Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
16.09.2026
Trending News: یہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
16.09.2026
Trending News: یہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

🔰جذبات سے نہیں ہوشمندی سے فیصلہ کیجئے

  1. Home
  2. 🔰جذبات سے نہیں ہوشمندی سے فیصلہ کیجئے

🔰جذبات سے نہیں ہوشمندی سے فیصلہ کیجئے

  • hira-online.comhira-online.com
  • فکر و نظر
  • نومبر 22, 2024
  • 0 Comments

از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی🖋

ایک اہم واقعہ غزوۂ بنو مصطلق کے نام سے آیاہے ،بنو مصطلق قبیلۂ بنو خزاعہ کی ایک شاخ تھی ، یہ ’ مریسیع ‘ نامی مقام پر آباد تھے ، جو مدینہ منورہ سے نو منزل کے فاصلہ پر واقع تھا ، حارث بن ابی ضرار اس قبیلہ کی قیادت کرتا تھا ، صلح حدیبیہ سے پہلے کا واقعہ ہے کہ اس قبیلہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ، آپ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوگئی ، آپ ﷺ نے مزید تحقیق کے لئے اپنے ایک نمائندہ کو بھیجا ، انھوں نے یہاں آکر تحقیق حال کیا اور اس خبر کی تصدیق ہوئی ، اس پس منظر میں یہ بات ضروری محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کو اس قریبی دشمن سے محفوظ رکھا جائے اور حملہ کرکے ان کو مطیع بنایا جائے ؛ چنانچہ مدینہ منورہ سے ایک فوج روانہ ہوئی ، آپ ﷺ بنفس نفیس اس میں شریک تھے ۔

قبیلہ کے اکثر لوگوں کو تو مجاہدین کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور انھوں نے راہِ فرار اختیار کی ، مگر کچھ تیر اندازوں نے جم کر تیر برسائے ، بہت سے لوگ قید ہوئے ، ان ہی قیدیوں میں حضرت جویریہؓ بھی تھیں ، جو قبیلہ کے سردار حارث کی بیٹی تھیں ، ان کے مقام و مرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے خود ان کی خواہش پر حضور ﷺ انھیں اپنے نکاح میں لے آئے اور اس طرح یہ سعادت بخش اسیری نے انھیں ’’ اُم المومنین ‘‘ ہونے کا شرف بخشا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ ؓ نے دفعتاً تمام اسیرانِ جنگ کو آزاد کردیا ، کہ ہم رسول اﷲ ﷺ کے سسرالی اعزہ کو کیوں کر اپنا غلام وباندی بناکر رکھ سکتے ہیں ؟ اور بالآخر یہی واقعہ اس قبیلہ کے قبول اسلام کا باعث ہوا ۔

اس غزوہ کا ایک سبق آموز پہلو یہ ہے کہ جن منافقین نے غزوۂ اُحد جیسے نازک موقعہ پر مسلمانوں کو اپنی پیٹھ دکھائی تھی ، مخالف فوج کی کمزوری اور تعداد کی کمی کو دیکھتے ہوئے اور مالِ غنیمت کی طمع میں وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوگئے ، ایک جگہ جب لوگوں نے پڑاؤ کیا ، تو پانی لینے کے مسئلہ پر حضرت عمر ؓ کے غلام اور ایک انصاری میں معمولی سی لڑائی ہوگئی ، حضرت عمر ؓکے غلام نے اپنی مدد کے لئے مہاجرین کو آواز دی، انصاری نے انصار کو پکارا ، دونوں طرف سے لوگ جمع ہوگئے ، منافقین کا سردار عبداﷲ بن ابی ایسے موقع کی تاک میں رہتا تھا ، اس نے اس واقعہ کو اور بھی شہ دیا ، اور انصار سے کہا کہ یہ سب تمہارا اپنا کیا ہوا ہے ، تم نے مہاجرین کو اپنے یہاں پناہ دی ، ان کو سہولتیں پہنچائیں اور اب ان کی جرأتیں اس قدر بڑھ گئی ہیں ! —

