Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار

  1. Home
  2. قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار

قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار

  • hira-online.comhira-online.com
  • اسلامیات
  • نومبر 29, 2024
  • 0 Comments

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

قرآن مجید "أبوّۃ” یعنی اولاد کے ساتھ باپ کے رشتہ کو انسانی رشتوں میں سب سے مضبوط اور اہم تعلق کے طورپر پیش کرتا ہے، باپ پر ہی پر مادی اور معنوی حقوق و فرائض کا دارومدار ہوتا ہے، گو کہ اس تعلق سے انسان پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، لیکن باپ ہونا حقیقت میں اللہ کی طرف سے ایک نعمت اورخصوصی عطیہ ہے، جیسا کہ رحمن کے خاص بندوں کی دعاؤں میں ایک دعا اپنے تئیں نیک وصالح اولاد کے باپ ہونے کی بھی ہے: "رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ” (الفرقان: ۷۴) (اے ہمارے رب!ہمیں ایسی بیویاں اور اولاد عطا فرمادیجئے جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں)، قرآنی نمونوں میں سب سے مقدس نمونہ کبر سنی میں حضرت براہیمؑ اور حضرت زکریا ؑ کا خدا کے حضور اولاد کی عاجزانہ طلب ہے، اور بارگاہ خداوندی سے اس کی بشارتوں کا فیضان ہے۔

باپ ایک ایسا لفظ جو صرف تین حروف پر مشتمل ہے؛ لیکن اس کے معنی کی گہرائی سمندر کی وسعتوں کو شرمندہ کر تی ہے، باپ محض ایک رشتہ نہیں، بلکہ ایک سایہ دار شجر، ایک مضبوط دیوار، اور ایک غیر متزلزل بنیاد ہے، یہ اس شخصیت کا نام ہے جو اپنی ذات کی چمک کو ماند کر کے اولاد کے لیے روشن راہوں کی ضمانت دیتی ہے، اگر ماں کی محبت نرم شفق جیسی ہے، تو باپ کی محبت چھاؤں کی مانند ہے، وہ اپنی مشکل چھپائے اولاد کے دکھ سمیٹتا ہے، باپ کا کردار ہمیشہ سے ایک ان کہی داستان رہا ہے، وہ داستان جو روزمرہ کی ذمہ داریوں میں گم ہو جاتی ہے؛ لیکن اس کے بغیر زندگی کے کسی باب کا آغاز ممکن نہیں، باپ وہ معمار ہے، جو اپنے خون پسینے سے نسلوں کے مستقبل کی عمارت کھڑی کرتا ہے، اس کی خاموش دعائیں اولاد کی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہیں، اور اس کے دل میں پنہاں امیدیں دنیا کے بڑے بڑے خزانوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں، باپ کی محبت کو سمجھنا آسان نہیں، یہ محبت ماں کی طرح اظہار کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ یہ ان خاموش قربانیوں میں چھپی ہوتی ہے جو وہ ہر دن پیش کرتا ہے۔

باپ اپنی خواہشات کو مٹا کر اولاد کی خواہشات کو پروان چڑھاتا ہے، اپنے پیروں کے جوتے گھس کر وہ اپنے بچوں کے لیے نئے جوتے خریدتا ہے، اس کی آنکھوں میں نیند کی کمی اور جسم پر مشقت کی نشانیاں اس کی محبت کی گواہی دیتی ہیں، لیکن وہ کبھی شکایت نہیں کرتا، باپ ایک رہنما، ایک مشیر، اور ایک محافظ ہے، وہ زندگی کے نشیب و فراز میں اولاد کو رہنمائی فراہم کرتا ہے اور اپنی حکمت وبصیرت کے ذریعہ ان کے مسائل کا حل نکالتا ہے، اگرچہ وہ سخت گیر نظر آ سکتا ہے، لیکن اس کی سختی دراصل اس کی محبت کا دوسرا رخ ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو، اور اسی لیے وہ انہیں مضبوط بننے کی تربیت دیتا ہے، باپ کی کہانی صرف موجودہ وقت کی نہیں، بلکہ یہ ماضی، حال، اور مستقبل کے درمیان ایک پل ہے، وہ اپنے آبا و اجداد کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے اپنی اولاد کو ان کی جڑوں سے جوڑتا ہے، وہ وقت کے بدلتے دھارے میں اپنی نسل کو ایسا بیج دیتا ہے جو زمین کی سختی اور ہوا کی شدت کے باوجود اپنی جگہ قائم رہ سکے، باپ کا کردار صرف مادی ضروریات کی فراہمی تک محدود نہیں، وہ اولاد کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینا چاہتا ہے، اس کی خوشی ان خاص لمحات میں چھپی ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو کامیاب اور مطمئن دیکھتا ہے، باپ کا کردار نسلوں کی تعمیر کا ضامن ہے، وہ نہ صرف اپنے خاندان کے لیے ایک ستون ہے بلکہ معاشرہ کے لیے بھی ایک مثال ہے، باپ یعنی ایسی روشنی جو اندھیروں میں راہ دکھاتی ہے، ایک ایسا سائبان جو زندگی کےسرد وگرم کو برداشت کر کے اپنے بچوں کو سکون فراہم کرتا ہے، اورایک ایسا کوہ استقامت جو طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے تاکہ اس کی نسل محفوظ رہے، باپ کے بغیر زندگی کی تصویر نامکمل ہے، وہ حالات کی سنگلاخ زمینوں میں دفن ایک ایسی بنیاد ہے جو ہر کامیابی، ہر خوشی، اور ہر سکون کا ذریعہ ہے، باپ کا وجود نعمت ہے، اس کا سایہ سکون ہے، اور اس کی محبت دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے، اس ہستی کا شکر ادا کرنا ممکن نہیں، لیکن اسے سمجھنا اور اس کی قربانیوں کا اعتراف کرنا ہر فرد کا فرض ہے، لفظ”أب” کا اصل مطلب ہی تیاری اور ارادہ کرنا ہے، عربی زبان میں کہا جاتا ہے: "أبّ الرجل”، یعنی وہ شخص جو کسی عمل یا مقام کی طرف تیاری کرے یا قصد کرے، اسی طرح اس لفظ کا مطلب وطن کی جانب رجوع کرنا بھی ہے، لسان العرب کے مطابق، "أبوة” اصل ثلاثی (أبى) سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "امتناع” یعنی کسی چیز سے رک جانا یا پرہیز کرنا یا تحفظ اور حمایت فراہم کرنا، اس طرح "أبوة” کا مطلب معاشرتی اور تربیتی حوالہ سے تیاری اور ارادہ بھی ہو سکتا ہے، اور وہ تحفظ اور حمایت بھی جو باپ اپنی اولاد کو فراہم کرتا ہے۔

اصطلاحی طور پر باپ کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ "وہ انسان جس کے ذریعہ سے دوسرا انسان پیدا ہوا” جیسا کہ کفوی نے لکھا ہے، جب کہ مناوی کے مطابق” باپ ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کے وجود، اصلاح یا ظہور کا ذریعہ ہو”، لغت کے ماہرین نے "أب” اور "والد” کے درمیان فرق کیا ہے، "أب” کا مفہوم "والد” سے زیادہ وسیع ہے؛ کیوںکہ "أب” کا اطلاق بچے کے والد، دادا اور چچا پر بھی ہوتا ہے، جب کہ "والد” صرف بچے کے حقیقی والد کو کہا جاتا ہے، "أبوة” ایک وسیع تر معنوی رشتہ ہے، جو والدین کی حد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی اور عقیدے سے جڑا ہوا تعلق ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو "أبوالانبیاء” کہا گیا،قرآن کریم میں "أبوة” کا ذکر تقریباً ۱۱۷ مرتبہ مختلف صیغوں میں ہوا ہے، مثلاً مفرد، تثنیہ اور جمع کی شکل میں، اس کی مثالیں قرآن میں یوں ملتی ہیں: "قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ” (یوسف: 78) اور:”فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى، قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ، سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ‘‘(الصافات: 102)، یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ قرآن کریم میں "أب” کے ذکر سے باپ کے معنوی اور حقیقی دونوں پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں "أب” کا استعمال متعدد سیاق و سباق میں ہوا ہے، قرآن میں والد، دادا اور چچا تینوں معنوں میں استعمال ہوا ہے، مثال کے طور پر، والد کے طور پر ارشاد ہوا: "يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَبِيهِ” (عبس: 34)، دادایا جد امجد یا انہیں کی مانند انتہائی قابل احترام شخصیت کے طور پر ذکر آیا: "مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ” (الحج: 78)، چچا کے طور پر مثلاً حضرت اسماعیلؑ کو حضرت یعقوب ؑکا "أب” کہا گیا: "نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ” (البقرہ: 133)،قرآن میں "أب” کا ذکر اکثر احترام اور اولاد پر ان کی اطاعت کو واجب قرار دئیے جانے کے پس منظر میں آتا ہے، جیسا کہ حضرت شعیبؑ کی بیٹیوں نے حضرت موسیٰؑ سے بات کرتے ہوئے کہا: "وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ” (القصص: 23)، اسی طرح حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے حاکم مصر حضرت یوسفؑ سے کہا: "إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا” (یوسف: 78)۔

ڈاکٹر فاضل السامرائی کے مطابق، قرآن مجید باپ اور ماں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے دو مختلف الفاظ استعمال کرتا ہے:”الأبوين” اور”الوالدين”، "الأبوين” کا استعمال ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں باپ کو ماں پر فوقیت دی گئی ہو، جیسا کہ اس آیت میں ذکر ہے: "وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ” (یوسف: 100)،یہاں ماں کے مقابلہ میں باپ کا ذکر پہلے آیا؛ کیوں کہ ان مواقع پر باپ کی حیثیت کو مقدم سمجھا گیا، "الوالدين” کا استعمال ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں ماں کی قربانیوں اور خدمات کو نمایاں کیا گیا ہو، جیسے کہ اس آیت میں: "وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا” (البقرہ: 83)، یہاں حمل اور تربیت میں ہونے والی ماں کی مشقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے زیادہ اہمیت دی گئی، ڈاکٹر السامرائی مزید کہتے ہیں کہ قرآن مجید رشتوں کی ترتیب کو ان کی قوت کے لحاظ سے طے کرتا ہے، اور اس حوالہ سے باپ کو ماں پر فوقیت دی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ اولاد کو مدد اور تحفظ فراہم کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ ماں عمومی طور پر کمزور ہوتی ہے اور اسے خود مدد کی ضرورت ہوتی ہے؛ اسی لیے قیامت کے دن انسان کے بھاگنے کی ترتیب میں پہلے بھائی، پھر ماں اور اس کے بعد باپ کا ذکر آیا ہے: "يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ” (عبس: 34)، یہ آیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کو قیامت کے دن اپنے باپ کی ضرورت زیادہ محسوس ہوگی؛ اسی لیے ماں سے فرار کا ذکر باپ سے پہلے آیا۔

یہ تمام شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ باپ کے ساتھ احترام کا تعلق تمام اولاد پر ہر حال میں واجب ہے، قرآن مجید نے باپ کی کئی خصوصیات کو بیان کیا ہے، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صالحیت باپ کے رشتہ کی ایک بنیادی صفت ہے، قرآن میں صالح باپ کے کئی نمونے پیش کیے گئے ہیں، جیسے حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت یعقوبؑ اور لقمان، اس کے برخلاف، آزر کا کردار غیر صالح والد کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باپ کا اصل کردار تربیت، رہنمائی اور محبت پر مبنی ہوتا ہے، قرآن مجید میں باپ کو اولاد کی تربیت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ایمان وعمل کی نصیحت کی، جب کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو عقیدے اور اخلاق کی تعلیم دی، یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ باپ کا کردار صرف مادی ضروریات کی تکمیل تک محدود نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی تربیت بھی اس کی ذمہ داری ہے، قرآن میں باپ کے کردار کو محبت اور قربانی کے حوالہ سے بھی پیش کیا گیا ہے، حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کے لیے قربانی دینے کا فیصلہ کیا، جو ان کی محبت اور اللہ کے حکم کی اطاعت کا مظہر تھا، اسی طرح حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے کی ہدایت کے لیے آخری لمحے تک کوشش کی، قرآن میں باپ کے کردار کو حکمت اور مکالموں کے ذریعے بھی نمایاں کیا گیا ہے، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت یعقوبؑ نے اپنی اولاد سے بات چیت میں حکمت اور نرمی کا مظاہرہ کیا، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ باپ کو اولاد کے ساتھ گفتگو میں حکمت اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

قرآن مجید نے حضرت یعقوبؑ کو ایک مثالی باپ کے طور پر پیش کیا ہے، ان کی خصوصیات میں صالح خاندان سے تعلق، اولاد کی محبت، دور اندیشی، اور مشکلات کے باوجود صبرو حکمت سے کام لینا شامل ہیں، حضرت یعقوب ؑنے اپنی اولاد کے ساتھ محبت اور احترام کا رویہ اپنایا، جیسا کہ ان کے بیٹوں کے لیے دعا اور نصیحت کے واقعات سے واضح ہوتا ہے، انہوں نے تحمل اور دعاؤں کے ذریعہ اپنے بچوں کی غلطیوں کی اصلاح کی کوشش کی، جو ایک مثالی باپ کی خصوصیات میں ہیں، قرآن مجید میں باپ کے کردار کو ایک مقدس اور ذمہ دارانہ حیثیت دی گئی ہے، صالح والدین کے قرآنی نمونے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ باپ کا کردار اولاد کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت میں کس قدر اہم ہے، یہ نمونے نہ صرف ایک فرد کی بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتے ہیں، گویا والد کا وجود قرآن کی زبان میں محبت، حکمت اور قربانی کی ایک خاموش داستان ہے، وہ ایک شجر سایہ دار ہے، جس کی جڑیں دعاؤں میں پیوست اور شاخیں قربانیوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں، والد کا مقام الفاظ کی گرفت سے باہر ہے، جہاں ہر لمحہ قربانی اور ہر سانس رہنمائی کا استعارہ ہے، یہی وہ مقام ہے جو قرآن نے والد کو عطا کیا، اور یہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی نسل در نسل بکھرتی رہتی ہے، طاہر شہیر کا یہ شعر خوب ہے:

عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے

یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

” اسلام میں عورت کے مھر کی حیثیت اور اس کا حکم”
نیت وعمل میں اخلاص–دین کا جوہر اور کامیابی کی شاہ کلید

Related Posts

جہاد ضرورت اور فضیلت
  • hira-online.comhira-online.com
  • جہاد
  • جہاد کی حقیقت
  • جنوری 7, 2026
  • 0 Comments
جہاد ضرورت اور فضیلت

