سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت
🖋️ احمد نور عینی

آخری نبی ﷺ کی سیرت مبارکہ زندگی کے ہر میدان میں ہماری رہنمائی کرتی ہے، زندگی کے میدانوں میں ایک اہم میدان کسب معاش کا ہے، سیرت کی رہنمائی اس پہلو سے بھی کامل، متوازن اور جامع ہے ، یہ رہنمائی اتنی ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہے کہ اس کی بنیاد پر مکمل اقتصادی نظام وجود میں آتا ہے، جسے نبوی اقتصادی نظام کہا جا سکتا ہے، اس نظام میں قانونی اصول بھی ہے اور اخلاقی اقدار بھی، انفرادی ملکیت بھی ہے اور اجتماعی مفاد بھی، جمع دولت کی اجازت بھی ہے اور ارتکاز دولت کی ممانعت بھی، زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کی آزادی بھی ہے اور زیادہ سے زیادہ دولت کو گردش میں رکھنے کی پابندی بھی، دنیوی نفع ونقصان کا محرک بھی ہے اور اخروی نجات وفلاح کا داعیہ بھی، کسب معاش کی حوصلہ افزائی بھی ہے اور انفاق کی ترغیب بھی، ملکیت میں تصرف کا حق بھی ہے اور ملکیت کے ساتھ معاشرتی ذمہ داری بھی، مالی مشکلات کا علاج بھی ہے اور معاشی بحرانوں کا حل بھی۔
معاشی میدان میں کسب معاش کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے، نبوی اقتصادی نظام میں اس سلسلہ میں ہمیں واضح رہنمائی ملتی ہے، اس سلسلہ میں خود آپ ﷺ کا عمل موجود ہے، چنانچہ یہ بات ملتی ہے کہ نبی ﷺ اہلِ مکہ کے لیے چند قیراط کے عوض بکریاں چرایا کرتے تھے، پھر آپ ﷺ نے تجارت کی، اور تجارت میں اپنی سچائی اور امانت داری کی وجہ سے صادق و امین کے طور پر مشہور ہوئے۔ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کے لیے خصوصی بازار قائم فرمایا۔ نبی ﷺ بیکاری کو پسند نہیں فرماتے تھے؛ آپ ﷺ مال طلب کرنے، حلال روزی کمانے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کھانے کی ترغیب دیتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’حلال کمائی فرض کے بعد ایک فرض ہے‘‘۔(مسند الشہاب، حدیث ۱۲۱)۔ نیز فرمایا: ’’تم میں سے کسی کا لکڑیوں کا ایک گٹھا اپنی پشت پر اٹھا کر لانا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے سوال کرے، پھر وہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔‘‘ (بخاری، باب کسب الرجل)۔ ’’تم میں سے کوئی اپنی رسیاں لے، پھر پہاڑ پر جائے، وہاں سے لکڑیوں کا ایک گٹھا اپنی پشت پر لائے، پھر اسے فروخت کرے اور اس کی قیمت کے ذریعے مستغنی ہو جائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے، وہ اسے دیں یا نہ دیں۔‘‘ (مسند ابی یعلی: حدیث ۶۷۵)۔
کسب معاش کے سلسلہ میں اللہ کے نبی ﷺ کی ایک تعلیم ہمارے ملک کے سماجی پس منظر میں بہت اہمیت رکھتی ہے، وہ یہ کہ برہمنوادی نظام میں ہاتھ کے کام کو معیوب سمجھا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ شودر ذاتوں نے ہاتھ کے کاموں والے پیشے اپنائے، یہ ذاتیں کامگار جاتیاں یاشرمک جاتیاں کہی جاتی ہیں، لیکن پیارے نبی ﷺ نے ہاتھ کی کمائی کو بہترین کمائی بتایا، اور مثال میں ایک عظیم نبی حضرت داؤد علیہ السلام کا نام پیش کیا، فرمایا: ’’کسی شخص نے کبھی اس کھانے سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو اس نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا ہو، اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے‘‘۔ (بخاری، باب کسب الرجل)