مہاجرین کے ساتھ تمہاری مثال عربی زبان کے اس محاورہ کی ہے کہ اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو — کہ وہ تم ہی کو کاٹ کھائے ، ’’ سمن کلبک یأکلک ‘‘ نتیجہ یہ ہوا کہ وقتی طور پر مہاجرین اور انصار کے درمیان ایک طرح کی دل شکستگی پیدا ہوگئی ، انصار چوں کہ عبدﷲ بن ابی کے نفاق ، اسلام ، پیغمبر اسلام اور اُمت ِمسلمہ سے اس کی خفیہ عداوت اور اندرونی عناد سے واقف نہیں تھے ، اس لئے سادہ لوح لوگ اس کی چال کو سمجھ نہیں سکے ، عبداﷲ بن ابی نے یہ بھی کہا کہ اب مدینہ سے باعزت لوگ ذلیل لوگوں کو نکال باہر کریں گے ۔

ایک نو عمر انصاری صحابی — جو اس کی ان زہرناک باتوں کو سن رہے تھے — نے حضور ﷺ سے پوری صورتِ حال بیان فرمائی ، آپ ﷺنے انصار و مہاجرین کو سمجھایا اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور ابھی سے تم عصبیت ِجاہلیہ کی بات کرنے لگے ہو ، پھر آپ ﷺنے فوج کو فوراً کوچ کرنے کا حکم دیا ، حضرت عمر ؓ کو جب واقعہ کی اطلاع ہوئی تو حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ کسی کو حکم دیا جائے کہ اس منافق کی گردن اُتار لائے ، رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : کیا تم چاہتے ہوکہ لوگ کہیں کہ محمد ﷺ خود اپنے رفقاء کو بھی قتل کرانے لگے ہیں ؟ یعنی لوگ عبداﷲ بن ابی کے نفاق سے واقف نہیں ہیں ، اگر ان کے قتل کا حکم دیا گیا تو لوگ سمجھیں گے کہ پیغمبر اسلام ﷺ اب خود اپنے اصحاب کے قتل کا حکم دے رہے ہیں ، حضرت عمر ؓ خاموش ہوگئے ۔فوج نے کوچ کیا ، معمولِ مبارک یہ تھا کہ صبح کو سفر شروع ہوتاتو شام میں کہیں پڑاؤ کیا جاتا اور رات بھر آرام کرنے کے بعد صبح میں دوبارہ سفر شروع کیا جاتا اور شام میں سفر شروع ہوتا تورات بھر سفر کرکے صبح دم کسی منزل پر توقف کیا جاتا ؛ لیکن خلافِ معمول آج دن بھر اوررات بھر سفر جاری رہا ، پھر اگلی صبح بھی پڑاؤ نہیں کیا گیا ، یہاں تک کہ دوپہر ہوگئی ، اب آپ ﷺنے ایک مقام پر فوج کو خیمہ زن ہونے کا حکم دیا ، ابن ہشام اور دوسرے سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ سفر کی درازی اور اس کی مشقت لوگوں کو تھکادے ، مہاجرین وانصار کے درمیان جو تلخی پیدا ہوگئی تھی ، وہ ذہن سے محو ہوجائے اور لوگ اس قدر تھک جائیں کہ آرام اور ضروریات کی فکر کریں ۔

اس کے بعد دو عجیب واقعے پیش آئے ، ایک یہ کہ مدینہ کے قریب پہنچ کر عبداﷲ بن ابی کے صاحبزادہ جو مخلص مسلمان تھے ، کھڑے ہوئے اور انھوں نے اس وقت تک اپنے والد کو مدینہ میں داخل ہونے سے روک دیا ، جب تک حضور ﷺ اجازت نہ دے دیں ، یہ عبداﷲ بن ابی کی اس بات کا جواب تھا کہ مدینہ کے باعزت لوگ ذلیل و کمتر لوگوں کو نکال باہر کریں گے ، ظاہر ہے کہ ذلیل و کمتر سے اس منافق کی مراد مسلمان اور خاص کر مہاجرین سے تھی ۔

دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ مدینہ میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ رسول اﷲ ﷺعبداﷲ بن ابی کے قتل کا حکم صادر کرنے والے ہیں ، انصار بھی عام طورپر اس کے نفاق سے واقف ہوچکے تھے ، اسی دوران عبداﷲ بن ابی کے صاحبزادے خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : سنا ہے کہ آپ میرے والد کے قتل کا حکم دینے والے ہیں ، اگر آپ یہ حکم دیں تو بے جا نہیں ہوگا ، لیکن مشکل یہ ہے کہ مجھے اپنے والد سے بڑی محبت ہے اور میں ان کے قاتل کو دیکھ نہیں سکتا ، پھر یہ بات اچھی نہیں ہوگی کہ ایک کافر کی وجہ سے ایک مسلمان کا قتل ہو ؛ اس لئے اگر آپ واقعی ایسا حکم دینے والے ہیں ، تو مجھے حکم فرمائیں ، میں اپنے والد کا سرقلم کرکے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ، آپ ﷺنے فرمایا : نہیں میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ، جب تک کوئی شخص بظاہر مسلمان ہوگا ، میں اس کے ساتھ مسلمان کا ساہی معاملہ کروں گا ؛ بلکہ میں تو عبداﷲ بن ابی کے ساتھ حسن سلوک کروں گا ۔پھر آپ ﷺنے حضرت عمر ؓ کو بلایا کہ اگر اُس وقت عبداﷲ بن ابی کے قتل کا حکم دیا جاتا تو حضراتِ انصار کے دل میں خلش ہوسکتی تھی ، وہ سمجھتے کہ ہمارے سردار کو قتل کرا دیا گیا ہے ؛ لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ خود ان کے صاحبزادے ان کا سرقلم کرنے کو تیار ہیں ، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : میں نے جان لیا کہ رسول اﷲ ﷺ کی رائے میں میری رائے سے زیادہ برکت ہے : لقد واﷲ علمت لأمر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم أعظم برکۃ من أمری (البدایہ والنہایہ لابن کثیر : ۴؍۱۵۸)

سیرتِ نبوی ﷺکے اس اہم واقعہ کی روشنی میں جو سبق ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ جوش کے ساتھ ہوش اور جرأت کے ساتھ حکمت کا امتزاج ضروری ہے ، عواقب و نتائج کو سوچے اور انجام پر نظر رکھے بغیر وقتی جوش اور جذبات کی بنا پر کوئی قدم اُٹھانا مفید سے زیادہ مضر ہوتا ہے اور افراد و اشخاص اور اقوام و ملل کو بد انجامی کی طرف لے جاتا ہے ، رسول اﷲ ﷺ کی سیرت میں بار بار اس حقیقت کی طرف اشارہ موجود ہے ، مکہ میں آپ ﷺ تیرہ سال رہے اور مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ، ایسے وقت میں آدمی سوچتا ہے کہ بار بار مرنے سے ایک بار مرجانا بہتر ہے ؛ اس لئے بہت سے صحابہ ؓ جہاد کی اجازت کے ملتجی ہوتے تھے ؛ لیکن آپ ﷺ نے انھیں اس کی اجازت نہیں دی ، صلح حدیبیہ کے بعد حضرت ابو بصیر مسلمان ہوکر آئے تو آپ نے معاہدہ کے مطابق انھیں واپس کردیا ، انھوں نے اہل مکہ کے نمائندہ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور ایک کا تعاقب کرتے ہوئے مدینہ آپہنچے اور حضور ﷺ سے کہا کہ آپ اپنا وعدہ پورا کرچکے ہیں ؛لیکن حضور ﷺ نے انھیں پھر واپس کیا اور خفگی کا اظہار بھی فرمایا کہ تم جنگ کی آگ بھڑکانا چاہتے ہو۔

