Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
22.09.2026
Trending News: خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
22.09.2026
Trending News: خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

قربانی ، زکوٰۃ ، اور مالی جہاد کے سب سے زیادہ مستحق غزہ اور فلسطین کے لوگ ہیں

  1. Home
  2. قربانی ، زکوٰۃ ، اور مالی جہاد کے سب سے زیادہ مستحق غزہ اور فلسطین کے لوگ ہیں

قربانی ، زکوٰۃ ، اور مالی جہاد کے سب سے زیادہ مستحق غزہ اور فلسطین کے لوگ ہیں

  • hira-online.comhira-online.com
  • فقہ و اصول فقہ
  • مئی 30, 2024
  • 0 Comments

*از: شیخ احمد الریسونی*
سابق صدر الاتحاد العالمی لعلماء المسلمين
ترجمانی: اسجد حسن ندوی

چند ہفتوں کے بعد اس سال کی (1445ء) عید الاضحی آنے والی ہے ، عید الاضحی کی ایک اہم عبادت قربانی ہے ، جمہور علماء کے نزدیک قربانی سنت یا سنت مؤکدہ ہے ، صاحب نصاب لوگ اپنی جانب سے اور اپنے اہل و عیال کی جانب سے قربانی کر کے خود بھی کھاتے ہیں ، اور لوگوں کو بھی کھلاتے ہیں اور بطور صدقہ تقسیم بھی کرتے ہیں ۔

