Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
06.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
06.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

آفاقیت کا نور : انور آفاقی ۔

  1. Home
  2. آفاقیت کا نور : انور آفاقی ۔

آفاقیت کا نور : انور آفاقی ۔

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • نومبر 13, 2024
  • 0 Comments

احمد اشفاق ۔ دوحہ قطر۔

تو جوہری ہے تو زیبا نہیں تجھے یہ گریز

مجھے پرکھ مری شہرت کا انتظار نہ کر

حفیظ میرٹھی کا مندرجہ بالا شعر انور آفاقی کے لیے موزوں معلوم پڑتا ہے جو بہ یک وقت شاعر ، افسانہ نگار ، مبصر ، ناقد و محقق ہیں ۔

یوں تو انور آفاقی نے شعر گوئی کی ابتدا زمانہ طالب علمی میں ہی کی مگر خلیجی ممالک (سعودی عرب قطر اور متحدہ عرب امارات) میں ان کا فن پوری طرح نکھر کر سامنے آیا۔ دورانِ ملازمت انہوں نے اتنی مہلت ہی نہیں پائی کہ کوئی کتاب ترتیب دے سکیں ہاں ملازمت کے آخری ایام میں وطن واپسی سے قبل انہوں نے اپنا پہلا شعری مجموعہ "لمسوں کی خوشبو ” 2011 میں شائع کروایا جس کی تقریب اجرا اپنے وطن دربھنگہ میں ہی کروائی ۔ اتفاق سے راقم الحروف بھی اس میں شریک تھا ۔

کچھ ہی عرصہ بعد یہ مستقل وطن آگئے اور پھر گیسو ادب سنوارنے میں مصروف ہو گئے ۔طبیعت تو موزوں تھی ہی اور عصری ادب پر بھی گہری نگاہ تھی مگر غمِ روزگار نے قلم و قرطاس سے گہرا ربط ہونے نہ دیا۔ ہاں جیسے ہی مہلت ملی ان کا قلم مائل بہ سفر ہوا۔ پھر کیا تھا کہ وطن میں قیام کے دوران غزلیں لکھیں، افسانے لکھے ، سفرنامے لکھے ، تاثراتی مضامین کے ساتھ تنقیدی و تحقیقی مضامین لکھے ۔ سینئر ، ہم عصر اور جونیئرس سے انٹرویو لئے اور ان تمام کو کتابی شکل دی جس کی علمی و ادبی حلقے میں کافی پذیرائی ہوئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

یوں تو انہوں نے اپنی تمام کتابوں کے موضوعات کا بہت ہی دیانتداری سے بھرپور احاطہ کیا ہے لیکن ان کے ادبی انٹرویو بطور خاص قابل ذکر ہیں جس میں انہوں نے جن شخصیات کا انتخاب کیا ہے ان کی ادبی حیثیت مسلم ہے مگر بطور خاص ذاتیات پر گفتگو کر کے ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق کا کام آسان کر دیا ہے ۔ انٹرویو میں نہ صرف صاحب مکالمہ سے ان کے تعلق سے باتیں کی گئی ہیں بلکہ اپنے ہم عصروں اور پیش روؤں کے فن پر بھی سیر حاصل گفتگو کر کے اپنی علمی و ادبی صلاحیت کا ثبوت فراہم کیا ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور جس سےفکر و فن کے نئے دریچے وا ہوتے ہیں ساتھ ہی ادبی منظر نامے کو سمجھنے میں ممد و معاون بھی ۔ کسی ازم اور گروہ بندی سے پرے پر خلوص جذبے سے انہوں نے تاثراتی مضامین بھی لکھے ہیں اور تنقیدی رائے بھی دی ہے ۔ فی زمانہ شجرہ نسب کی ترتیب کے تعلق سے دلچسپی کا فقدان ہے لیکن موصوف نے نہ صرف اپنے خاندان اور رشتہ داروں کا شجرہ نسب بڑی عرق ریزی سے ترتیب دیا ہے بلکہ شعرا و ادباء کے تعلق سے ان کے خاندانی پس منظر اور اشعار کی تحقیق بھی کی ہے جو واقعی کارِ محال ہے ۔