صلح حدیبیہ کے موقع سے چودہ سو جانباز آپ ﷺکے ساتھ تھے ، یہ وہ لوگ تھے جنھیں خدا کے راہ میں جان دینا جان بچانے سے زیادہ عزیز تھا ، لیکن آپ ﷺنے اہل مکہ کی شرطوں پر ان سے معاہدہ فرمایا ؛ حالاںکہ بہت سے صحابہ ؓ اسے اپنی ہزیمت سمجھ رہے تھے اور انھوں نے اس صلح کو محض آپ ﷺ کی اطاعت میں قبول کیا تھا ، ورنہ دل اس پر آمادہ نہیں تھا ، صلح حدیبیہ ہی کے موقع پر چالیس مشرکین مکہ کے ایک جھنڈ نے مسلمانوں پر ہلہ بول دیا ، مسلمانوں نے انھیں گرفتار کرلیا ؛ لیکن آپ ﷺ نے انھیں یوں ہی رہا کردیا کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ مسلمانوں نے حرم کے احترام کو بھی پامال کرنا شروع کردیا ہے اور اس طرح یہ عربوں میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث نہ بنے ۔

اس لئے حیات ِمحمدی ﷺ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا کام محض جوش وجذباتیت پر مبنی نہ ہو ، وہ کس قدر بھی مظلوم و ستم رسیدہ ہوں اور ان کے حالات کتنے ہی ناگفتہ ہوں ، فراست ِ ایمانی اور حکمت ِنبوی ﷺ کا دامن ان کے ہاتھوں سے چھوٹنے نہ پائے ، وہ دنیا میں ہدایت کا مینار اور روشنی کا چراغ ہیں ، کفر کی ظلمتیں اور اندھیرے کی نمائندہ طاقتیں ان سے برسرپیکار ہیں اور وہ انھیں ہر سطح پر نہ صرف مظلوم بناکر رکھنا چاہتے ہیں ؛بلکہ انھیں ذلیل ورسوا بھی کرنے کے درپے ہیں ، ایسی صورت میں ہماری انفرادی اور اجتماعی ناعاقبت اندیشی غیر معمولی نقصانات کا باعث بن سکتی ہے ، دشمن کی طاقت ، اس کے عزائم ، اس کے مزاج اور اپنی صلاحیت و قوت کا اندازہ کئے بغیر جب ہم کوئی قدم اُٹھائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ ہم دو چار افراد کو گرفتار کرلیں ، ۲۵، ۵۰ کو قتل کردیں ؛ لیکن یہی اقدام اُمت کی بہت سی عورتوں کے سہاگ لٹ جانے ، بچوں کے یتیم ہونے ، نوجوانوں کے زندگی سے محروم ہونے اور چند اشخاص کے لئے پورے ملک کے تباہ و برباد کردیئے جانے کا باعث ہو ، ایسے مواقع کے لئے سیرتِ نبوی ﷺکے کس پہلو کو اسوہ بنانا مناسب ہوگا یہ اہل علم و دانش اور اصحابِ فکر و نظر کے سوچنے کی بات ہے !۰ ۰ ۰

جذبات اور فیصلےجذباتی فیصلے کے نقصاناتجذباتی لوگوں سے بچےفیصلہ کیسے کریںفیصلے کرنے کے اصول

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

فرقہ پرستوں کو ہری جھنڈی
*یوگی حکومت کا ظلم اور مسلم نوجوانوں کا قتل*

Related Posts

ایک یادگار سہ روزہ سفر
  • hira-online.comhira-online.com
  • ایک یاد گار سہ روزہ سفر
  • ستمبر 2, 2026
  • 0 Comments
ایک یادگار سہ روزہ سفر

