پہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلت
آدم علی ندوی

نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے لیے دن میں پانچ مرتبہ حاضری کا بلاوا ہے۔ دنیا کے کسی بڑے آدمی سے ملاقات کا وقت مقرر ہو تو انسان اپنے معمولات بدل دیتا ہے، سفر کرتا ہے، انتظار کرتا ہے، لباس درست کرتا ہے اور اس ملاقات کو کسی قیمت پر ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن جس رب کے قبضۂ قدرت میں ہماری جان، صحت، رزق، عزت اور زندگی کی ہر سانس ہے، اس کے دربار سے جب بلاوا آتا ہے تو ہماری حالت کیا ہوتی ہے؟
اذان ہوتی ہے، مؤذن کی آواز گونجتی ہے: اللہ اکبر! اللہ اکبر!اللہ سب سے بڑا ہے، مگر ہم اپنی مصروفیات میں لگے رہتے ہیں۔ مسجد قریب ہوتی ہے، مگر قدم اٹھنے میں سستی ہوتی ہے۔ جماعت کھڑی ہونے والی ہوتی ہے، مگر ہم ابھی وضو، لباس، موبائل اور دنیا کے معمولی کاموں میں الجھے ہوتے ہیں۔ امام تکبیر کہہ دیتا ہے، پہلی صف بھر جاتی ہے اور ہم عجلت میں مسجد پہنچ کر کہیں پچھلی صف میں جگہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
پہلی صف کی قیمت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی صف کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا : لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا(صحیح البخاری: 615، صحیح مسلم: 437)
"اگر لوگوں کو اذان اور پہلی صف کی فضیلت کا علم ہوجائے اور اسے حاصل کرنے کے لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی راستہ نہ ہو تو وہ قرعہ اندازی بھی کریں۔”
اور ہمارا حال کیا ہے؟ہم پہلی صف سے بچنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں!ہم مسجد میں جلدی پہنچنے کی فکر نہیں کرتے، بلکہ یہ سوچتے ہیں:ابھی تو وقت ہے! اقامت میں وقت ہے۔ بس ایک کام نمٹا لوں۔ بس موبائل دیکھ لوں۔ بس یہ گفتگو مکمل کرلوں۔ اور پھر جب مسجد پہنچتے ہیں تو پہلی صف ختم، دوسری صف ختم، تیسری صف بھی بھر رہی ہوتی ہے۔
کیا یہی وہ شوق ہے جس کا تصور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی صف کے بارے میں دیا تھا؟
دنیا کی مجلس ہو تو ہم آگے بیٹھنا چاہتے ہیں۔کسی اہم شخصیت سے ملاقات ہو تو قریب بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں۔سفر ہو تو اچھی نشست تلاش کرتے ہیں۔کسی تقریب میں جائیں تو بہترین جگہ حاصل کرنے کی فکر ہوتی ہے۔مگر اللہ کے گھر میں؟؟؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا(صحیح مسلم: 440) مردوں کی بہترین صف پہلی صف ہے۔
آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ(سنن ابی داود: 664، سنن النسائی: 811) بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صفوں والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔
ایک طرف پہلی صف کا یہ عظیم مقام، دوسری طرف ہماری یہ کیفیت کہ مسجد میں پہنچ کر بھی ہم پیچھے کھڑے ہونے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔آخر ہم کس نعمت سے محروم ہو رہے ہیں؟ہمیں محرومی کا احساس کیوں نہیں ہوتا؟
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو صف کے پیچھے رہتے دیکھا تو فرمایا: تَقَدَّمُوا فَائْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ(صحیح مسلم: 438)
آگے بڑھو اور میرے پیچھے نماز پڑھو، اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتدا کریں، لوگ برابر پیچھے رہتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں پیچھے کردے گا۔