نبوی اقتصادی نظام اپنی خصوصیات کی وجہ سے دنیا کے دیگر اقتصادی نظام کے مقابل امتیازی ومثالی مقام رکھتا ہے، ان کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت نظام معیشت کا دوہری ملکیت پر مبنی ہونا ہے، یعنی یہ نظام اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ عوامی ملکیت اور نجی ملکیت دونوں کو جامع ہے۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے نبوی اقتصادی نظام دوسرے نظاموں، یعنی سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام سے ممتاز ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام مطلق انفرادی ملکیت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، سرمایہ دارانہ نظام میں اصل انفرادی ملکیت ہے، اس میں عوامی واجتماعی ملکیت کا دائرہ انفرادی نجی ملکیت کے دائرے کے مقابلے میں بہت ہی محدود ہے۔ افراد، اداروں اور کمپنیوں کے مالکان کو ان وسائلِ پیداوار کی ملکیت حاصل ہوتی ہے جو مجموعی وسائلِ پیداوار کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں وسائل پیداور پر سرمایہ داروں کا تسلط ہوجاتا ہے اور سرمایہ سمٹ کر چند ہاتھوں میں آجاتا ہے۔
رہا اشتراکی نظام تو وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ عوامی ملکیت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور اس میں وسائل دولت کی ملکیت کا حق صرف ریاست کو دیا جاتا ہے جو اجتماعی ملکیت کی نمائندہ ہوتی ہے۔ اس نظام میں ریاست ہی تمام وسائلِ پیداوار کی مالک ہوتی ہے، جس کی وجہ سے فرد کی معاشی آزادی محدود ہوجاتی ہے اور نتیجہ میں معاشی محرک کمزور پڑ جاتا ہے، نیز اجتماعی ملکیت کے نام پر ریاستی مرکزیت قائم ہوجاتی ہے جو بجائے خود اجتماعی مفاد کے خلاف ہوتی ہے۔
ان دونوں نظاموں کے برعکس نبوی اقتصادی نظام انفرادی ملکیت اور اجتماعی ملکیت دونوں کو پیشِ نظر رکھتا ہے اور فرد کے مفاد اور جماعت کے مفاد کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ وہ انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، لیکن حکومت کو مداخلت کا حق دیتا ہے، اور اس بات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا کہ اجتماعی مفاد کے بڑے ادارے اور محکمے نجی شعبے کی ملکیت میں ہوں۔ اشتراکی نظام معاشی مساوات کے ذریعے طبقاتی تفاوت کے خاتمے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ نبوی اقتصادی نظام نہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کو مطلق تسلیم کرتا ہے اور نہ اشتراکی نظام کی طرح نجی ملکیت کو بنیادی طور پر مسترد کرتا ہے؛ بلکہ وہ نجی ملکیت اور معاشی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے عدل، اخلاقی پابندی، دولت کی گردش، سماجی کفالت اور اخروی جواب دہی کے ذریعے معاشی توازن قائم کرتا ہے۔ لہٰذا نجی اور عوامی ملکیت کے درمیان توازن ان نمایاں خصوصیات میں سے ہے جن کی وجہ سے نبی ﷺ کے قائم کردہ اقتصادی نظام کو امتیاز حاصل ہے۔
بہتر ہوگا کہ یہاں ان بعض اہم نجی اور عوامی ملکیت کے ذرائع کا ذکر کر دیا جائے جو نبو ی نظام معیشت میں پائے جاتے ہیں۔ چناں چہ نجی ملکیت کے ذرائع میں سے: خرید و فروخت، پیشہ، اجارہ، زراعت، مردہ زمین کو آباد کرنا، نفقہ، مہر اور میراث وغیرہ اور عوامی ملکیت کے ذرائع میں سے: زکوٰۃ، خراج، عشر، غنائم، معدنیات، فَے، جزیہ، صدقات اور اوقاف وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
