Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
09.09.2026
Trending News: مردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
09.09.2026
Trending News: مردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

صحبتِ اہلِ صفا، نور وحضور وسرور(جامعۃ العلوم، گجرات کی ایک وجد آفریں محفل قراءت-روداد اور مبارک باد)

  1. Home
  2. صحبتِ اہلِ صفا، نور وحضور وسرور(جامعۃ العلوم، گجرات کی ایک وجد آفریں محفل قراءت-روداد اور مبارک باد)

صحبتِ اہلِ صفا، نور وحضور وسرور(جامعۃ العلوم، گجرات کی ایک وجد آفریں محفل قراءت-روداد اور مبارک باد)

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • فروری 2, 2025
  • 0 Comments

✍️ ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

رات کے آخری پہر جب ستارے اپنی روشنی سمیٹ رہے تھے، اور اذانِ فجر کی نغمگی کانوں میں رس گھول رہی تھی، نیند سے بیدار ہوا، میں جامعۃ العلوم، ہمت نگر، گجرات میں تھا، میرے بیٹے خزیمہ اور حمزہ -سلمہما اللہ تعالی- یہاں زیرِ تعلیم ہیں، آج 29 رجب 1446ھ مطابق 30 جنوری 2025ء، جمعرات کی صبح میرے لیے ایک خاص سعادت کا پیام لے کر آئی تھی، جب سورج ابھی اپنی فرحت بخش سنہری کرنوں کے ساتھ افقِ خاوَر سے جھانک رہا تھا، جامعہ میں مسابقۂ قراءت کا آغاز ہوا۔

جب پہلا طالب علم قراءت کے لیے دو گلدستوں کے درمیان سجی ایک بیضوی کرسی پر جلوہ افروز ہوا، تو محفل میں ایک گہری خاموشی چھا گئی، فضا میں ساکت سانسوں کی سرگوشیاں تھیں، اور دل ایک انوکھے ترنم کے انتظار میں گم، پھر جو سلسلہ آگے بڑھا، تلاوتِ قرآن کے ہمہ رنگ قوسِ قُزح کا منظر پیش ہورہا تھا، جس میں ہر آواز ایک نیا رنگ بھرتی، اور ہر لفظ کی ادائیگی کا انداز نئے جہان معنی کی سیر کراتا۔

قرآن کی تلاوت طوطی وبلبل کی مانند محض الفاظ کے دوہرانے کا نام نہیں، بلکہ ایک رقت آمیز کیفیت کا نام ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تعمیل ہے کہ "إنَّ هذا القرآنَ نزلَ بحُزْنٍ، فإذا قرأتموهُ فابكوا، فإن لم تبكوا فتباكَوا” (یہ قرآن سوز وگداز کے ساتھ نازل ہوا ہے، تو جب تم تلاوت کرو تو سوز وگداز پیدا کرو، اور اگر ایسا نہ کرو تو رونے کی صورت ہی بناؤ)، قرآن کی نغمگی دلوں کو موہ لیتی ہے، اور آب رواں کی مانند مومن کے سینہ میں اترتی چلی جاتی ہے، علم النغمات اسی صوتی جمال کا شاہکار فن ہے، جو سات مشہور لہجات میں جلوہ گر ہوتا ہے—اس مسابقہ میں بھی طلبہ کی تلاوت میں انھی قرآنی لہجات کی جھلک نمایاں تھی، جہاں ہر قاری کی آواز اپنے مخصوص آہنگ میں وحی کے معانی کو مجسم کر رہی تھی، کہیں سوز و گداز تھا، کہیں متانت، کہیں درد، کہیں امید—کہیں حجاز کا سوز، کہیں نہاوند کا ترنم، اور کہیں بیات کا وقار، مجھے ہر آواز ان نغموں پر اکسا رہی تھی کہ:
ہمسایۂ جِبریلِ امیں بندۂ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!

قرآن کی یہی وہ تاثیر ہے جس نے صدیوں سے قلوب کو مسخر کر رکھا ہے، جو آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ باقی رہے گی، آج کے اس مسابقۂ قراءت میں وحی کے صوتی اعجاز کا وہی جلوہ نظر آیا، جس نے اہلِ عرب کے فصیح ترین ذہنوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، اسی قرآنی لحن، اسی تاثیر اور اسی نورانی کلام کو سن کر ولید بن مغیرہ جیسے "ريحانة قريش” (قریش کے گل سر سَبَد) نے بے ساختہ کہا تھا: "إن له لحلاوة، وإن عليه لطلاوة، وإن أعلاه لمثمر، وإن أسفله لمغدق”—(بے شک اس کلام میں ایک دل آویز چاشنی ہے، اس پر ایک انوکھا حسن چھایا ہوا ہے، اس کا بالائی حصہ ثمر آور اور زیریں حصہ فیض رساں ہے)۔
آج اسی حلاوت، اسی لطافت، اور اسی تاثیر نے جامعۃ العلوم کی فضاؤں کو معطر کر دیا تھا۔

ماشاء اللہ پڑھنے والے ایسے دلنواز تھے کہ ان کی صوتی تاثیر نے سامعین کو بے اختیار اشک بار کر دیا، اور ہر آیت کو روح کی گہرائیوں میں اتار دیا، حسنِ صوت اور تجوید کی ہم آہنگی نے اس مسابقہ کو ایک ایسی روحانی مجلس میں بدل دیا، جہاں تلاوت کے ملکوتی ساز بَرْبَطِ دل پر بجتے رہے، اور ایک عجیب کیفیت تا دیر برقرار رہی، دل کا حال کیا کہوں، بس یہ کہ:
غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا

یہ مسابقۂ قراءت محض ایک تقریب نہ تھی، بلکہ وحی کے صوتی جمال کا ایک ایسا مظہر تھا، جس نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، قراءت کے سوز اور آہنگ میں وہی کیفیت تھی، جسے نبی کریم ﷺ نے پسند فرمایا، اور اس کے خلاف جانے کو ناپسند فرمایا، یہاں تک فرمایا کہ:
"ليس منَّا مَن لم يتغنَّ بالقرآنِ”
(وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کو نغمگی کے ساتھ نہ پڑھے۔)

یہ نغمگی کوئی عام موسیقیت نہیں، بلکہ وہ آسمانی مضراب ہیں، جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ترتیل کی نقل ہے، جن میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی سوز بھری آواز کی جھلک ہے، یعنی "أوتیتَ مزمارًا من مزامير آل داود” کی تاثیر ہے، آج ان معصوم بچوں کی قراءت میں وہی وجد، وہی ترنم، اور وہی اثر تھا، جسے سن کر صحابہ کی آنکھیں اشکبار ہو جایا کرتی تھیں، اور رسول اللہ ﷺ خود بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہہ بیٹھتے تھے:
"اقرأ عليّ القرآنَ”
(مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔)
جب وہ تلاوت کرتے، تو آپ ﷺ کی آنکھیں برسنے لگتیں، یہی کیفیت آج بھی زندہ تھی، یہی تاثیر آج بھی قائم تھی، یہی نور آج بھی قلوب کو منور کر رہا تھا، آسمان وزمین اور مکان و زمان جیسے ہزارہا فرق کے باوجود۔

زیادہ تر طلبہ نے تدویر میں قراءت کی، وہی انداز جس میں قرآن کے الفاظ ایک خاص متوازن آہنگ اور اعتدال کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں، چند طلبہ نے ترتیل میں بھی تلاوت کی، وہ انداز جس میں حرف حرف کی ادائیگی میں کشش، آواز میں گونج، اور دراز نفَسی کا مظاہرہ ہوتا ہے، ایسا لگتا تھا جیسے یہ طلبہ اپنی آواز میں وہی کیف پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں تھا، جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا:
"من سره أن يقرأ القرآن غضًّا كما أُنزل، فليقرأه بقراءة ابن أم عبد!”
(جسے یہ بات خوش آتی ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی تازگی کے ساتھ پڑھے، جیسے وہ نازل ہوا ہے، تو وہ عبداللہ بن مسعود کی قراءت میں پڑھے!)

