Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
15.09.2026
Trending News: یہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
15.09.2026
Trending News: یہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

امت میں فتنہ و فساد کی اصل جڑ غلو اور بے اعتدالی !

  1. Home
  2. امت میں فتنہ و فساد کی اصل جڑ غلو اور بے اعتدالی !

امت میں فتنہ و فساد کی اصل جڑ غلو اور بے اعتدالی !

  • hira-online.comhira-online.com
  • فکر و نظر
  • دسمبر 20, 2024
  • 0 Comments

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔استاذ/مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

9506600725 گزشتہ سے پیوستہ کل یعنی 18/ دسمبر 2024ء کو بنگلہ دیش کے ٹونگی عالمی اجتماع میں تبلیغی جماعت کے دونوں گروپوں کے درمیان خون ریز لڑائی ہوئی ہے. میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک چار لوگوں کے مارے جانے اور سیکڑوں لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے. بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹونگی میدان میں شوریٰ والے پہلے سے اعلان کے مطابق اجتماع کر رہے تھے، صبح تقریباً تین بجے سے مولانا سعد صاحب کے امارت والا گروپ متعدد اطراف سے اجتماع گاہ کا قبضہ لینے کے ارادہ سے شوریٰ والوں پر حملہ آور ہوا. میدان کے الگ الگ مقامات اور راستوں پر متعدد جھڑپیں ہوئیں. کافی دیر کے بعد پولیس ایکشن کے ذریعہ معاملہ قابو میں آیا۔۔۔۔۔۔ یقینا یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے،امت مسلمہ کی اس گھناونے واقعہ سے ذلت و رسوائی ہوئی ہے، اور دشمنوں اور خاص طور پر میڈیا والوں کو ہنسنے ہنسانے کا موقع ان نادانوں نے دیا ہے ۔یہ صورت حال ہم سب کے لیے بہت تشویشناک اور افسوسناک بھی ہے. تبلیغی جماعت کا کام جو دنیا کا پر امن ترین کام تھا، اور جس جماعت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول اکرام مسلم بھی ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے اس کے ذمہ داروں کو کیا ہوگیا ہے، یہ سمجھ میں نہیں آتا ، لیکن یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ سب امارت کی ہوس ،عہدے اور منصب کے لالچ اور اپنی بالا دستی کے لیے ہو رہا ہے ۔

اقبال مرحوم نے صحیح فرمایا تھا کہ براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے ہوس چھپ چھپ کہ سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں نظام الدین سے لیکر متعدد مساجد اور اجتماعات میں خون ریز لڑائیاں عام بات سی ہوگئی ہے ،جو صرف تبلیغی جماعت سے جوڑے ہوئے لوگوں کے لئے نقصان دہ نہیں، بلکہ یہ پوری امت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہونچا رہا ہے. مسئلہ دن بدن بگڑتا جارہا ہے اور ادھر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس سنگین صورتحال پر کیسے قابو پایا جاسکے؟. دونوں فریق کے لوگ نہایت سخت گیر اور خطرناک قسم کے متشدد بنتے جارہے ہیں، جماعت کے دونوں دھڑے کے لوگوں میں غلو، شدت اور بے اعتدالی پائی جاتی ہے ، توازن اور اعتدال کی حد درجہ کمی ہے، جو اعتدال اور توازن اسلام کی تعلیمات کی بنیاد ہے، افسوس تو ان علماء پر بھی ہے، جو جماعت میں جڑ جانے کے بعد بے خود بے اعتدالیوں کے شکار ہو جاتے ہیں اور سخت گیر اور متشدد بن جاتے ہیں، یہ چیزیں یقینا تبلیغی جماعت کے مزاج، مقصد اور اصولوں سے یکسر مختلف ہے، جو آج اس میں در آئی ہیں. اللہ ہم سب پر رحم فرمائے اور ان لڑنے والے بھائیوں کو عقل سلیم عطا فرمائے، آمین. راقم کا احساس ہے، بلکہ تمام اہل علم اور اعتدال پسند لوگوں کا مشترکہ احساس ہے کہ امت مسلمہ میں فتنہ و فساد کی اصل جڑ غلو، مبالغہ آمیزی، شدت پسندی، افراط و تفریط اور بے اعتدالی ہی ہے ،جب تک ان بے اعتدالیوں اور شدت پسندی پر قدغن نہیں لگایا جائے گا اور اس کے انسداد کے لیے کوششیں نہیں کی جائیں گی، یہ فتنے ختم نہیں ہوں گے ۔ اس جماعت پر ناخواندہ اور کم علم لوگوں کا قبضہ ہے، جو مزاج شریعت سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور جب تک یہ یہ طبقہ قابض اور حاوی رہے گا ۔ اس طرح کے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے ۔ ضرورت ہے کہ اعتدال اور وسطیت جو امت کی اولین خصوصیات میں سے ہیں ، اس کو سمجھایا اور بتایا جائے اور فکری و ذہنی اعتدال کے لیے فضا سازگار کیا جائے ۔ راقم الحروف نے ،، اعتدال اور وسطیت کی اہمیت اور ضرورت پر ایک مضمون اس سے پہلے صفحئہ قرطاس کیا تھا ،آج پھر ،، قند مکرر ،، کے طور پر پیش کر رہے ہیں ، اس امید کے ساتھ کہ اس مضمون سے استفادہ کیا جائے اور اس کی روشنی میں امت مسلمہ کو اعتدال پر لایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ م۔ ق۔ ن

