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے، شیوا جی نے جب باضابطہ تاج پوشی کی تقریب منعقد کرنا چاہی تو ان کے شودر ہونے کی وجہ سے کوئی پنڈت ان کی تاجپوشی کے لیے تیار نہیں ہوا، بہت مشکل سے وارانسی سے گاگابھٹ اس کے لیے آمادہ ہوا اور اس نے بہت سارا مال ودولت اینٹھ کر شیواجی کی کنڈلی چھتری ونش سے ملا دی، تاریخ میں ایسا بہت ہوا ہے، اور چھتری ہونا چوں کہ فخر کی بات تھی کہ اس سے سماجی حیثیت کافی اونچی ہو جاتی تھی اس لیے شودر ونش سے آنے والا راجہ اپنے کو چھتری کہلانے میں ہی فخر محسوس کرتا۔ اسی طرح ویش ورن میں بھی سارے لوگ ودیشی آریائی ہوں کوئی ضروری نہیں ہے، مال وجائیداد کے حصول میں کسی طرح سے کامیابی ملنے پر بہت سے لوگ اپنی سماجی حیثیت بلند کرنے کے لیے ویش ورن میں بھی شامل ہوئے ہیں۔


ان تینوں طبقات کے فرائض منوسمرتی میں یوں درج ہیں: وید پڑھنا، وید پڑھانا، یگیہ کرنا، یگیہ کرانا، دان دینا، دان لینا۔ یہ چھ کرم براہمن کے لیے بنائے۔ رعایا کی حفاظت کرنا، دان دینا، یگیہ کرنا، وید پڑھنا، دنیا کی نعمتوں میں دل نہ لگانا یہ پانچ کرم چھتری کے لیے مقرر کیے۔ چار پایوں کی حفاظت کرنا، دان دینا، یگیہ کرنا، وید پڑھنا، تجارت کرنا، سود لینا، کھیتی کرنا، یہ سات کرم ویشوں کے لیے مقرر کیے ہیں۔ (منوسمرتی: ادھیائے: ۱، اشلوک: ۸۸، ۸۹، ۹۰) منوسمرتی میں یہ بات لکھی ہے کہ ویش کو وید پڑھنے کی اجازت ہے، جب کہ البیرونی نے یہ وضاحت کی ہے کہ ویش کو وید پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے ابتدا میں ویش کو وید پڑھنے کی اجازت نہ رہی ہو، بعد میں اجازت دی گئی ہو۔


