یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 

آدم علی ندوی

عبداللہ بن مبارک  رحمۃ اللہ علیہ ان بزرگوں میں سے تھے جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے رہتے تھے، جبکہ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے مکہ مکرمہ کے حرم میں عبادت و ریاضت کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔ ۱۷۷ھ میں ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے طرسوس سے محمد بن ابراہیم بن ابی سکینہ کے ہاتھ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے نام ایک خط روانہ کیا۔ اس خط میں انہوں نے اپنے انداز میں جہاد کی فضیلت اور مجاہدین کی زندگی کی عظمت کی طرف توجہ دلائی۔

جب یہ خط فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پہنچا اور انہوں نے اسے پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

پھر فرمایا:”ابو عبدالرحمن نے سچ کہا اور خیرخواہی کی۔”اس کے بعد فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے خط لانے والے سے پوچھا: کیا تم حدیث لکھتے ہو؟اس نے عرض کیا: ہاں۔ فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تو یہ حدیث بھی لکھ لو۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے ذریعہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا اجر حاصل کرسکوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ مسلسل نماز پڑھتے رہو اور سستی نہ کرو، اور ہمیشہ روزہ رکھتے رہو اور کبھی افطار نہ کرو؟اس شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم اس کی طاقت بھی رکھتے تو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے مرتبے کو نہ پہنچ سکتے۔

(صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، حدیث: 2633۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر، ۲۲/٤٤٩۔)

اللہ کی راہ میں جہاد محض ایک وقتی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری اور اعلیٰ مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلمے کو بلند کرنے اور حق کی حفاظت کے لیے اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کرتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے اسلامی تہذیب میں جہاد کی تربیت کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا، یعنی ایسی تربیت جس کے ذریعہ افراد کو ایمان، کردار، جسمانی قوت، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا احساس عطا کیا جائے، تاکہ وہ دین اور امت کی جائز ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔

 *ایمانی اور روحانی تربیت* 

جہاد کی تربیت کی بنیاد ایمان اور اخلاص پر رکھی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر خصوصی توجہ دی کہ مسلمان کی جدوجہد ذاتی مفاد، نام و نمود، قومی تعصب یا مالِ غنیمت کے لیے نہ ہو، بلکہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور حق کی سربلندی ہو۔

صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، جو حمیت و غیرت کی بنا پر لڑتا ہے اور جو دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون اللہ کی راہ میں ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔

جو شخص اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ سب سے بلند ہو، وہی اللہ کی راہ میں ہے۔

(صحیح البخاری: کتاب العلم ،باب:مَنْ سَأَلَ وَهْوَ قَائِمٌ عَالِمًا جَالِسًا، حدیث 123۔صحیح مسلم: کتاب الإمارة، باب: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حدیث 1904۔)

عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی اپنی زندگی بھی اسی اخلاص کی روشن مثال تھی۔ حسن بن ربیعؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ جہاد میں شریک تھے۔ دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو کفار کی صف سے ایک ماہر سوار نکلا اور مسلمانوں کو مقابلے کے لیے للکارا۔ مسلمانوں کی طرف سے یکے بعد دیگرے کئی سوار اس کے مقابلے میں گئے، لیکن وہ سب کو قتل کرتا چلا گیا۔ مسلمانوں میں اس کے سبب خوف اور اضطراب پیدا ہوگیا۔

اسی دوران مسلمانوں کی صف سے ایک نقاب پوش سوار نکلا۔ اس نے اس جنگجو کا مقابلہ کیا اور اسے قتل کردیا۔ مسلمانوں نے تکبیر بلند کی اور خوشی کا اظہار کیا، لیکن کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ بہادر سوار کون ہے۔ وہ واپس آیا اور خاموشی سے لوگوں کے درمیان شامل ہوگیا۔

حسن بن ربیع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے کوشش کرکے اس کے قریب پہنچ کر اس سے نقاب اٹھانے کی درخواست کی۔ معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ میں نے عرض کیا: اے مسلمانوں کے امام! آپ نے اس عظیم کامیابی کو کیوں چھپایا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں عطا فرمائی؟انہوں نے جواب دیا:الَّذِي فَعَلْتُ لَهُ ذَلِكَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ۔"جس کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے، اس سے یہ بات پوشیدہ نہیں۔”(النور السافر، محیی الدین عبدالقادر، ص ۲۹۹۔)

یہ اخلاص کی وہ کیفیت تھی جس میں انسان اپنے عمل کی تعریف مخلوق سے نہیں، اپنے خالق سے چاہتا ہے۔

 *جسمانی اور فنی تربیت* 

 جہاد کی تربیت کا دوسرا اہم پہلو جسمانی قوت اور عملی مہارت کا حصول تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان و اخلاص کے ساتھ ساتھ جسمانی تیاری اور جنگی مہارت پر بھی توجہ فرمائی۔

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسلم قبیلہ کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے اولادِ اسماعیل! تیر چلاؤ، تمہارے والد ماہر تیرانداز تھے۔ تیر چلاؤ، میں فلاں گروہ کے ساتھ ہوں۔راوی کہتے ہیں کہ ایک گروہ نے تیر چلانا روک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ تیر کیوں نہیں چلاتے؟ انہوں نے عرض کیا: جب آپ ان کے ساتھ ہیں تو ہم کیسے تیر چلائیں؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر چلاؤ، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔

(صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، باب التحريض على الرمي، حدیث: 2899۔)

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کی جسمانی تربیت میں خود دلچسپی لیتے، ان کی حوصلہ افزائی فرماتے اور انہیں عملی مہارتیں حاصل کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم نے بھی اس سنت کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے تیر اندازی، تیراکی، گھڑ سواری اور دیگر مفید جسمانی مہارتیں حاصل کیں۔ وہ اپنے جسموں کو اس قدر مضبوط اور توانا بناتے کہ مشکل حالات میں بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

اسی تربیت اور جسمانی تیاری کی ایک مثال حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھی ایک مضبوط قلعہ میں داخل ہوکر اندر سے بند ہوگئے۔ اس موقع پر حضرت براء رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! مجھے دیوار تک اٹھا کر لے جاؤ، یہاں تک کہ مجھے ان کے درمیان پہنچا دو۔مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ قلعہ کے اندر جا پہنچے اور مسلمانوں کے لیے دروازہ کھول دیا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بھرپور مقابلہ کیا اور بالآخر فتح حاصل کی۔

(سیر السلف الصالحین، الاصفہانی، ص ۲۹۷۔)

یہ واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں جسمانی قوت اور جنگی مہارت کو محض کھیل نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ انہیں اہم ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ضروری صلاحیتیں سمجھا جاتا تھا۔

اسی فنی تربیت کا ایک اہم تقاضا قتال کے مؤثر وسائل کی تیاری اور ان کے مناسب استعمال کی مہارت بھی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّنْ قُوَّةٍ اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہوسکے قوت تیار رکھو۔

(الأنفال: 60)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں قوت کی ایک نمایاں صورت رمی یعنی تیر اندازی کو قرار دیا: أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ۔ خبردار! قوت تیر اندازی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث: 1917)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازی کی تربیت جاری رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا۔جس نے تیر اندازی سیکھی، پھر اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث: 1919)

عہد نبوی میں جنگی حالات کے مطابق مختلف وسائل استعمال کیے جاتے تھے، دور سے تیر اندازی، قریب سے نیزہ اور بالمشافہ تلوار وغیرہ۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ دفاعی تیاری میں حالات اور ضرورت کے مطابق مؤثر وسائل اختیار کرنا اور ان کے استعمال کی مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔

اسلامی تاریخ میں منجنیق جیسے محاصراتی وسائل کے استعمال کا ذکر بھی ملتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت مؤثر اور دستیاب جنگی وسائل سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ ( ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، 2/479)

اس اصول کا تقاضا یہ ہے کہ ہر زمانہ میں اس دور کے مؤثر دفاعی وسائل کی تیاری اور ان کے مناسب استعمال کی تربیت کو بھی جہاد کی تربیت کا حصہ سمجھا جائے۔ موجودہ دور میں دفاعی تیاری محض روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی، مواصلاتی و حفاظتی نظام، فضائی و بحری دفاعی وسائل اور دیگر ضروری دفاعی ذرائع کے علم و تیاری تک وسیع ہوگئی ہے۔ قرآن کا اصول وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّنْ قُوَّةٍ۔ ہر دور میں استطاعت کے مطابق تیاری کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ (الأنفال: 60)

چنانچہ جسمانی قوت، فنی مہارت، مؤثر وسائل کی تیاری اور ان کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت، سب جہادی تربیت کے اہم اجزا ہیں۔ تاہم یہ تمام صلاحیتیں ایمان، اخلاص، نظم و ضبط اور شرعی و اخلاقی حدود کے تابع رہتی ہیں۔

 *اجتماعی نظم اور قیادت* 

اسلامی تربیت فرد کے ساتھ جماعت کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ قرآن مجید میں اہل ایمان کو اجتماعی نظم، صف بندی اور باہمی اتحاد کی تعلیم دی گئی: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ۔(الصف: 4)

اور فرمایا:وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔(الأنفال: 46)

اس لیے تربیت میں نظم و ضبط، ذمہ داری کی تقسیم، قیادت کی اطاعت، مشاورت، باہمی تعاون اور اختلاف سے بچنے کی عادت پیدا کرنا ضروری ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ محض افراد کی کثرت سے نہیں بلکہ منظم، ذمہ دار اور باہم مربوط افراد سے تشکیل پاتا ہے۔

 *چوکسی اور ذمہ داری* 

قرآن نے اہل ایمان کو غفلت سے بچنے اور حالات کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم دی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانفِرُوا ثُبَاتٍ أَوِ انفِرُوا جَمِيعًا۔اے ایمان والو! اپنی حفاظت کا سامان رکھو، پھر دستوں کی صورت میں نکلو یا سب کے سب نکلو۔ ‘‘(النساء: 71)

نمازِ خوف کے احکام میں بھی چوکسی کی اہمیت واضح کی گئی ہے: وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ(النساء: 102) اور اسی آیت میں دشمن کی اچانک کارروائی سے خبردار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 

یہ تعلیم وسیع تر معنوں میں مسلمانوں کو ذمہ دار، بیدار، منظم اور حالات سے باخبر رہنے کی تربیت دیتی ہے۔ تاہم چوکسی کا مطلب بے بنیاد بدگمانی یا ہر مخالف کو دشمن سمجھنا نہیں، بلکہ حقیقی خطرات کے مقابلے میں حکمت، احتیاط اور ذمہ داری اختیار کرنا ہے۔

 *صبر، استقامت اور توکل* 

قرآن نے مشکل حالات میں کامیابی کے لیے چند بنیادی اوصاف بیان کیے : فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا(الأنفال: 45-46) یعنی ثابت قدمی، ذکرِ الٰہی، اطاعت، باہمی اتحاد اور صبر۔ اس تربیت کا مقصد یہ ہے کہ انسان مشکل حالات میں گھبراہٹ، خود پسندی اور مایوسی کا شکار نہ ہو، بلکہ اللہ پر اعتماد رکھتے ہوئے اپنے جائز فرائض کو حکمت اور ثابت قدمی سے ادا کرے۔

 *خاندان اور گھر کا کردار* 

اسلامی تہذیب میں جہاد کی تربیت کا ایک اہم مرکز خاندان تھا۔ والدین بچوں کو اسلامی تاریخ، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، غزوات اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیوں سے واقف کراتے تھے۔ اس کا مقصد محض جنگی واقعات سنانا نہیں، بلکہ ان واقعات کے ذریعہ بچوں کے دلوں میں ایمان، شجاعت، ایثار، وفاداری، ذمہ داری اور دین سے وابستگی پیدا کرنا تھا۔

خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلے میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔

حضرت علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور آپ کی مہمات اس طرح سکھائی جاتی تھیں جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھائی جاتی ہے۔

حضرت اسماعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:میرے والد ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور آپ کی مہمات سکھاتے اور انہیں ہمارے سامنے بیان کرتے۔ وہ فرماتے: اے میرے بیٹو! یہ تمہارے آباء و اجداد کے کارنامے ہیں، لہٰذا ان کے ذکر کو ضائع نہ کرنا۔

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: فِي عِلْمِ الْمَغَازِي عِلْمُ الْآخِرَةِ وَالدُّنْيَا۔غزوات کے علم میں آخرت اور دنیا دونوں کا علم ہے۔

(الجامع لأخلاق الراوي، خطیب بغدادی، ۲/۱۹۵۔)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی گھرانے بچوں کی تربیت صرف کتابی علم کے ذریعہ نہیں کرتے تھے، بلکہ انہیں اپنی دینی تاریخ، اپنے اسلاف کی قربانیوں اور اسلامی اقدار سے بھی جوڑتے تھے۔

 *جہاد کی تربیت کے محرکات* 

اسلامی تہذیب میں جہاد کی تربیت کے پیچھے متعدد دینی اور اخلاقی محرکات کارفرما تھے۔ ان میں چند اہم محرکات یہ ہیں:

 *۱۔ اللہ کی راہ میں جہاد کا اجر حاصل کرنے کی خواہش* 

مسلمانوں کے لیے اللہ کی راہ میں جہاد ایک عظیم اجر کا ذریعہ تھا۔ اسی لیے اسلامی تاریخ میں ایسے بے شمار افراد ملتے ہیں جنہوں نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے اجر کی خاطر اپنی جان، مال اور وقت کو اللہ کی راہ میں پیش کیا۔صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں نکلنے والے شخص کے لیے یہ ذمہ لیا ہے کہ اسے کوئی چیز اللہ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نکلنے پر آمادہ کرے، تو وہ اسے اس اجر یا مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا جو اسے حاصل ہوا، یا اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں کسی سریہ سے پیچھے نہ رہتا۔ اور میری تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔(صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، باب تمنی الشهادة، حدیث: 2797۔)

اسی جذبۂ اجر و ثواب نے مسلمانوں میں اللہ کی راہ میں قربانی اور جدوجہد کا جذبہ پیدا کیا۔

ابو معاویہ ضریر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ہارون الرشید کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا:میری تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں۔یہ سن کر ہارون الرشید اس قدر روئے کہ ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ پھر انہوں نے پوچھا: اے ابو معاویہ! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے خود جہاد کے لیے نکلنا چاہیے؟ انہوں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اسلام میں آپ کا مقام زیادہ اہم ہے اور آپ کی ذمہ داری بھی بڑی ہے،آپ کا ٹہرنا زیادہ مناسب ہے، البتہ آپ لشکر روانہ کرسکتے ہیں۔ (تاریخ دمشق، ابن عساکر، ۷۳/۲۸۸۔)

 *۲۔ اسلام کی نصرت اور اس کے غلبہ کی خواہش* 

اسلامی تاریخ میں ایسے رجالِ کار بھی گزرے ہیں جنہوں نے اسلام کی دعوت کو دور دراز علاقوں تک پہنچانے اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے غیر معمولی جدوجہد کی۔

اسی جذبہ کی ایک مشہور مثال حضرت عقبہ بن نافعؒ کی ہے۔ ٦٣ھ میں جب وہ بحرِ اوقیانوس کے مشرقی ساحل تک پہنچے تو سمندر کی وسعتوں کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور عرض کیا:اے اللہ! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اس سمندر کے پار بھی کوئی سرزمین ہے تو میں تیری راہ میں اس سمندر کو پار کرکے وہاں بھی پہنچ جاتا، یہاں تک کہ وہاں کلمۂ لا إله إلا الله کو بلند کردیتا۔ (مائة من عظماء أمة الإسلام غيروا مجرى التاريخ، ص ٢٨٤۔)

یہ واقعہ اسلامی دعوت کے اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت مسلمان حق کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے خواہش مند تھے۔

 *۳۔ اللہ کی راہ میں شہادت کا شوق* 

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے کا جذبہ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ان کے نزدیک شہادت محض موت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ تھی۔

صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا، جن کے نام پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کا نام رکھا گیا تھا، غزوۂ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہ ہوسکے۔ انہیں اس کا بہت افسوس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلا معرکہ تھا جس میں وہ شریک نہ ہوسکے۔

انہوں نے عہد کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آئندہ کسی معرکے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کا موقع دیا تو وہ اپنی جانفشانی سے اللہ تعالیٰ کو دکھا دیں گے کہ وہ کیا کرسکتے ہیں۔چنانچہ وہ غزوۂ اُحد میں شریک ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی ملاقات حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے کہا:اے ابو عمرو! کہاں جا رہے ہو؟انہوں نے جواب دیا:وَاهَا لِرِيحِ الْجَنَّةِ، أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ۔واہ! مجھے اُحد کے اس پار جنت کی خوشبو محسوس ہورہی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، باب: غزوة أحد، حدیث: 2805۔)

اسلامی تہذیب میں جہاد کی تربیت ایک ہمہ گیر تربیتی عمل تھا جس کی بنیاد ایمان، اخلاص، مقصدیت، اخلاق، جسمانی قوت، عملی مہارت اور دینی شعور پر رکھی گئی تھی۔ اس تربیت میں مسجد اور مدرسے کے ساتھ گھر اور پورا معاشرہ بھی شریک تھا۔

اس تربیت کا مقصد محض جنگی صلاحیت پیدا کرنا نہیں تھا، بلکہ ایسے باکردار، ذمہ دار اور باہمت افراد تیار کرنا تھا جو اپنے دین، اپنی اقدار اور معاشرے کی جائز ذمہ داریوں کی حفاظت کرسکیں۔

اسلامی تاریخ کے ان واقعات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی قوم کی قوت صرف اس کے ہتھیاروں، وسائل یا تعداد میں نہیں ہوتی، اصل قوت اس کے افراد کے ایمان، کردار، تربیت، نظم و ضبط، قربانی اور مقصد سے وابستگی میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب میں تربیتِ افراد کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی، اور جہاد کی تربیت اسی وسیع تربیتی نظام کا ایک اہم حصہ تھی۔


مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی


سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت