Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

دستور اور آئین پر عمل آوری

  1. Home
  2. دستور اور آئین پر عمل آوری

دستور اور آئین پر عمل آوری

  • hira-online.comhira-online.com
  • فکر و نظر
  • نومبر 29, 2024
  • 0 Comments

از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

قدرت نے دو قوتیں انسان کے ساتھ رکھی ہیں ، ایک انسان کی خواہشات ، دوسرے اخلاقی جوہر ، خواہشات بعض اچھی بھی ہوتی ہیں ، اور بعض بُری بھی ، خواہشات کی دنیا بہت وسیع ہے ، اگر انسان ہر خواہش پوری کرنے لگے تو وہ گناہ سے بچ نہیں سکتا ، مثلاً انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت مند ہو جائے ، چاہے اس کے لیے رشوت لینی پڑے ، ظلم وزیادتی کا راستہ اختیار کرنا پڑے ، دوسروں کی زمینوں اور جائیداد پر ناجائز قبضہ کی نوبت آجائے اور اخلاقی جوہر انسان کو نیکی و بھلائی کی طرف بلاتا ہے اور ظلم وزیادتی اور بُری باتوں سے روکتا ہے ، انھیں دونوں قوتوں کو حدیث میں ’’ لمۂ ملکوتی ‘‘ اور ’’لمۂ شیطانی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ، (مشکوٰۃ شریف : ۱؍۱۹ ، باب فی الوسوسۃ )مہذب انسانی معاشرہ میں خواہشات کو اخلاق کے دائرہ میں رکھنے کے لیے قانون بنایا جاتا ہے ؛ اس لیے قانون کی بڑی اہمیت ہے ، اور اسی پر سماج میں عدل و انصاف کا قائم رہنا موقوف ہے ۔ چند روز پہلے ۲۶؍ نومبر کی تاریخ گذری ہے ، جو دستور کی تدوین میں اہم کردار کرنے والی شخصیت جناب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر صاحب کی یوم پیدائش ہے؛ اسی لئے اس کو یوم دستور کی حیثیت سے منایا جاتا ہے، ہمارے ملک نے نصف ِصدی سے زیادہ اس دستور کا تجربہ کرلیا ہے ، جو دنیا کا مفصّل اور طویل دستور سمجھا جاتا ہے اور ۲۳ ؍ ابواب ، ۳۹۵؍دفعات اور ۱۲؍ جدولوں پر مشتمل ہے ، یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ دستور بننے اور اس کے نافذ ہونے کے باوجود لا قانونیت ہمارے سماج کا ایک لازمی جز بن گئی ہے ، اس پس منظر میں ملک کے بہی خواہوں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح لوگوں کے رجحان کو بدلیں ، انھیں صحیح رُخ دیں ، اور انھیں قانون کا پابند بنائیں ؟

قانون کے سلسلہ میں اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ قانون کا کام انسانی زندگی کی تہذیب ہے ، تہذیب کے معنی ’’ کانٹ چھانٹ ‘‘ کے ہیں ، جیسے مالی پھول پودے لگاتا ہے ؛ لیکن اگر صرف پودے لگا کر چھوڑ دے تو وہ ایک جنگل بن جائے گا ، اسی لیے اس کی کانٹ چھانٹ کی جاتی ہے اورقرینہ کے ساتھ اس کو سنوارا جاتا ہے ، یہی حال انسانی خواہشات و جذبات کا ہے ، انسان کے اندر جو خواہشات رکھی گئی ہیں ، وہ اپنی اصل کے اعتبار سے بری نہیں ہیں ؛ لیکن جب یہ حدِّاعتدال سے گذر جاتی ہیں تو دوسروں کے ساتھ ناانصافی کی صورت اختیار کرلیتی ہیں ؛ اسی لیے قانون کی ضرورت پڑی ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر قابو رکھے ، اور اس کو عدل واعتدال کے دائرہ سے باہر نہ جانے دے ، قرآن مجید کی اصطلاح میں اسی کا نام ’’تقویٰ ‘‘ہے اور قرآن مجید نے ۴۷ مواقع پر مختلف اُسلوب میں تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کی ہے اور اسے سراہا ہے ۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ قانون بنانے کاحق کس کو ہے ؟ — ایک جملہ میں اس کا جواب یہ ہے کہ جو علم بھی رکھتا ہو اور عدل و انصاف بھی کرسکتا ہو ، جو شخص کسی کی ضروریات اوراس کے فوائد ونقصانات سے واقف نہ ہو ، وہ اس کے مسائل کے بارے میں یقیناً صحیح رہنمائی نہیں کرسکتا ، مثلاً اگر کمپیوٹر انجینئر سے کہا جائے کہ وہ ڈاکٹروں کے لیے ضابطۂ اخلاق متعین کرے اور ڈاکٹر سے کہا جائے وہ کسی صحافی کے مسائل کو حل کرے تو یہ یقیناً ناسمجھی کی بات ہوگی ؛ اس لیے قانون وہی بنا سکتا ہے ، جو ان لوگوں کی ضروریات اور مصالح و مفاسد سے پوری طرح باخبر ہو ، جن کے لیے قانون بنا رہا ہے ؛ ورنہ اس کا بنایا ہوا قانون ہرگز قابل عمل نہیں ہوسکتا ۔

اسی طرح یہ بات بھی ضروری ہے کہ قانون بنانے والے ان تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کر سکیں ، جن کے لیے قانون بنایا گیا ہے ، مثال کے طور پر ہمارے ملک میںمسلمانوں سے کہا جائے کہ وہ اس ملک کا دستور بنائیں تو وہ اپنے طبقہ کی بھلائی دیکھیں گے ، ہندوؤں ، سکھوں اوردوسرے مذہبی گروہوں کے ساتھ وہ انصاف نہیں کر سکیں گے ، یہی حال اس وقت ہوگا جب ہندوؤں یا سکھوں کے ہاتھ میں قانون کی باگ دے دی جائے ، اسی طرح اگرایک علاقہ کے لوگ قانون بنانے کا اختیار رکھتے ہوں تو وہ دوسرے علاقہ کے لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے ؛ اس لیے یہ ضروری ہے کہ قانون بنانے والی شخصیت علم اور عدل دونوں کی حامل ہو ۔

اسی لیے اسلام کی نظر میں اصل قانون بنانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ، اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ علیم و خبیر ہے یعنی پوری کائنات اس کے علم میںہے ، اوروہ ذرّہ ذرّہ سے باخبر ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنی اس صفت کو بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ذرا بھی ظلم نہیں کرتے ، اس کی ذات ظلم و تعدی سے ماوراء ہے ، یہ بھی اسی حقیقت کا اظہار ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا قانون مقرر کرنا اور دستور بنانا خدا ہی کا حق ہے : إن الحکم إلا للّٰه (الانعام : ۵۷) ألا لہ الخلق و الأمر(الاعراف : ۵۴ ) انسان کا بنایا ہوا قانون ہمیشہ ان دو پہلوں میںسے کسی پہلو سے ناقص رہے گا ، یا تو وہ علم کی کوتاہی پر مبنی ہو گا ، یا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہو گا ، اسی لیے قانون میں مذہب کی بڑی اہمیت ہے ؛ کیوں کہ مذہب کا رشتہ خدا کی تعلیمات سے جڑا ہوا ہوتا ہے ؛ لہٰذا جو مذہب محفوظ ہوگا ، وہ انسانی فطرت سے ہم آہنگ اورانسانی ضروریات کی تکمیل کا اہل ہوگا ، قانون جب مذہب سے آزاد ہوتا ہے ، تو اپنے اصل مقصد کو کھودیتا ہے ۔

قانون کامقصد یہ ہے کہ انسان کی خواہشات بے لگام نہ ہو جائیں ؛ لیکن جب مذہب کی دیوار ٹوٹ جاتی ہے ، تو پھر خواہشات کے لیے کوئی سر حد باقی نہیں رہتی ، انسان اپنے آپ کو آزاد کہتا ہے ؛ لیکن حقیقت میں وہ اپنی ہی خواہشات کا غلام ہوتا ہے ، یہ غلامی بعض اوقات انسانوں کی غلامی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے ؛ کیوں کہ یہ انسان کو فطرت کاباغی بنادیتی ہے ، اور فطرت سے بغاوت کرنا چٹان سے سر ٹکرا نے کے مترادف ہے ۔

اس کی مثال آج کی مغربی تہذیب ہے ، مغرب نے آج قانون کو مذہب و اخلاق کی حدود سے آزاد کردیا ہے ، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو چیزیں انسان کے لیے واضح طور پر مہلک اورنقصان دہ ہیں اُن کو بھی جائز ٹھہرا لیا گیا ہے ، مثال کے طور پر انسان کا ہوش و حواس کی حالت میں ہونا فطرت کے مطابق ہے ، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص بے ہوش ہو جائے تو اس کے تمام متعلقین بے قرار ہو جاتے ہیں ، شراب اور دوسری منشیات کا کام بھی یہی ہے کہ وہ کچھ وقفہ کے لیے انسان کے عقل وشعور کو معطل کر کے رکھ دیتی ہیں ، نیز وہ جسم کے بہت سے اعضاء کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں ؛ بلکہ اکثر حالات میں وہ ایسے زہر کا کام کرتی ہیں ، جو بتدریج انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں ؛ اس لیے ساری میڈیکل دنیا نشہ آور چیزوں کے نقصان دہ ہونے پر متفق ہے ، مگر اس کے باوجود آج دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک نے شراب کو سند ِجواز دے دیا ہے ۔اسی طرح اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ خدا نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کی صنفی ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ بنایا ہے ؛ اس لیے ہمیشہ سے مرد و عورت کا ایک دوسرے سے نکاح ہوتا رہا ہے ؛ کہ اس میں ایک دوسرے کی ضرورت کی تکمیل بھی ہے اورنسل انسانی کی افزائش بھی ، دنیائے طب کے تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اس کے بر خلاف مرد یا عورت کا اپنی ہی جنس سے صنفی خواہش کو پوری کرنا نہایت ہی نقصان دہ ہے ، اور یہ ایڈز جیسی خطرناک ولاعلاج بیماری کا سبب بنتا ہے ، اس کے باوجود آج اکثر مغربی ملکوں نے اس باغیانہ طریقۂ کار کو جائز قرار دیا ہے ؛ اس لیے یہ حقیقت ہے کہ قانون اگر مذہب سے آزاد ہو جائے تو بے سمتی اختیار کرلیتا ہے اور لا قانونیت خود ایک قانون بن جاتی ہے ؛ اسی لیے یہ بات ضروری ہے کہ جمہوری ممالک بھی مذہب اور اخلاق کی مسلمہ اقدار کے دائرہ میں رہتے ہوئے قانون بنائیں ، زنا اور جنسی انحراف کی ممانعت ، عریانیت اور منشیات کا مذموم ہونا تمام مذاہب کی مشترک تعلیمات ہیں ، اور یہ قانونِ فطرت کے عین مطابق ہے ، ایسی چیزوں کو جائز قرار دینا آزادی کے نام پر ہوس کی غلامی ہے ۔قانون پر عمل کرنے کے لیے عام طور پر چار محرکات ہوتے ہیں ، قانون کا خوف ، ضمیر کی آواز ، سماج کا خوف ، خدا اور آخرت کا تصور ، اس کی تفصیل یہ ہے کہ قانون جب بھی کسی چیز کا حکم دیتا ہے ، یا کسی بات سے منع کرتا ہے ، تو اس کی مخالفت کے لیے سزا بھی تجویز کرتا ہے ، سزا کا خوف انسان کو قانون کی مخالفت سے باز رکھتا ہے ؛ لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ قانون کا خوف اسی وقت تک ہوتا ہے ، جب تک کہ قانون کی آنکھ دیکھ لے ، جب کوئی دیکھنے والی آنکھ اور ٹوکنے والی زبان موجود نہ ہو تو انسان قانون کی خلاف ورزی پر جری ہو جاتا ہے ، دوسرا محرّک ضمیر کی آواز ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرتِ سلیم پر پیدا فرمایا ہے ؛ اس لیے فطری طور پر وہ گناہ سے شرم محسوس کرتا ہے اور اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ انسان جرم کو چھپا کر کرنا چاہتا ہے ، بہت سے قاتلوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ عدالت سے تو بری ہوگیا ؛ لیکن اندرونی احساسِ ملامت کی وجہ سے مختلف نفسیاتی امراض نے اسے گھیر لیا ، اور کبھی کبھی تو یہ احساس اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ مجرم پاگل ہو جاتا ہے ؛ اس لیے گناہ سے روکنے کا یہ ایک اہم محرّک ہے ، غور کیجئے تو کسی بھی سماج میں سنگین مجرموں کی تعداد ایک دو فی ہزار سے زیادہ نہیں ہوتی ، باقی لوگ جو جرم سے باز رہتے ہیں ، وہ زیادہ تر اسی محافظ کی وجہ سے جو انسان کے سینہ کے اندر ضمیر کی صورت بیٹھا رہتا ہے ؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خواہشات کا غلبہ ، جذبات کا اشتعال ، اوراس کے ساتھ ساتھ سزا سے بچ جانے کا اطمینان انسان کے لیے جرم کے ارتکاب کو آسان کردیتا ہے ، اور بہت سی دفعہ اس کے مقابلہ ضمیر کی آواز دب کر رہ جاتی ہے ۔قانون شکنی سے بچنے کا تیسرا محرّک سماج کا خوف ہے ، انسان کے لیے سماج کی حیثیت حصار کی ہے ، وہ اس حصار کے اندر رہ کر ہی زندگی گذار سکتا ہے ؛ اسی لیے اسے ’’ سماجی حیوان ‘‘ کہا جاتا ہے ، انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنے سماج میں اس طرح رہے کہ لوگ اس پر اعتماد کریں ، اس کا احترام کریں اور وہ لوگوں کا محبوب بن کر رہے ، نفرت و بے اعتمادی کے ماحول میں انسان کی زندگی بے سکون ہو جاتی ہے اور سکون ہی انسان کے لیے سب سے زیادہ مطلوب شئے ہے ؛ لیکن جب ایک دفعہ انسان کا مجرمانہ چہرہ سماج کے سامنے آجاتا ہے ، تو پھر جھجک ختم ہو جاتی ہے اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ جب کردار کا چہرہ داغدار ہو ہی چکا ہے ، تو ایک داغ لگے یادس ، اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ یہ سوچ سماجی خوف کو کم کردیتی ہے ۔

قانون شکنی کو روکنے والا تیسرا محرّک خدا کا خوف اور آخرت کی جوابدہی کا احساس ہے ، یہ خوف رات کی تاریکی اور گھر کی تنہائی میں بھی انسان کے ہاتھ تھام لیتا ہے اوراس کو جرم سے باز رکھتا ہے ، رسول اللہ ﷺکے عہد میں متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ جن لوگوں سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ، انھوں نے — یہ جاننے کے باوجود کہ اس غلطی کی سزا نہایت ہی سنگین اور سخت ہے — خدا کے سامنے جوابدہی کے احساس کے تحت خود حاضر ہو کر غلطی کا اعتراف کیا ، اور خواہش کی کہ اس پر سزا جاری کردی جائے ، یہی وجہ ہے کہ آج کے دورِ انحطاط میں مذہبی شخصیتوں کے یہاں جرم کا تناسب سب سے کم ہے ، اخبارات میں بعض اوقات مذہبی شخصیتوں سے متعلق بعض افسوس ناک خبریں آجاتی ہیں ؛ لیکن مجموعی تعداد کے لحاظ سے ان کا تناسب بہ مقابلہ دوسرے لوگوں کے بہت کم ہوتا ہے ، اگر کپڑا سیاہ ہو جائے اور اس پر روشنائی کی ایک دوات بھی ڈال دی جائے ، تو بد نمائی نہیں ہوتی ؛ لیکن سفید کپڑے کو بد نما کرنے کے لیے ایک قطرہ کا گرجانا بھی کافی ہوتا ہے ، یہی مثال مذہبی شخصیتوں اور معاشرہ کے دوسرے گروہوں کی ہے ، پس یہ کہنا تو غلط ہوگا کہ مذہب انسان کو پوری طرح قانون کی خلاف ورزی سے روک دیتا ہے ؛ لیکن یہ بات کہی جاسکتی ے کہ یہ قانون کی خلاف ورزی سے بچانے کا سب سے مؤثر محرّک ہے !

اس لیے قانون کا مذہب سے گہرا تعلق ہے ، کم سے کم ایک محب وطن ہونے کی حیثیت سے ہندوستان کے بارے میں ضرور یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مغرب کی پیروی میں اور امریکہ ویورپ کے دباؤ سے متأثر ہو کر ایسے قوانین نہیں بنانے چاہئیں ، جو مذہب اور اخلاق کے دائرہ سے باہر ہو جائے ، جن سے مسلّمہ قدریں ٹوٹ جائیں ، اور جو فطرت سے بغاوت کے دائرہ میں آجائے ، اسی میں ملک کی بھی بھلائی ہے اور انسانیت کی بھی ۔۰ ۰ ۰