سورن کا دوسرا حصہ شودر ہے، یہ بھارتی مولنواسی طبقہ ہے جسے برہمنی مت کے طبقاتی نظام میں نیچ سمجھا جاتا ہے، یہ طبقہ تین ہزار سے زائد ذاتوں پر مشتمل ہے، ان ذاتوں کو پچھڑی ذاتیں بھی کہا جاتا ہے، او بی سی میں آنے والی زیادہ تر ذاتیں اسی ورن سے تعلق رکھتی ہیں، ان کی پھر تین سطحیں ہو جاتی ہیں: اعلی، اوسط اور ادنی۔ اعلی درجہ کے شودر میں وہ اکائیاں آتی ہیں جو کسی وجہ سے اپنی سماجی حیثیت کسی حد تک کچھ اوپر اٹھانے میں کامیاب ہوگئیں، ان لوگوں کے اندر شودر کی دیگر اکائیوں کی بہ نسبت اپنے کو برتر سمجھنے کی نفسیات ہوتی ہے، طبقاتی نظام کی وجہ سے ان کے اندر برتری کا احساس پیدا ہوتا ہے، اس لیے یہ لوگ طبقاتی نظام کے خلاف عام طور پر باغیانہ جذبہ نہیں رکھتے، اور شعوری یا غیر شعوری طور پر برہمنواد کے حق میں استعمال ہوجاتے ہیں، ان میں مراٹھا، ریڈی، جاٹ اور پٹیل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ادنی درجہ میں شودر کی وہ اکائیاں آتی ہیں جو خدمات انجام دیتی ہیں یا دستکاری کے پیشہ سے وابستہ ہیں، یہ شودر سماج کی دیگر اکائیوں کی بہ نسبت سماجی امتیاز کا زیادہ شکار ہیں، اور پست سماجی حیثیت کی وجہ سے دلتوں سے قریب سمجھی جاتی ہیں، اسی قربت کی وجہ سے بعض ذاتیں ایسی ہیں جو ایک ریاست میں او بی سی میں آتی ہیں اور دوسری میں ایس سی میں، یہ عام طور پر احساس کمتری کی نفسیات کا شکار رہتی ہیں، اور اپنے سے اونچی شودر ذاتوں سے حسد اور رقابت کے جذبات رکھتی ہیں۔ ان میں دھوبی، نائی، کمہار وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اوسط درجہ میں وہ اکائیاں آتی ہیں جو ان دونوں کے درمیان کی ہیں، جیسے یادو، کرمی ، کوئری وغیرہ۔ ان میں جن ذاتوں کو سیاسی طور پر متحرک ہونے کا موقع ملا وہ اعلی درجہ کے شودر کے قریب پہنچ گئیں، اور جنھیں اپنی حیثیت کو اوپر اٹھانے کا کوئی موقع نہیں مل سکا وہ اپنے پرانے مقام پر ہی رہیں۔ شودر کو حقوق سے تو محروم کیا گیا لیکن انھیں اچھوت نہیں بنایا گیا، اس کی وجہ سے اونچی ذاتوں سے ان کا تعامل رہا،چھوت چھات کے عدم نفاذ، اونچی ذاتوں کے ساتھ ان کی رہائش اور ان کے ساتھ تعامل وہ اہم اسباب ہیں جن کی بنا پر برہمنواد کی ذہنی غلامی نے انھیں زیادہ بری طرح جکڑا، موجودہ دور میں ’’ہندو مذہب‘‘ کا نشہ سب سے زیادہ اسی طبقہ کو چڑھا ہوا ہے، مذہبی جذبات میں پاگل پن کی حد تک مبتلا ہے، اس کی یہی نفسیات ہندوتو کے لیے سب سے بڑا سہارا فراہم کر رہی ہے۔


شودر کا کام منوسمرتی میں یوں درج ہے: شودر کے لیے ایک ہی کرم پربھو نے ٹھیرایا، یعنی صدق دل سے ان تینوں کی خدمت کرنا۔ (منوسمرتی: ادھیائے: ۱، اشلوک: ۹۱)۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ طبقاتی نظام میں شودر گو سورن یعنی طبقاتی نظام کا حصہ ہے؛ لیکن عام بول چال میں سورن کا لفظ اونچی ذاتوں یعنی برہمن، چھتری ، ویش کے لیے بولا جاتا ہے، اس لیے جب سورن مطلق بولا جائے تو عموما شودر اس میں داخل نہیں ہوتا ۔


سورن کے چار طبقات کے بعد اورن کے دوحصے ہوجاتے ہیں: اچھوت اور آدی واسی، اَچُھوْتْ (Untouchable)وہ طبقہ ہے جو گاؤں کے باہر مضافات میں آباد ہوا، اور گاؤں کے اندر رہنے والے شودر سے بھی بدتر اور حقیر تر سمجھا گیا، آج بھی پرانے گاؤں کے اطراف جو غیر مسلم آبادی بستی ہے وہ انہی لوگوں کی ہوتی ہے، یہ طبقہ برہمنی نظام میں اچھوت قرار دیا گیا، یعنی ان کے چھونے سے انسان ناپاک ہوجاتا ہے، عام بول چال میں انہی کو ’’دلت‘‘ کہا جاتا ہے۔ عام طور سے شودر کو بھی دلت سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ دلت کا مرتبہ طبقاتی نظام میں شودر کے بعد آتا ہے، ڈاکٹر امبیڈکر اسی طبقے سے تعلق رکھتے تھے، امبیڈکر کے بدھ مت قبول کرنے کی وجہ سے اس طبقے کا بدھ مت کی طرف رجوع روز افزوں ہے، دوسری طرف ہندوتوادیوں کی طرف سے انھیں ہندو بنانے کا کام بھی جاری ہے۔


