قسطوں پر سامان کی فروخت

قسطوں پر سامان کی خرید وفروخت
قسطوں پر سامان کی خرید و فروخت

آج کل قسطوں پر سامان کو فروخت کرنے کا رواج عام ہو گیا ہے خرید نے والے کو بھی اس میں سہولت ہوتی ہے اور بیچنے والا بھی ادائیگی میں تاخیر کو ملحوظ رکھ کر قیمت کسی قدر بڑھا کر لیتا ہے ، اس طرح کی خرید و فروخت میں نقد کی قیمت کم اور ادھار کی زیادہ ہوتی ہے ۔ یہ صورت جائز ہے  البتہ معاملہ طے کرتے ہوئے ان امور کا

خیال رکھنا چاہئے :

(1) معاملہ نقد یا ادھار میں سے کسی ایک نوعیت پر قطعیت کے ساتھ طے کر لیا جائے

(۲) ادھار جو قیمت مقرر کی جائے وہ بھی ایک اور مقرر و طے شدہ ہو۔

(۳) اگر خریدار مقررہ وقت پر پیسہ ادا نہ کر پائے تو تاخیر کی وجہ سے قیمت میں مزید اضافہ نہ کیا جائے ، اگر تاخیر مزید کی وجہ سے پھر قیمت بڑھادی جائے تو یہ حرام ہوگا اور سود متصور ہوگا۔

قسطوں پر سامان فروخت کرنا


جدید فقہی مسائل : ج : 1 ص :(390 )


خورشید پرویز صدیقی۔بے باک صحافت کا مرد درویش۔


اعضاء کی پیوندکاری : شرعی نقطہ نظر