نبوی اقتصادی نظام کی ایک اور اہم خصوصیت محدود اقتصادی آزادی ہے، یہ خصوصیت بھی اس ناحیہ سے اہم ہے کہ یہ بھی نبوی اقتصادی نظام کو سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام سے ممتاز کرتی ہے، سرمایہ دارانہ نظام مطلق آزادی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اقتصادی آزادی کو محدود کرنے کے لیے کچھ قوانین وضع کیے جاتے ہیں، لیکن آزادی کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ وہ بعض اوقات اقتصادی نظام کو خود اپنے ہی ہاتھوں تباہ کر دیتا ہے۔ اور اشتراکی نظام نے معیشت اور مال کمانے کی آزادی سلب کرلی اور لوگوں کو وسائلِ پیداوار کی ملکیت رکھنے سے روک دیا۔ لیکن نبوی اقتصادی نظام نے اقتصادی آزادی کو تسلیم کیا، تاہم اسے ایسی مکمل آزادی نہیں دی جو اقتصادی نظام کو تباہ کر دے اور بازار کے فطری بہاؤ کو تبدیل کر دے، نیز دولت چند ہاتھوں میں مرکوز ہو جائے اور وسائل دولت پر بحیثیت مجموعی سرمایہ داروں کا کنٹرول قائم ہوجائے۔ بلکہ اس نے آزادی کو کچھ پابندیوں کے ذریعے محدود کیا، تاکہ نقصان کو دور کیا جائے، ظلم کا سدباب کیا جائے، فساد سے بچاؤ کیا جائے، ضرر سے محفوظ رکھا جائے، لوگوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے، پُرامن بقائے باہمی کی ضمانت دی جائے، سماجی عدل کے اصول کو نافذ کیا جائے، اقتصادی مشکلات کا علاج کیا جائے اور مالی بحرانوں کا سامنا کیا جائے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دولت کو گردش میں رکھا جائے۔ سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام کے بشمول دنیا کا کوئی بھی اقتصادی نظام ان مقاصد کو اس طرح پیشِ نظر نہیں رکھتا جس طرح نبوی اقتصادی نظام رکھتا ہے۔
نبوی اقتصادی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اقدار پر مبنی نظام ہے، اس میں ایسی اعلیٰ اقدار پائی جاتی ہیں جن کی کسی دوسرے اقتصادی نظام میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ اقدار زندگی کو عبادت، تجارت کو اطاعت میں تبدیل کر دیتی ہیں اور انہی کے ذریعے بازار کو اخوت، محبت، ہمدردی اور مساوات کی ایک تنظیم بنا دیتی ہیں۔ ان اقدار کی وجہ سے نبوی اقتصادی نظام دوسرے نظام معیشت سے اس پہلو سے بھی ممتاز ہوجاتا ہے کہ یہ نظام مالدار اور نادار کے بیچ حسد وحقارت اور عناد وتصادم کے بجائے محبت وہمدردی، اپنائیت وحاجت برآئی کے جذبات پیدا کرتا ہے، نیز سرمایہ کو مقصد بنانے کے بجائے اسے وسیلہ بناتا ہے جس کی وجہ سے تمام خود غرضانہ مفاسد کا سد باب ہوجاتا ہے۔ نبوی اقتصادی نظام میں پائی جانے والی اقدار دو قسم کی ہیں: روحانی اقدار اور سلوکی اقدار۔ روحانی اقدار میں کچھ نمایاں یہ ہیں:
اللہ کی ملکیت: ہر چیز اللہ کی ہے اور وہ ہمارے ہاتھوں میں امانت ہے۔ کوئی شخص حقیقی مالک نہیں کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے؛ کیونکہ حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب بنایا ہے۔ (حدید: ۷)
مال کے بارے میں ذمہ داری کا احساس: مال ہمارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے امانت ہے۔ اللہ نے اسے ہمارے لیے ذریعۂ قیام بنایا ہے، لہٰذا ہم اسے کمانے اور خرچ کرنے میں آزاد نہیں ہیں۔ ہم پر لازم ہے کہ اسے اسی طریقے سے کمائیں جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، اور اسی طریقے سے خرچ کریں جس کی اللہ اور اس کے رسول نے رہنمائی فرمائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن کسی بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا کہ اسے کس کام میں گزارا، اس کے علم کے بارے میں کہ اس کے ساتھ کیا کیا، اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کس کام میں بوسیدہ کیا۔‘‘ (دارمی، حدیث ۵۵۴)
اخلاص: نبوی اقتصادی نظام ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ مال کمانے اور خرچ کرنے میں ریا کو داخل نہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ عمل میں سے صرف اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو اسی کے لیے خالص ہو اور جس کے ذریعے اسی کی رضا طلب کی گئی ہو۔‘‘ (نسائی: ۴۳۳۳)