آدی واسی کا معنی ہے قدیم باشندے، اس سے وہ قبائل مراد ہیں جوپہاڑوں اور جنگلوں میں آباد ہوئے، یہ لوگ بھی شودر سے بدتر اور حقیر تر سمجھے گئے، آبادی سے کٹ کر رہنے کی وجہ سے ان کا بڑا حصہ تہذیب وتمدن کی رفتار کے ساتھ نہ چل سکا۔ یہ لوگ بھارت کے قدیم ترین باشندے ہیں، ان کا مستقل دھرم اور ان کی علیحدہ تہذیب ہے، ان کے دھرم میں سناتنی دیوی دیوتاؤں اور پورانی بھگوانوں کا کوئی گذر نہیں، اور ان کی تہذیب میں برہمن کی پیشوائی کی کوئی جگہ نہیں۔ یہ لوگ اپنے دھرم کو شرنا دھرم کہتے ہیں، جس میں پراکرتی (فطرت) اور مظاہر فطرت کی عبادت کو اہمیت دی گئی ہے، ان کے رسوم کی ادائیگی کے لیے برہمنوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انگریزوں نے ان کے سماجی اعتزال سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان میں تبشیری مبلغین کو سرگرم کیا، جس کی وجہ سے آدی واسی کی ایک بڑی تعداد عیسائی ہوگئی، جنھیں دوبارہ ہندو بنانے کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
طبقات کی تقسیم میں عمودی ترتیب پر برتر وکمتر والی درجہ بندی بالکل واضح اور حتمی ہے، وہ اس طور پر کہ برہمن سب سے افضل وبرتر ہے، اس کے بعد چھتری ہے جو برہمن سے کمتر اور ویش سے برتر ہے، پھر ویش ہے جو چھتری سے کمتر اور شودر سے برتر ہے، اخیر میں شودر ہے جو چاروں ورنوں میں سب سے کمتر ہے، اتی شودر جو چاروں ورنوں سے باہر ہونے کی وجہ سے اورن کہلاتے ہیں وہ شودر سے بھی کمتر وبد تر ہے۔ بدتری وبرتری کی یہی ترتیب ہے، اور یہ ترتیب پیدائش اور جنم کی بنیاد پر ہے، اپستمبا دھرم سوتر میں ہے: طبقات چار ہیں: برہمن، چھتری، ویش اور شودر، ان میں ہر طبقہ اپنے بعد والے طبقے سے پیدائش کی بنیاد پر افضل ہے۔(اپستمبا دھرم سوتر: 1: 1: 1: 4،5)
یہاں پر ورن (طبقہ) اور ذات میں جو فرق ہے اسے واضح کردینا مناسب ہوگا، ورن میں چار طبقات برہمن، چھتری، ویش اور شوددر آتے ہیں، ان کے اندر کی جو ذیلی اکائیاں ہیں انہیں ذات کہتے ہیں ، مثلا شودر ایک ورن ہے، پھر اس کے اندر تین ہزار سے زائد ذاتیں ہیں۔ورن کی اونچ نیچ والی ترتیب تو بالکل واضح اور حتمی ہے، البتہ ورن کے بر عکس ذات کی تقسیم میں نہ کوئی حتمی عمودی ترتیب ہے اور نہ برتر وکمتر کی واضح درجہ بندی، مختلف اصولی باتوں کے پیش نظر ذاتیں برتر وکمتر سمجھی جاتی ہیں یا اپنی برتری اور دوسری ذات کی کمتری کا دعوی کرتی ہیں، برتری وکمتری کے اصول بھی ایسے حتمی نہیں ہیں کہ ان کے پائے جانے کی صورت میں کسی ذات کا بہر صورت برتر یا کمتر ہونا حتمی طور پر طے ہوجائے، اسی طرح کبھی زمان ومکان کی تبدیلی سے بھی برتر یا کمتر سماجی حیثیت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ایم این سرینواس کی کتاب ’جدید ہندوستان میں ذات پات‘ میں درج مضمون ’ورن اور ذات‘۔


