Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
16.09.2026
Trending News: یہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
16.09.2026
Trending News: یہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

جھوٹ کی منڈی

  1. Home
  2. جھوٹ کی منڈی

جھوٹ کی منڈی

  • hira-online.comhira-online.com
  • اسلامیات
  • مئی 18, 2024
  • 0 Comments

جھوٹ کی مَنڈی 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ

دنیا میں مختلف قسم کے بازار ہوتے ہیں، الگ الگ چیزوں کی الگ الگ منڈیاں ہوتی ہیں، جھوٹ کی بھی ایک منڈی ہے اور یہ منڈی زیادہ تر سیاسی پارٹیوں کے یہاں لگتی ہے اورزبان سے اس کی سودا گری کی جاتی ہے ، جو جتنا بڑا لیڈر ہے وہ اتناہی بڑا جملہ باز اور جھوٹا ہوا کرتا ہے، پھر یہ جھوٹ اس قدر کثرت سے بولا جاتا ہے کہ سامنے والا اسے سچ سمجھنے لگتا ہے، اور عوام اس جھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے، اس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، تاریخیں مسخ ہوتی ہیں اور لوگوں کی توجہ اہم معاملات ومسائل سے ہٹ کر اس فرضی اور جھوٹے معاملات ومسائل پر مرکوز ہوجاتی ہے اور سیاسی بازی گر اپنا اُلو سیدھا کر لیتے ہیں، عوام کو بے وقوف بنا کر جھوٹ کی اس منڈی کا اصل ہدف رائے دہندگان کو اپنی طرف کرنا ہوتا ہے، تاکہ ووٹ زیادہ ملیں اورکامیابی یقینی ہو جائے۔

ہمارے یہاں کم وبیش ہرپارٹی کے قائدین جھوٹ کی اس منڈی کا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن بھاجپا کے قائدین نریندر مودی اور امیت شاہ اس میدان میں بہت آگے ہیں اورکوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، جب بڑے صاحب اس میں ممتاز ہیں تو چھوٹے نیتا بھی اس کام اورکاز میں ان کے ساتھ ان کے ہم نوا ہوجاتے ہیں، اس طرح جھوٹ پھیلانے میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔

ابھی حال ہی میں راجستھان کے ہانسواڑہ میں نریندر مودی نے کانگریس کے خلاف بولتے ہوئے مسلمانوں کو ’’گھس پیٹھیا‘‘ کہہ ڈالا، اور کانگریس کے نظریات کے بارے میں سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے حوالہ سے کہا کہ ان کے سابقہ بیان سے لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی چاہتی ہے کہ ہندوستان کے سرمایہ پر پہلا حق مسلمانوں کا ہو، من موہن سنگھ نے جو بات کبھی کہی تھی وہ صرف اس قدر تھی کہ ’’ملک کے اثاثوں اور وسائل پر سماج کے کمزور طبقات یعنی درج فہرست ذاتوں ، درج فہرست قبائل اور اقلیتوں کا پہلا حق ہے ‘‘، نریندر مودی یہیں پر نہیں رُکے انہوں نے کہا کہ کانگریس ہندوخواتین کے گلے سے منگل سوتر (شادی کی مقدس نشانی) چھین کر مسلمانوں کو دینا چاہتی ہے، ظاہر ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کانگریس کے منشور میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی ہے ، لیکن مودی جی کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے وہ تو کانگریس کے منشور کو مسلم لیگ کے نظریات بتاتے ہیں اور اسی کی وجہ سے امیت شاہ یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ منشور مسلم پرسنل لا کے مطابق ہے، یہ ملک دستور سے چلے گا، شریعت سے نہیں ، اب ان سے کون پوچھے کہ بابری مسجد کا توڑ نا کس دستور کی روشنی میں ہوا، بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر تعمیر کرنے کا ذکر کس دستور میں ہے، بغیر عدالت کے فیصلے کے گھروں پر بلڈوزر چلوا نے کی اجازت کس دستور نے دی ہے ، قیدیوں کو قاتلوں کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتارنا دستور کی کس دفعہ میں ہے ، جیل میں زہر دے کو موت کی نیند سلا دینے کا جواز کس دستور سے اخذ کیا گیا ہے ، ماب لنچنگ کے ذریعہ بے گناہ عوام ، علماء اور ائمہ کا خون کس دستور کی رو سے کیا جا رہا ہے، ان دنوںجو کچھ بھاجپا کر رہی ہے وہ سب ہندتوا کے فروغ کے لیے ہے ، جمہوریت کا گلا گھوٹنا ، آمریت، من مانی ، معاملات ومسائل کو اپنی مرضی کے مطابق حل کرنے کی اجازت تو با با صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کا بنا یاہوا قانون نہیں دیتا تو کیا یہ سب آر ایس ایس کے دستور اور ناگپور کے اشارے پر کیا جا رہا ہے ، لگتا تو کچھ ایساہی ہے ، ایک کانگریسی لیڈر نے نریندر مودی جی سے بجا طور پر یہ سوال کیا کہ پلوامہ میں چالیس خواتین کا جو منگل سوتر چھن گیا، وہ کس نے چھینا ، اس وقت تو کانگریس نہیں تھی، پرینکا گاندھی نے بھی مودی جی سے کہا کہ ہماری ماں کا منگل سوتراس ملک پر قربان ہو گیا۔

