Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
22.09.2026
Trending News: شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
22.09.2026
Trending News: شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  1. Home
  2. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • دسمبر 26, 2025
  • 0 Comments

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں
اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کر
بیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام
تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ


مسلمانوں کے بعض عوام میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان علامات کی خبر کو اس بات کا سہارا بنا لیتے ہیں کہ صحیح اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ دیا جائے، اور انہوں نے قیامت کی علامات کے ساتھ ایک ایسی بات کو جوڑ دیا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں عمل کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ فساد کا بڑھنا، گمراہی کا پھیلنا، اور قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے غیر معمولی واقعات—جیسے مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول—لازمی ہیں۔
اور پھر انہی مواقع پر اسلام دوبارہ غالب آئے گا، دین کو غلبہ حاصل ہوگا، حق پھیلے گا، اس کے ماننے والے مضبوط ہوں گے، اور اسلامی نظام پوری طرح نافذ ہوگا۔
لہٰذا اب باطل اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، چاہے مسلمان کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے۔


یہ گمراہ کن اور خبیث فکر—اور ممکن ہے کہ دشمنوں کی نرم سازشوں کے ذریعے مسلمانوں میں داخل کی گئی ہو—نے ان جاہل لوگوں اور ان کے گرد گھومنے والے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں سے فرضِ جدوجہد اور صحیح اسلامی شعور کو ساقط کر دیا ہے۔


اس نے ان پر منفی اثر ڈالا ہے، اور اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوشش کے جذبے کو ختم کر دیا ہے۔


اکثر یہ نادان اور سادہ لوح مسلمان اپنے جیسے دوسروں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے، اور احادیثِ نبویہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی حالت مسلسل زوال پذیر رہے گی۔
اور جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس فاسد دھارے کو روکنے اور اس گراوٹ کو تھامنے کے لیے کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقدر کردہ امر ہے، جس کی خبر اس کے رسول ﷺ نے دے دی ہے، اور جو لازماً وقوع پذیر ہو کر رہے گا۔


پس ہمارے ذمے صرف یہ ہے کہ ہم تسلیم کر لیں اور خاموش ہو جائیں، یہاں تک کہ اللہ کا وہ فیصلہ آ جائے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
یہ غلط اور جھوٹی سوچ لازمی طور پر ان لوگوں کے دلوں سے نکالی جانی چاہیے جو اس میں مبتلا ہو چکے ہیں، تاکہ اس منفی اثر کو زائل کیا جا سکے جو اس نے ان مسلمانوں کی شعوری اور لاشعوری ارادوں پر ڈالا ہے۔


کیونکہ یہ باطل عقیدہ مسلمانوں کے اندر سے ہی اسلامی تحریک کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اس کے علاوہ ان رکاوٹوں کے جو باہر سے اس کے راستے میں ڈالی جاتی ہیں۔
اگر یہ فکر واقعی درست، صحیح اور ثابت شدہ ہوتی، تو سلف صالحین کی طرف سے ہر گمراہی اور ہر انحراف کے خلاف جدوجہد اور جہاد—چاہے وہ کسی غیر ملکی کی طرف سے ہو یا عرب کی طرف سے، مسلمان کے بھیس میں ہو یا کھلے کافر کی طرف سے—سب بے معنی ہو جاتے۔
کیونکہ اگر ہم اس گمراہ فکر کے مطابق چلیں، تو ہمیں زندگی کے ہر میدان اور ہر سطح پر پیش آنے والی مشکلات اور چیلنجوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑے گا، اور یہ ایسی بات ہے جسے کوئی صاحبِ عقل انسان تسلیم نہیں کرتا، چہ جائیکہ شریعتِ اسلامی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہو۔
اور اللہ کی شریعت اس سے پاک ہے کہ اس کی طرف ایسی بات منسوب کی جائے۔
پھر یہ جاہل لوگ، جو اس بیمار فکر میں مبتلا ہیں،
اپنے مال و دولت بڑھانے،
اپنے حالات سنوارنے،
اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے،
اور دنیاوی امور میں محنت کیوں کرتے ہیں؟

اپنے مال و دولت اور حالات سنوارنے، اپنے معیارِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانے، اور دنیا و زندگی کی سہولتوں کے دوسرے امور میں تو یہ لوگ پوری طرح سرگرم رہتے ہیں۔
لیکن جب دین اور جہاد کے معاملات آتے ہیں تو یہی شیطانی تصور ان پر چھا جاتا ہے، چنانچہ یہ گمراہ ہو جاتے ہیں اور اپنے دین کی نصرت سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
تو پھر کہاں ہے ان کی عقل؟
اور کہاں ہے ان کی سمجھ، رسول اللہ ﷺ کے اس صاف اور صریح فرمان کے مقابلے میں:
“جہاد قیامت تک جاری رہے گا”
اور اس جیسے بے شمار صحیح احادیث کے مقابلے میں؟
اہلِ بصیرت خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے بارے میں سنت یہی ہے:
محنت، جدوجہد، اسباب اختیار کرنا،
اور یہ بات ہر اس مسلمان کے نزدیک بدیہی ہے جو اپنے دین اور اسلام کی صحیح سمجھ رکھتا ہو۔
پس دین اور اسلام کی نصرت میں محنت اور عمل کو چھوڑ دینا ایک جرم ہے،
اور اس باطل عقیدے کی وجہ سے باطل پرستوں، ظالموں اور کافروں—جو مسلمانوں پر مسلط ہیں—کے مقابلے سے دستبردار ہو جانا جرم پر جرم ہے۔
یہ ایک عظیم مصیبت ہے جو اس بیمار عقیدے میں مبتلا لوگوں کی عقل پر نازل ہوئی ہے،
اور ضروری ہے کہ جلد از جلد ان کا علاج کیا جائے اور انہیں اس ہلاکت خیز مرض سے نجات دلائی جائے۔
اور کیا ہی خوب فرمایا بڑے فقیہ، عظیم عالمِ عامل، صاحبِ بصیرت صوفی بزرگ،
شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمہ اللہ نے:
“مرد وہ نہیں جو تقدیروں کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیروں کا مقابلہ تقدیروں ہی کے ذریعے کرے۔”
اور ایک دوسری روایت میں ان کا قول ہے:
“ہم بہتر تقدیر کی طرف بڑھنے کے لیے کم تر تقدیر سے نکلتے ہیں۔”
یہ ایک نہایت حکیمانہ اور بصیرت افروز کلمہ ہے،
جو شریعت اور عقل—دونوں کا نچوڑ ہے۔
کتاب و سنت میں اس کے دلائل بکثرت موجود ہیں،
اگر انہیں جمع کیا جائے تو ایک مستقل اور عمدہ رسالہ تیار ہو جائے۔
اس کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے جو امام بخاری نے اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
اور امام مسلم نے بھی اپنی صحیح میں
(کتاب الطب)،
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے:
کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سنہ 17 یا 18 ہجری میں مدینہ سے شام کی طرف روانہ ہوئے۔
جب وہ سرغ نامی مقام پر پہنچے—جو حجاز سے متصل شام کے کنارے پر واقع ایک بستی تھی—
تو لشکروں کے امیر، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ان سے ملے،
اور انہیں اطلاع دی کہ شام کی سرزمین میں وبا پھیل چکی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“مہاجرینِ اولین کو میرے پاس بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے ان سے مشورہ کیا اور وبا کی خبر دی۔
ان میں اختلاف ہو گیا:
کچھ نے کہا: آپ ایک مقصد سے نکلے ہیں، ہمیں مناسب نہیں لگتا کہ آپ واپس لوٹیں۔
اور کچھ نے کہا: آپ کے ساتھ عام مسلمان اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں، ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ انہیں اس وبا میں لے جائیں۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم لوگ اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“انصار کو بلاؤ۔”
میں نے انہیں بلایا، انہوں نے بھی مشورہ دیا، اور ان میں بھی وہی اختلاف ہوا جو مہاجرین میں ہوا تھا۔
حضرت عمر نے فرمایا: “تم بھی اٹھ جاؤ۔”
پھر فرمایا:
“قریش کے ان بزرگوں کو بلاؤ جو فتحِ مکہ کے بعد ہجرت کر کے آئے تھے۔”
میں نے انہیں بلایا، تو ان میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہ ہوا۔
سب نے متفقہ طور پر کہا:
ہم یہ رائے دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور انہیں اس وبا میں داخل نہ کریں۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان فرمایا:
“میں صبح سویرے واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں، تم بھی صبح سویرے روانگی کے لیے تیار ہو جاؤ۔”

اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا:
“کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اے ابو عبیدہ! اگر یہ بات تمہارے سوا کوئی اور کہتا تو میں اسے سخت جواب دیتا۔
ہاں! ہم اللہ کی ایک تقدیر سے نکل کر اللہ ہی کی دوسری تقدیر کی طرف جا رہے ہیں۔
ذرا بتاؤ، اگر تمہارے پاس اونٹوں کا ایک ریوڑ ہو، اور تم ایک ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں—
ایک سرسبز و شاداب، اور دوسرا خشک اور بنجر—
تو کیا ایسا نہیں کہ اگر تم سرسبز کنارے میں چَراؤ گے تو بھی یہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا،
اور اگر خشک کنارے میں چَراؤ گے تو بھی وہ اللہ کی تقدیر ہی کے تحت ہوگا؟”
راوی کہتے ہیں:
اسی دوران حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آ گئے، اور وہ کسی ضرورت کے باعث وہاں موجود نہیں تھے۔

وہ مشاورت کے وقت ان کے ساتھ موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا:
میرے پاس اس بارے میں علم ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
“جب تم کسی سرزمین میں اس (یعنی وبا یا طاعون) کے پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ،
اور اگر وہ کسی سرزمین میں پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نکلنے کے لیے نہ بھاگو۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اللہ تعالیٰ کی حمد کی، پھر واپس لوٹ گئے۔
یہ واضح اور گویا دلیل، اور یہ سچی حدیث، اس باطل اور جھوٹے تصور کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔
اور اس خیال کے پیدا ہونے کا سبب—میرے نزدیک—اسلام کے دشمنوں کے سوا کوئی نہیں،
جنہوں نے اس کے ذریعے بعض سادہ لوح لوگوں کو دھوکے میں ڈالا،
چنانچہ یہ فکر ان کے اندر پیدا ہوئی، ان کے دلوں اور ان کے رویّوں میں جا بسی،
اور یوں دشمنوں کو ان پر غلبہ پانے کے لیے بڑی مشقت اور محنت سے بچا لیا۔
اللہ تعالیٰ امام ابنِ قیم رحمہ اللہ پر رحمت نازل فرمائے،
انہوں نے اپنی کتاب مدارج السالکین (جلد 1، صفحہ 198) میں اس مسئلے پر گفتگو کی ہے،
جہاں انہوں نے اپنے نہایت عمدہ اور بلیغ بیان سے حق کو واضح کر دیا،
اور اپنے کلام سے باطل کو نیست و نابود کر دیا۔

چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
“تقدیروں پر غور و فکر کرنا ایک نہایت تنگ میدان اور سخت معرکہ ہے،
ایسا میدان جس میں بہت سے قدم پھسل گئے،
بہت سی سمجھیں بھٹک گئیں،
اور اس میں چلنے والوں کے راستے جدا جدا ہو گئے،
یہاں تک کہ—چند لوگوں کے سوا—سب ہلاکت کی وادیوں کے کنارے جا پہنچے۔
اور ایسا کیوں نہ ہو؟
یہ تو ایک ایسا سمندر ہے جس میں سوار کی کشتی پہاڑوں جیسے موجوں میں گھری ہوتی ہے،
یہ ایک ایسا معرکہ ہے جس میں بڑے بڑے بہادروں کی جرأت بھی چھوٹی پڑ جاتی ہے،
اور اس میں عقل مندوں کی عقلیں بھی حیران رہ جاتی ہیں۔
تمام مخلوق اس کے ساحل تک پہنچتی ہے اور اس میں سوار ہونے کی خواہش رکھتی ہے،
مگر ان میں سے نجات صرف انہی کو ملتی ہے
جو حکم کی کشتی کے پہنچنے کا انتظار کرتے ہیں—
یعنی مشروع اسباب اختیار کرتے ہیں
اور تقدیر کو تقدیر ہی کے ذریعے دفع کرتے ہیں—
پس وہ تقدیر کے سمندر میں حکم (عمل) کی کشتی پر سوار ہوتے ہیں۔
جو شخص اس سمندر میں حکم کی کشتی پر سوار ہوتا ہے،
اس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ تقدیر کی موجوں سے ٹکر لے،
اور ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے روکے،
ورنہ وہ ہلاک ہو جائے گا۔
پس تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کیا جاتا ہے،
اور یہی اہلِ عزم اور اہلِ معرفت کا طریقہ ہے۔
اور یہی معنی ہیں عارفِ ربانی اور پیشوا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے اس قول کے:
‘لوگ جب قضا و قدر تک پہنچتے ہیں تو رک جاتے ہیں،
لیکن میں نہیں رکا؛
بلکہ اس میں میرے لیے ایک دریچہ کھول دیا گیا،
تو میں نے حق کے لیے، حق کے ساتھ، حق کی تقدیروں کا مقابلہ کیا۔
مرد وہ نہیں جو تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دے،
بلکہ مرد وہ ہے جو تقدیر سے کشمکش کرے، نہ کہ اس کے ساتھ بہہ جائے۔’”
اور بندوں کے دنیوی معاملات درست نہیں ہو سکتے
جب تک ایک تقدیر کو دوسری تقدیر کے ذریعے دفع نہ کیا جائے،
تو پھر ان کے اخروی معاملات کا کیا حال ہوگا؟
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ برائی—جو اس کی ایک تقدیر ہے—
کو نیکی کے ذریعے دفع کیا جائے—اور وہ بھی اس کی تقدیر ہے۔
اسی طرح بھوک اللہ کی ایک تقدیر ہے،
اور اس نے اسے کھانے کے ذریعے دفع کرنے کا حکم دیا ہے،
اور کھانا بھی اس کی تقدیر ہے۔
اگر کوئی بندہ بھوک کی تقدیر کے سامنے—
جبکہ وہ کھانے کے ذریعے اسے دفع کرنے کی قدرت رکھتا ہو—
ہتھیار ڈال دے، یہاں تک کہ مر جائے،
تو وہ نافرمانی کی حالت میں مرے گا۔
اسی طرح سردی، گرمی اور پیاس—سب اللہ کی تقدیریں ہیں،
اور اس نے حکم دیا ہے کہ ان کا مقابلہ ایسی تقدیروں سے کیا جائے جو ان کے مخالف ہوں۔
پس دفع کرنے والا، جسے دفع کیا جا رہا ہے،
اور خود دفع کرنا—سب اللہ ہی کی تقدیر کے تحت ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اس مفہوم کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔
لوگوں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ!
یہ دوائیں جن سے ہم علاج کرتے ہیں،
یہ دم جن سے ہم دم کرواتے ہیں،
اور یہ احتیاطی تدابیر جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں—
کیا یہ اللہ کی تقدیر کو ٹال دیتی ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ سب بھی اللہ ہی کی تقدیر کا حصہ ہیں۔”
اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے:
“دعا اور بلا آسمان و زمین کے درمیان باہم کشمکش میں رہتے ہیں۔”
اور اگر کفار دشمن اسلامی سرزمین پر حملہ کریں،
تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی حملہ کرتے ہیں۔
تو کیا مسلمانوں کے لیے جائز ہے
کہ وہ تقدیر کے نام پر ہتھیار ڈال دیں
اور اس کے مقابلے میں اسی جیسی تقدیر—
یعنی جہاد—کو ترک کر دیں
جس کے ذریعے وہ اللہ کی ایک تقدیر کو دوسری تقدیر سے دفع کرتے ہیں؟
اسی طرح اگر کسی سے گناہ تقدیر کے تحت سرزد ہو جائے،
اور اس نے اسے تقدیر ہی کے تحت انجام دیا ہو،
تو اسے چاہیے کہ اس کے اثر کو سچی توبہ کے ذریعے دفع کرے،
اور توبہ بھی تقدیر ہی کا حصہ ہے۔
تقدیر کو تقدیر کے ذریعے دفع کرنے کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم:
ایسی تقدیر کو—جس کے اسباب پیدا ہو چکے ہوں مگر وہ ابھی واقع نہ ہوئی ہو—
اللہ کی ایک دوسری تقدیر کے ذریعے روک دینا،
جیسے دشمن کو اس سے لڑ کر روکنا،
یا گرمی، سردی اور اسی طرح کی چیزوں کو ان کے مخالف اسباب سے دفع کرنا۔
دوسری قسم:
ایسی تقدیر کو—جو واقع ہو چکی ہو اور جم چکی ہو—
ایک دوسری تقدیر کے ذریعے زائل کر دینا،
جیسے بیماری کی تقدیر کو علاج کی تقدیر سے،
گناہ کی تقدیر کو توبہ کی تقدیر سے،
اور برائی کی تقدیر کو نیکی کی تقدیر سے دفع کرنا۔