اللہ پر توکل: نبوی اقتصادی نظام میں ہر شخص کو مال کمانے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس کے لیے اللہ پر توکل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے ذمہ صرف کمائی اور کوشش ہے، اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ انہیں اور تمہیں رزق دیتا ہے‘‘ ۔ (عنکبوت ۵۹) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے گا جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں‘‘۔ (ترمذی: باب التوکل علی اللہ)
نفس کی بے نیازی: نبی ﷺ نے مال کمانے کی ترغیب دی، لیکن آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کی بہترین تربیت کرتے ہوئے انہیں نفس کی بے نیازی عطا کی۔ کیوں کہ مال زندگی کا ذریعہ ہے، زندگی کا مقصد نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دولت مندی سامان کی کثرت سے نہیں، بلکہ اصل دولت مندی نفس کی دولت مندی ہے۔‘‘ (بخاری ۶۴۴۶) نبی ﷺ کی بہترین تربیت کے نتیجے میں تمام صحابہ نفس کی بے نیازی سے متصف ہوئے اور انہوں نے اس باب میں اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا۔ جیسا کہ آیت ان کی صفت بیان کرتی ہے: اور وہ لوگ جنہوں نے ان سے پہلے اس گھر اور ایمان میں جگہ بنائی، وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے ان کی طرف ہجرت کی، اور جو کچھ انہیں دیا گیا اس کی کوئی حاجت اپنے سینوں میں نہیں پاتے، اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود انہیں سخت ضرورت ہی کیوں نہ ہو۔ اور جو اپنے نفس کے بخل سے محفوظ رکھا گیا، وہی لوگ کامیاب ہیں۔ (حشر: ۹)
جذبہ انفاق: نبوی اقتصادی نظام میں جہاں کسب معاش کا حکم ہے وہیں انفاق کی ترغیبی تاکید ہے، قرآن میں یہاں تک تاکید موجود ہے کہ : تم لوگ ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ اپنے پسندیدہ مال میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو (آل عمران)۔ یہ خرچ کرنا احسان وتکبر کے جذبے کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خرچ اس لیے کرنا ہے کہ مالداروں کے مال میں غریبوں کا حق ہے، سورہ معارج میں ہے کہ ان کے مالوں میں مانگنے والوں اور ناداروں کا متعین حق ہے۔ خرچ کرکے احسان جتلانے سے صدقہ کا ثواب باطل ہوجاتا ہے، سورہ بقرہ میں ہے: اے ایمان والو! احسان جتلاکر اور تکلیف دے کر اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔ اس لیے انفاق صرف اللہ کی رضامندی کے لیے ہونا چاہیے، سورۃ اللیل میں متقی کے لوگوں کی صفت یہ بتائی گئی کہ وہ احسان کا بدلہ اتارنے نہیں بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ پیارے نبی کریم ﷺ کی سیرت انفاق کی ان آیات کی سب سے عمدہ مثال ہے۔
یہ وہ کچھ اہم روحانی اقدار ہیں جن کے ذریعے نبوی اقتصادی نظام دوسرے نظاموں سے ممتاز ہوا۔ جہاں تک سلوکی اقدار کی بات ہے تو وہ بہت زیادہ ہیں، ان میں سے کچھ کو یہاں درج کیا جاتا ہے:
سچائی: تاجر کے لیے، خواہ وہ خریدار ہو یا فروخت کنندہ، ضروری ہے کہ خرید و فروخت میں جھوٹ نہ بولے۔ امام ترمذی نے تجارت میں سچائی کے سلسلے میں ایک نہایت اہم حدیث روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے تاجروں کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’تاجر قیامت کے دن فاجر اٹھائے جائیں گے، سوائے اس شخص کے جو اللہ سے ڈرا، نیکی کی اور سچ بولا۔‘‘ (ترمذی، حدیث ۱۲۱۰) ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اگر دونوں (خریدار اور تاجر) نے سچ بولا اور چیز کی حقیقت واضح کردی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی، اور اگر دونوں نے چیز کو چھپایا اور جھوٹ بولا تو ان کی خرید و فروخت کی برکت مٹا دی جائے گی‘‘۔ (بخاری، حدیث ۲۰۷۹)
امانت: آپ ﷺ نے امانت داری پر بہت زور دیا، آپ خود بھی تجارت کی مشغولیت کے زمانے میں امانت کو بہت اہمیت دیتے، جس کی وجہ سے آپ کو مکہ کے جانی دشمن بھی امانت دار کہتے تھے، کیوں نہ ہو کہ امانت داری دنیا اور آخرت میں نفع بخش تجارت کی بنیاد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سچا اور امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا‘‘۔ (ترمذی، ۱۲۰۹) امانت داری ہی کے قبیل سے دھوکے سے اجتناب کرنا بھی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غلہ کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو آپ ﷺ کی انگلیاں تر ہوگئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اے غلہ والے! یہ کیا ہے؟” اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اسے بارش کا پانی لگ گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو تم نے اسے غلہ کے اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں‘‘۔ (مسلم، ۱۰۲)۔ دھوکہ دہی کے تعلق سے یہ حدیث بھی قابل ذکر ہے جو امام بخاری نے نقل کی ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے ذکر کیا کہ اسے خرید و فروخت میں دھوکا دیا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم خرید و فروخت کرو تو کہو: کوئی دھوکا نہیں‘‘۔ (حدیث ۲۱۱۷)
امانت داری ہی میں سے یہ بھی ہے کہ پیمانہ اور ترازو انصاف کے ساتھ پورا کیا جائے۔۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ تطفیف میں فرمایا: ہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔ (تطفیف ۱-۳) نبوی اقتصادی نظام کا یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ اس نے بدترین ناپ تول کرنے والوں کو بہترین ناپ تول کرنے والا بنا دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’جب اللہ کے نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہ لوگ ناپ تول میں سب سے بدترین تھے۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے {ہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے} نازل فرمایا، تو اس کے بعد انہوں نے ناپ تول درست کردی‘‘۔ (نسائی، حدیث ۱۱۵۹۰)
فراخ دلی: اس سے مراد معاملات میں آسانی پیدا کرنا اور نرمی اختیار کرنا ہے، جو سہولت اور عدمِ جبر کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ نبی ﷺ نے خریدو فروخت میں نرم رویہ اختیار کرنے والے کے لیے دعا فرمائی کہ ’’اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو فروخت کرتے وقت، خریدتے وقت اور اپنا حق وصول کرتے وقت نرم ہو‘‘۔ (بخاری، ۲۰۷۶) فراخ دلی کے قبیل سے ہی تنگ دست سے درگزر کرنا بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا، اس کے پاس فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لیے آیا۔ اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ کہا گیا: دیکھو۔ اس نے کہا: مجھے کوئی چیز معلوم نہیں، سوائے اس کے کہ میں دنیا میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا اور انہیں بدلہ دیتا تھا، چنانچہ میں مال دار کو مہلت دیتا اور تنگ دست سے درگزر کرتا تھا، تو اللہ نے اسے جنت میں داخل کردیا‘‘۔ (بخاری، ۳۴۵۱)
ٹال مٹول کی ممانعت: ٹال مٹول سے مراد قرض (یا سامان وغیرہ کی رقم) کی ادائیگی میں تاخیر کرنا ہے۔ صاحبِ استطاعت شخص کا قرض اور دین کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا نبوی اقتصادی نظام میں ظلم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مال دار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے‘‘۔ (بخاری، ۲۴۰۰)
کام میں پختگی: آپ ﷺ نے عمل میں اتقان کا حکم دیا ہے، اتقان سے مراد دل میں اخلاص اور کام کو درست طریقے سے، بغیر کسی کمی یا خرابی کے مضبوطی وپختگی کے ساتھ انجام دینا ہے۔ حدیث ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام کرے تو اسے پختگی سے انجام دے‘‘۔ (ابو یعلی، ۲۳۸۶)
نفع عام کا خیال: سلوکی اقدار کے قبیل سے وہ اقدار بھی ہیں جنھیں سماجی اقدار کہا جا سکتا ہے، جو سماجی انصاف کے حصول میں انتہائی مؤثر معاون بنتی ہیں اور سماج کو استحصال اور نزاع باہمی سے دور رکھتی ہیں۔ انہی اقدار میں سے ایک اجتماعی مفاد (نفع عام) کا خیال ہے، چنانچہ استحصالی نظام کے خاتمہ اور اجتماعی مفاد کے حصول کے لیے سود کو حرام کیا گیا،اسی طرح بازار میں اپنائی جانے والی ان شکلوں کو اختیار کرنے سے روک دیا گیا جو عوام کے اجتماعی نقصان کا ذریعہ بن سکتی تھیں، جیسے ذخیرہ اندوزی کرنا، مال کو جمع کرکے روک رکھنا، قافلے سے باہر جا کر مال خریدنا، شہری کا دیہاتی کے لیے فروخت کرنا، وغیرہ۔
معاملات کی صفائی: اس کے علاوہ، مالی معاملات کو نزاع، جھگڑے اور خصومت سے محفوظ رکھنے کے لیے نبی ﷺ نے مالی معاملات میں صفائی کو ناگزیر قرار دیا، چنانچہ دونوں فریقوں کی رضامندی کا اصول مقرر فرمایا، ایسی چیز کی فروخت سے منع فرمایا جس کا مالک اس پر راضی نہ ہو، اسی طرح ایسی چیز فروخت کرنے سے منع فرمایا جو فروخت کنندہ کی ملکیت میں نہ ہو یا جسے حوالے کرنے وہ پر قادر نہ ہو، مجہول چیز کی فروخت، مجہول اجارہ، دین کے بدلے دین کی فروخت، اور ہر ایسی جہالت سے منع فرمایا جو نزاع کا باعث بنے۔ اسی طرح فاسد شرط سے بھی منع فرمایا، اور دونوں فریقوں کو جھگڑے سے بچانے کے لیے لکھنے اور رہن رکھنے کی نصیحت فرمائی۔
نبوی اقتصادی نظام کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں مال کی حفاظت کا واضح اصول موجود ہے،چنانچہ مال کی حفاظت کے لیے آپ ﷺ نے اس اقتصادی نظام میں جو احکام قائم فرمائے ان میں سے: چوری کی حد، غصب پر سزا، ضمان کی ادائیگی، نادان شخص کو تصرفِ مال سے روکنا، اور اسراف سے ممانعت شامل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’خرچ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے‘‘۔ (معجم اوسط، ۷/۲۵) ’’جو میانہ روی اختیار کرے وہ محتاج نہیں ہوگا‘‘۔ (شعب الایمان، ۶۱۴۹) آپ ﷺ نے لوگوں کو مال کی حفاظت کی بھرپور ترغیب دی اور مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہونے کو شہادت قرار دیا، فرمایا: ’’ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کردیا جائے وہ شہید ہے‘‘۔ (بخاری، ۲۴۸۰)
مذکورہ بالا احکام وہدایات اور اصول واقدار کی روشنی میں سیرت نبوی کی اقتصادی ومعاشی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، ضرورت ہے کہ نبوی اقتصادی نظام کو سمجھا جائے اور اسے نافذ کرنے کی کوشش کی جائے، اور خاص کر اسے موجودہ سرمایہ داریت کے مقابلے میں متبادل کے طور پر پیش کرنے کا منظم ومنصوبہ بند کام کیا جائے، تاکہ انسانیت کو سرمایہ پرستانہ استحصال سے نجات مل سکے۔
دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام
مز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی

