Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
23.09.2026
Trending News: شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
23.09.2026
Trending News: شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

مدارس اسلامیہ ماضی۔، حال اور مستقبل !

  1. Home
  2. مدارس اسلامیہ ماضی۔، حال اور مستقبل !

مدارس اسلامیہ ماضی۔، حال اور مستقبل !

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 12, 2025
  • 0 Comments

محمد قمر الزماں ندوی۔

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

9506600725

ماضی میں مدارس کا کردار یقیناً انتہائی شان دار، روشن اور تابناک، ایثار و قربانی، ورع و تقویٰ اور زہد و قناعت کے تمام عناصر سے پر ہے۔ارباب مدارسِ اسلامیہ رخصت نہیں عزیمت اور فتویٰ نہیں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تھے۔ معاملات اور حساب و کتاب کی شفافیت اور مدارس کی چیزوں کے استعمال سے اجتناب، ان کا نمایاں وصف ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں حضرت مولانا منیر احمد نانوتوی رح سابق مہتمم دار العلوم دیوبند کا واقعہ ہم مدارس سے تعلق رکھنے والوں کے ایک مثال ،آیڈیل اور نمونہ ہے۔

ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد منیر صاحب رح مہتمم دار العلوم دیوبند ڈھائی سو روپے لے کر مدرسہ کی روئداد وغیرہ طبع کرانے دہلی تشریف لے گئے، اتفاق سے روپے چوری ہوگئے،آپ نے اس چوری کی کسی کو اطلاع نہیں کی اور اپنے وطن واپس آکر زمین فروخت کی اور ڈھائی سو روپے لے کر دہلی پہنچے اور کیفیت مدرسہ چھپوا کر لے آئے ،کچھ دنوں کے بعد اس کی اطلاع اہل مدرسہ کو ہو گئی، انہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی رح کو واقعہ لکھ کر حکم شرعی دریافت کیا، وہاں سے جواب آیا کہ مولوی صاحب امین تھے اور روپیہ بلا تعدی کے ضائع ہوا ہے، اس لیے ان پر ضمان نہیں ہے۔

اہل مدرسہ نے مولانا منیر صاحب سے درخواست کی کہ آپ روپیہ لے لیجئے اور مولانا گنگوہی کا فتویٰ دکھایا۔ مولانا محمد منیر صاحب نے فتویٰ دیکھ کر فرمایا کہ :میاں رشید احمد نے فقہ میرے لئے ہی پڑھا تھا اور کیا یہ مسائل میرے لیے ہی ہیں۔ ذرا اپنی چھاتی پر ہاتھ رکھ کر تو دیکھیں، اگر ان کو ایسا واقعہ پیش آتا تو کیا وہ بھی روپیہ لے لیتے؟ لے جاؤ اس فتویٰ کو، میں ہرگز دو پیسے بھی نہ لوں گا۔( نقوش علمائے دیوبند ص٢٩) مولانا محمد علی لاھوری رح کے بارے میں مولانا علی میاں ندوی رح نے لکھا ہے کہ میں ان کے گھر میں مہمان تھا، شام کے کھانے میں صرف روٹی اور ماش کی دال تھی میرے خاطر دو پیسہ کا دہی منگوا لیا تھا۔ (جب کہ مولانا کے مدرسہ میں بچوں کے لیے ہر وقت عمدہ اور اعلی کھانا ہوتا تھا۔ لیکن مولانا کے گھر والے اور بچے ہمیشہ سادہ کھانے ہی پر اکتفا کرتے تھے) اور فرمایا کہ اس وقت جیب اس کے علاوہ کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ ماضی میں مدارس کے ذمہ داروں میں استغنا ،خوداری اور زہد و توکل کا وصف اور جوہر کمال درجہ میں ہوتا تھا، وہ بادشاہوں اور ارباب اقتدار اور اصحاب ثروت سے کبھی مرعوب و متاثر نہیں ہوتے، اور جہاں مناسب سمجھتے ان کی امداد اور عطیہ کو لینے سے صاف انکار کردیتے تھے یا حکمت سے ٹال دیتے تھے۔ والی افغانستان سلطان حبیب اللہ خاں نے ایک مرتبہ اپنے سفیر کے ذریعہ پانچ ہزار روپے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کی خدمت میں بھیجے( پانچ ہزار کی حیثیت آج سے ایک صدی قبل کتنی تھی ؟ ذرا اندازہ لگائیے) اور ساتھ ہی یہ پیغام دیا کہ یہ مقدار ہرسال خدمت میں پہنچتی رہے گی اور معاوضہ صرف دعا ہے۔ مگر حضرت نے قبول نہیں فرمایا اور نہ صرف اس وقت کے پانچ ہزار روپے بلکہ ہر سال کی ایک مستقل آمدنی کو پائے استغنا سے ٹھکرا دیا۔ سفیر نے عرض کیا کہ حضرت! کم از کم میری حاضری کا تو لکھ دیں، والی کو شبہ ہوگا کہ میں آپ کے پاس پہنچا ہی نہیں۔ اور ویسے ہی بات بنا دی۔ اس پر مولانا گنگوہی رح نے فارسی زبان میں ایک خط سلطان حبیب اللہ خاں کے نام لکھوایا، جس کا مضمون یہ تھا ۔