دوحہ قطر، جِسے خلیج میں اردو کی راجدھانی کہا جاتا ہے ، میں انور آفاقی کا قیام پانچ برسوں تک رہا۔ وہ جب تک یہاں رہے خلیج کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم ” بزمِ اردو قطر” جس کا قیام 1959 میں ہوا تھا سے منسلک رہے ۔ اُن دِنوں شعری و ادبی محفلوں میں پیش پیش رہنے والوں میں برخیا بو ترابی ، بشیر صحرائی ، صبا شیخانی ، قاضی فراز احمد ، شمیم حیدر جونپوری ، رشید نیاز اور محمد ممتاز راشد وغیرہ تھے۔ محمد ممتاز راشد کے وطن واپسی کے بعد گذشتہ دس برسوں سے بزم اردو قطر کے معتمد عمومی کی ذمہ داری مجھ ناتواں کے کندھوں پر ہے جسے نبھانےکی کوشش تا حال جاری ہے۔قطر میں پانچ سالہ قیام کے دوران انور آفاقی نے کئی بڑے مشاعروں میں شرکت کی اور ریڈیو قطر کے اردو پروگرام میں بھی حصہ لیا ۔ بزم اردو قطر کے سلور جوبلی مشاعرے میں جس کی صدارت مرحوم محسن

نقوی نے کی تھی، کے انتظام و انصرام میں و پیش پیش رہے۔ متحدہ عرب امارات میں قیام کے دوران انہوں نے متعدد مشاعروں میں شرکت کی اور اردو کے معتبر شعرا سے ان کو ملاقات کا شرف حاصل ہوا مثلا، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی ، دلاور فگار ،خمار بارہ بنکوی ، مجروح سلطان پوری ، کیفی اعظمی ، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر ، راغب مراد آبادی، نور جہاں ثروت ، ممتاز میرزا ، ریحانہ روحی ، حنا تیموری ، ساغر خیامی ، انور شعور ، خواہ مخواہ حیدرآبادی ، جون ایلیا ، پروفیسر جگن ناتھ آزاد ، محشر بدایونی ، احمد فراز ، پیر زادہ قاسم ، کیف عظیم آبادی ، حفیظ بنارسی ، جمیل نظامی ، والی آسی ، رئیس رامپوری ، گنیش بہاری طرز ، بشیر بدر ، معراج فیض آبادی ، وسیم بریلوی ، ملک زادہ منظور احمد ، انور جلال پوری، محسن بھوپالی ، امجد اسلام امجد ، جاوید اختر ، ندا فاضلی، جلیس شیروانی ، حکیم ناصر ، مرتضے برلاس ، حمایت علی شاعر ، بلراج کومل ، عرفان صدیقی ، جازب قریشی ، عالمتاب تشنہ، سرفراز ابد ، شہزاد احمد ، سلیم کوثر ، جوگا سنگھ انور ، اظہر عنایتی ، نواز دیوبندی وغیرہ ۔ ان میں بیشتر شعراء سے ملاقات اور کچھ کو صرف دیکھ اور سن سکے۔

میری دلچسپی چونکہ شعر گوئی میں ہے لہذا آئیے انور آفاقی کے شعری جہان پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں ۔ اردو زبان نے غزل کو اپنی اصل صنعت محبوبیت میں بڑی شان و شوکت اور وقار کے ساتھ محفوظ رکھا ۔ اس کے دامن میں دنیا کے تمام موضوعات کو بڑے دل کش و دل آویز انداز میں سجا کر پیش کرنے کا ہنر بھی عطا کیا جس سے غزل ہم رنگ اور اس کی تاثیر دو آتشہ ہو گئی ۔ اگر قدرتی طور پر ذہن ہم آہنگ ہے تو قافیہ پیمائی اور غزل گوئی زیادہ مشکل نہیں لیکن مطالعہ ، مشاہدہ اور جذبات و احساسات غزل کے سپرد کر دینا نہایت ہی مشکل کام ہے ۔ میں انور آفاقی کی شاعری کے مطالعے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ان کے پاس موضوعات بھی ہیں اور مضامین بھی ۔ ساتھ ہی وہ اپنے مطالعہ اور مشاہدہ کو غزل کا حسین پیرایا عطا کرنے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔ اور اس کا انہیں اندازہ بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ

؂حرف و آواز کو پتھر نہ کہوں گا لیکن

اپنے افکار کو میں گردِ سفر لکھوں گا

میں آگیا ہوں پھر نئے لوگوں کی بھیڑ میں

تنہائیوں کا بوجھ اٹھایا نہ جائے ہے

ذہن کی تاریکیاں مٹ جائیں گی

شمعِ فکر و فن جلاتے جائیے

انور آفاقی کا لہجہ سادہ و سلیس ہے شستہ رواں دواں اور پر کیف و پرکشش ہے ۔ انہوں نے زندگی کے اعلی مقاصد اور بلند نصب العین کو محبوب کے پیکر میں مختلف زاویوں سے شاعری کے رنگ و آہنگ میں اس طرح ڈھالا ہے کہ ہر رنگ میں ایک تازگی ، شستگی اوردل آویزی پیدا ہو گئی ہے ۔ ان کی شاعری صرف خوابوں کی دنیا کی سیر ہی نہیں بلکہ شعر و نغمہ کی کیفیتوں سے سر شاری بھی ہے۔ مگر چونکہ سارے عالم کی زبانوں کا خمیر اس کا رومان ہے لہذا الفت و محبت آرزوئے وصل ، اندیشہءِ فراق ، حسرت دید ، اظہار اقرار اور انکار ، حسن کی جلوہ آرائی اور محبوبیت ، عشق کی بینائی ، حسن کا استغنا جو غزل کے اجزائے ترکیبی ہیں وہ ان کی شاعری میں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کریں

؂میں اپنی زیست کے معیار کو بدل دوں گا تمہاری مانگ میں سرخی شفق کی بھر دوں گا

ہے لہجہ پھول باتیں جس کی کلیاں

وہ خوشبو بن کے ہر سو چھا گیا ہے

جب تمہارا نہیں انور سے تعلق کچھ بھی

بن کے بادل مرے احساس پہ چھاتے کیوں ہو

انور آفاقی کی شاعری میں روایت کی پاسداری بھی ہے اور اردو شاعری پر بدلتے ہوئے رجحانات کی بازگشت بھی ۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات زیادہ نہیں ہیں لیکن بلندیءِ فکر کی دعوت جا بہ جا موجود ہے۔ انہوں نے استعارات اور تشبیہات کے تعلق سے اپنے کلام میں نئی معنویت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔

؂اٹا تھا دھول میں وہ ایسی رہ گزر میں تھا

عجیب شخص تھا جو روز و شب سفر میں تھا

کبھی جو پھول کی مانند نرم و نازک تھا

اب اس کے ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے

درد اور ٹیس سے مر جاتے ہیں کیسے کچھ لوگ میں نے زخموں کے سمندر میں سکوں پایا ہے

انور آفاقی کی شاعری احساس کی جس سطح کی ترجمانی مختلف زاویوں سے کرتی ہے اسے ہم روایتی اور جدید غزل کے درمیان ایک پل کا نام دے سکتے ہیں ان کی شاعری اور لہجے میں بڑا ربط ہے اور یہ لہجہ واقعی جدید غزل کا ہے۔ ایسا لہجہ کہ جس میں دل کی دھڑکنیں شامل ہیں ان کے لہجے کی مانوس اپنائیت غزل کو بہ یک وقت سوز و ساز بھی عطا کرتی ہے اور شاعری کو ” گویا یہ بھی میرے دل میں ہے” کا امین بھی بناتی ہے ۔ ان کی شاعری حیات انسانی اور اس کی بو قلمونیوں کا ہر طرح سے احاطہ کرتی نظر اتی ہے ۔ انہوں نے حسن و عشق کی نفسیات کو ذاتی تجربات کی روشنی میں پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ تجربوں کے بیان میں پاکیزگی معصومیت اور خود سپردگی نظر اتی ہے۔ ان کے طرز و فکر کا مخصوص انداز اور آہنگ انہیں ان کے ہم عصروں میں امتیاز عطا کرتا ہے۔ انہوں نے گھسے پٹے الفاظ و تراکیب سے پرہیز کرتے ہوئے اپنے کلام کی انفرادیت برقرار رکھی ہے ۔ ان کی غزلیں مختلف رنگ کی ہیں ۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں نوع بہ نوع موضوعات کو بڑی خوبصورتی اور فنکاری سے برتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں چند اشعار