دین اسلام کا امتیازی وصف اعتدال اور توازن ہے ، اسی لئے اس امت کو امت وسط کا خطاب ملا ہے ، وسطیت ،اعتدال و توازن دنیا و آخرت میں کامیابی کی شاہ کلید ہے ۔ جب سماج اور معاشرہ اعتدال پسند ہوتا ہے، تو اس میں توازن رہتا ہے ،پھر وہ معاشرہ اس اعتدال کی برکت سے کامیاب معاشرہ رہتا ہے، اعتدال یہ وہ صفت ہے، جو زندگی کو خوشگوار اور پر بہار بناتی ہے ۔جس قوم کے افراد اعتدال پسند اور متوازن طبیعت کے ہوں، وہ قوم عروج و کمال تک پہنچتی ہے ،کامیابی و کامرانی اس کی حلیف ہوتی ہے ۔اعتدال اور توازن جمال و خوبصورتی کا سبب ہے، اور افراط و تفریط بدصورتی اور بدنمائی کا ذریعہ ہے ،جہاں اعتدال ،میانہ روی اور توازن ختم ہوتا ہے، وہیں سے افراط و تفریط کی حدیں شروع ہوجاتی ہیں اور جب یہ مزاج انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے، تو پھر عقل و منطق کی کوئی تدبیر اس کے لئے کارگر نہیں ہوتی ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب لکھتے ہیں ،، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ،عام طور پر ان میں افراط و تفریط انسان کے لیے ناگوار خاطر اور دشوار ہوتی ہے ،یہاں تک کہ انسان کے لئے نفع بخش اور مفید ترین چیزیں بھی، اگر حد اعتدال سے بڑھ جائیں یا حد ضرورت سے کم ہوجائیں، تو انسان کے لئے رحمت کی بجائے زحمت اور انعام خدا وندی کی بجائے عذاب آسمانی بن جاتی ہیں ۔۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام کو اعتدال پر قائم فرمایا ہے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بھی اعتدال چاہتے ہیں اور افراط و تفریط کو ناپسند کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے عدل کا حکم دیا ہے ۔عدل کی روح اعتدال ہے اور جادئہ اعتدال سے ہٹ جانا ہی، انسان کو ظلم کی طرف لے جاتا ہے ،اعتدال زندگی کے تمام شعبوں میں اور ہر مرحلہ میں مطلوب ہے ۔ شریعت کے اصول اور قرآن وحدیث پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ گفتار و رفتار خوشی و غم سلوک و برتاؤ اور بحث و مباحثہ،دوستی و دشمنی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت ہر شعبئہ زندگی میں افراط و تفریط ناپسندیدہ ہے، اور اعتدال مطلوب و محبوب ہے ۔ اعتدال انسان کی رفتار میں بھی ہو ،اترانے کا انداز نہیں ہونا چاہیے، یہ چال کا اعتدال ہے ۔ولا تمش فی الارض مرحا ، زمین پر اکڑ کر مت چلو ۔گفتگو بول چال میں بھی اعتدال اور توازن ہو ،آواز نہ بالکل پست ہو کہ مخاطب سن نہ سکے اور نہ اتنی کرخ دار گرج دار اور بلند کہ حد اعتدال سے گزر جائے ۔قران کہتا ہے کہ آواز حسب ضرورت پست ہونی چاہیے ،گدھے کی آواز بہت بلند ہوتی ہے ،لیکن سب سے ناپسندیدہ ۔۔ اسی طرح انسان کو لعان اور طعان نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بات بات پر کسی کو لعن طعن کرے ۔ لباس و پوشاک میں بھی اعتدال مطلوب ہے ،لباس تقویٰ کو لباس خیر کہا گیا ہے ۔

اس لباس کو شریعت میں پسند نہیں کیا گیا ہے، جس میں جذبئہ تفاخر ہو ،نخوت تکبر اور گھمنڈ ہو۔ لباس سادہ ہو، لیکن لباس پر اس کی نعمت کا اثر ضرور ظاہر ہو ،یہ مقصد نہیں کہ آدمی پھٹے پرانے پہنے، جو اس کے مصنوعی فقر کا مظہر ہو ۔غرض یہ کہ لباس میں بھی افراط و تفریط نہ ہو ۔ داڑھی رکھنے کا شریعت میں تاکیدی حکم ہے ،لیکن روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرے کی چوڑائی اور لمبائی سے داڑھی تراشا بھی کرتے تھے، عجمی مجذوب کی صورت اپنانا اور کریھ اور بے ہنگم صورت بنا کر رکھنا یہ منع ہے ۔ دعا کے بارے میں بھی حکم شریعت ہے کہ آواز بالکل بلند نہ ہو ،بلکہ ایک حد تک پست ہو ،بہت بلند آواز میں دعا کرنے کو زیادتی قرار دیا گیا ہے ۔دوستی اور دشمنی میں بھی اعتدال مطلوب ہے اس میں بھی افراط و تفریط ناپسندیدہ ہے ۔

دشمن سے بدلہ لینے میں بھی جادئہ اعتدال نہ ہٹے اور اس میں بالکل اندھا نہ ہو جائے ، ظلم کے بقدر ہی بدلا لینا جائز ہے۔ حلال و حرام میں بھی توازن اور اعتدال کا حکم ہے ،شریعت نے جہاں حرام کو حلال کر لینے سے روکا ہے، وہیں یہ حکم بھی دیا کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہو ،دین میں غلو کا راستہ اختیار کرتے ہوئے حلال کو بھی حرام نہ کرلیا جائے ۔ تنقید و احترام نقد و جرح اور تبصرہ و محاکمہ میں بھی میانہ روی مطلوب ہے یہ جائز نہیں کہ کسی کی فکر پر تنقید کرتے ہوئے اس کی ذاتیات کو نشانہ بنایا جائے، ان پر خواہ مخواہ الزام تراشی کی جائے،رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدترین دشمنوں کیساتھ بھی ایسا نہیں کیا اور اس بات سے بھی منع کیا کہ کسی کی شخصیت کے احترام میں غلو کی صورت پیدا ہو جائے ۔۔۔