اصلاحِ امتجہاد۔ضرورت و فضیلت آدم علی ندویمدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔ علی گڑھ جہاد امت کا اجتماعی فریضہ:اسلام ایک مکمل دین ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اور عبادات اربعہ کی طرح اور بھی فرائض متعین کرتا ہے، انہی اہم فرائض میں سے ایک فریضہ جہاد فی سبیل اللہ ہے، جو قرآن و سنت متواتر کی روشنی میں قیامت تک امت پر لازم ہے۔جہاد کی فرضیت:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔” (البقرہ: 216)یہ آیت بتاتی ہے کہ جہاد بھی اسی طرح فرض ہے جیسے روزہ یا نماز۔جہاد کی فرضیت و تاکید کے لئے "کتب علیکم القتال” کی تعبیر اسی طرح آئی ہے جیسے روزہ کی فرضیت کے لئے۔ اگرچہ یہ نفس پر بھاری معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ امت کی عزت، تحفظ اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔” (ابو داود-33)اس کا مطلب ہے کہ یہ فرض کسی زمانے یا علاقے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور میں زندہ ہے۔ امت کو ہر وقت اپنی مادی اور روحانی طاقت کو تیار رکھنا چاہیے تاکہ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جہاد صرف فوجی میدان تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس فریضے میں شریک ہے:کچھ لوگ میدانِ جنگ میں لڑ کر۔کچھ اپنے مال کے ذریعے مدد کر کے۔کچھ قلم اور زبان سے اسلام کا دفاع کر کے۔نبی ﷺ نے فرمایا:”جو شخص نہ جہاد کرے اور نہ دل میں نیت رکھے، وہ نفاق پر مرتا ہے۔” (مسلم-4931)جہاد کا مقصد محض جنگ نہیں بلکہ:باطل کو ختم کرنا،دینِ حق کو غالب کرنا،امت کو ظلم سے بچانا،اور اسلام کی عزت قائم کرنا ہے۔قرآن نے واضح فرمایا:”ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔” (البقرہ: 193)جہاد ایک لازمی فریضہ ہے جس سے امتِ مسلمہ کو ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے۔…

Read more

Continue reading
خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت
  • hira-online.comhira-online.com
  • خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت
  • کیا خدا موجود ہے ؟ وجود باری تعالیٰ
  • جنوری 2, 2026
  • 0 Comments
خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت

خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ گزشته دنوں ملك میں ایك اهم موضوع پر اهل علم كے درمیان مذاكره هوا، اور وه هے خدا كا وجود، جس كا مذهب سے گهرا تعلق هے، دنیا میں جو مذاهب پائے جاتے هیں، ان میں خدا كے وجود كا مشترك تصور هے، خدا كا یقین هی انسان كو ایك غیبی طاقت كا مطیع وفرمانبردار بناتا اور اس كے اندر جواب دهی كا یقین پیدا كرتا هے، اور یه بات اس كو خیروصلاح اور عدل وانصاف پر قائم ركھتی هے؛ مگر اس وقت مغربی تهذیب كی بنیادی دعوت خدا پرستی كے بجائے شهوت پرستی كی هے، اور اس فلسفه میں سب سے بڑی ركاوٹ خدا كا یقین هے، بدقسمتی سے مختلف صورتوں میں الحاد هماری نئی نسلوں میں بڑھتا جا رها هے؛ اسی لئے ضروری هے كه مسلمان اپنے بال بچوں كی تربیت میں اس پهلو كو ملحوظ ركھیں۔ الله تعالیٰ كے وجود كو ماننے سے یه یقین ركھنا مراد ہے کہ اگرچہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں ؛ لیکن وہ موجود ہے ، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسی کے حکم سے اس کا نظام جاری وساری ہے؛ اس لئے همیں اس كی اطاعت وفرماں برداری كرنی چاهئے۔غور كریں تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی دلیل ہے ؛ لیکن چند اہم دلیلیں یہ ہیں :(الف) ہم دن و رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کسی صانع کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ، اگر کوئی شخص کسی مکان کے بارے میں دعویٰ کرے کہ یہ از خود بن کر کھڑا ہوگیا ہے تو لوگ اسے پاگل سمجھیں گے ، تو یہ وسیع وعریض کائنات کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے ؟ قرآن مجید میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جیسے ارشاد ہے :اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۔ (ابراہیم: ۱۰)كیا…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top