یہ تلاوتیں جیسے کسی نادیدہ اور غیر محسوس ساز کے تار چھیڑ رہی تھیں، جس میں نہ تصنع تھا، نہ بناوٹ، بلکہ ایک فطری روانی تھی، ہر آیت کی تکرار ایک نئی کیفیت پیدا کر رہی تھی، جیسے کسی مطرب نے دل کی سوئی ہوئی راگنیاں بیدار کر دی ہوں، سامعین قرآن کے سحر میں گرفتار تھے، اور دل ایک انجانے کیف میں ڈوب رہے تھے، ابھر رہے تھے، ایسا لگتا تھا آواز نہیں، اثر بول رہا ہے الفاظ نہیں، معانی کا نور پھیل رہا ہے، زبان نہیں، روح تلاوت کر رہی ہے:
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا

اس مسابقہ میں تین خوش نصیب طلبہ نے قراءات سبعہ کی تکمیل بھی کی، وہ لمحہ ناقابلِ بیان تھا، اس لمحہ میں گویا وہی احساس تازہ ہورہا تھا جس نے شیخ الصحابہ اور "أقرؤهم لكتاب الله” حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کو جھوم جانے پر مجبور کیا تھا جب نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا:
"إن الله أمرني أن أقرأ عليك”
اور حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے کہ اللہ نے اس مشت خاک کو اپنی جناب قدسی میں یاد کیا ہے! "آلله سمّاني لك، أذُكرتُ عند ربي”۔
یہ وہ لمحہ تھا جب "اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ” کی حقیقت سامنے آ رہی تھی، قرآن کی حقانیت کی سب سے بڑی دلیل وہ کپکپی ہے جو اہلِ خشیت کے جسم پر طاری ہوتی ہے، اور ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور یہی ہے "تقشعر منه الجلود” کی تفسیر وتعبیر۔

یہ وہی سرور تھا جسے ڈاکٹر حمید اللہ نے اس فرانسیسی موسیقار ژاک ژیلبیر کے قبولِ اسلام میں محسوس کیا تھا، جب اس نے قرآن کی قراءت کو عام موسیقی سے زیادہ اعلیٰ پایا اور کہا تھا: "یہ آہنگ دنیا کے کسی فن میں نہیں، یہ کسی انسان کا تخلیق کردہ نہیں، اگر محمد ﷺ نے واقعی قرآن کو اسی انداز میں سکھایا ہے، تو یہ یقینی طور پر اللہ کی کتاب ہے!”
لیکن پھر ایک دن اس نے سورۃ النصر کی ایک آیت پر شک کا اظہار کیا کہ "أَفْوَاجًا” پر وقف کرنے سے موسیقی کا آہنگ ٹوٹ جاتا ہے، اور جب اسے بتایا گیا کہ بہتر یہی ہے کہ اس پر وقف نہ کیا جائے بلکہ "فَسَبِّحْ” کے ساتھ ملایا جائے، تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا کہ یہی اس کے شک کا جواب تھا!

حکم حضرات میں قاریانِ خوش الحان جناب قاری محمد مستقیم فلاحی اور جناب قاری محمد سعید فلاحی صاحبان تھے، جن کی قراءتوں میں ایسی گونج تھی کہ "خاشعا متصدعا من خشية الله” کے مصداق دل لگتا تھا جیسے پھٹا جارہا ہے، اور پھر باری تعالیٰ کی جناب میں سجدہ ریز ہے، مجلس کی صدارت مولانا قاری عبد الحق فلاحی صاحب فرما رہے تھے، جن کی موجودگی نے اس مجلس کو مزید جلال وجمال بخشا، اور انہوں نے اپنی خوبصورت نعت بھی سنائی، شعبۂ قراءت کے قاری انس صاحب ،ان کے رفقاء اور جامعہ کے دیگر اساتذہ نے محفل کے انعقاد میں جو محنت کی، اس کی جھلک ہر گوشہ میں نمایاں تھی، اور یہ سب خاکے تھے حضرت مولانا سیف الدین صاحب اسلام پوری دامت برکاتہم کے بنائے ہوئے جن میں تجوید کے اساتذہ نے خوب رنگ بھرا، اور اسے ہفت رنگ بنادیا، سلیقہ شعاری، حسن ترتیب اور پابندی اوقات اس ادارہ کے امتیازات ہیں جو آج بھی نمایاں تھے۔

محفل ختم ہو چکی تھی، مگر اس کا نور ابھی بھی دلوں میں باقی تھا، میں نے آسمان کی طرف دیکھا، اور میرے لبوں پر یہ دعا بے ساختہ جاری ہوگئی:

اللهم اجعل القرآن ربيع قلوبنا، ونور صدورنا، وجلاء أحزاننا، وذهاب همومنا۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

*موصول خبروں کے مطابق ندوۃ العلماء کے ناظر عام اور عربی زبان کے معروف انشاپرداز وصاحب طرز ادیب مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی سڑک حادثہ میں انتقال فرما گئے*
اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 7, 2026
  • 0 Comments

تبلیغی جماعت: تاریخ، نظریاتی بنیاد، طریقۂ کار اور علمی تجزیہ برصغیر کی دینی و سماجی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تبلیغی جماعت ایک منفرد اور ہمہ گیر اصلاحی تحریک کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس تحریک نے عام مسلمانوں کو بنیادی دینی تعلیم، نماز، ذکر، اخلاق اور دعوت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک سادہ اور عملی طریقۂ کار اختیار کیا۔ تبلیغی جماعت کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عمومی طور پر سیاسی سرگرمیوں اور مناظرانہ اسلوب کے بجائے اصلاحِ نفس، عملی دین اور دعوت و تربیت پر توجہ مرکوز کی۔ اس مضمون میں تبلیغی جماعت کے تاریخی پس منظر، مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی دعوتی جدوجہد، چھ نکات، عملی طریقۂ کار، تاریخی ارتقا، اثرات اور اس پر ہونے والی علمی تنقید کا ایک متوازن جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ تبلیغی جماعت کا تاریخی پس منظر انیسویں اور بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں برصغیر کے مسلمان سیاسی زوال، نوآبادیاتی دباؤ اور معاشرتی کمزوریوں کے مختلف مسائل سے دوچار تھے۔ بہت سے علاقوں میں دینی تعلیم عام لوگوں تک مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ پا رہی تھی، جبکہ بعض علاقوں میں مذہبی شعور کمزور ہونے کے ساتھ مقامی رسم و رواج بھی مسلمانوں کی عملی زندگی پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ خصوصاً میوات کے علاقے میں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں بنیادی دینی تعلیم اور اسلامی شعائر سے واقفیت کمزور ہونے کی شکایات سامنے آتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے ایسی دعوتی کوشش کی ضرورت محسوس ہوئی جو براہِ راست عوام تک پہنچے، انہیں بنیادی دین سکھائے اور عملی تربیت کے ذریعے ان کی زندگی میں دینی تبدیلی پیدا کرے۔ اسی پس منظر میں مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی دعوتی جدوجہد نمایاں ہوئی۔ مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ اور تبلیغی جماعت کی بنیاد مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ (1885ء–1944ء) برصغیر کی معروف دینی علمی روایت سے وابستہ عالم اور داعی تھے۔ انہوں نے علمی تعلیم کے ساتھ اصلاح و تربیت کے میدان میں بھی کام کیا۔ میوات کے دوروں اور وہاں کے حالات کے مشاہدے سے انہیں…