ایک یادگار سہ روزہ سفر ۳۱/ اگست ۲۰۲۶ حذیفہ خان متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء دار العلوم ندوۃ العلماء میں ششماہی تعطیل کا جب وقت قریب ہوا،تو ہمارے علاقہ کے وہ رفقاء جو آنلائن ہفتہ واری ۲ روزہ تجوید کلاس میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور قرآن سیکھتے ہیں،انہوں نے یہ تقاضہ رکھا کہ کیا ہی بہتر ہو کہ اگر ان چھٹیوں میں جب آپ وطن واپس ہوں تو ہم سہ روزہ جماعت میں آپ کے ساتھ نکلیں تاکہ ہمیں بھی اس خزانۂ علم و فکر سے کچھ حاصل ہو جس سے آپ دار العلوم میں مستفید ہوتے ہیں،تو اگرچہ مجھے ایک بار کچھ تردد ہوا،کہ تعطیل میں ابھی سے مصروفیت کا پلان۔۔۔۔۔۔،  لیکن پھر اس خیال نے مجھے مہمیز کیا کہ کرم فرما والدین کے حکم پر جو میں نے خدمتِ دین کا عزم مصمم کیا ہے اس میں کیا چھٹی اور کیا مصروفیت،مشغولیت کا تو کوئی تصور نہیں،  بس یہ خیال دفع ہوگیا اور میں نے حامی بھر دی۔  ۲۶/ اگست ۲۰۲۶ بروز بدھ کو کلکتہ واپسی ہوئی، بفضل اللہ ۲۸/ اگست ۲۰۲۶ بروز جمعہ کو سہ روزہ جماعت روانہ ہوئی اور شہر کلکتہ سے تقریباً ۲۵ کیلومیٹر دور رشڑا کے نام سے معروف علاقہ میں پہنچی، یہ علاقہ مسلم اور غیر مسلم کی مخلوط آبادی والا ہے، اور کچی مسجد میں ہم سب کاقیام ہوا، اس مسجد سے ہماری ایک قدیم وابستگی یہ بھی تھی کہ تقریباً دس برس کی عمر میں پہلی مرتبہ میں اپنے والد ماجد کے ساتھ اسی مسجد میں جماعت میں آیا تھا اور اب ۱۳ برس کے بعد پھر اسی مسجد میں جماعت میں آنے کا اتفاق ہوا۔  جماعت کے افراد میں نیٹ(NEET) میں کامیابی حاصل کرنے والے دو طلبہ بھی تھے، ظاہر ہے ان کی کیفیت جماعت میں موجود تمام قدیم ساتھیوں سے کچھ الگ تھی،شب و روز کے معمولات سے نا آشنا تھے اس لیے یہ تمام چیزوں کو تنقیدی پیرائے میں ڈال ڈال کر پرکھتے اور بے باکی سے مجھ سے سوال کرتے جو کہ حقیقت تک پہنچنے کا،‌ اپنے دین پر اعتماد و…

Read more

Continue reading
اُس بازار میں : شورش کاشمیری
  • hira-online.comhira-online.com
  • اُس بازار میں : شورش کاشمیری
  • شورش کاشمیری
  • فروری 6, 2026
  • 0 Comments
اُس بازار میں : شورش کاشمیری

