Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
21.09.2026
Trending News: مقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
21.09.2026
Trending News: مقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*

  1. Home
  2. *محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*

*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*

  • hira-online.comhira-online.com
  • اسلامیات
  • جون 22, 2026
  • 0 Comments

قسط نمبر 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Table of Contents

Toggle
  • *محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*
  • محرم الحرام سے متعلق مشہور تاریخی روایات کا تحقیقی جائزہ*
  • *حضرت نوح علیہ السلام اور عاشوراء*
  • *ہم نے فرمایا اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔*
  • *حضرت یوسف علیہ السلام اور عاشوراء
  • *حضرت ایوب علیہ السلام اور عاشوراء*
  • *عاشوراء سے متعلق مشہور روایات کی حقیقت

*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*

*مفتی محمد شمیم قاسمی مگہری* مدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ آنند نگر موبائل نمبر:9721194219*

محرم الحرام سے متعلق مشہور تاریخی روایات کا تحقیقی جائزہ*

محرم الحرام کا مہینہ آتے ہی ہمارے معاشرے میں بہت سی باتیں زبان زدِ عام ہو جاتی ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دس محرم کو حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری، بعض حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعات بھی اسی دن سے جوڑتے ہیں۔ وعظ و تقریروں، سوشل میڈیا اور عوامی مجالس میں یہ باتیں بڑی کثرت سے بیان کی جاتی ہیں۔لیکن ایک طالبِ علم، ایک داعی، ایک خطیب اور ایک محقق کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ جو کچھ مشہور ہے اسے بیان کر دے، بلکہ اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ تحقیق کرے کہ آیا یہ روایات واقعی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں یا بعد کے زمانوں میں مشہور ہو گئیں۔اہلِ سنت والجماعت کا مزاج یہ ہے کہ عقائد، فضائل اور دینی اعمال میں صرف وہی بات قبول کی جائے جو معتبر دلیل سے ثابت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے ہر روایت کو جانچا، اس کی سند دیکھی، راویوں کی تحقیق کی اور پھر اس پر حکم لگایا۔محرم کے سلسلے میں بھی یہی اصول اپنانا ضروری ہے۔

*حضرت آدم علیہ السلام اور عاشوراء*عوام میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ دس محرم کے دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی۔یہ روایت مختلف کتابوں میں مذکور ضرور ہے لیکن محدثین کی بڑی جماعت نے اسے قابلِ اعتماد قرار نہیں دیا۔ اس سلسلے میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں ان کی سندیں یا تو ضعیف ہیں یا منقطع ہیں یا پھر ان میں ایسے راوی موجود ہیں جن پر محدثین نے کلام کیا ہے۔امام ابن جوزیؒ، امام ذہبیؒ اور دیگر محققین نے اس قسم کی روایات کو قابلِ استدلال نہیں سمجھا۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کا ذکر تو موجود ہے ، *پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔

*لیکن قرآن یا کسی صحیح حدیث میں یہ مذکور نہیں کہ توبہ کی قبولیت دس محرم ہی کو ہوئی تھی۔لہٰذا بطورِ یقین اور بطورِ فضیلت یہ بات بیان کرنا درست نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض تاریخی روایات میں اس کا ذکر ملتا ہے، مگر اس کی کوئی مضبوط شرعی دلیل موجود نہیں۔یہی علمی دیانت داری کا تقاضا ہے۔

