Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
09.09.2026
Trending News: مردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
09.09.2026
Trending News: مردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی کی آپ بیتی

  1. Home
  2. مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی کی آپ بیتی

مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی کی آپ بیتی

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • ستمبر 19, 2024
  • 0 Comments

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ

ہندوستان میں جن بزرگوں کی طرف میرا د کھینچ ہے اور ان کی محبت بھی مجھے حاصل ہے ان میں ایک بڑا نام علم وفضل، تقویٰ طہارت، صلاحیت و صالحیت اور خدمات کے اعتبار سے حضرت مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی حفظہ اللہ (ولادت جولائی 1942ء) بن سید شاہ عنایت اللہ فردوسی (م 1/ دسمبر 1991ء) بن سید شاہ فضل حسین منیری (م 1924ء) بن سید شاہ امجد حسین (م 1921ء) کا ہے، وہ پیرانہ سالی کے باوجود پٹنہ میں نظام الاوقات کی پابندی کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں اور عمر کی اس منزل میں بھی لکھنے، پڑھنے کا کام کرتے ہیں، عزیزوں کی خاطر داری کے لیے اس کام کو بھی قبول کر لیتے ہیں، جو بڑی محنت کا ہوتا ہے، وقت طلب ہوتا ہے، مثال کے طور پر میری کتاب ”نئے مسائل کے شرعی احکام“ کا عربی ایڈیشن ”المسائل المستجدۃ فی ضوء الاحکام الشرعیہ“ لانا تھا، تو ڈرتے ڈرتے میں نے حضرت سے اس کتاب کے مواد اور زبان وبیان دونوں پر نظر نہائی کی درخواست کی، میں جانتا تھا کہ یہ کام کس قدر مشکل ہے، آج کے دور میں جب معاصرین بھی کتابیں پڑھنا پسند نہیں کرتے، حضرت نے بڑی خوش دلی سے اس کام کو اپنے ذمہ لے لیا اور انتہائی ژرف نگاہی کے ساتھ زبان وبیان کے اعتبار سے اس پر نظر نہائی کا کام انجام دیا، روزانہ اس کتاب کے لیے دو گھنٹے مختص کئے اور چند دنوں میں اس لائق بنا دیا کہ وہ چھپ کر منظر عام پر آجائے، چھپ کر آئی تو بھی بڑے اونچے حوصلہ افزائی کے کلمات کہے، چونکہ حضرت کا اپنا مقالہ بھی عربی زبان میں ”القضایا المعاصرۃ فی فتاویٰ علماء مسلمی الشرق الاوسط“ کے عنوان سے سات سو صفحات پر مشتمل تھا، جس پر انہیں ڈاکٹریٹ (Ph.D)کی ڈگری تفویض کی گئی ہے۔ اس لیے مواد کے اعتبار سے بھی انہوں نے اس کتاب کو جانچا، پرکھا اور اطمینان کا اظہار کیا، اتنا ہی نہیں اس کتاب پر ایک قیمتی مقدمہ لکھ کر کتاب کی اہمیت کو دو بالا کیا، یہ حضرت کی خورد نوازی کی ایک مثال ہے۔ ہم جیسے چھوٹوں کی کیا بات ہے؟ وقت کے بڑے بڑے علماء کی نگاہ میں ان کی بڑی وقعت رہی ہے، ان کی ذہانت وفطانت، دینی ذوق وشوق اور اصابت رائے کی وجہ سے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ جیسے یگانہئ روزگار انہیں عزیز تر رکھتے تھے، مرشد امت حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندو ی ؒ اور مولانا سعید الرحمن اعظمی حفظہ اللہ کی شفقت بھی انہیں حاصل رہی ہے۔ طلب علم کے لئے جامعہ ازہر شریف جامعہ القاہرہ، جامعہ عین شمس جہاں کہیں تشریف لے گیے، اپنے علمی انہماک، وقت کی پابندی حسن اخلاق کی وجہ سے اساتذہ اور ساتھیوں کے منظور نظر اور محبوب بن کر رہے، زندگی کا بیش تر حصہ حضرت کا مصر اور سعودی عرب میں درس وتدیس میں گذرا، سبکدوشی کے بعد وطن کی محبت انہیں ہندوستان کھینچ لائی اور ان دنوں وہ سبزی باغ میں اپنے مکان میں فروکش ہیں اور علمی کاموں میں منہمک رہتے ہیں۔

آپ کی تحقیق کا اصل میدان فقہ ومسائل شرعیہ ہیں، عربی زبان وادب پر مہارت کے قائل ان کے عرب معاصرین بھی ہیں، ان کی عربی میں دو ۔کتاب ندوۃ العلماء سے بھی شائع ہو چکی ہے

حضرت نے آپ بیتی لکھنے کا کام بظاہر مولانا نذر الحفیظ ندویؒ کے تقاضہ پر شروع کیا تھا، میر بھی دلی خواہش تھی کہ حضرت اپنی زندگی کے احوال خود اپنے قلم سے لکھ ڈالیں، تاکہ ایک پورے دور اور شخصیات کی تاریخ محفوظ ہو جائے اور بعد میں آنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہو، مجھے یاد نہیں کہ میں ان سے اس خواہش کا اظہار کر سکا یا نہیں، مگر بزرگوں کے پاس علم کا ایک ذریعہ کشف بھی ہوا کرتا ہے، خیال چاہے جیسے پیدا ہوا ہو، مولانا نذر الحفیظ صاحب کی رائے کی تائید میری جانب سے بھی ہو گئی، چنانچہ حضرت نے اپنی آپ بیتی اپنے قلم سے ”حیاتی“ کے نام سے لکھ ڈالا، نام عربی میں ہے، زبان اردو ہے، اس نام ہی سے تواضع وانکساری کی بُو آتی ہے، کوئی بلند بانگ دعویٰ نہیں، صرف ”میری زندگی“ کا عنوان لگا دیا گیا ہے، اور ملک، بیرون ملک، خصوصاً مصر، سعودی عرب اور ہندوستان کے پورے ایک عہد کی تاریخ، ادارے اور شخصیات کے حوالہ سے اس کتاب میں درج ہوکر محفوظ ہو گئی، خانقاہ منیر شریف اور اس کی عظیم شخصیات کے احوال و کوائف سے بھی اس کتا ب کے ذریعہ ہم واقف ہوئے ہیں، حضرت نے اس آپ بیتی میں قارئین کے لیے ”علم سینہ“ کو ”علم سفینہ“ بنا دیا ہے، اگر یہ کام نہ ہوتا تو ہم حضرت کی زندگی کے در وبست، نشیب و فراز اور اس عہد کی نامور شخصیات اور کارناموں سے واقف نہیں ہو پاتے۔

سوانح نگاری اور آپ بیتی ایک فن ہے اور کہنا چاہیے کہ اسلامی فن ہے، قرآن کریم میں انبیاء کا تذکرہ دونوں انداز میں کیا گیا ہے، کہیں ”اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰانِیَ الْکِتَابَ“ کہہ کر نبی نے اپنی حیثیت اور مقام کا ذکر کیا، کہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلان کرنے کو کہا گیا کہ ”اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً“ اور کہیں اسے سوانحی انداز میں بیان کیا گیا اور اسے غوروفکر، عبرت وموعظت کا سامان قرار دیا گیا، ”فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ“ اور ”فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِاُولِی الْاَلْبَابِ“ کہہ کر سوانح نگاری اور آپ بیتی کے مقاصد کی طرف رہنمائی کی گئی؛ تاکہ بندہ شخصیات سے واقف ہو کر زندگی کے نشیب و فراز پر غور کرے اور جو معاملات ومسائل عبرت و موعظت کے ہوں ان سے سبق حاصل کرے۔