؂وہیں شعلوں میں سمٹ آئے گی شبنم کی نمی

میں قلم سے جہاں اک لفظِ شجر لکھوں گا

کسی نے بخش دیا جب کمالِ خوش نظری

رہا نہ فرق گداؤں میں بادشاہوں میں

سنا ہے اس کو اچانک نگل گئیں سڑکیں

جو سب سے آگے ہمیشہ سفر میں رہتا تھا

انور افاقی کی شاعری وسیع کینوس پر پھیلی ہوئی ہے جس میں خارجی اور داخلی زندگی کی کشمکش ، گم شدہ تہذیب کی بازیافت ، حیات کے پیچیدہ مسائل ، زندگی سے محرومی و ناکامی اور جینے کی امنگوں کے برعکس بیگانگی و محرومی کا عکس صاف دکھائی دیتا ہے ۔ انہوں نے غزل کی تہذیب کو اپنی شاعری میں اچھی طرح جذب کیا ہے ۔ جہاں کلاسیکیت کے ساتھ نئے تجربے بھی ہیں اور جدید انداز بیان بھی۔ انہوں نے موضوعات کو الگ ڈھنگ سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے لب و لہجے میں نیا انداز نئی تشبیہات خوبصورت کنایات عمدہ خیالات تصور و تخیل کی گہرائی اور معاملات حسن کی صحیح عکاسی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں بہار کے شعری وادی منظر نامہ پر انور آفاقی نے اپنی بے پناہ شعری و ادبی صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنی شناخت قائم کی ہے اور اس جذبے کا اظہار کیا ہے کہ ؂

کل تو میں دور بہت دور چلا جاؤں گا

آج موجود ہوں آنکھوں پہ بٹھا لو یارو

آخر میں ان کی بہتر صحت کے لیے دعا گو ہوں اور چاہتا ہوں کہ دنیائے ادب میں ان کا نام روز روشن کی طرح منور ہو اور ادب کا جوہری اپنے ہیرے کی تلاش میں کامیاب ہو۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

تینتسواں فقہی سیمینار میں حاضری
فقہی سیمینار میں حاضری اور کچھ سبق آموز کہانی

Related Posts

علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)
  • hira-online.comhira-online.com
  • جون 22, 2026
  • 0 Comments
علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)

علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلامڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025) محدثِ وقت، شارحِ صحیح بخاری وسننِ ترمذی، اور فقیہِ عصر، علامہ انور شاہ کشمیریؒ (وفات 1352ھ/1933ء) کی ذاتِ گرامی برصغیر کی علمی و حدیثی روایت میں ایک بے مثال اور امتیازی مقام رکھتی ہے، آپ کی شخصیت علومِ اسلامیہ کے ہر گوشے میں اپنی درخشانی کا پرتو بکھیرتی نظر آتی ہے۔ علم کا رسوخ، فکر کی گہرائی، مطالعے کی وسعت، دقتِ نظر، احاطۂ فنون، استقراء کی قوت، اور نقد و تحلیل میں جو بلندی آپ کو عطا ہوئی، وہ اس خطۂ علم میں بہت کم اہلِ فضل کے نصیب میں آئی ہے، آپ کی ذات محض ایک محدث یا فقیہ کی حیثیت نہیں رکھتی تھی، بلکہ آپ علومِ اسلامیہ کے پورے دبستان کی علمی روح تھے، اور آپ کی مجلسِ درس ایک مستقل مکتبِ فکر کا درجہ رکھتی تھی۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے جن الفاظ میں آپ کے علمی جہان کا نقشہ کھینچا ہے، وہ نہ صرف آپ کے مقامِ رفیع کی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی گویا مجسم تصویر ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:”مرحوم کم گو مگر وسیع النظر عالم تھے، ان کی مثال اُس سمندر کی سی تھی جس کی سطح تو پرسکون ہو، مگر اس کے باطن میں قیمتی موتیوں کے بے شمار خزانے پوشیدہ ہوں، وہ وسعتِ نظر، قوتِ حافظہ اور کثرتِ محفوظات میں اپنے عہد میں بے مثال تھے، علومِ حدیث کے حافظ اور نکتہ شناس، علومِ ادب میں بلند مرتبہ، معقولات میں مہارت رکھنے والے، شعر و سخن سے بہرہ مند اور زہد و تقوى میں کامل تھے” ۔ یہ شہادت دراصل اس علمی ساخت و پرداخت کا بیان ہے جس نے شاہِ کشمیریؒ کو اپنے معاصرین میں ممتاز اور تاریخِ علم میں منفرد بنا دیا۔راقم کا تعلق اور عقیدت حضرت شاہؒ صاحب سے محض مطالعے یا سنی سنائی باتوں سے نہیں، بلکہ زمانۂ طالبِ علمی سے قلبی وابستگی کی صورت میں قائم ہوا، دارالعلوم ندوۃ العلماء میں جو پہلا باقاعدہ اور قابلِ اشاعت مضمون…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • جون 8, 2026
  • 0 Comments
ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام

ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام ڈاکٹر اسرار احمدؒ (26 اپریل 1932ء – 14 اپریل 2010ء) برصغیر کے ممتاز اسلامی مفکر، مفسرِ قرآن، داعیِ دین اور بانیِ تنظیمِ اسلامی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی قرآنِ حکیم کے فہم، دعوتِ دین اور اسلامی نظامِ حیات کے احیاء کے لیے وقف کر دی۔ اپنی علمی گہرائی، خطیبانہ انداز اور قرآنی فکر کے باعث آپ کو عالمِ اسلام میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ابتدائی زندگی اور تعلیم ڈاکٹر اسرار احمدؒ 26 اپریل 1932ء کو ضلع حصار (موجودہ ریاست ہریانہ، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد آپ کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ آپ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاہور سے 1954ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں قرآن و اسلام کے گہرے مطالعے کے شوق نے آپ کو اسلامی علوم کی جانب متوجہ کیا اور آپ نے جامعہ کراچی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ دینی و فکری خدمات زمانۂ طالب علمی میں آپ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور بعد ازاں جماعتِ اسلامی میں شامل ہوئے، تاہم بعض فکری اور سیاسی اختلافات کی بنا پر جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ آپ کا یقین تھا کہ اسلامی انقلاب اور معاشرتی اصلاح کا اصل ذریعہ قرآنِ مجید کی تعلیمات کی طرف رجوع ہے۔ اسی مقصد کے لیے آپ نے 1972ء میں انجمن خدام القرآن اور 1975ء میں تنظیمِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں تحریکِ خلافت پاکستان کا آغاز بھی کیا۔ آپ کی دعوت کا مرکزی نکتہ قرآنِ حکیم کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنانا تھا۔ بحیثیت مفسرِ قرآن ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو خصوصاً درسِ قرآن کے حوالے سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کے ہزاروں خطابات، دروس اور بیانات آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں محفوظ ہیں جن سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔ آپ نے قرآنِ مجید کے پیغام کو عام فہم اور مؤثر انداز میں پیش کیا اور مسلمانوں کو قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی دعوت دی۔ علمی و تصنیفی خدمات آپ…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بینک کے سود کے مصارف 05.08.2026
  • ٹیکس میں سود کی رقم دینا 05.08.2026
  • بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا 05.08.2026
  • قسطوں پر سامان کی فروخت 05.08.2026
  • عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟ 05.08.2026
  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

بینک کے سود کے مصارف

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
مضامین و مقالات

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

قسطوں پر سامان کی فروخت

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top