بحیثیت اسلام مجھے آپ سے تعلق ہے اور میرا دل ہمیشہ آپ کو دعا دیتا ہے۔ خصوصاً موجودہ حالات میں محبت اسلام اور قدر و منزلت علم کی خبریں سن کر بہت خوش ہوتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے۔ آپ کی نذر پہنچی، مگر چونکہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ اور حق تعالیٰ نے مجھے بہتیرا کچھ دے رکھا ہے ،جمع کرکے کیا کروں گا ؟۔ اس لیے واپس کرتا ہوں کسی دوسرے مصرف میں خرچ کردیا جائے اور مجھے بہر حال دعا گو سمجھئیے۔ ( تذکرہ رشید)

آج بعض مدارس والے سرکاری ایڈ اور گرانٹ حاصل کرنے کے لیے نہ جانے کیا کیا حربے اختیار کرتے ہیں اور حکومت کی نظر میں ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور گرانٹ قبول کرنے کے نتیجے میں سرکار کے کن کن خلاف شرع حکموں کا ان کو پالن کرنا پڑتا ہے، یہ بات باکل عیاں اور بیاں ہے۔ لیکن ماضی میں مدارس کے ذمہ داران اور ارباب اہتمام نے ان کے پیشکش کو ہمیشہ ٹکھرا دیا اور اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔

آزادی کے بعد جب وزارت قائم ہوئی اور مولانا ابو الکلام آزاد رح وزیر تعلیم و ثقافت بنے تو انہوں نے ایک موقع پر ندوہ کے ذمہ داروں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ گورنمنٹ آف انڈیا ہندوستان میں ایک نمونہ کی عربی درسگاہ قائم کرنا چاہتی ہے، جو جدید اصولوں اور عصری تقاضوں کے مطابق ہو اگر ندوہ اس پیشکش کو قبول کرلے تو یہ سب سے بہتر ہوگا، حکومت عمارتوں کی تکمیل کرادے گی۔ یہ تجویز آئی تو ذمہ داران ندوہ بڑی کشمکش میں پڑ گئے۔ موت و حیات کا مسئلہ تھا، دوسری طرف مولانا آزاد کی تجویز کو یکسر رد کر دینا بھی مشکل تھا کیونکہ وہ خاندان کے بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ندوہ اور فکر ندوہ کے زبردست حامی و موئد تھے اور مستقل رکن انتظامی تھے۔ اس کے لیے ارباب ندوہ کی نظر مولانا مسعود علی ندوی پر پڑی جو مولانا سے بے تکلف تھے، وہ دہلی گئے مولانا ازاد نے پوچھا مولانائے مسعود کیسے آئے۔(وہ ان سے بے تکلفی میں اسی طرح مخاطب ہوتے تھے)مولانا مسعود نے کہا کہ کچھ بزرگوں کے لوح مزار کی عبارت کے بارے میں غور و خوض ہورہا ہے، مولانا محمد علی مونگیری رح کے لوح مزار پر بانی ندوة العلماء لکھنا تجویز ہوا ہے، اسی طرح مولانا شبلی کے لوح مزار کی کوئی عبارت بتائی جس سے ان کی ندوہ کی تحریک کو ترقی دینے کا اظہار ہوتا تھا، کہنے لگے کہ اندیشہ ہے کہ ہمارے اور آپ کے مزار پر قاتل ندوة العلماء لکھا جائے گا،مولانا آزاد نے بڑے استعجاب سے پوچھا کہ کیوں❓ معاملہ کیا ہے ؟ مولانا مسعود علی ندوی نے کہا آپ نے جو تجویز پیش کی ہے، اس کا مآل تو یہی ہے کہ ندوة العلماء ختم ہوجائے اور ہم آپ اس کے قاتل ٹھریں، آج تو آپ منصب وزارت پر ہیں اور آپ کی موجودگی میں اس کا خطرہ نہیں، لیکن پھر کون آتا ہے اور کیا ہوتا ہے۔ مولانا آزاد کی شہرئہ آفاق ذہانت کے لیے اتنا اشارہ کافی تھا، وہ دور تک بات کو سمجھ گئے اور فرمایا کہ آپ لوگوں کا فیصلہ صحیح ہے اور اس تجویز پر کوئی اصرار نہیں۔ ( مستفاد پرانے چراغ جلد دوم) ماضی میں مدارس کا یہ کردار رہا ہے ، لیکن کیا آج مدارس اسلامیہ میں اس کردار کا عشر عشیر بھی پایا جارہا ہے؟ کیا مدارس کے مالیات کے نظام میں وہ احتیاط اور شفافیت ہے؟ کیا ہمارے مالی فراہمی کے نظام میں استغنا اور خوداری ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے سفراء اصحاب ثروت کے سامنے ذلیل و خوار ہوتے ہیں؟ کیا چندہ کی وصولی کا جو صحیح نظام ہونا چاہیے وہ نظام مدارس میں ہے؟ یہ سب وہ سوالات ہیں، جن پر ہم سب کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

آج مدارس اسلامیہ دھیرے دھیرے اپنی افادیت اور معنویت و مرکزیت کھوتے جا رہے ہیں، اور انکے شاندار اور تابناک ماضی کو خلف باقی رکھنے کامیاب نہیں ہو پا رے ہیں۔ جس کا شکوہ بہت پہلے علامہ اقبال مرحوم نے بھی کیا تھا کہ اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے نمناک نہ محبت نہ مروت نہ حقیقت نہ نگاہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں جہاں زندگی کے تمام شعبہ میں زبردست تنزلی، پستی انحطاط اور زوال و تنزل آیا ہے، وہیں مدارس اسلامیہ بھی شدید تنزلی، زوال و انحطاط اور زبوں حالی کا شکار ہوئے ہیں۔ علمی و اخلاقی معیار کی پستی اور زوال کا شکوہ سب کی زبان پر ہے، اور سب اس کا رونا رو رہے ہیں۔

اگر آج کے دینی مدارس کا مقابلہ چالیس پچاس سال پہلے کے مدارس سے کیا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ اب عام مسلمانوں کی زندگی پر ان مدارس کی تاثیر میں دن بدن کمی آرہی ہے۔ اگر ارباب مدارس اس جانب توجہ نہیں دیں گے، تو یہ مدارس اپنی معنویت اور اہمیت مزید کھو دیں گے اور عوام کا رشتہ اور تعلق علماء اور مدارس سے کٹ جائے گا اور ان کے درمیان مزید دوریاں پیدا ہوجائیں گی۔ اس وقت مدارس اسلامیہ میں جو بے اعتدالی اور افراط و تفریط ہے ، اور جو کمیاں اور خامیاں ہیں، جن کی طرف بہت سے صاحب بصیرت متوجہ کر رہے ہیں اور ارباب مدارس کے ذھن کو اس جانب مبذول کررہے ہیں، ہم بھی اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

یہ درست ہے کہ اس وقت دینی مدارس نے عصری اسکولوں اور کالجوں کی طرح تعمیرات، ظاہری و مادی وسائل اور نظم و نسق کے شعبوں میں یقینا ترقی کی ہے۔ لیکن مدارس کی اصل روح جن پر ان کی حقیقی زندگی موقوف ہے، اس میں زبردست زوال اور انحطاط واقع ہوا ہے۔ دھیرے دھیرے مدارس کا تعلیمی نظام اور تعلیم و تعلم ایک رسمی شکل اختیار کر چکا ہے اور مدارس کے قیام کا اصل مقصد اور مشن نگاہوں سے اوجھل ہو رہا ہے۔ پہلے کے فارغین اور اب کے فارغین کی صلاحیتوں اور خدمات میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ زیادہ تر مدارس اسلامیہ میں ظاہری چیزوں اور تعمیرات کو فوقیت اور ترجیح دی جاتی ہے۔ باصلاحیت اساتذہ اگر ان کے اندر مالی فراہمی کی صلاحیت نہیں ہے، تو اس کی حیثیت مدرسہ میں کچھ بھی نہیں ہوتی۔ اراکین مدارس اور ارباب اہتمام کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح مدرسہ کی شہرت میں اضافہ ہو۔ طلبہ کی تعداد کمیت کے اعتبار سے بڑھے کیفیت کچھ بھی ہو۔ لیکن طلبہ کی تعلیمی اخلاقی اور دینی حالت کیا اور کیسی ہے؟ مدارس سے کس قسم کے افراد تیار ہو رہے ہیں اور ان سے دین و ملت کو کتنا فایدہ ہو رہا ہے، اس پر توجہ دینے والے اور اس جانب فکر کرنے والے مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔ مدارس میں پہلے اساتذہ اور طلبہ کا گہرا علمی تعلق اور مضبوط اخلاقی و روحانی رشتہ ہوتا تھا، وہ طلبہ اپنے اساتذہ کی نیک نامی اور شہرت و مقبولیت کا ذریعہ بنتے تھے۔ اساتذہ اپنے طلبہ کو بیٹے کا درجہ دیتے تھے، بلکہ بعض جگہ تو نسبی اولاد سے زیادہ روحانی اولاد کو ترجیح حاصل ہوجاتی تھی ، سید سلیمان ندوی رح اور علامہ شبلی رح کے تعلق کو دنیا جانتی ہے، کہ کس طرح سید صاحب نے اپنے استاد کے تشنہ کاموں کو مکمل کیا۔ لیکن علامہ شبلی کی صلبی اولاد کو وہ شہرت حاصل نہیں ہوسکی اور نہ لوگوں میں ان کا کوئی چرچا ہوسکا، جو شہرت و مقبولیت سید صاحب کو حاصل ہوئی ۔ اس وقت مدارس میں اساتذہ اور طلبہ کا رشتہ محض ایک رسمی رشتہ بن کر رہ گیا ہے۔ جو صرف درسگاہ کی حد تک محدود ہے۔ جبکہ ماضی میں استاد اپنے طلبہ کے لیے ایک شفیق باپ، روحانی مربی، اور علم و عمل کے میدان میں ایک شفیق نگران اور مخلص اتالیق کی حیثیت رکھتا تھا۔ جو طلبہ کے نجی معاملات تک میں دخیل ہوا کرتا تھا۔

انتظامی امور کے اعتبار سے بھی سینکڑوں خامیاں ہیں۔ مدارس جو روحانیت اور صداقت وراست بازی کے اعتبار سے لوگوں کے لیے ایک زمانہ میں مرکز ہوا کرتے تھے، آج بعض ادارے خود جھوٹ اور فراڈ کرتے ہیں، طلبہ اور اساتذہ کی تعداد بڑھا کر بتاتے ہیں ، جو سراسر دیانت و امانت کے خلاف ہے۔ بہت سے ادارے جو ثانویہ کے لائق ہیں زبردستی وہاں عالیہ کی پڑھائی کی جاتی ہے، جب کہ نہ وہاں ڈھنگ کے اساتذہ ہوتے ہیں اور نہ طلبہ اور نہ ہی اسباب و وسائل۔ ہر ضلع میں سینکڑوں مدارس ہیں، جب ایک ضلع میں ایک دو ہی مرکزی اور بڑے مدرسے ہونے چاہئیں اور گاؤں گاؤں میں مکتب کا نظام قائم ہونا چاہیے۔ پتہ چلا کہ ایک ایک ضلع سے سو سو سفراء زکوۃ کی وصولی کے لیے نکلتے ہیں، لوگوں کو تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی ضلع میں آخر کتنے مدارس ہیں۔ رمضان میں ایسے ایسے لوگ مدارس کے چندے کے لیے کمیشن پر نکلتے ہیں، جن کو صحیح نام لکھنا تک نہیں آتا اور ان کو دین کی باتیں تک یاد نہیں ہوتیں۔ جس کی وجہ مدرسے کی شبیہ لوگوں کی نظر میں خراب ہو رہی ہے۔ بعض جگہ مدرسہ کا وجود نہیں ہوتا جیبی مدرسے ہوتے ہیں، کمال عیاری سے تصدیق نامہ حاصل کرلیتے ہیں اور سال بھر چندہ کے پیسے سے بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے افسوس کہ اس پر عمل نہیں ہو پا رہا ہے۔

اب جو مدارس قائم ہو رہے ہیں زیادہ تر مدارس شخصی ہوتے جارہے ہیں۔ مزید یہ کہ مدرسہ کی املاک اور پراپرٹیز بھی شخصی ناموں پر بنتی جارہی ہیں۔ جس کی وجہ سے فتنے اور فساد پیدا ہو رہے ہیں اور بدگمانیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ بعض جگہ اگر چہ ایسا کرنا مجبوری میں ہوتا ہے ، جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

مدارس کے نظام میں مالی شفافیت کی بھی کمی ہے۔ بہت سے طلبہ جو مالی اعتبار سے خود کفیل ہوتے ہیں وہ بھی زکوۃ کی رقم سے استفادہ کرتے ہیں اور اس بارے میں نہ کوئی تحقیق کی جاتی ہےاور نہ ان کے والدین اور سرپرستوں سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کا ذھن بن گیا ہے کہ مدارس میں فیس طعام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اچھے اچھے صاحب حیثیت لوگ اپنی اولاد کو زکوۃ کھلاتے ہیں۔ اسی طرح مدوں کا فرق نہیں کیا جاتا ہے اساتذہ کی تنخواہیں بھی زکوۃ سے ادا کی جاتی ہے۔ مجبوری میں تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے، فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے،لیکن عام حالت میں اس کا جواز نہیں ہے۔ مدارس کے نصاب تعلیم کا قدیم ہونا اور حالات زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے اس میں تبدیلی نہ کرنا اور اس کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھانا بھی مدارس میں علمی گراوٹ اور اس کے زوال و انحطاط کا ایک سبب ہے۔ اس بارے میں ہم تفصیل کے ساتھ الگ مضمون میں ان شاءاللہ اظہار خیال کریں گے۔ مدراس کے جو طلبہ اب فارغ ہوکر نکلتے ہیں اپنی اصلاح و تربیت کے لیے ان کا کسی استاد اور شیخ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، بلکہ اس راہ تصوف و سلوک کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کو فعل عبث سمجھتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی زندگی اور تعلیم و تربیت سے دوسروں کا بھلا نہیں ہوتا اور نہ خود کا بھلا ہوتا ہے۔ بہت سے مدارس کے مالی نظام کے مرتب اور منظم نہ ہونے کی وجہ سے اور حساب نہ آڈٹ کرانے کی وجہ سے حکومت کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ اس جانب بھی توجہ کی سخت ضرورت ہے۔ ان حالات میں ہمیں مدارس کے مستقبل کے تئیں کیا کرنا ہے اور کیا نظام بنانا ہے چند باتیں پیش کی جاتی ہیں۔ (جاری)نوٹ / مضمون کا آخری حصہ کسی اور دن ملاحظہ فرمائیں ۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

خود شناسی-اہمیت اور تقاضے
🔰بچوں كی دینی تعلیم كا سنہرا موقع

Related Posts

شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک
  • hira-online.comhira-online.com
  • شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک
  • ستمبر 22, 2026
  • 0 Comments
شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک

شمالی قفقاز میں طریقہٴ نقشبندیہ خالدیہ: روحانی اصلاح سے حریت پسندانہ مقاومت تک از : مولانا ابو الجیش صاحب ندوی ​19ویں صدی کا شمالی قفقاز (بالخصوص داغستان اور چیچینیا) تاریخ کے ان سنگ میل ادوار کا شاہد ہے جہاں تصوف کی روحانی لہر نے محض خانقاہی حدود تک محدود رہنے کے بجائے ایک عظیم الشان سیاسی، اجتماعی اور حریت پسندانہ انقلاب کو جنم دیا۔ اس انقلابِ فکر و عمل کے پشت پناہ سلسلہٴ نقشبندیہ کی خالدیہ شاخ کے مشائخ تھے، جنہوں نے روسی سامراجی تسلط کے خلاف ایک ربطِ باہمی اور لازوال تاریخ رقم کی۔ ​1. ہند سے استنبول اور داغستان: سلاسل کا تاریخی سفر ​سلسلہٴ نقشبندیہ خالدیہ کی فکر کا سرچشمہ ہندوستان میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کی فکر پر مبنی "سلسلہٴ مجددیہ” تھا۔ 19ویں صدی کے آغاز میں عراق کے جلیل القدر عالم اور صوفی مولانا ضیاء الدین خالد بغدادی کردی نے دہلی میں شاہ غلام علی دہلوی سے خلافت حاصل کی۔ عثمانی قلمرو (دمشق، استنبول، اور کردستان) میں واپسی کے بعد مولانا خالد بغدادی نے اس سلسلے کی اصلاحی آبیاری کی، جس سے یہ طریقہ "نقشبندیہ خالدیہ” کے نام سے موسوم ہوا۔ ​عثمانی قلمرو سے یہ طریقہ آذربائیجان کے خطے شروان میں شیخ اسماعیل کوردمیری اور شیخ خاص محمد شروانی کے ذریعے پہنچا۔ 1820ء کی دہائی میں جب شیخ خاص محمد شروانی داغستان کے جنوبی علاقے میں داخل ہوئے، تو وہاں کے ممتاز فقیہ اور جید عالم ملا محمد یاراغی نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ملا محمد یاراغی کے بیعت ہوتے ہی داغستان میں دینی بیداری اور اصلاحی تحریک کا نیا دور شروع ہوا۔ 2. دعوتِ اصلاح: شریعت اور طریقت کا انضمام ​ملا محمد یاراغی اور ان کے متبعین نے داغستان کے روایتی معاشرے میں دو بنیادی اصلاحات کیں: ​قبائلی عصبیت کا خاتمہ: قفقاز درجنوں زبانوں اور باہم نبرد آزما قبائل کا مسکن تھا۔ نقشبندی مشائخ نے مقامی قبائلی عصبیتوں اور عرفی قوانین ("عادت”) کی جگہ اخوتِ اسلامی اور شریعتِ مطہرہ کا تصور عام کیا۔ ​عزتِ نفس اور حریت کا پیغام: ملا محمد یاراغی نے یہ فلسفہ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • اگست 31, 2026
  • 0 Comments
اسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغام

اسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغام 🖋 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی SEO Editor / ترتیب و پیشکش: اسجد حسن ندوی   آج کل شہروں میں چڑیا گھر (Zoo Park) بنے ہوتے ہیں۔ ان کی تزئین و آرائش، حفاظت اور جانوروں کی دیکھ بھال پر بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ رنگ برنگے پھول، ہرے بھرے درخت، پانی کی جھیلیں اور جانوروں کے لیے الگ الگ محفوظ احاطے اس ماحول کو خوب صورت بناتے ہیں۔ جانوروں کو وقت پر غذا ملتی ہے، علاج کے لیے ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں اور شکاریوں سے بھی انہیں تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ظاہری سہولتوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو چڑیا گھر کے جانوروں کو بہت سی ایسی آسائشیں حاصل ہوتی ہیں جو شاید جنگل میں بھی میسر نہ ہوں۔ لیکن اگر وہ جانور اپنی دلی خواہش کا اظہار کر سکتے تو ممکن ہے ان کی سب سے بڑی آرزو یہ ہوتی کہ انہیں اس خوب صورت مگر محدود ماحول سے نکال کر آزاد فضا میں چھوڑ دیا جائے۔ جنگل میں انہیں اپنی غذا کے لیے جد و جہد کرنا ہوگی، خطرات کا سامنا کرنا ہوگا اور ہر وقت تحفظ بھی حاصل نہیں ہوگا، لیکن وہاں وہ آزاد ہوں گے۔ وہ اپنی مرضی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں گے اور کسی مصنوعی حصار میں قید نہیں ہوں گے۔ یہ مثال انسان کی فطرت کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ جب ایک حیوان بھی قید کے مقابلے میں آزادی کو ترجیح دیتا ہے تو انسان، جسے اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور عطا فرمایا ہے، آزادی کی قدر کو کیوں نہ سمجھے؟ اسی پس منظر میں اسلام اور تصورِ آزادی کا مطالعہ نہایت اہم ہوجاتا ہے۔ اسلام نے انسان کی عزت، مساوات، انسانی وحدت اور آزادی کے ایسے اصول پیش کیے جنہوں نے انسانی معاشرے میں غلامی، طبقاتی تفاخر اور نسلی برتری کے تصورات کو چیلنج کیا۔ آزادی انسانی فطرت کا تقاضا ہے انسان بنیادی طور پر آزادی پسند مخلوق ہے۔ قید و بند کی زندگی کتنی ہی سہولتوں سے آراستہ…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک 22.09.2026
  • تہجد کیا ہے؟ 22.09.2026
  • خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں 21.09.2026
  • مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت 19.09.2026
  • سود کی لعنت اور اس کا علاج 18.09.2026
  • معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون 16.09.2026
  • پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت 16.09.2026
  • یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 12.09.2026

حالیہ تبصرے

  • حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت از شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک 1
  • نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار) از تہجد کیا ہے؟ » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • خواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیت از خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری از دھرم پریورتن، سچائی اور پروپیگنڈہ » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • "فاسق معلن” کی دعوت قبول کرنے کے سلسلے میں شرعی حکم از دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے » HIRA ONLINE / حرا آن لائن

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

مضامین و مقالات

شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک

  • hira-online.com
  • ستمبر 22, 2026
شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک
اسلامیات

تہجد کیا ہے؟

  • hira-online.com
  • ستمبر 22, 2026
تہجد کیا ہے؟
گوشہ خواتین

خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں

  • hira-online.com
  • ستمبر 21, 2026
خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں
اسلامیات

مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 19, 2026
مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت
اسلامیات

سود کی لعنت اور اس کا علاج

  • hira-online.com
  • ستمبر 18, 2026
اسلامیات

معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون
اسلامیات

پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت
اسلامیات

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top