پس یہ اہلِ معرفت کا طریقہ ہے، اور یہی تقدیروں کا صحیح فہم ہے:
تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دینا نہیں، بلکہ حرکت، تدبیر اور جدوجہد کو ترک نہ کرنا۔
کیونکہ یہ عجز ہے،
اور اللہ تعالیٰ عجز پر ملامت فرماتا ہے۔
ہاں، جب بندہ بالکل مغلوب ہو جائے،
تمام تدبیریں ختم ہو جائیں،
اور کوئی راستہ باقی نہ رہے،
تو اس وقت تقدیر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے،
اور یوں پڑ جانا چاہیے
جیسے میت غسل دینے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے،
وہ اسے جیسے چاہے پلٹتا ہے۔
یہاں کلام ختم ہوتا ہے۔
اور تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔
اور آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں
کہ وہ ہمیں جہالت اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھے،
اور ہمیں تمام معاملات میں خصوصاً دشمنوں کے مقابلے میں جہاد کے باب میں
صحیح رہنمائی اور درست رویّہ عطا فرمائے۔
بے شک وہی بہترین کارساز اور بہترین مددگار ہے۔
( التصريح بما تواتر في نزول المسيح للعلامة أنور شاه الكشميري تحقيق الشيخ عبد الفتاح أبوغده ص : من الألف إلى اللام)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!
۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندن

Related Posts

شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک
  • hira-online.comhira-online.com
  • شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک
  • ستمبر 22, 2026
  • 0 Comments
شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک

شمالی قفقاز میں طریقہٴ نقشبندیہ خالدیہ: روحانی اصلاح سے حریت پسندانہ مقاومت تک از : مولانا ابو الجیش صاحب ندوی ​19ویں صدی کا شمالی قفقاز (بالخصوص داغستان اور چیچینیا) تاریخ کے ان سنگ میل ادوار کا شاہد ہے جہاں تصوف کی روحانی لہر نے محض خانقاہی حدود تک محدود رہنے کے بجائے ایک عظیم الشان سیاسی، اجتماعی اور حریت پسندانہ انقلاب کو جنم دیا۔ اس انقلابِ فکر و عمل کے پشت پناہ سلسلہٴ نقشبندیہ کی خالدیہ شاخ کے مشائخ تھے، جنہوں نے روسی سامراجی تسلط کے خلاف ایک ربطِ باہمی اور لازوال تاریخ رقم کی۔ ​1. ہند سے استنبول اور داغستان: سلاسل کا تاریخی سفر ​سلسلہٴ نقشبندیہ خالدیہ کی فکر کا سرچشمہ ہندوستان میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کی فکر پر مبنی "سلسلہٴ مجددیہ” تھا۔ 19ویں صدی کے آغاز میں عراق کے جلیل القدر عالم اور صوفی مولانا ضیاء الدین خالد بغدادی کردی نے دہلی میں شاہ غلام علی دہلوی سے خلافت حاصل کی۔ عثمانی قلمرو (دمشق، استنبول، اور کردستان) میں واپسی کے بعد مولانا خالد بغدادی نے اس سلسلے کی اصلاحی آبیاری کی، جس سے یہ طریقہ "نقشبندیہ خالدیہ” کے نام سے موسوم ہوا۔ ​عثمانی قلمرو سے یہ طریقہ آذربائیجان کے خطے شروان میں شیخ اسماعیل کوردمیری اور شیخ خاص محمد شروانی کے ذریعے پہنچا۔ 1820ء کی دہائی میں جب شیخ خاص محمد شروانی داغستان کے جنوبی علاقے میں داخل ہوئے، تو وہاں کے ممتاز فقیہ اور جید عالم ملا محمد یاراغی نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ملا محمد یاراغی کے بیعت ہوتے ہی داغستان میں دینی بیداری اور اصلاحی تحریک کا نیا دور شروع ہوا۔ 2. دعوتِ اصلاح: شریعت اور طریقت کا انضمام ​ملا محمد یاراغی اور ان کے متبعین نے داغستان کے روایتی معاشرے میں دو بنیادی اصلاحات کیں: ​قبائلی عصبیت کا خاتمہ: قفقاز درجنوں زبانوں اور باہم نبرد آزما قبائل کا مسکن تھا۔ نقشبندی مشائخ نے مقامی قبائلی عصبیتوں اور عرفی قوانین ("عادت”) کی جگہ اخوتِ اسلامی اور شریعتِ مطہرہ کا تصور عام کیا۔ ​عزتِ نفس اور حریت کا پیغام: ملا محمد یاراغی نے یہ فلسفہ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • اگست 31, 2026
  • 0 Comments
اسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغام

اسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغام 🖋 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی SEO Editor / ترتیب و پیشکش: اسجد حسن ندوی   آج کل شہروں میں چڑیا گھر (Zoo Park) بنے ہوتے ہیں۔ ان کی تزئین و آرائش، حفاظت اور جانوروں کی دیکھ بھال پر بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ رنگ برنگے پھول، ہرے بھرے درخت، پانی کی جھیلیں اور جانوروں کے لیے الگ الگ محفوظ احاطے اس ماحول کو خوب صورت بناتے ہیں۔ جانوروں کو وقت پر غذا ملتی ہے، علاج کے لیے ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں اور شکاریوں سے بھی انہیں تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ظاہری سہولتوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو چڑیا گھر کے جانوروں کو بہت سی ایسی آسائشیں حاصل ہوتی ہیں جو شاید جنگل میں بھی میسر نہ ہوں۔ لیکن اگر وہ جانور اپنی دلی خواہش کا اظہار کر سکتے تو ممکن ہے ان کی سب سے بڑی آرزو یہ ہوتی کہ انہیں اس خوب صورت مگر محدود ماحول سے نکال کر آزاد فضا میں چھوڑ دیا جائے۔ جنگل میں انہیں اپنی غذا کے لیے جد و جہد کرنا ہوگی، خطرات کا سامنا کرنا ہوگا اور ہر وقت تحفظ بھی حاصل نہیں ہوگا، لیکن وہاں وہ آزاد ہوں گے۔ وہ اپنی مرضی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں گے اور کسی مصنوعی حصار میں قید نہیں ہوں گے۔ یہ مثال انسان کی فطرت کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ جب ایک حیوان بھی قید کے مقابلے میں آزادی کو ترجیح دیتا ہے تو انسان، جسے اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور عطا فرمایا ہے، آزادی کی قدر کو کیوں نہ سمجھے؟ اسی پس منظر میں اسلام اور تصورِ آزادی کا مطالعہ نہایت اہم ہوجاتا ہے۔ اسلام نے انسان کی عزت، مساوات، انسانی وحدت اور آزادی کے ایسے اصول پیش کیے جنہوں نے انسانی معاشرے میں غلامی، طبقاتی تفاخر اور نسلی برتری کے تصورات کو چیلنج کیا۔ آزادی انسانی فطرت کا تقاضا ہے انسان بنیادی طور پر آزادی پسند مخلوق ہے۔ قید و بند کی زندگی کتنی ہی سہولتوں سے آراستہ…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک 22.09.2026
  • تہجد کیا ہے؟ 22.09.2026
  • خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں 21.09.2026
  • مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت 19.09.2026
  • سود کی لعنت اور اس کا علاج 18.09.2026
  • معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون 16.09.2026
  • پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت 16.09.2026
  • یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 12.09.2026

حالیہ تبصرے

  • حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت از شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک 1
  • نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار) از تہجد کیا ہے؟ » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • خواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیت از خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری از دھرم پریورتن، سچائی اور پروپیگنڈہ » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • "فاسق معلن” کی دعوت قبول کرنے کے سلسلے میں شرعی حکم از دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے » HIRA ONLINE / حرا آن لائن

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

مضامین و مقالات

شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک

  • hira-online.com
  • ستمبر 22, 2026
شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریک
اسلامیات

تہجد کیا ہے؟

  • hira-online.com
  • ستمبر 22, 2026
تہجد کیا ہے؟
گوشہ خواتین

خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں

  • hira-online.com
  • ستمبر 21, 2026
خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں
اسلامیات

مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 19, 2026
مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت
اسلامیات

سود کی لعنت اور اس کا علاج

  • hira-online.com
  • ستمبر 18, 2026
اسلامیات

معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
معیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکون
اسلامیات

پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت

  • hira-online.com
  • ستمبر 16, 2026
پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت
اسلامیات

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top