عام طور پر دو چیزیں انسان کو راہ اعتدال سے دور کر دیتی ہیں، محبت اور عداوت ،محبت انسان سے بصارت ہی نہیں بصیرت بھی چھین لیتی ہے ،اسے اپنے محبوب کی برائیوں میں بھی بھلائیاں نظر آتی ہیں ،یہی حال نفرت و عداوت کا ہے، دشمن میں رائی جیسی برائی ہو تو وہ پہاڑ محسوس ہوتی ہے اور پہاڑ جیسی خوبی ہو تو وہ رائی سے بھی حقیر نظر آتی ہے ۔ غلو آمیز محبت اور انکار و شدت اور سرے سے کسی کی نفی یہ دونوں غلط ہیں ۔ (مستفاد و ملخص حقائق اور غلط فہمیاں صفحہ 80/83)

آج سب سے زیادہ شخصیت پرستی کا فتنہ ہمارے مسلم معاشرہ میں پایا جارہا ہے اور اس کی وجہ سے یہ امت انتشار و افتراق کا شکار ہے ۔۔ کسی صاحب دل نے بہت صحیح تجزیہ کیا ہے کہ کچھ لوگ فطری طور پر غیر معمولی صلاحیت اور غیر معمولی خوبی اور کمال لے کر پیدا ہوتے ہیں ،ان کو اپنے معاصرین میں نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے ان کو طبعی طور پر مرجعیت حاصل ہوجاتی ہے ،کچھ لوگ ان کے ایسے گرویدہ اور فین ہوجاتے ہیں کہ ان کی ہر بات بلا چون و چرا مان لیتے ہیں اور ان کے قلب و دماغ میں وہی باتیں گردش کرتی ہیں ،جو ان کے دل میں ڈالی جاتی ہے ،خواہ وہ قرآن وحدیث کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور خواہ ان کی بات سواد اعظم اور جمہور علماء کی رائے اور تعامل امت سے ہی کیوں نہ ٹکراتی ہو ۔اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ اس میں شدت اور غلو سے کام لیتے ہیں اور اگر کوئی مخلص اور ماہر شریعت عالم دین ان کی غلطی کی نشاندھی کرتا ہے، تو وہ شخص اس کے خلاف ہی محاذ کھول دیتا ہے ۔اور انہیں ہی گمراہ ثابت کرنے لگتا ہے ۔

آج اس امت کا حال یہ ہے ،جس امت کو امت وسط کا خطاب ملا اور جس کی خصوصیت اعتدال و توازن قرار دیا گیا اور جس نے پوری دنیا کو اعتدال و توازن کا سبق سکھایا آج وہی امت افراط و تفریط بے اعتدالی اور غلو کا عنوان بن گئی ہے ۔۔ زندگی کے تمام شعبوں میں بے اعتدالی عام ہے ،احترام و عقیدت میں ذرہ کو آفتاب بتانا اور اختلاف و دشمنی میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ انتشار بنانا، ہمارا مزاج اور امتیاز بن گیا ہے ۔۔۔ دوستی اور دشمنی میں بے اعتدالی ،تعمیری کاموں میں بخل اور بے فائدہ کاموں میں فضول خرچی یہ بھی آج ہمارا مزاج ہے ۔۔ افراط و تفریط کے کے بہت سے اسباب و عوامل ہیں جن کی وجہ سے انسان کے مزاج میں تشدد اور سختی پیدا ہوتی ہے ۔ کہیں افراط و تفریط منصوص اور غیر منصوص میں عدم تمیز کی وجہ پیدا ہوتی ہے ۔۔ کہیں افراط و تفریط غلو اور بیجا عقیدت واحترام سے پیدا ہوتی ہے ،کہیں کم علمی اور اپنی جماعت کو صرف راہ نجات پر سمجھنے سے یہ کمی پیدا ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو غلو اور افراط و تفریط سے بچائے اور ہمارے اندر اعتدال و توازن کا حصئہ وافر عطا فرمائے اور زندگی کے ہر موڑ پر افراط و تفریط غلو اور بے اعتدالی سے بچائے آمین

ناشر/ مولانا علاؤالدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 9506600725

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

*تبلیغی جماعت کے دونوں دھڑوں میں خوں ریز تصادم- ایک لمحہ فکریہ*
بنگلہ دیش سے ایک تشویش ناک خبر