یہی وجہ ہے کہ عربی واردو دونوں زبانوں میں آپ بیتی لکھنے کا رواج قدیم، مضبوط اور مستحکم ہے، عصر حاضر میں طہٰ حسین کی ”الایام“ اور احمد امین کی ”حیاتی“ کا شمار عربی کی مقبول خودنوشت میں ہوتا ہے، اردو میں شعراء، ادباء اور علماء نے بھی بڑی تعداد میں آپ بیتیاں لکھی ہیں۔

اردو میں آپ بیتی لکھنے کا رجحان 1857ء کی پہلی جنگ آزادی کے بعد ہوا، میرے علم کے مطابق پہلی آپ بیتی مولانا جعفر تھانیسریؒ نے ”تواریح عجیب المعروف کالا پانی“ کے نام سے لکھی، جن آپ بیتیوں نے شہرت حاصل کی ان میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی ”نقش حیات“ مولانا عبد الماجد دریا آبادی کی ”آپ بیتی“، جوش ملیح آبادی کی ”یادوں کی برات“، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ کی ”کاروان زندگی“ مولانا منظور نعمانی ؒ کی ”تحدیث نعمت“ نواب سید خاں چھتاری کی ”یاد ایام“ عبد المجید سالک کی ”سرگذشت“ اختر حسین رائے پوری کی ”گرد راہ“ شوکت تھانوی کی ”مابدولت“ آغا سورش کاشمیری کی ”بوئے گل، نالہئ دل، دود چراغ محفل، قرۃ العین حیدر کی ”کار جہاں دراز ہے“، قدرت اللہ شہاب کا ”شہاب نامہ“ حضرت شیخ زکریاؒ کی ”آپ بیتی“ شیخ محمد عبداللہ کی ”آتش چنار“ اسیر ادروی کی ”داستان ناتمام“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں، اس فہرست میں بہار کے خود نوشت لکھنے والوں کو شامل کیا جائے تو شاد عظٰم آبادی کی خودنوشت ”شاد کی کہانی شاد کی زبانی“ کلیم الدین احمد کی ”اپنی تلاش میں“ ڈاکٹر کلیم عاجز کی ”ابھی سن لو مجھ سے“ ڈاکٹر راجندر پرشاد کی ”اپنی کہانی“ مولانا مناظر احسن گیلانی کی ”احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن“ اقبال حسین کی ”داستاں میری“ اور احقر (محمد ثناء الہدیٰ قاسمی) کی ”یادوں کے قافلے“ کا شمار مشہور و مقبول خودنوشت میں ہوتا ہے، یہ آپ بیتی کی فہرست سازی نہیں ہے، یہاں نہ اس کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کا موقع، حافظہ کی گرفت میں جو نام تھے وہ بے اختیار نوک قلم پر آگیے۔ ”حیاتی“ اسی سلسلۃ الذہب کی آخری تو نہیں مضبوط کڑی ہے اور خود نوشت نگاری کے باب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے، حضرت نے اپنی اس آپ بیتی میں بزرگوں کے ذکر میں القاب وآداب کی پوری رعایت رکھی ہے، جو خانقاہی تربیت کا اثر ہے، وہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اور مولانا سید محمد رابع حسنی رحمہما اللہ کا ذکر سماحۃ الوالد کے ساتھ کرتے ہیں، یہ احسان شناسی کی اعلیٰ مثال ہے۔ ورنہ اب تو مولانا بھی ہمارے دانشور لکھنا پسند نہیں کرتے، نام لے کر گذر جاتے ہیں، بلکہ ایک دانشور تو اسے جائز ہی نہیں سمجھتے، ”حیاتی“ میں حضرت نے حفظ مراتب کا پورا خیال رکھا ہے۔”آپ بیتی“ لکھتے وقت مصنف کو ہر وقت یہ خطرہ رہتا ہے کہ اس کا بیان، ”در مدح خود می گویم“ کے مصداق نہ بن جائے کبھی اپنے کو متواضع بنا کر پیش کرنے کی وجہ سے بھی بہت سی اہم باتیں رہ جاتی ہیں، اور بعد میں سوانح نگاروں کو اسے بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، مثال کے طور پر کاروان زندگی کو لے لیں حضرت مولانا علی میاں ؒ نے ان تمام احوال کو یکسر چھوڑ دیا تھا جس سے قاری کو ”در مدح خود“ کے فریب میں مبتلا ہونے کا خطرہ تھا، چنانچہ ایسے تمام احوال وواقعات کو مولانا عبد اللہ عباس ندوی ؒ نے ”میر کارواں“ میں بیان کر دیا، تب صحیح ترجمانی ہو سکی۔حضرت مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی حفظہ اللہ کی ”حیاتی“ اعتدال کے ساتھ لکھی ہوئی آپ بیتی ہے، احوال وواقعات کے ذکر میں غیر ضروری دراز نفسی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ایسی کتر بیونت کی گئی ہے کہ قاری کو احوال کے سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے، اس آپ بیتی میں حضرت دامت برکاتہم کی قوت حافظہ سے بھی ہم متاثر ہوتے ہیں، میں حضرت کی اس آپ بیتی ”حیاتی“ کو آپ بیتی کے باب میں ایک گراں قدر اضافہ سمجھتا ہوں، اگر شاعر نے ”انما التھنیات للاکفاء“ کہہ کر چھوٹوں کو مبارکبادی دینے کے حق سے محروم نہ کیا ہوتا تو اس کتاب کی تصنیف پر میں دل کی گہرائیوں سے انہیں مبارک باد پیش کرتا، فی الوقت صحت وعافیت کے ساتھ درازیئ عمر کی دعا پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں، دعا یہ بھی ہے کہ اللہ رب العزت حضرت کی دوسری کتابوں کی طرح اسے بھی قبول عام وتام نصیب فرمائے۔آمین یارب العالمین