اس طبقاتی نظام کا بھارتی سماج پر اثر یہ پڑا کہ افضل وارذل ہونے کی سوچ پیدا ہوئی، ہر ذات اپنے سے کمتر ذات کو حقیر سمجھنے لگی، اور اپنے سے اونچی ذات سے حسد کرنے لگی، یوں سماج کی مختلف اکائیوں کارشتہ آپس میں نفرت، عداوت، اور حسد وحقارت کی بنیاد پر استوار ہوا، جس کی وجہ سے دوریاں بڑھیں، غیریت کی دیواریں اٹھیں، ایک دوسرے پر اعتماد نہ رہا، سچھوت اور اچھوت کے فارمولے نے بھارتی مولنواسی قوموں کو دو دشمن قوموں میں بانٹ دیا، نہ صرف بانٹ دیا بل کہ ایک دوسرے سےکا ٹ دیا اور ایسا کاٹا کہ آج تک یہ دونوں آپس میں مل نہ سکے، تقسیم در تقسیم کی پالیسی سے سماج دسیوں ہزار ٹکڑیوں میں بٹ گیا، ہر ٹکڑی بس اپنی ذات تک محدود ہوگئی، ہر شخص ذات کی باہر کی دنیا سے بے پروا ہوگیا، بے حسی بڑھی، بس اپنی ذات کا مفاد ہی مقصود ہوگیا، ایک دوسرے سے اعتماد اٹھا، پڑھنے لکھنے کے حق سے منظم محرومی کی وجہ سے مولنوسی قومیں توہمات کی دنیا میں آباد ہوئیں، برہمنواد نے اس دنیا کو دیومالائی کہانیوں سے ایسا سجایا کہ علم وفہم سے محروم قومیںنسل پرست قوم کو دل دے بیٹھیں،اس کے چرنوں میں گر گئیں، طبقاتی نظام کو حاصل مذہبی تقدس کی وجہ سے سماج کی اس برائی کو برائی سمجھ کر اس کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائےلوگ اسے مذہب سمجھ کر مصائب جھیلتے رہے، اور ساتھ میں گذشتہ جنم کے برے کرم پر اپنے آپ کو کوستے رہے،نہ جذبۂ حریت رہا نہ احساس مظلومیت، نہ مرکزیت رہی نہ مقصدیت، نہ آپسی اتحاد رہا نہ باہمی اعتماد، نتیجہ یہ ہوا کہ برہمنوادی طبقاتی نظام کے خلاف ہمہ گیر وپائیدار بغاوت کھڑی نہ ہوسکی، اگر کبھی ہوئی بھی تو وہ برہمنواد کا پلٹ وار نہ سہہ سکی۔