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

کتاب : اسالیب القرآن (عربی)
اگلی پوسٹ

Related Posts

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
  • hira-online.comhira-online.com
  • ذات پات کا نظام
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
  • جنوری 30, 2026
  • 0 Comments
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یہ دور نظام حیات کی جنگ کا دور ہے، مغرب ہو یا مشرق ہر جگہ مختلف نظام ہائے حیات کے مابین کشمکش جاری ہے، اسلام چوں کہ محض عقائد کا مجموعہ نہیں بل کہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو اپنے واضح عقائد کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے، اس لیے دیگر نظام ہائے حیات کے ٹھیکداروں کے لیے اسلام ایک چیلنج ہے جس کا مقابلہ کیے بغیر وہ اپنے نظام حیات کو باقی یا غالب نہیں رکھ سکتے۔ ہمارے ملک میں طبقاتی نظام رائج ہے، اسلامی نظام حیات اس سے متصادم ہے، اور اس کی تمام برائیوں سے پاک ہے،اس کے نظام حیات کی کشش طبقاتی نظام میں زلزلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نظام حیات کے تصادم کے اس دور میں ہمیں دیگر نظام حیات کی خصوصیات سے واقف ہونا ناگزیر ہے، اس سے اسلام کا تقابلی مطالعہ کرنے اور تقابلی تعارف کرانے میں مدد ملے گی اور اسلام کی افضلیت کا ادراک ہوگا، نیز مدعو اقوام کی نفسیات سے آگہی ہوگی اور نظریاتی جنگ میں مقابل نظریہ کے کمزور پہلووں کا ادراک ہوگا۔ یوں تو دنیا کے مختلف سماج میں مختلف بنیادوں پر انسانوں کی تقسیم پائی جاتی ہے، اور بہت سی جگہوں پر اس تقسیم کی وجہ سے آپسی نفرت بھی پائی جاتی ہے؛ لیکن بھارتی سماج کے طبقاتی نظام کی جو خصوصیات ہیں وہ اسے دنیا کے دیگر سماجی نظام سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:٭ عدم مساوات: بھارتی سماج میں پائے جانےوالی منووادی طبقاتی نظام کی یہ سب سے بنیادی خصوصیت ہے، اس نظام میں طبقات کی تقسیم عمودی ہے، یعنی یہ تقسیم نابرابری اور اونچ نیچ کی بنیاد پر ہے، اس میں انسانی مساوات کی کوئی جگہ نہیں ہے، انسانی مساوات آتے ہی یہ دھڑام سے زمیں بوس ہوجاتا ہے، اس میں کچھ ذاتیں اونچ ہیں اور کچھ نیچ ،ہر ذات کے نیچے کوئی ذات ہے اور ہر ذات کے اوپر کوئی ذات۔ اور برہمن کی ذات سب سے اوپر ہے،…

Read more

Continue reading
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
  • hira-online.comhira-online.com
  • UGC
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
  • جنوری 29, 2026
  • 0 Comments
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یو جی سی کے نئے ضابطوں کو لے کر پورے ملک میں ہنگامہ چل رہا ہے، جنرل کیٹگری میں آنے والی ذاتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں، جب کہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی سماج سے آنے والے لوگ اس کی حمایت میں ہیں۔ یو جی سی یہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا مخفف ہے، یہ کمیشن 1956 میں بنایا گیا، اس کا کام یونیورسٹیوں کو منظوری دینا، انھیں فنڈز فراہم کرنا اور اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد وضوابط بنانا ہے، اس نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 2012 میں امتیازی سلوک کو روکنے اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے کچھ ضوابط بنائے، جنھیں Promotion of Equity in Higher Educational Institutions) Regulations, 2012 کہا جاتا ہے، ان ضوابط کے ہوتے ہوئے امتیازی سلوک کے کئی واقعات رونما ہوئے، جن میں روہت ویمولا کا کیس قابل ذکر ہے، جس نے 2016ذات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک سے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تھی، ڈاکٹر پایل تڑوی اور کچھ دوسروں کے نام بھی اس مناسبت سے ذکر کیے جاتے ہیں، ان واقعات سے یہ اندازہ ہوا کہ امتیازی سلوک مخالف ضوابط زمینی سطح پر صحیح ڈھنگ سے کام نہیں کر پا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امتیازی سلوک کے اعداد وشمار میں 118 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لہذا یو جی سی نے ان ضوابط میں کچھ سختی لانا ضروری سمجھا، چنان چہ ضوابط کو پہلے سے سخت بنانے کے لیے اس میں ترمیم واضافہ کیا گیا، اور یہ ترمیم شدہ ضوابط کچھ دنوں قبل 13 جنوری کو جاری کیے گئے۔ امتیازی سلوک پر ایسے سخت ضوابط بنانے کی ضرورت کیوں پڑی، اس کا جواب بھارت کے طبقاتی نظام، یہاں کی سماجی نفسیات، اور برہمنوادی تاریخ میں مضمر ہے، یہاں کی ایک بڑی آبادی کو برہمنوادی نظام کے ٹھیکیداروں نے ہزاروں سال سے نہ صرف یہ کہ مالی، تعلیمی، حکومتی اور دفاعی حقوق سے محروم رکھا، بل کہ عزت واحترام…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top