*قربانی کرنے، اور اس کی قیمت مسکینوں میں صدقہ کرنے کے سلسلے میں فقہاء کے مابین اختلاف رہا ہے کہ ان میں سے کون سا عمل افضل ہے ؟*
بعض علماء بالخصوص صحابہ و تابعین نے قربانی پر صدقہ دینے کو ترجیح دی ہے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا قول مشہور ہے کہ ” مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں مرغ کی قربانی کروں ، لیکن اس کی قیمت کسی یتیم یا بے گھر کو صدقہ کرنا میرے نزدیک اس قربانی سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے” ۔ اسی طرح امام شعبی کا بھی یہ قول ہے کہ ” تین درہم صدقہ کرنا قربانی سے زیادہ عزیز اور پسندیدہ ہے” ۔
البتہ جمہور فقہاء کی رائے اس کے بر خلاف ہے ، ان کے نزدیک قربانی کرنا صدقہ کرنے سے افضل ہے ، کیونکہ صدقہ انسان سال کے بارہ مہینے بھی کر سکتا ہے ، لیکن قربانی شعائر اسلام میں سے ایک خاص شعار ہے ، اور یہ ان چھ چیزوں میں شامل ہے ،جن کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے ۔اور اس کو سال میں ایک بار ہی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، مزید یہ کہ اس میں صدقہ اور غریبوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے ، اور یہ بھی ایک طرح کا صدقہ ہی ہے ۔
اور یہی قول عام حالات میں راجح اور معتمد علیہ بھی ہے ، لیکن ضرورت کے پیش نظر غیر معمولی صورتوں کا جائزہ لینا ، اور خصوصی طور پر ایسے لوگوں کے لیے فتویٰ جاری کرنا بھی ضروری ہے ، جو آزمائش و مصائب سے دو چار ہیں ، غزہ میں بسنے والے مسلمان بھائیوں کا معاملہ ، یروشلم شہر کے لوگوں کی صورت حال اور خاص طور پر مغربی کنارے میں بسے ہوئے لوگوں کے حالات بھی کچھ یوں ہی ہیں، جو ہمیں سوچنے اور جائزہ لینے پر مجبور کرتے ہیں۔
موجودہ صورت حال جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، اس میں تمام تر ضروریات اور تمام صورتیں بیک وقت جمع ہوگئی ہیں ، بلکہ ایسی ضرورتیں بھی پیش آرہی ہیں جن کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
صہیونی دشمن – اور اس کے حلیف امریکہ اور یورپ – غزہ کو تباہ و برباد کررہے ہیں ، اور غزہ میں بسے ہوئے لوگوں کی رزق ، زندگی ، معاش ، تعلیم اور علاج و معالجہ کے تمام تر اسباب کو معطل کر دیا ہے ، اس سے متاثر زیادہ تر وہ حضرات ہیں جو مغربی کنارے میں رہائش پذیر ہیں ، غزہ کے لوگ اسلام ، مسلمان اور مسجد اقصی کے دفاع میں جہاد کررہے ہیں ، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اس وقت اصل میں جہاد غزہ کے لوگ ہی کررہے ہیں ، جبکہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہے جب تک فلسطین اور مسجد اقصی آزاد نہ ہو جائے ، لیکن اہل غزہ تن تنہا اس لڑائی کو لڑ رہے ہیں ، اور خود ہی اس کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور وہی اسکے اثرات تنہا جھیل رہے ہیں ،
موجودہ صورت حال کوئی عارضی یا وقتی نہیں ہے، بلکہ ماضی میں بھی یہ صورت حال رہی ہے اور مستقبل میں بھی غیر معینہ طور پر اس میں توسیع ہو سکتی ہے ، اور اب تو مزید اس شدت و سختی میں اضافہ ہو رہا ہے ، ارشاد ربانی ہے کہ *”فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ} [المائدة: 52]*
” کچھ بعید نہیں کہ اللہ (مسلمانوں) کو فتح عطا فرمائے ، یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر فرمائے”
اسی وجہ سے فلسطینی عوام اور ان کے مجاہدین کو ہر ممکن رعایت ، حمایت ، اور تعاون میں سب سے زیادہ ترجیح ملنی چاہیے ۔
* اس سلسلے میں درج ذیل امور کی رعایت ضروری ہے*
(1) انہیں جہاد کے لیے مال فراہم کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے*:إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُون} [الحجرات: 15]*
{بے شک مومن وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر کسی شک میں نہیں پڑے ،اور جنہوں نے اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی لوگ سچے ہیں ،
ایک جگہ اور ارشاد فرمایا:
*انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [التوبة: 41]*
"جہاد کے لیے نکل کھڑے ہو ، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل ، اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو، اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے”
چنانچہ وہ حضرات جو خود جہاد نہیں کر سکتے وہ اپنا مال مجاہدین کے حوالے کرکے مالی جہاد یا جہاد کی مالی مدد کریں ،صحیحین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ *«من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا. ومن خلفه في أهله بخير فقد غزا».*
"جس نے خدا کے لیے لڑنے والے کو تیار کیا اس نے جنگ کی، اور جس نے اپنے اہل و عیال کو چھوڑ دیا وہ فتح یاب ہوا”
(2) زکوة کے سب سے زیادہ مستحق فلسطینی ہیں ، کیونکہ فلسطین میں اور اہل فلسطین میں زکوٰۃ کے تمام مصارف موجود ہے ، بلکہ بعض صورت مصارف کی وہ بھی ہیں جو فلسطین کے علاؤہ کہیں بھی نہیں پائی جاتیں ، جو شخص مجاہدین اور اہل فلسطین کو اپنی زکوٰۃ یا نصف زکوٰۃ یا کچھ حصہ دے گا وہ اپنے رب کی جانب سے ہدایت پر ہے ۔ فرمان نبوی ہے :*ومن يُـردِ الله به خيرا يفقهه في الدين*
"اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے”
(3) قربانی کی قیمت اہل فلسطین کو دینا جائز ہے، قیمت دینے والا قربانی سے برئ الذمہ ہوگا ، وہی قیمت قربانی کے لیے کافی ہوگی ، بلکہ دوہرا ثواب بھی ملے گا ، اور اس میں ایثار و قربانی، اور جہاد بھی شامل ہو گا ، لہذا صاحب نصاب شخص قربانی کی قیمت قربانی کرنے کے بجائے اہل فلسطین کو بھیجے تو یہ زیادہ بہتر اور مناسب ہے ، اور اس سے قربانی کی ادائیگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ یہ زیادہ متوازن اور معتدل اور حالات کے پیش نظر مناسب عمل ہوگا

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

کیا مصنوعی استقرار حمل اور رحم مادر کی کرایہ نا جایز ہے؟
*عورتوں کا حقِّ وراثت __ اور ___* *موجودہ ہندوستانی مسلم معاشرہ* از: محمد رضی الاسلام ندوی