Related Posts

ایک یادگار سہ روزہ سفر
  • hira-online.comhira-online.com
  • ایک یاد گار سہ روزہ سفر
  • ستمبر 2, 2026
  • 0 Comments
ایک یادگار سہ روزہ سفر

ایک یادگار سہ روزہ سفر ۳۱/ اگست ۲۰۲۶ حذیفہ خان متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء دار العلوم ندوۃ العلماء میں ششماہی تعطیل کا جب وقت قریب ہوا،تو ہمارے علاقہ کے وہ رفقاء جو آنلائن ہفتہ واری ۲ روزہ تجوید کلاس میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور قرآن سیکھتے ہیں،انہوں نے یہ تقاضہ رکھا کہ کیا ہی بہتر ہو کہ اگر ان چھٹیوں میں جب آپ وطن واپس ہوں تو ہم سہ روزہ جماعت میں آپ کے ساتھ نکلیں تاکہ ہمیں بھی اس خزانۂ علم و فکر سے کچھ حاصل ہو جس سے آپ دار العلوم میں مستفید ہوتے ہیں،تو اگرچہ مجھے ایک بار کچھ تردد ہوا،کہ تعطیل میں ابھی سے مصروفیت کا پلان۔۔۔۔۔۔،  لیکن پھر اس خیال نے مجھے مہمیز کیا کہ کرم فرما والدین کے حکم پر جو میں نے خدمتِ دین کا عزم مصمم کیا ہے اس میں کیا چھٹی اور کیا مصروفیت،مشغولیت کا تو کوئی تصور نہیں،  بس یہ خیال دفع ہوگیا اور میں نے حامی بھر دی۔  ۲۶/ اگست ۲۰۲۶ بروز بدھ کو کلکتہ واپسی ہوئی، بفضل اللہ ۲۸/ اگست ۲۰۲۶ بروز جمعہ کو سہ روزہ جماعت روانہ ہوئی اور شہر کلکتہ سے تقریباً ۲۵ کیلومیٹر دور رشڑا کے نام سے معروف علاقہ میں پہنچی، یہ علاقہ مسلم اور غیر مسلم کی مخلوط آبادی والا ہے، اور کچی مسجد میں ہم سب کاقیام ہوا، اس مسجد سے ہماری ایک قدیم وابستگی یہ بھی تھی کہ تقریباً دس برس کی عمر میں پہلی مرتبہ میں اپنے والد ماجد کے ساتھ اسی مسجد میں جماعت میں آیا تھا اور اب ۱۳ برس کے بعد پھر اسی مسجد میں جماعت میں آنے کا اتفاق ہوا۔  جماعت کے افراد میں نیٹ(NEET) میں کامیابی حاصل کرنے والے دو طلبہ بھی تھے، ظاہر ہے ان کی کیفیت جماعت میں موجود تمام قدیم ساتھیوں سے کچھ الگ تھی،شب و روز کے معمولات سے نا آشنا تھے اس لیے یہ تمام چیزوں کو تنقیدی پیرائے میں ڈال ڈال کر پرکھتے اور بے باکی سے مجھ سے سوال کرتے جو کہ حقیقت تک پہنچنے کا،‌ اپنے دین پر اعتماد و…

Read more

Continue reading
اُس بازار میں : شورش کاشمیری
  • hira-online.comhira-online.com
  • اُس بازار میں : شورش کاشمیری
  • شورش کاشمیری
  • فروری 6, 2026
  • 0 Comments
اُس بازار میں : شورش کاشمیری