Read more

Continue reading
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی
  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت کا مطالعہ کیسے کریں
  • کتب سیرت کا مطالعہ کیسے کریں؟
  • اگست 26, 2026
  • 1 Comments
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی     از : آدم علی ندوی سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ دینی ضرورت اور عملی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ، آپ کے حالات و واقعات، اخلاق و عادات، معاملات اور معمولات سے واقفیت انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی طرف لے جاتی ہے، اور یہی ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ ہماری زندگی اور ہمارے ذہن و دماغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس طرح رچ بس جانی چاہیے کہ زندگی کے ہر مرحلہ اور ہر موڑ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہمارے سامنے موجود ہو اور ہمیں یہ احساس رہے کہ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اسوہ کیا تھا۔ یہ کیفیت محض ایک مرتبہ سیرت پڑھ لینے سے پیدا نہیں ہوتی، اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بار بار مطالعہ، مختلف زاویوں سے مطالعہ اور بتدریج گہرائی کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔ سیرت کا حقیقی مطالعہ وہ ہے جو معلومات سے آگے بڑھ کر محبت، تعلق، اتباع اور عملی تبدیلی پیدا کرے۔ سیرت کا وسیع ذخیرہ اور انتخاب کا  مسئلہ ( مطالعہ سیرت ترتیب وار رہنمائی) جب کوئی قاری سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ شروع کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے سیرت کی کتابوں کا ایک عظیم اور ضخیم ذخیرہ ہوتا ہے۔ یہ ہمارے اکابر اور اہل علم کی غیر معمولی علمی خدمت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ پر اس قدر وسیع لٹریچر تیار کیا کہ صرف سیرت ہی کے موضوع پر ایک بڑی مستقل لائبریری قائم کی جا سکتی ہے۔ دیگر زبانوں کو چھوڑ دیجیے، صرف اردو زبان میں ہی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سیکڑوں، بلکہ ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ یہ وسعت بھی آیت مبارکہ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کی عملی اور علمی تفسیر ہے۔ لیکن…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مردوں کے لیے مہندی کا استعمال 08.09.2026
  • (بلاعنوان) 07.09.2026
  • ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2 04.09.2026
  • سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت 04.09.2026
  • تقویٰ کیا ہے؟ 03.09.2026
  • ایک یادگار سہ روزہ سفر 02.09.2026
  • میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح 02.09.2026
  • ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار 01.09.2026

حالیہ تبصرے

  • خوشگوار ازدواجی زندگی کے تقاضے از ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم کا سلوک | قسط 2
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از سیرت نبوی کی معاشی اہمیت: نبوی اقتصادی نظام کے بنیادی اصول
  • قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں از تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ کی اہمیت، نشانیاں اور حاصل کرنے کے 7 طریقے
  • ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار از تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ کی اہمیت، نشانیاں اور حاصل کرنے کے 7 طریقے
  • علم و تقویٰ کا حسین سنگم *شیخ التفسیر مولانا محمد برہان الدین سنبھلی* رحمہ اللہ علیہ از تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ کی اہمیت، نشانیاں اور حاصل کرنے کے 7 طریقے

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

فقہ و اصول فقہ

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

  • hira-online.com
  • ستمبر 8, 2026
Blog

  • hira-online.com
  • ستمبر 7, 2026
سیرت النبی ﷺ

ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت
اسلامیات

تقویٰ کیا ہے؟

  • hira-online.com
  • ستمبر 3, 2026
فکر و نظر

ایک یادگار سہ روزہ سفر

  • hira-online.com
  • ستمبر 2, 2026
ایک یادگار سہ روزہ سفر
فقہ و اصول فقہ

میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح

  • hira-online.com
  • ستمبر 2, 2026
اسلامیات

ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار

  • hira-online.com
  • ستمبر 1, 2026
ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top