کیا ہم نے اس جملے کو کبھی اپنے لیے پڑھا ہے؟”لوگ برابر پیچھے رہتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں پیچھے کردے گا۔”یہ صرف صف کا مسئلہ ہے؟یا زندگی کا بھی؟جو شخص نیکی میں ہمیشہ پیچھے رہتا ہے، کیا اسے یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ کہیں وہ اللہ کے ہاں بھی پیچھے نہ کردیا جائے؟
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے تکبیر اولیٰ کے بارے میں ایک روایت جامع ترمذی میں آئی ہے کہ جو شخص چالیس دن تک جماعت کے ساتھ پہلی تکبیر پائے، اس کے لیے جہنم اور نفاق سے براءت لکھی جاتی ہے۔
سلف کے عمل کو دیکھیں تو تابعی بزرگ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: مَا فَاتَتْنِي التَّكْبِيرَةُ الْأُولَى مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً(حلیۃ الأولیاء، 2/163)’
"پچاس سال سے میری تکبیر اولیٰ نہیں چھوٹی۔”اور فرماتے تھے کہ پچاس سال سے انہوں نے نماز میں کسی آدمی کی پشت نہیں دیکھی۔
تابعی ربیعہ بن یزید رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ مؤذن نے ظہر کی اذان دی تو وہ پہلے ہی مسجد میں موجود ہوتے۔ مَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِلَّا وَأَنَا فِي الْمَسْجِدِ(سیر أعلام النبلاء، 5/240)
چالیس سال سے مؤذن نے ظہر کی اذان نہیں دی مگر میں مسجد میں موجود تھا۔
مشہور محدث امام اعمش رحمۃ اللہ علیہ تقریباً ستر برس کی عمر تک پہنچ گئے تھے، مگر ان کے بارے میں منقول ہے کہ تکبیرِ اولیٰ نہیں چھوٹی۔ (مسند ابن الجعد، حدیث: 755؛ سیر أعلام النبلاء، 6/228)
محمد بن سماعہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:چالیس سال تک میری تکبیر اولیٰ نہیں چھوٹی، سوائے اس دن کے جب میری والدہ کا انتقال ہوا۔ (سیر أعلام النبلاء، 10/646)
ہم کتنے معمولی عذر تراشتے ہیں؟مہمان آگئے تھے۔ذرا کام تھا۔نیند آگئی تھی۔موبائل دیکھتے دیکھتے دیر ہوگئی۔بازار میں تھا۔گفتگو چل رہی تھی۔
کیا یہ عذر ان لوگوں کے سامنے بھی پیش کیے جاسکتے ہیں جنہوں نے اللہ کے لیے اپنی زندگی کا نظام بدل دیا تھا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيه۔(سنن ابی داود: 671؛ سنن النسائی: 818)
پہلی صف کو مکمل کرو، پھر اس کے بعد والی صف کو۔
لیکن ہماری مساجد میں کبھی پہلی صف میں جگہ ہوتی ہے اور لوگ دوسری صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔
کیوں؟کیا پہلی صف کی فضیلت معلوم نہیں؟کیا ہم اسے معمولی سمجھتے ہیں؟
ہمیں ٹرین پکڑنی ہو تو گھنٹوں پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ہوائی جہاز ہو تو وقت سے پہلے ائیرپورٹ پہنچتے ہیں۔امتحان ہو تو پہلے سے تیاری کرتے ہیں۔ملازمت کا انٹرویو ہو تو وقت سے پہلے پہنچتے ہیں۔کاروباری ملاقات ہو تو تاخیر پسند نہیں کرتے۔لیکن نماز؟نماز کے لیے کیوں نہیں؟ ہماری عملی ترجیحات ایسی کیوں ہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ۔(صحیح البخاری: 615، صحیح مسلم: 437)
اگر لوگوں کو نماز کے لیے جلدی آنے کی فضیلت معلوم ہوجائے تو وہ اس کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جائیں۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صف اول اور جماعت کی ایسی عظیم فضیلت بیان کردی ہے تو ہماری بے رغبتی کیوں؟
جب سلف نے دہائیوں تک تکبیرِ اولیٰ کی حفاظت کی تو ہم چند دن بھی کیوں نہیں؟
جب اللہ تعالیٰ کی رحمت پہلی صف والوں کے شاملِ حال ہوتی ہے تو ہم اس رحمت سے دور رہنے پر مطمئن کیوں ہیں؟
نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)