اُس بازار میں : شورش کاشمیری از : معاویہ محب اللہ اس کتاب میں جابجا خوبصورت جملے اور اقتباسات بکھرے پڑے ہیں کہ جن میں غربت، بے وفائی، معاشرتی خرابی، عصمت فروشی، آزادہ روی اور شوقِ تفریح ہے، معاشرے کی اکھڑی ہوئی چولیں بھی ہیں، رقص و سُرود، غنا و موسیقی، تال و سُر اور حسنِ ادب کا دلنشین انداز بھی ہے، دردِ زیست، لُچّوں کا قہقہہ، سگریٹ کا دھواں اور تھرکتے جسم کی داستان المناک بھی ہے جن سے آنکھیں بہہ پڑتی ہیں۔دوسری طرف نفسیات کی گتھیاں سطر سطر پہ سلجھ رہی ہیں، معلومات کا دریا ہے، آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل الفاظ ہی نہیں گویا نگینے ہیں، زندگی کے سبق ہیں، میں ہرگز کسی کو آمادہ نہیں کرتا کہ وہ یہ کتاب مطالعہ کریں، لیکن چند اقتباسات ضرور پڑھتے جائیں، ہر اقتباس محض چند الفاظ و معانی کا سنگھم نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے، ایک فکر ہے، سوچنے کا ایک زاویہ ہے ؛ٹھہر چشمِ تماشا! دیکھ اس حوّا کی بیٹی کو!کہ اس کے حال پر بے درد راہی مسکراتے ہیںلرزتے آنسوؤں کا سُرمئی آنکھوں میں پانی ہےگھنی پلکوں میں ناگفتہ فسانے تلملاتے ہیں(دلنشین اقتباسات)‘‘عام خیال یہ ہے کہ گناہ افلاس کی کُوکھ سے پیدا ہوتا ہے، میرا معاملہ اس کے برعکس تھا، خالی جیب نے گمراہ ہونے سے بچا لیا’’ (صفحہ ۳۰)"کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ زندگی کے سبق ہمیں اُس وقت ملتے ہیں جب وہ ہمارے لئے بیکار ہو جاتے ہیں” (صفحہ ۷۰)"سورج جاگتا ہے قحبہ سو جاتی ہے اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو حکایتِ شبینہ کے غیر مرئی حروف جن سے چہروں پر ایک تھکن سی ہوتی ہے”(صفحہ ۹۹)‘‘ آدمی نے کبھی دوسروں کے تجربہ سے فایدہ نہیں اٹھایا وہ ہمیشہ خود تجربہ کرتا ہے، ہم کرتے ہیں غلطیاں اور نام رکھتے ہیں تجربہ’’ (صفحہ ۱۸۱)’’ عورتیں تصویر ہوتی ہیں اور مرد معمّہ، اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ عورت کا واقعی کیا مطلب ہے، تو اس کی طرف دیکھو، اس کی سنو نہیں: آسکروائلڈ ‘‘ (صفحہ ۲۱۲) ’’ ان رازوں ہی کی ٹوہ میں…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 12.09.2026
  • حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری 12.09.2026
  • نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار 11.09.2026
  • مردوں کے لیے مہندی کا استعمال 08.09.2026
  • (بلاعنوان) 07.09.2026
  • ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2 04.09.2026
  • سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت 04.09.2026
  • تقویٰ کیا ہے؟ 03.09.2026

حالیہ تبصرے

  • سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت از جہاد کی تربیت: اسلامی تہذیب میں ایمان، اخلاص اور کردار سازی کا نظام 1
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی از جہاد کی تربیت: اسلامی تہذیب میں ایمان، اخلاص اور کردار سازی کا نظام 1
  • تقویٰ کیا ہے؟ از حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری 1
  • اسلام، تصور آزادی کا معیار از اساتذہ کا کردار نسلوں کی تعمیر میں اساتذہ کی اہمیت اور ذمہ داریاں 1
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی از اہل بیت اور اہل سنت قسط 1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

اسلامیات

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
Blog

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
Blog

نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

  • hira-online.com
  • ستمبر 11, 2026
فقہ و اصول فقہ

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

  • hira-online.com
  • ستمبر 8, 2026
Blog

  • hira-online.com
  • ستمبر 7, 2026
سیرت النبی ﷺ

ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت
اسلامیات

تقویٰ کیا ہے؟

  • hira-online.com
  • ستمبر 3, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top