*حضرت نوح علیہ السلام اور عاشوراء*

حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ عاشوراء کے دن طوفان ختم ہوا اور کشتی *جودی پہاڑ* پر ٹھہر گئی۔اس واقعہ کی اصل تو قرآن مجید میں موجود ہے:*اور کہا گیا اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان رک جا، اور پانی کم کر دیا گیا اور فیصلہ کر دیا گیا اور کشتی جودی پر ٹھہر گئی۔* لیکن قرآن نے تاریخ اور دن کی تعیین نہیں کی۔بعض روایات میں عاشوراء کا ذکر ملتا ہے، مگر محدثین کے نزدیک یہ روایات قوی درجے کی نہیں ہیں۔البتہ بعض اہلِ علم نے لکھا ہے کہ چونکہ اس مضمون کی متعدد روایات مختلف طرق سے منقول ہیں اس لیے تاریخی احتمال کے طور پر اس کا ذکر کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے قطعی اور یقینی حقیقت قرار دینا درست نہیں۔یہ فرق سمجھنا ضروری ہے تاریخی امکان اور شرعی یقین ایک چیز نہیں ہیں۔اہلِ علم ہمیشہ دونوں میں فرق کرتے ہیں جبکہ عوام اکثر دونوں کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں۔*حضرت ابراہیم علیہ السلام اور عاشوراء*کئی کتابوں اور عوامی روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ عاشوراء کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے نجات ملی۔بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ سے نجات ملنا قرآن سے ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

*ہم نے فرمایا اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔*

لیکن یہ واقعہ کس دن پیش آیا، قرآن و حدیث میں اس کی کوئی صحیح تعیین موجود نہیں۔محدثین نے عاشوراء سے متعلق جو طویل روایات نقل کی ہیں جن میں ایک ہی دن میں درجنوں انبیاء کے واقعات جمع کر دیے گئے ہیں، ان میں سے اکثر کو ضعیف یا موضوع قرار دیا ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور حافظ ابن کثیرؒ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ان میں سے بہت سی باتیں بعد کے قصہ گو حضرات کے ذریعے مشہور ہوئیں۔لہٰذا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نجات پر ایمان رکھنا ضروری ہے، لیکن اسے عاشوراء کے ساتھ جوڑنا صحیح دلیل کا محتاج ہے، جو موجود نہیں۔

*حضرت یوسف علیہ السلام اور عاشوراء

*یہ بات بھی عوامی حلقوں میں مشہور ہے کہ عاشوراء کے دن حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کی ملاقات ہوئی۔بعض لوگ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام قید سے نکلے یا بادشاہت ملی۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید نے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات نہایت تفصیل سے بیان کیے ہیں، لیکن کسی دن یا تاریخ کا تعین نہیں کیا۔حدیث کی معتبر کتابوں میں بھی اس بارے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں۔لہٰذا اس قسم کی باتیں زیادہ تر تاریخی حکایات اور عوامی روایات پر مبنی ہیں، نہ کہ صحیح احادیث پر۔ایک خطیب یا مصنف کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ انہیں *منقول روایات* کے طور پر ذکر کرے، نہ کہ *ثابت شدہ حقائق* کے طور پر۔ یہی علمی امانت ہے۔

*حضرت ایوب علیہ السلام اور عاشوراء*

مشہور روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ عاشوراء کے دن حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری سے شفا ملی۔قرآن کریم میں حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش اور شفایابی دونوں کا ذکر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ *ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور جو تکلیف انہیں پہنچی تھی اسے دور کر دیا۔*لیکن یہ شفا کس دن عطا ہوئی، اس کی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں۔بعض تفسیری اور تاریخی کتابوں میں عاشوراء کا ذکر ملتا ہے، مگر ان کی سندیں ایسی نہیں کہ ان پر قطعی اعتماد کیا جا سکے۔ اس لیے اس واقعے کی اصل تو ثابت ہے، لیکن عاشوراء کے ساتھ اس کا تعلق ثابت نہیں۔

*عاشوراء سے متعلق مشہور روایات کی حقیقت

*محرم اور عاشوراء کے فضائل میں ایک طویل روایت بعض کتابوں میں نقل کی جاتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ:اسی دن آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔اسی دن نوح علیہ السلام کی کشتی ٹھہری۔اسی دن ابراہیم علیہ السلام کو نجات ملی۔اسی دن یوسف علیہ السلام قید سے نکلے۔اسی دن ایوب علیہ السلام کو شفا ملی۔اسی دن یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نکلے۔اسی دن سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت ملی۔وغیرہ وغیرہ۔محدثین کی بڑی تعداد نے اس روایت کے مجموعے کو ضعیف بلکہ بعض اجزاء کو موضوع قرار دیا ہے۔حافظ ابن رجبؒ لکھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر روایات کی سندیں مضبوط نہیں ہیں۔حافظ ابن کثیرؒ اور علامہ شوکانیؒ نے بھی ان روایات پر تنقیدی گفتگو کی ہے۔لہٰذا ان تمام واقعات کو ایک ہی دن سے جوڑ کر یقینی عقیدہ بنا لینا درست نہیں۔کون سی چیز یقینی طور پر ثابت ہے؟اگر سوال کیا جائے کہ عاشوراء کے بارے میں یقینی اور صحیح بات کیا ہے؟تو جواب یہ ہے کہ محرم حرمت والا مہینہ ہے۔عاشوراء کا روزہ نبی کریم ﷺ سے صحیح احادیث کے ذریعے ثابت ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی نجات کے حوالے سے عاشوراء کی فضیلت صحیح بخاری و مسلم سے ثابت ہے۔عاشوراء کا روزہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کے کفارے کا سبب ہے۔نو اور دس یا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔یہ سب باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔محرم الحرام کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ایک مسلمان کو جذبات سے زیادہ تحقیق کو ترجیح دینی چاہیے۔ ہر مشہور بات صحیح نہیں ہوتی اور ہر منبر پر بیان ہونے والی روایت معتبر نہیں ہوتی۔ حضرت آدم، نوح، ابراہیم، یوسف اور ایوب علیہم السلام کے واقعات اپنی اصل کے اعتبار سے یقیناً درست اور قرآن سے ثابت ہیں، لیکن ان تمام واقعات کو عاشوراء کے ساتھ جوڑنے کے لیے مضبوط اور صحیح دلائل موجود نہیں ہیں۔اسی لیے اہلِ سنت والجماعت کا علمی منہج یہ ہے کہ جو بات صحیح دلیل سے ثابت ہو اسے پورے اعتماد سے بیان کیا جائے، اور جو بات ضعیف یا غیر ثابت ہو اسے اسی درجے میں ذکر کیا جائے۔دین کی حفاظت صرف عقیدوں کی حفاظت سے نہیں ہوتی بلکہ روایات کی حفاظت سے بھی ہوتی ہے، اور یہی محدثینِ امت کا عظیم کارنامہ ہے۔قسط جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل
فتنۂ انکارِ حدیث

Related Posts

مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت
  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 19, 2026
  • 0 Comments
مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت

مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت  مولانا آدم علی ندوی اللہ رب العزت نے انسان کو اپنی مخلوقات میں ایک ممتاز مقام عطا فرمایا، اسے تکریم و شرف سے نوازا اور اسے ایسی صلاحیتیں اور علوم بخشے جو اس کی دنیوی و اخروی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار ہیں۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ(الإسراء: 70) "اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔” لیکن کیا یہ عزت محض اعزاز ہے؟ کیا انسان کو یہ شرف اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ کھائے، پئے، آسائش حاصل کرے اور دنیا کی رنگینیوں میں کھو جائے؟ ہرگز نہیں! عزت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے، صلاحیت کے ساتھ مقصد بھی اور زندگی کے ساتھ جواب دہی بھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ(الذاریات: 56) "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔” انسان کی زندگی ایک ذمہ دارانہ سفر ہے۔ اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے، یہاں اسے اختیار، فرصت اور صلاحیت دی گئی ہے اور پھر اسے اسی بنیاد پر آخرت میں جواب دینا ہے۔ کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان نے دنیا میں کتنا کمایا، کتنی شہرت حاصل کی یا کتنی آسائشیں جمع کیں، اصل سوال یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے زندگی ملی تھی، کیا وہ مقصد پورا بھی ہوا؟ المیہ یہ ہے کہ آج زندگی کی رفتار تو بہت تیز ہے، مگر سمت کا تعین کمزور پڑ گیا ہے۔ وسائل بڑھ گئے، مصروفیات بڑھ گئیں، رابطے بڑھ گئے، معلومات کے ذرائع بڑھ گئے، لیکن کیا مقصدِ حیات کا شعور بھی اسی تناسب سے بڑھا؟ انسان صبح سے شام تک مصروف ہے، مگر اگر اس سے پوچھا جائے کہ "آخر کس لیے؟” تو شاید اس کے پاس کوئی واضح جواب نہ ہو۔ کبھی دنیاوی کامیابی کو زندگی کا آخری مقصد سمجھ لیا جاتا ہے، کبھی شہرت کو کامیابی کا معیار بنا لیا جاتا ہے اور کبھی آسائش و تفریح کو زندگی کا حاصل۔ یوں انسان…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 18, 2026
  • 0 Comments
سود کی لعنت اور اس کا علاج

سود کی لعنت اور اس کا علاج (قسط-1) 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ اسلام نے سود کو نہایت مذموم ، حد درجہ ناپسندیدہ گناہ اور ظالمانہ فعل قرار دیا ہے ، قرآن مجید میں چار آیتوں میں سود کی مذمت اور ممانعت ہے ، ارشاد فرمایا گیا کہ سود خوار قیامت کے دن اس طرح اٹھیں گے کہ گویا وہ آسیب زدہ ہیں ، (البقرۃ : ۲۷۵) یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر سود چھوڑنے کو تیار نہ ہو تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ ، (البقرۃ : ۲۷۸) یہودی سود خواری میں پیش پیش تھے ، ان کی اس بری حرکت کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ، (النساء : ۶۰) یہ بھی ارشاد ہوا کہ سود کا لین دین مال میں اضافہ کے لئے کرتے ہو ؛ لیکن اللہ کے نزدیک اس سے مال میں حقیقی اضافہ نہیں ہوگا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے جذبہ سے جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، اس میں اللہ کی طرف سے برکت ہوگی اور کئی چند اضافہ ہوگا ۔ (الروم : ۳۹) سود کی مذمت رسول اللہ ﷺ نے سود کی اس درجہ مذمت فرمائی ہے کہ کم گناہ ہوں گے ، جن کی اس درجہ مذمت کی گئی ہوگی ، اور اس کا کم تر درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے ، (مستدرک حاکم : ۲؍۳۷، علی شرط الشیخین ) حضرت عبد اللہ بن حنظلہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کے ایک درہم کو چھتیس زنا سے بڑھ کر قرار دیا ہے ، (الترغیب والترہیب : ۳؍۷) عوف بن مالک ؓ راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان گناہوں سے خوب بچو ، جو بخشے نہیں جائیں گے ، پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سود کھانے والا قیامت کے دن مخبوط الحواس مجنون کی صورت میں اُٹھایا جائے گا ۔( مجمع الزوائد : ۴؍۱۱۰) ایک موقع پر آپ ﷺ نے سات مہلک چیزوں کا ذکر کیا ، اور ان اُمور کو…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت 19.09.2026
  • سود کی لعنت اور اس کا علاج 18.09.2026
  • معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون 16.09.2026
  • پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت 16.09.2026
  • یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 12.09.2026
  • حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری 12.09.2026
  • نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار 11.09.2026
  • مردوں کے لیے مہندی کا استعمال 08.09.2026

حالیہ تبصرے

  • بچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانی از بچوں کے لیے دینی تعلیم کی اہمیت | اسلامی تربیت اور والدین کی ذمہ داری 1
  • ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور از ڈاکٹر اسرار احمد کا تعارف
  • بچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانی از سیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحان » HIRA ONLINE / حرا آن لائن
  • ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکر از فتنہ انکار حدیث 1
  • علامہ شبلی ؒنعمانی (1857۔ 1914)مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں از شبلی روایت اور تجدید کا معیار

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

اسلامیات

مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 19, 2026
مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت
اسلامیات

سود کی لعنت اور اس کا علاج

  • hira-online.com
  • ستمبر 18, 2026
اسلامیات

معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون
اسلامیات

پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت
اسلامیات

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
Blog

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
Blog

نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

  • hira-online.com
  • ستمبر 11, 2026
فقہ و اصول فقہ

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

  • hira-online.com
  • ستمبر 8, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top