عصر حاضر میں طبقاتی نظام کا بنیادی ڈھانچہ اور اور اساسی مقصد تو وہی ہے جو ہمیشہ سے رہا ہے؛ لیکن اس کی خصوصیات میں کچھ فرق نظر آتاہے، اور اس فرق کی دو بنیادی وجہیں ہیں، ایک جمہوری دور کی مجبوری اور دوسرے ہندوتو کی سازش۔جمہوری دور اور سیکولر دستور کی وجہ سے بعض امور میں کچھ تبدیلی آئی ہے، مثلا: پیشہ بدلنے، اپنی مرضی کا پیشہ اختیار کرنے، تعلیم حاصل کرنے، سرکاری ملازمت کرنے، حکومتی نظام میں حصہ لینے، بین ذاتی شادی کرنے وغیرہ کا حق ان قوموں کو بھی حاصل ہو گیا جنھیں شودر واتی شودر بنا کر ان سے یہ سارے حقوق سلب کر لیے گئے تھے۔ ہندوتو کی وجہ سے جو تبدیلی آئی ان میں اہم یہ ہے کہ احساس کمتری کا شکار پست وپسماندہ ذاتوں میں خود اعتمادی کی نفسیات پیدا ہوئی، اگرچہ یہ سراب ہے، اور ان کی خوش فہمی کیے سوا کچھ نہیں، لیکن بہر حال نفسیات میں تبدیلی آئی ہے، اسی طرح ہندو ایکتا کے تصور نے ان کی بزدلی کی اس نفسیات کو کافی حد تک تبدیل کیا ہے جس کی شکایت امبیڈکر نے اپنی کتاب ذات پات کے خاتمہ میں کی ہے، نیز تہواروں کی ہندوتوادی منظم سرپرستی اور اس کے تئیں ہندوتو کے ٹھیکیداروںکی با مقصد دلچسپی نے ہزاروں ٹکریوں میں بٹے پست طبقات وپسماندہ سماج کے اندر اجتماعی وحدت کا احساس اور تہذیبی یکجہتی کا تصور دیا، اور ان تیوہاروں کے برہمنی کرن نے اس اجتماعی وحدت کا سرا برہمن کے جنیو سے وابستہ کر دیا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلم منافرت کا ہمہ وقتی وہمہ جہتی پروپیگنڈہ نے انھیں ’’ہندو‘‘ بنانے میں اہم کردار کیا ہے۔ لیکن دستوری مجبوری کی وجہ سے مذکورہ حقوق کے مل جانے اور ہندوتو کی سازش وکوشش کی وجہ سے ان کی نفسیات ، ان کے نظریات اور رویہ میں تبدیلی آجانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بھارت سے ذات پات کا خاتمہ اور طبقاتی نظام کا انہدام ہوگیا، اونچ نیچ کی نفسیات، نسلی برتری والی قوم کا ورچسو اور غلبہ، ذہنی غلامی کی تاریک شب کوسپیدۂ سحر سے نا آشنا رکھنے کے لیے مندر کلچر کا فروغ اور مذہب کا استعمال، گائے گوبر گیتا کے نام پر مذہبی جذبات کا استحصال، شخصیات اور تہواروں کا برہمنی کرن،پالیسی سازی میں اونچی ذاتوں کا کلیدی کردار، مولنواسی قوموں کو تحفظات اور دیگر حقوق سے محروم کرنے اور محروم رکھنے کی سازش، کمنڈل بنام منڈل کا کھیل، محکوم قوموں کی آپس میں لڑائی، ایس سی، ایس ٹی کے ساتھ چھوت چھات، آدی واسی کو حاصل شیڈول ۵ اور شیڈول ۶ کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی، کرم کانڈ پر برہمن کی اجارہ داری، وغیرہ کئی امور ایسے ہیں جو طبقاتی نظام کی بنیادوں کو مضبوط کیے ہوئے ہیں۔

طبقاتی نظام: ایک تعارفمولانا ڈاکٹر احمد نور عینی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

بوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)
اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندوی

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • حسد
  • حسد کیا ہے؟
  • ستمبر 12, 2026
  • 0 Comments
حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی ، گڈا جھارکھنڈ 9506600725 حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یعنی تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کها جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کها جاتی ہے- (ابو داود، کتاب الاداب، باب الحسد، ابن ماجہ، کتاب الذهد) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں هو سکتے- (نسائی، کتاب الجہاد) حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے حسد کا نقصان یہ ہے کہ وه آدمی سے اعلی ایمانی کیفیات کو چهین لیتا ہے- حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وه دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا- موجوده دنیا میں ایسا هوتا ہے کہ کبهی ایک شخص بظاہر بڑا هو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر چهوٹا- یہ امتحان کے لئے هوتا ہے- وه اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجهہ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چهوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف هو جائے تو گویا کہ وه خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے- ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا- حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ هو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے- اس کا نقصان اس کو بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وه اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے : یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے-  (البخاری، کتاب التوحید) قرآن میں تقوی کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی هو تب بهی آدمی اس کے بارے میں عدل و…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 11, 2026
  • 0 Comments
نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

نسلوں كی تعمیر میں اساتذه كا كردار! 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ ابھی ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء كی تاریخ گزری هے، ۵؍ ستمبر ۱۸۸۸ء هندوستان كے دوسرے صدر جمهوریه ایك ممتاز فلسفی، ماهر تعلیم، قابل استاذ اور مصنف ڈاكٹر رادھا كرشنن كا یوم پیدائش هے، هندوستان میں یه دن ان كی یاد میں هر سال یوم اساتذه كے عنوان سے منایا جاتا هے، اسی مناسبت سے درج ذیل تحریر پیش كی جا رهی هے: حقیقت یہ ہے کہ تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے ، ہر مذہب اور ہر سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے؛ کیوںکہ سماج میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سروسامان موجود ہے ، وہ سب در اصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اوردرسگاہیں ان کا اصل سرچشمہ ، اسلام کی نگاہ میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے ، پیغمبر کی حیثیت اپنے اُمتی کی نسبت سے کیا ہوتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے اور وہ یہی کہ نبی انسانیت کا مربی اور معلم ہوتا ہے ، و ہ تعلیم بھی دیتا ہے اور انسانیت کو اس علم کے سانچہ میں ڈھالنے کی بھی کوشش کرتا ہے : یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ (آل عمران :۱۶۴) اسی لئے اساتذہ کا احترام اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فقہاء ِصحابہ میں ہیں ، حدیث کی نقل و روایت اور فہم و درایت میں بھی بڑے اعلیٰ درجے کے مالک ہیں اور تفسیر و فہم قرآن کا کیا پوچھنا کہ اُمت میں سب سے بڑے مفسر مانے گئے ہیں ؛لیکن اس مقام و مرتبہ کے باوجود صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اورکہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے ، (مستدرک حاکم :۳؍۴۲۳) خلف احمر مشہور امام لغت گزرے ہیں ، امام احمد ؒ ان…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت 19.09.2026
  • سود کی لعنت اور اس کا علاج 18.09.2026
  • معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون 16.09.2026
  • پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت 16.09.2026
  • یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 12.09.2026
  • حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری 12.09.2026
  • نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار 11.09.2026
  • مردوں کے لیے مہندی کا استعمال 08.09.2026

حالیہ تبصرے

  • بچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانی از بچوں کے لیے دینی تعلیم کی اہمیت | اسلامی تربیت اور والدین کی ذمہ داری 1
  • ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور از ڈاکٹر اسرار احمد کا تعارف
  • بچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانی از سیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحان » HIRA ONLINE / حرا آن لائن
  • ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکر از فتنہ انکار حدیث 1
  • علامہ شبلی ؒنعمانی (1857۔ 1914)مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں از شبلی روایت اور تجدید کا معیار

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

اسلامیات

مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 19, 2026
مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت
اسلامیات

سود کی لعنت اور اس کا علاج

  • hira-online.com
  • ستمبر 18, 2026
اسلامیات

معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون
اسلامیات

پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت
اسلامیات

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
Blog

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
Blog

نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

  • hira-online.com
  • ستمبر 11, 2026
فقہ و اصول فقہ

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

  • hira-online.com
  • ستمبر 8, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top