اُس بازار میں : شورش کاشمیری از : معاویہ محب اللہ اس کتاب میں جابجا خوبصورت جملے اور اقتباسات بکھرے پڑے ہیں کہ جن میں غربت، بے وفائی، معاشرتی خرابی، عصمت فروشی، آزادہ روی اور شوقِ تفریح ہے، معاشرے کی اکھڑی ہوئی چولیں بھی ہیں، رقص و سُرود، غنا و موسیقی، تال و سُر اور حسنِ ادب کا دلنشین انداز بھی ہے، دردِ زیست، لُچّوں کا قہقہہ، سگریٹ کا دھواں اور تھرکتے جسم کی داستان المناک بھی ہے جن سے آنکھیں بہہ پڑتی ہیں۔دوسری طرف نفسیات کی گتھیاں سطر سطر پہ سلجھ رہی ہیں، معلومات کا دریا ہے، آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل الفاظ ہی نہیں گویا نگینے ہیں، زندگی کے سبق ہیں، میں ہرگز کسی کو آمادہ نہیں کرتا کہ وہ یہ کتاب مطالعہ کریں، لیکن چند اقتباسات ضرور پڑھتے جائیں، ہر اقتباس محض چند الفاظ و معانی کا سنگھم نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے، ایک فکر ہے، سوچنے کا ایک زاویہ ہے ؛ٹھہر چشمِ تماشا! دیکھ اس حوّا کی بیٹی کو!کہ اس کے حال پر بے درد راہی مسکراتے ہیںلرزتے آنسوؤں کا سُرمئی آنکھوں میں پانی ہےگھنی پلکوں میں ناگفتہ فسانے تلملاتے ہیں(دلنشین اقتباسات)‘‘عام خیال یہ ہے کہ گناہ افلاس کی کُوکھ سے پیدا ہوتا ہے، میرا معاملہ اس کے برعکس تھا، خالی جیب نے گمراہ ہونے سے بچا لیا’’ (صفحہ ۳۰)"کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ زندگی کے سبق ہمیں اُس وقت ملتے ہیں جب وہ ہمارے لئے بیکار ہو جاتے ہیں” (صفحہ ۷۰)"سورج جاگتا ہے قحبہ سو جاتی ہے اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو حکایتِ شبینہ کے غیر مرئی حروف جن سے چہروں پر ایک تھکن سی ہوتی ہے”(صفحہ ۹۹)‘‘ آدمی نے کبھی دوسروں کے تجربہ سے فایدہ نہیں اٹھایا وہ ہمیشہ خود تجربہ کرتا ہے، ہم کرتے ہیں غلطیاں اور نام رکھتے ہیں تجربہ’’ (صفحہ ۱۸۱)’’ عورتیں تصویر ہوتی ہیں اور مرد معمّہ، اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ عورت کا واقعی کیا مطلب ہے، تو اس کی طرف دیکھو، اس کی سنو نہیں: آسکروائلڈ ‘‘ (صفحہ ۲۱۲) ’’ ان رازوں ہی کی ٹوہ میں…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • یہ بھی تربیت کا حصہ ہے 12.09.2026
  • حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری 12.09.2026
  • نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار 11.09.2026
  • مردوں کے لیے مہندی کا استعمال 08.09.2026
  • (بلاعنوان) 07.09.2026
  • ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2 04.09.2026
  • سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت 04.09.2026
  • تقویٰ کیا ہے؟ 03.09.2026

حالیہ تبصرے

  • سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت از جہاد کی تربیت: اسلامی تہذیب میں ایمان، اخلاص اور کردار سازی کا نظام 1
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی از جہاد کی تربیت: اسلامی تہذیب میں ایمان، اخلاص اور کردار سازی کا نظام 1
  • تقویٰ کیا ہے؟ از حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری 1
  • اسلام، تصور آزادی کا معیار از اساتذہ کا کردار نسلوں کی تعمیر میں اساتذہ کی اہمیت اور ذمہ داریاں 1
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی از اہل بیت اور اہل سنت قسط 1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

اسلامیات

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے
Blog

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

  • hira-online.com
  • ستمبر 12, 2026
Blog

نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

  • hira-online.com
  • ستمبر 11, 2026
فقہ و اصول فقہ

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

  • hira-online.com
  • ستمبر 8, 2026
Blog

  • hira-online.com
  • ستمبر 7, 2026
سیرت النبی ﷺ

ازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت

  • hira-online.com
  • ستمبر 4, 2026
سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیت
اسلامیات

تقویٰ کیا ہے؟

  • hira-online.com
  • ستمبر 3, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top