بھاجپا کے لیڈران مودی اور امیت شاہ اس انتخاب میں مذہب کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں، لطیفہ یہ ہے کہ حزب مخالف کے کسی کی زبان پھسلی تو الیکشن کمیشن فورا اس کا نوٹس لیتا ہے اور داروگیر شروع کر دیتا ہے ، لیکن حکمراں جماعت کے اشتعال انگیز تقریر پر اس کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے ، یہ کیسا رویہ ہے اس رویہ کے پیچھے دباؤ اور جبرکی جوکہانی ہے وہ اب چھُپی ہوئی نہیں چھَپی ہوئی ہے ، دو دور کے انتخاب میں عوام میں اس قسم کے بیانات کا نوٹس نہیںلیا، اس لیے بقیہ مراحل میں بھی بھاجپا ایسے ہی جھوٹے بیان دے دے کر اکثریتی طبقہ کو یک جُٹ کرنے کی خطرناک مہم چلائے گی ، عوام کو اس قسم کے شر انگیز اور نفرت آمیز بیان کو دل ودماغ میں جگہ دینے کے بجائے ردی کی ٹوکری میں ڈال دینا چاہیے، ورنہ اس کا خمیازہ اس ملک کو برسوں بھگتنا پڑے گا اور پوری صدی گذر جائے اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مودی جی کی اس تقریر پر عالمی اخبارات ورسائل بھی تھُو تھُو کر رہے ہیں، امریکہ کے نیو یارک ٹائمز، دی گارجین، سی این این، واشنگٹن پوسٹ، اسٹیٹ جرنل، دی ٹائمز ، الجزیرہ وغیرہ نے الگ الگ عنوان لگا کر اس بیان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے، نیو یارک ٹائمز نے بجا لکھا ہے کہ ’’جب مودی اپنی تیسری مدت کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں تو انہوں نے خود ایسی زبان استعمال کی، جس سے یہ خدشات پیدا ہو گیے ہیں اس سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے دائیں بازو کی چوکس جماعتوں کو بھڑکا یا جا سکتا ہے‘‘۔

میں نے خود بھی اس اداریہ میں مودی جی کے نام کے ساتھ کہیںوزیر اعظم نہیں لکھا ہے ،کیوں کہ میرا ماننا ہے کہ ملک کے اس با وقار عہدے پر رہنے والا کوئی بھی شخص بقید ہوش وحواس ایسے گھٹیا بیانات نہیں دے سکتا، ہاں پارٹی کے ایک لیڈر کی حیثیت سے جملہ بازی اور جھوٹی گفتگو دوسرے لوگ بھی کر رہے ہیں، انہوں نے بھی کی ہے ، یا پھر وہ کانگریس کے منشور کو سمجھنے سے قاصر رہے ، کانگریس کے صدر ملکا ارجن کھڑگے نے منشور اور مینی فیسٹو کو سمجھانے کے لیے کئی بار مودی جی سے وقت مانگا ، لیکن وہ اس کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے، مثل مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، مگر اس کی پرواز تیز ہوتی ہے، مودی جی ایک جھوٹ کو ان دنوں پرواز دینے میں لگے ہوئے ہیں۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

اے کعبہ کے مسافر! ذرا آہستہ قدم رکھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع از: قاضی محمد حسن ندوی

Related Posts

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
  • 0 Comments
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے  آدم علی ندوی عبداللہ بن مبارک  رحمۃ اللہ علیہ ان بزرگوں میں سے تھے جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے رہتے تھے، جبکہ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے مکہ مکرمہ کے حرم میں عبادت و ریاضت کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔ ۱۷۷ھ میں ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے طرسوس سے محمد بن ابراہیم بن ابی سکینہ کے ہاتھ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے نام ایک خط روانہ کیا۔ اس خط میں انہوں نے اپنے انداز میں جہاد کی فضیلت اور مجاہدین کی زندگی کی عظمت کی طرف توجہ دلائی۔ جب یہ خط فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پہنچا اور انہوں نے اسے پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پھر فرمایا:”ابو عبدالرحمن نے سچ کہا اور خیرخواہی کی۔”اس کے بعد فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے خط لانے والے سے پوچھا: کیا تم حدیث لکھتے ہو؟اس نے عرض کیا: ہاں۔ فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تو یہ حدیث بھی لکھ لو۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے ذریعہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا اجر حاصل کرسکوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ مسلسل نماز پڑھتے رہو اور سستی نہ کرو، اور ہمیشہ روزہ رکھتے رہو اور کبھی افطار نہ کرو؟اس شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم اس کی طاقت بھی رکھتے تو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے مرتبے کو نہ پہنچ سکتے۔ (صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، حدیث: 2633۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر، ۲۲/٤٤٩۔) اللہ کی راہ میں جہاد محض ایک وقتی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • تقویٰ
  • تقویٰ کی فضیلت
  • ستمبر 3, 2026
  • 1 Comments
تقویٰ کیا ہے؟

تقویٰ آدم علی ندوی   تقویٰ کیا ہے؟ انسان اپنی جسمانی صحت کے لیے بہت سی مرغوب اور پسندیدہ چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص شوگر کا مریض ہو تو طبیعت چاہنے کے باوجود میٹھی چیزوں سے پرہیز کرتا ہے۔ سامنے مٹھائی رکھی ہو، دل اس کی طرف مائل ہو، لیکن صحت کو نقصان پہنچنے کے خوف سے وہ اپنے نفس کو روک لیتا ہے۔ چند لمحوں کی لذت کے مقابلہ میں وہ اپنی صحت کو ترجیح دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جب انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت و نگرانی کا احساس رکھتے ہوئے، اس کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے بچتا ہے، اس کے احکام کی پابندی کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتا ہے تو یہی کیفیت تقویٰ کہلاتی ہے۔ تقویٰ دل کی وہ بیداری ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روکتی اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ متقی انسان تنہائی اور مجمع، بازار اور مسجد، گھر اور دفتر۔ہر جگہ اپنے رب کی نگرانی کو محسوس کرتا ہے۔ تقویٰ کے درجات تقویٰ کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچے۔ پھر وہ ان امور سے بھی احتیاط کرنے لگتا ہے جو اسے گناہ کے قریب لے جا سکتے ہیں، اور یہاں تک پہنچتا ہے کہ مشتبہ چیزوں سے بھی اپنے دامن کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ تقویٰ کی بلندی یہ ہے کہ انسان صرف گناہ سے نہیں بچتا بلکہ ان راستوں سے بھی دور رہنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے گناہ تک پہنچا سکتے ہیں۔  تقویٰ دل میں ایک ایسا نگہبان پیدا کر دیتا ہے جو ہر وقت انسان کو برائی سے روکتا اور بھلائی کی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے۔ دنیا کا قانون انسان کو بیرونی نگرانی کے ذریعے روک سکتا ہے، لیکن تقویٰ اسے اس وقت بھی گناہ سے روکتا ہے جب کوئی انسان اسے دیکھنے والا نہ ہو۔ تقویٰ کے اثرات جب زندگی تقویٰ سے آراستہ ہوتی ہے تو انسان کے اندر…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 12.09.2026
  • حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری 12.09.2026
  • نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار 11.09.2026
  • مردوں کے لیے مہندی کا استعمال 08.09.2026
  • (بلاعنوان) 07.09.2026
  • ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2 04.09.2026
  • سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت 04.09.2026
  • تقویٰ کیا ہے؟ 03.09.2026

حالیہ تبصرے

  • سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت از جہاد کی تربیت: اسلامی تہذیب میں ایمان، اخلاص اور کردار سازی کا نظام 1
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی از جہاد کی تربیت: اسلامی تہذیب میں ایمان، اخلاص اور کردار سازی کا نظام 1
  • تقویٰ کیا ہے؟ از حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری 1
  • اسلام، تصور آزادی کا معیار از اساتذہ کا کردار نسلوں کی تعمیر میں اساتذہ کی اہمیت اور ذمہ داریاں 1
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی از اہل بیت اور اہل سنت قسط 1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

اسلامیات

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
Blog

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
Blog

نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

  • hira-online.com
  • ستمبر 11, 2026
فقہ و اصول فقہ

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

  • hira-online.com
  • ستمبر 8, 2026
Blog

  • hira-online.com
  • ستمبر 7, 2026
سیرت النبی ﷺ

ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت
اسلامیات

تقویٰ کیا ہے؟

  • hira-online.com
  • ستمبر 3, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top