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

زندگی میں اعتدال
!قوت حافظہ کا نسخہ

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 7, 2026
  • 0 Comments

تبلیغی جماعت: تاریخ، نظریاتی بنیاد، طریقۂ کار اور علمی تجزیہ برصغیر کی دینی و سماجی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تبلیغی جماعت ایک منفرد اور ہمہ گیر اصلاحی تحریک کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس تحریک نے عام مسلمانوں کو بنیادی دینی تعلیم، نماز، ذکر، اخلاق اور دعوت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک سادہ اور عملی طریقۂ کار اختیار کیا۔ تبلیغی جماعت کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عمومی طور پر سیاسی سرگرمیوں اور مناظرانہ اسلوب کے بجائے اصلاحِ نفس، عملی دین اور دعوت و تربیت پر توجہ مرکوز کی۔ اس مضمون میں تبلیغی جماعت کے تاریخی پس منظر، مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی دعوتی جدوجہد، چھ نکات، عملی طریقۂ کار، تاریخی ارتقا، اثرات اور اس پر ہونے والی علمی تنقید کا ایک متوازن جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ تبلیغی جماعت کا تاریخی پس منظر انیسویں اور بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں برصغیر کے مسلمان سیاسی زوال، نوآبادیاتی دباؤ اور معاشرتی کمزوریوں کے مختلف مسائل سے دوچار تھے۔ بہت سے علاقوں میں دینی تعلیم عام لوگوں تک مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ پا رہی تھی، جبکہ بعض علاقوں میں مذہبی شعور کمزور ہونے کے ساتھ مقامی رسم و رواج بھی مسلمانوں کی عملی زندگی پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ خصوصاً میوات کے علاقے میں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں بنیادی دینی تعلیم اور اسلامی شعائر سے واقفیت کمزور ہونے کی شکایات سامنے آتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے ایسی دعوتی کوشش کی ضرورت محسوس ہوئی جو براہِ راست عوام تک پہنچے، انہیں بنیادی دین سکھائے اور عملی تربیت کے ذریعے ان کی زندگی میں دینی تبدیلی پیدا کرے۔ اسی پس منظر میں مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی دعوتی جدوجہد نمایاں ہوئی۔ مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ اور تبلیغی جماعت کی بنیاد مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ (1885ء–1944ء) برصغیر کی معروف دینی علمی روایت سے وابستہ عالم اور داعی تھے۔ انہوں نے علمی تعلیم کے ساتھ اصلاح و تربیت کے میدان میں بھی کام کیا۔ میوات کے دوروں اور وہاں کے حالات کے مشاہدے سے انہیں…