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 8, 2026
  • 0 Comments
مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال محمد رضی الاسلام ندوی سوال : شادی کے موقع پر دولہا کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگائی جاتی ہے – کیا یہ جائز ہے؟ جواب : مردوں کے لیے مہندی لگانے کا حکم مقصد اور طریقۂ استعمال کے اعتبار سے مختلف ہے : سر کے بالوں یا ڈارھی میں مہندی لگانے کا حکم * سر کے بالوں یا داڑھی کو رنگنے کے لیے مہندی لگانا جائز ، بلکہ بعض صورتوں میں مستحب ہے۔ نبی کریمﷺ سے سفید بالوں کو ’حنا‘ (مہندی) اور ’کتم‘ (رنگ پیدا کرنے والی ایک نبات) وغیرہ سے رنگنے کی ترغیب منقول ہے   زینت کے لیے مہندی لگانا * ہاتھوں اور پیروں میں زینت کے لیے مہندی لگانا ، جیسا کہ عموماً عورتیں لگاتی ہیں ، مردوں کے لیے جائز نہیں ، کیوں کہ یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے ۔ احادیث میں مردوں کے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت آئی ہے ۔ علاج کے لیے مہندی لگانا * علاج یا کسی طبّی ضرورت سے ہاتھ یا پیر میں مہندی لگانا جائز ہے ، کیوں کہ اس کا مقصد زینت نہیں ، بلکہ علاج ہے ۔ اسلام کا فلسفۂ یُسر اور آج کل کی شادیاںاز:ڈاکٹر محمد طارق ایوبی اسلام میں شادی کا طریقہ – مکمل رہنمائی

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 2, 2026
  • 0 Comments
میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح

*میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح*  حدیثِ جعفرؓ اور میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا انتظام بنیادی حدیث اور اس کا پس منظر: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا؛ فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ شَغَلَهُمْ” (رواہ الترمذی: 3132) ترجمہ و مفہوم: جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا: "جعفر کے اہل و عیال کے لیے کھانے کا انتظام کرو، کیونکہ ان پر ایسا حادثہ گزرا ہے جس کے غم اور تکلیف کی وجہ سے ان کے لیے کھانے وغیرہ کا نظم کرنا ممکن نہیں۔” احادیث کی روشنی میں اہم شرعی و اصلاحی نکات: اس حدیثِ مبارکہ سے ہمیں درج ذیل اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں، جن پر توجہ دینا اور ان کے مطابق معاشرے کی اصلاح کرنا انتہائی ضروری ہے: 1:  میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام مستحب ہے، لازم نہیں اعزہ اور پڑوسیوں کے لیے مناسب ہے کہ وہ میت کے گھر والوں کے لیے بقدرِ استطاعت کھانے پینے کا انتظام کریں۔ علماء نے اسے ‘مستحب’ لکھا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اسے لازم سمجھ لیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض غریب رشتہ داروں کو معاشرتی دباؤ کی وجہ سے قرض کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے، لہٰذا اسے فرض کا درجہ نہ دیا جائے۔ 2. کھانا صرف غم زدہ خاندان کے لیے ہے ضیافت کے لیے نہیں: یہ انتظام صرف اور صرف میت کے گھر والوں (اہلِ خانہ) کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ نمازِ جنازہ کے تمام شرکاء یا میت کے اطراف و اکناف کے سارے رشتہ داروں کے لیے۔ آج کل دیکھا یہ جا رہا ہے کہ کھانے کے وقت آس پڑوس کے لوگوں اور اعزہ کو باضابطہ بلایا جاتا ہے اور اسے لازم سمجھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کسی صورت درست نہیں ہے کیونکہ اس سے انتظام کرنے والوں…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں 21.09.2026
  • مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت 19.09.2026
  • سود کی لعنت اور اس کا علاج 18.09.2026
  • معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون 16.09.2026
  • پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت 16.09.2026
  • یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 12.09.2026
  • حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری 12.09.2026
  • نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار 11.09.2026

حالیہ تبصرے

  • خواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیت از خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری از دھرم پریورتن، سچائی اور پروپیگنڈہ » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • "فاسق معلن” کی دعوت قبول کرنے کے سلسلے میں شرعی حکم از دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے » HIRA ONLINE / حرا آن لائن
  • ارتداد کا سدِّ باب: اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کیوں ضروری ہے؟ از کینسر سے زیادہ خطرناک ارتداد: ایمان کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟ 1
  • کینسر سے زیادہ خطرناک ارتداد از ارتداد کا سدِّ باب اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کیوں ضروری ہے؟ 1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

گوشہ خواتین

خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں

  • hira-online.com
  • ستمبر 21, 2026
خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں
اسلامیات

مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 19, 2026
مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت
اسلامیات

سود کی لعنت اور اس کا علاج

  • hira-online.com
  • ستمبر 18, 2026
اسلامیات

معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون
اسلامیات

پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت
اسلامیات

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
Blog

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
Blog

نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

  • hira-online.com
  • ستمبر 11, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top