Read more

Continue reading
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی
  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت کا مطالعہ کیسے کریں
  • کتب سیرت کا مطالعہ کیسے کریں؟
  • اگست 26, 2026
  • 1 Comments
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی     از : آدم علی ندوی سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ دینی ضرورت اور عملی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ، آپ کے حالات و واقعات، اخلاق و عادات، معاملات اور معمولات سے واقفیت انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی طرف لے جاتی ہے، اور یہی ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ ہماری زندگی اور ہمارے ذہن و دماغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس طرح رچ بس جانی چاہیے کہ زندگی کے ہر مرحلہ اور ہر موڑ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہمارے سامنے موجود ہو اور ہمیں یہ احساس رہے کہ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اسوہ کیا تھا۔ یہ کیفیت محض ایک مرتبہ سیرت پڑھ لینے سے پیدا نہیں ہوتی، اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بار بار مطالعہ، مختلف زاویوں سے مطالعہ اور بتدریج گہرائی کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔ سیرت کا حقیقی مطالعہ وہ ہے جو معلومات سے آگے بڑھ کر محبت، تعلق، اتباع اور عملی تبدیلی پیدا کرے۔ سیرت کا وسیع ذخیرہ اور انتخاب کا  مسئلہ ( مطالعہ سیرت ترتیب وار رہنمائی) جب کوئی قاری سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ شروع کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے سیرت کی کتابوں کا ایک عظیم اور ضخیم ذخیرہ ہوتا ہے۔ یہ ہمارے اکابر اور اہل علم کی غیر معمولی علمی خدمت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ پر اس قدر وسیع لٹریچر تیار کیا کہ صرف سیرت ہی کے موضوع پر ایک بڑی مستقل لائبریری قائم کی جا سکتی ہے۔ دیگر زبانوں کو چھوڑ دیجیے، صرف اردو زبان میں ہی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سیکڑوں، بلکہ ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ یہ وسعت بھی آیت مبارکہ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کی عملی اور علمی تفسیر ہے۔ لیکن…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مردوں کے لیے مہندی کا استعمال 08.09.2026
  • (بلاعنوان) 07.09.2026
  • ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2 04.09.2026
  • سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت 04.09.2026
  • تقویٰ کیا ہے؟ 03.09.2026
  • ایک یادگار سہ روزہ سفر 02.09.2026
  • میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح 02.09.2026
  • ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار 01.09.2026

حالیہ تبصرے

  • خوشگوار ازدواجی زندگی کے تقاضے از ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم کا سلوک | قسط 2
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از سیرت نبوی کی معاشی اہمیت: نبوی اقتصادی نظام کے بنیادی اصول
  • قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں از تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ کی اہمیت، نشانیاں اور حاصل کرنے کے 7 طریقے
  • ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار از تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ کی اہمیت، نشانیاں اور حاصل کرنے کے 7 طریقے
  • علم و تقویٰ کا حسین سنگم *شیخ التفسیر مولانا محمد برہان الدین سنبھلی* رحمہ اللہ علیہ از تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ کی اہمیت، نشانیاں اور حاصل کرنے کے 7 طریقے

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

فقہ و اصول فقہ

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

  • hira-online.com
  • ستمبر 8, 2026
Blog

  • hira-online.com
  • ستمبر 7, 2026
سیرت النبی ﷺ

ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت
اسلامیات

تقویٰ کیا ہے؟

  • hira-online.com
  • ستمبر 3, 2026
فکر و نظر

ایک یادگار سہ روزہ سفر

  • hira-online.com
  • ستمبر 2, 2026
ایک یادگار سہ روزہ سفر
فقہ و اصول فقہ

میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح

  • hira-online.com
  • ستمبر 2, 2026
اسلامیات

ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار

  • hira-online.com
  • ستمبر 1, 2026
ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top